کاپیوں کے کور سےذہانت کے کور تک - فیاض راجہ

میں نظریں نیچی کیے بیٹھا تھا اور شرمندگی کے احساس سے میرے جسم میں گویا چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں۔ اسکول کا کام کراتے وقت شاہانہ باجی نے میرے بستے سے کاپیاں نکالیں تو اردو، انگریزی اور حساب تینوں " کاپیوں کے کور" اترے ہو ئے تھے۔ خاکی کور، جو دو دن پہلے ہی انہوں نے میری تینوں کاپیوں پر بڑی محنت سے چڑھائے تھے۔ وجہ بتانے ہی والا تھا کہ شام کو ہمارے گھر اسکول کا کام کرنے آنے والی میری کلاس فیلو بول اٹھی۔ " باجی! فیاض نے سارے کور، کاپیوں سے "اتار" کر ڈسٹ بن میں ڈال دیے تھے "۔ پوچھنے پر میں نے بتایا تھا۔ " کلاس میں پنکھا بہت تیز چل رہا تھا، لکھتے وقت بار بار کاپی کور، ہوا سے اڑتے تھے، میں نے تنگ آ کر، انہیں اتارا اور ڈسٹ بن میں پھینک دیا"۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جان کالونی والے تندور پر روٹی آٹھ آنے کی اور "پشاوری لالے" کی دکان پر کباب بھی آٹھ آنے ہی میں دستیاب تھا۔ ٹینچ بھاٹہ کے آخری بس اسٹاپ پر جہاں آج کل "خان میڈیکل اسٹور" ہے، یہاں کبھی"گلزار ہوٹل" ہوا کرتا تھا۔ خیر گلزار ہوٹل تو یہاں آٹھ دس برس پہلے تک بھی تھا، مگر میں بات کر رہا ہوں، 1983ء یا 84ء کے آس پاس کی جب اس گلزار ہوٹل کے پہلو میں "لاہور بک ڈپو" بھی موجود تھا۔ پشاوری لالے کی دکان، لاہور بک ڈپو کے ساتھ ہی ہوا کرتی تھی، پشاوری چپل کباب کی یہ دکان، آج بھی موجود ہے مگر ذرا ا ٓگے، سو قدم دور، علامہ اقبال کالونی کو جانے والے پل سے ذرا پہلے۔ کہنے کو تو تیس بتیس برس گزر گئے، خان لالہ کی جگہ ان کے بھائی اور بیٹے نے لے لی، مگر مجال ہے کہ پشاوری چپل کباب کے ذائقے میں "نمک برابر" بھی فرق آیا ہو۔ ہاں! مگر تب آٹھ آنے میں ملنے والے کباب کی قیمت اب 30 روپے ہے اور ایک روپے والا کباب اب پچاس روپے میں ملتا ہے۔ ویسے مارکیٹ ریٹ کے حساب سے یہ قیمت اب بھی کم ہے۔

بات ہو رہی تھی ان بےفکرے دنوں کی کہ جب جیب خرچ کے طور پر ملنے والا ایک روپیہ، جیب میں آتے ہی دل کی دھڑکنیں تیز ہوجایا کرتی تھیں۔ پشاوری لالے کی دکان سے آٹھ آنے کا کباب اورگلزار ہوٹل سے آٹھ آنے کی روٹی پاکر "آدھی چھٹی" کا مزہ دوبالا ہوجایا کرتا تھا۔ نئی نسل کے لیے لفظ آدھی چھٹی شاید نیا ہو مگر یہ لفظ، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ، ری سیس یا تفریح کے طور پر بھی استعال ہوتا تھا، جسے آج کل ہمارے اسکول جانے والے بچے "بریک ٹائم" کا نام دیتے ہیں۔ آدھی چھٹی میں نان کباب (تب نان خمیری روٹی کہلاتا تھا) کی یہ سہولت المدثر گرائمر اسکول کے تمام بچوں کو ہرگز حاصل نہ تھی۔ اسکول اسٹاف کے لیے کھانے پینے کی اشیا باہر سے لانے والے چند خاص طالب علم ہی اسکول سے باہر جا سکتے تھے باقی بچے اسکول میں موجود چھوٹی سی کینٹین پر دستیاب سہولتوں سے ہی فائدہ اٹھاتے تھے۔

میں دوسری جماعت میں تھا تو المدثر گرائمر اسکول، گلزار ہوٹل کے مالک انکل گلزار کی رہائش گاہ کی اوپری منزل پر منتقل ہوگیا تھا۔ یہ رہائش گاہ گلزار ہوٹل کی پچھلی جانب، جان کالونی والی لمبی گلی میں تھی۔ پرانا المدثر گرائمر اسکول بھی اس گلی کے آخر پر، مسجد مائی جان سے ذرا پہلے ایک بند گلی میں تھا۔ بند گلی میں انکل احسان علی شاہ کے گھر کے بالکل سامنے، انکل احسان علی شاہ ہمارے کلاس فیلو اور دوست فرحان علی شاہ کے والد محترم، ان دنوں ٹیکس کے محکمہ میں ملازم تھے۔ میں نے اپنے دوست فرحان علی شاہ اور اس کے بڑے بھائی عمران علی شاہ کے ساتھ مل کر ان کے کزن (نام بھول رہا ہوں) کی الماری سے، اپنے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار، اشتیاق احمد کے نجانے کتنے ہی ناول چرا کر پڑھے تھے۔

بڑی بہن صفیہ باجی کی سہیلی عنبر باجی کےگھر کی نچلی منزل پر واقع اس اسکول میں، میرے ابتدائی دو برس گزرے، بعد میں ہمارا اسکول،گلزار ہوٹل کے قریب منتقل ہوگیا تھا۔ کنور عبدالرحمن ہمارے اسکول کے پرنسپل ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں ابھی "مار نہیں پیار" کے نعرے کا نشان دور دور تک بھی نہیں تھا بلکہ سر رحمن تو شاید "مار نہیں للکار" پر بھی یقین نہیں رکھتے تھے، جبھی تو ہاتھ میں پکڑے بید کے ڈنڈے کا استعمال بڑی فراخدلی سے کیا کرتے تھے۔ ہاں مگر ایک بات ہے کہ ان کے ڈنڈے کا نشانہ کوئی بڑی شرارت کرنے یا نالائقی کی حد عبور کرنے والا طالب علم ہی بنتا تھا اور کئی بار یہ "اعزاز" مجھے بھی حاصل ہوا تھا۔ المدثر گرائمر اسکول کے پرنسپل، سر کنور عبدالرحمن، جیسا کہ اسکول کے نام سے ظاہر ہے، گرائمر پر بڑا زور دیا کرتے تھے چاہے اردو کی ہو یا انگریزی۔ اردو کا مضمون میڈم خالدہ جبکہ انگریزی سر رحمن خود پڑھایا کرتے تھے۔

دونوں کے پڑھانے کا طریقہ بڑا دلچسپ اور انوکھا تھا۔ اردو اور انگریزی کا پیریڈ، ہفتے میں ایک دفعہ ہم اسکول سے باہر کسی قریبی، پارک، گلی، ہوٹل، دکان یا ٹھیلے پر گزارا کرتے تھے، جہاں سے واپسی پر اپنے مشاہدے کو ان کی مدد سے اردو اور انگریزی میں لکھ کر بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ انیلا، شازیہ، حنا، راحت، سائرہ ، اکرام، روحیل، جاوید، صغیر، عاطف، ایاز خان، عثمان، آصف، سرفراز، عبدالصبور اور دیگر ساتھی، کلاس فیلو جن کے ناموں سے، تیس پینتیس برسوں کی دھول جھاڑنے کے بعد بھی یادداشت ساتھ نہیں دے رہی۔ ہم سارے کے سارے، گرمیوں میں سر عبدالرحمن کے کمرے یا میڈم خالدہ کی کلاس اور سردیوں میں اسکول کے صحن میں (بعد میں گلزار ہوٹل کی چھت پر بھی) بیٹھ جایا کرتے تھے، جہاں ہمارے کان سر عبدالرحمن کی آواز پر لگے رہتے اور ہاتھ رف کاپیوں پر چلتے رہتے تھے۔

ان سنہرے دنوں کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا ہے، دوسری جماعت کے کچے پیپروں (فرسٹ ٹرم، سیکنڈ ٹرم امتحانات) میں، اپنی کلاس میں پہلی تین پوزیشن میں سے کوئی نہ کوئی حاصل کر تا رہا۔ گھر والوں اور بالخصوص ناصر بھائی نے مجھ سے "ٹھیک ٹھاک" امیدیں لگا لیں۔ سالانہ امتحانات میں گھر والوں نے اپنی طرف سے زیادہ محنت کروائی۔ جس دن نتیجہ تھا، ناصر بھائی اپنے ایک دوست کو بھی میرے اسکول لے آئے، یہ کہہ کر کہ ان کا چھوٹا بھائی، یعنی میں، اپنی کلاس میں کوئی نہ کوئی پوزیشن حاصل کیا کرتا ہوں۔ مگر ہوا کچھ یوں کہ اب کے بار ان کا چھوٹا بھائی فیاض، دوسری جماعت کے سالانہ امتحانات میں پہلی تین پوزیشنز میں سے کوئی ایک بھی حاصل نہ کر سکا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو پہلی دو پوزیشنز اسد اور حنا کی تھیں جبکہ تیسری پوزیشن پر میری جگہ عبدالصبور (اب بھی فیس بک پر رابطہ ہے) نے قبضہ کر لیا تھا۔

31 مارچ 1984ء کی وہ صبح مجھے آج بھی یاد ہے جب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن کے اعلان کے وقت تینوں مرتبہ، میں سیٹ سے اٹھ کر انعام وصول کرنے کو تیار تھا، مگر تینوں مرتبہ اسٹیج سے میرا نام نہ بولا گیا۔ اس دن بھی، شرمندگی کے احساس سے میرے بدن میں چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہونے لگی تھیں۔ میں، ناصر بھائی سے اور ناصر بھائی اپنے دوست سے نظریں چراتے پھر رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میری "ذہانت کا کور" کسی نے سر بازار "اتار" دیا ہو۔ (جاری ہے)