ختم نبوت کا دفاع اصل طاقت سے کیجیے - حافظ یوسف سراج

ختم نبوت کی شق میں ترمیم کا طوفان اٹھا اور اہلِ ایمان کا امتحان لے کر فی الحال تھم گیا ہے۔ وار خالی گیا اور محبانِ رسولؐ کامیاب ٹھہرے۔ طوفان تھم گیا، مگر اس کے آثار سے سبق سیکھنے کا وقت البتہ موجودہے۔ یہ بات درست ہے کہ نہ یہ اس سلسلے کا پہلا وار تھا اور نہ آخری۔ حب ِرسول ؐ کے تمام پہلو مغرب کا اولیں ہدف رہے ہیں۔ مغرب جانتا ہے کہ انھیں مٹائے بغیر وہ مسلمانوں کی ملی وحدت اور دینی حمیت مٹا نہیں سکتا۔ چنانچہ مغرب شناس اقبال بہت پہلے کہہ چکے ؎
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

دراصل توحید بھی شاید اتنی نہیں، عملاًمحبت ِ رسول جتنی مسلمانوں میں دین سے وابستگی کا اظہار کرتی اور ان کے اظہارِ ایمان کا شعار بنتی ہے۔ ماضی میں ایسے بہت سے واقعات رونما ہو کر اور تاریخ سے بہت سے ایسے کردار عیاں ہو کر، یہ بات مسلمانوں پر ہی نہیں اغیار پر بھی آشکار کر چکے کہ مسلمانوں میں ایمان کی پہلی اور آخری زوردار علامت حبِ رسولؐ اور محبتِ مصطفیٰ ؐہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات بھی نہیں کہ ہم نے تو قرآن کو قرآن، اللہ کو اللہ اور آسمانی شریعت کو شریعت مانا ہی تب ہے، جب محمد ِعربیؐ کو صادق و امین ذاتِ با برکات، ختم المرسلین اور اپنی محبتوں کی ابتدا اور انتہا ماناہے۔ محمد ِعربیؐ کے کہنے پر پھر جب ہم نے قرآن کو قرآن مان لیا تو دیکھا کہ منشائے خداوندی بھی عین یہی ہے۔

اب آجائیے حالیہ صورتحال کی طرف۔ اُس پہلی صبح میں سو کر اٹھا تو سوشل میڈیا پر طوفان مچا دیکھا۔ یہ افسوسناک خبر گردش کر رہی تھی کہ حکومت نے تازہ بل میں ختم نبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جتنا ہو سکا، اس کی تصدیق کے لیے میڈیا کھنگالنا شروع کیا۔ میڈیا کے کچھ دوستوں کو کالز بھی کیں۔ تاہم سوائے سوشل میڈیا کے کہیں سے اس خبر کی باقاعدہ تصدیق اور تفصیل نہ مل سکی۔ سوشل میڈیا کی کریڈیبلٹی ایسی نہیں کہ بالخصوص ایسے حساس معاملے میں اس پر پورا بھروسہ کیا جا سکے۔ سوشل میڈیا آپ کوصرف ایک غیر ذمے دارانہ خبر دیتا ہے اور تحقیق کی ذمے داری نہیں لیتا۔ حال ہی میں اس سلسلے میں کچھ ایسے سبق آموز واقعات سامنے آچکے ہیں کہ جنھیں ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔ مثلاً روہنگیا مسلمانوں پر ٹوٹنے والی قیامت کی بہت سی تصاویر جعلی نکلیں۔ انھی دنوں ترکی کے نائب وزیراعظم مہمت نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کچھ روہنگیا مسلمانوں کی تصاویر نشر کر دیں۔ بعد میں ایک عالمی نشریاتی ادارے نے ان تصاویر کے غیر متعلقہ ہونے کی بات کی تو یہ تصاویر انھیں اپنے اکاؤنٹ سے ہٹانا پڑیں۔ ان میں سے ایک تصویر اس خاکسار نے لاہور کی نہر کی شناخت کی۔ یعنی جب سخت گرمی میں لاہوری بچے اور جوان اس نہر میں نہاتے ہیں، تب کی تصویر۔ اسی تصویر کو غلطی سے روہنگیا مسلمانوں کے دریا میں ڈوبنے کی تصویر سمجھ کے پیش کر دیا گیا تھا۔ اس وقت روہنگیا مسلمانوں کے ترجمان نے صحافیوں کے ایک گروپ میں یہ گزارش بھی کی تھی کہ غلط تصاویر شیئر نہ کی جائیں۔ اس سے ان کے مؤقف کو نقصان پہنچتا ہے۔ پھر حال ہی میں اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے سوشل میڈیا سے لے کر عالمی میڈیا کے سامنے چھرہ گن کا شکار ہونے والی ایک کشمیری لڑکی کی تصویر پیش کی تھی۔ یہ تصویر کشمیری کے بجائے فلسطینی لڑکی کی ثابت ہوئی۔ ظاہر ہے اس سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔ چنانچہ صحافتی احتیاط اور اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہی تھا کہ پہلے کامل اور مستند حقائق سامنے آئیں۔ اس وقت تک جو بات سامنے آئی، وہ شیخ رشید کا یہ فرمانا تھا کہ ’’ختم نبوت پر ڈاکہ پڑ چکا ہے۔‘‘ حیرتناک یہ کہ شیخ رشید بھی اس بل کی ڈرافٹنگ کمیٹی میں شامل تھے، وہ آخر تب ہی کیوں بولے جب بل دونوں ایوانوں سے پاس ہو چکا تھا؟

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی ہم آہنگی کے نام پر سیکولرازم کا منجن - محمد سعد

بہرحال اس ڈاکے کی تفصیل معلوم نہیں ہو رہی تھی۔ پھر یہ سامنے آیا کہ اقرار نامے کے حلف کو اقرار ِمحض سے بدل دیا گیا ہے۔ کچھ دیر بعد کالم نگار آصف محمود صاحب سے فون پر رابطہ ہوا۔ آصف صاحب قانون کی زبان و بیان سے آگاہ وکیل، تحقیقی مزاج کے حامل اور قدرے زیادہ بےباک کالم نگار اور اینکر ہیں۔ ان کی معلومات کے مطابق دو شقیں بھی ہٹا دی گئی تھیں، البتہ کون سی؟ تب یہ بھی معلوم نہ ہوسکا۔ پھر رات کو کسی وقت دلیل پر ایک اور بلاگ بھی شائع ہوگیا، جس میں اس بات کی تائید کی گئی تھی کہ یہ شقیں واقعی ہٹا دی گئی ہیں۔ اس دوران میڈیا شاید اس مسئلے کی حساسیت کے پیش نظر خاموش رہا۔ بعد میں ارشاد عارف صاحب کے کالم میں پڑھا کہ 92 نیوز نے نئے اور پرانے فارم حاصل کرکے سکرین پر پیش کر دیے تھے۔

افسوسناک بات یہ ہوئی کہ گو مذہبی جماعتوں کے بیانات اس سلسلے میں سامنے آنے لگے لیکن یہ محض جذباتی بیانات تھے۔ اولیں ضرورت یہ تھی کہ کوئی ایک جماعت یا چند مشترکہ جماعتوں کی طرف سے قوم کی متفقہ اور مدلل رہنمائی کی جاتی۔ لازم تھا کہ نئے اور پرانے فارم کا موازنہ کیاجاتا۔ پھر جو نتیجہ سامنے آتا وہ پورے حوالے کے ساتھ پریس کو جاری کر دیا جاتا۔ پھر اپنی مہر کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اسے جاری کر دیا جاتا تاکہ قوم مطمئن اور یکسو ہو سکتی۔ ایسا لیکن نہ ہوا۔ چنانچہ پہلا سارا دن لوگ صرف ایک ہی لفظ کی تبدیلی کی بات کرتے رہے اور اصل بات سے قطعی بےخبر رہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس سلسلے میں قابل اعتماد نہیں تھے۔ البتہ خالصا دینی مسئلے پر معروف علماء کے مشترکہ پلیٹ فارم سے اگر بحوالہ بات کی جاتی تو یہی بہترین طریقہ ہوتا۔ افسوس ایسا نہ ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   الیکشن قوانین میں تازہ ترین ترمیم اور ختمِ نبوت کا مسئلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اس سلسلے میں سب سے حیران کن معاملہ ان جماعتوں کا تھا، جن کا نام اور کام ہی ختم نبوت کا تھا۔ سوشل میڈیا پر ان کے ذمے داران کو بھی یہی کہتے پایا گیا کہ اگر کسی کے پاس نئے اور پرانے فارم ہیں تو وہ ہمیں ارسال کر دے۔ جبکہ ایسا سارا ریکارڈ تو عوام کو ان دفاتر سے ملنا چاہیے تھا کہ کن کن کاغذات میں کہاں کہاں ختم نبوت کی شقیں ہیں؟ تاکہ ایسے کسی بھی بحران میں یہ اس واحد چیز پر قوم کی رہنمائی کر سکتے جس کے لیے یہ تنظیمیں بنائی گئی ہیں۔ آئندہ اس پر غور ہونا چاہیے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اگر دینی جماعتوں نے دینی شعائر کا قانونی تحفظ کرنا ہے تو انھیں اپنے مدارس میں انگریزی بھی لازمی کر دینا چاہیے تاکہ ان کے جو لوگ اسمبلیوں میں پہنچیں، انھیں کسی بل کو پڑھنے کے لیے کسی دوسرے کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ یا بہت وقت نہ لینا پڑے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ جذباتیت اچھی چیز ہے، اور کبھی یہ عین ایمان بھی ہوتی ہے مگر ہر وقت نہیں، اصل اور پہلا طریقہ قانونی ہے۔ اس کی تیاری بھی کی جائے اور اسے اختیار بھی کیاجائے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں