مذہبی نہ لبرل، بس وزیراعظم - حماد احمد

چند دن پہلے خواجہ آصف نے امریکہ میں بیٹھ کر کہا کہ حافظ سعید وغیرہ ریاست پر بوجھ ہیں، جس پر یار لوگوں نے کافی خوشی کا اظہار کیا، خوشی کا اظہار ہم بھی کرتے لیکن تب اگر خواجہ آصف مسلم لیگی نہ ہوتے۔

یہ دوسرا ایسا موقع تھا جس پر ہمارے چند درجن لبرل پاکستانیوں نے خوشی منائی، اس سے پہلے ان کو مسلم لیگ سے دو بار ایسی بڑی خوشیاں تب ملیں جب ایک بار نواز شریف نے کہا پاکستان لبرل ہو رہا ہے، اور پھر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے نام کی تختی۔

جہاں تک نواز شریف کے "لبرل پاکستان" والے بیان کا تعلق ہے تو ٹوئٹر پر ہمارے استاد جیسے ایک دوست نے فرمایا تھا کہ نواز شریف اتنا ہی لبرل ہے جتنا میں رائٹسٹ۔ وہ صاحب واحد بندے ہیں جس کو میں پاکستانی لبرل سمجھتا ہوں باقی تو بس آپ کو موسمی ہی نظر آئیں گے۔ اس کے علاوہ ہمارے ان درجن بھر لبرلز کو نوازشریف کی طرف سے اگر کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ مذہبی یا کالعدم مذہبی تنظیموں کے کارکنان کے ماورائے عدالت اغوا، قتل و قتال سے ملتی ہوگی۔

خیر خواجہ آصف کے بیان پر بھی ہم نے کچھ یہی عرض کیا کہ یہ لبرل صرف تب بن جاتے ہیں جب پاکستان سے باہر ہوتے ہیں، ہم تو کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کے دور حکومت میں بھلے یہ ریاست ملحد ہوجائے، یہ ملک پورے کا پورا لبرل ہوجائے، لیکن کچھ تو ہوجائے، کیونکہ سچی بات یہ ہے کہ اس دور حکومت میں یہ ملک اگر ایک قدم آگے کو بڑھا تو دس قدم پیچھے کو چلا گیا، نواز شریف کے ہر دور حکومت میں یہ ملک لبرل و مذہبی کے بیچ میں پھنس کر رہ گیا اور اس کا پورا پورا فائدہ صرف شریف فیملی نے اٹھایا۔

میاں نوازشریف کے ہر دور حکومت میں ایک عجیب و غریب سیاسی و مذہبی فضا ہوتی ہے، ایک جنگ کا سا ماحول ہوتا ہے، ایک انتشار ہوتا ہے ایک خوف سا ہوتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میاں صاحب کو جب بھی حکومت ملتی ہے، اس کی پہلی کوشش شریف فیملی کی بالادستی کو قائم کرنا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ اور اداروں پر چڑھ دوڑنے کی کوششیں ہوتی ہیں، جمہوریت صرف نام کی رہ جاتی ہے، ہر ادارہ بادشاہ سلامت کے خواہش کو دیکھ کر کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے، اگر احتجاج کوئی کمزور طبقہ کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کو ایسے حرکت میں لایا جاتا ہے کہ پھر بات حاملہ عورتوں کے منہ پر گولیاں برسانے تک بات چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ پارلیمنٹ کے بجائے اہم ترین فیصلے آل پارٹیز جرگوں میں ہوتے اور عوام پر مسلط کروائے جاتے ہیں۔ اور ایسے میں جو ادارے خود کو کچھ سمجھتے ہوں وہ پھر جنگ پر اتر آتے ہیں۔ (اگرچہ یہ غلط ہے)۔

بہرحال خواجہ آصف یا مسلم لیگ کی طرح ہم جہاد کو خود پر بوجھ سمجھتے ہیں نہ جہاد پسندوں کو، ہم اگر کسی چیز کو خود پر بوجھ سمجھتے ہیں تو وہ جہاد کی غلط تشریح یا جہاد کی وہ خودساختہ شکل ہے جس سے سیاسی یا عسکری شخصیات ذاتی یا سیاسی فوائد اٹھاتے اور اس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، مثال کے طور پر نوازشریف جو سیاسی و ذاتی فائدے لشکر جھنگوی، القاعدہ اور دیگر کالعدم تنظیموں یا ریاست جو فائدے گڈ طالبان سے اٹھاتی آئی ہے۔

تو خواجہ آصف کے اس بوجھ بھرے بیان پر جہاں یہاں لیفٹ کے حلقوں میں خوشی پھیل گئی کہ بیانیہ بدل رہا ہے، وہاں نواز شریف کے گھر سے ایک تقریر آئی جس میں شریف فیملی کے ایک اہم ممبر اور مستقبل کی وزیراعظم مریم نواز شریف کے شوہر نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر بار بار نہ صرف قادیانی بلکہ کافر کہا، اور مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے نام کی تختی ہٹائی جائے کیونکہ قبر میں ٹریلینز سالوں کا سفر ہے، مزید کہا کہ فوج میں قادیانیوں کی انٹری پر پابندی لگائی جائے کیونکہ یہ منکرین "جہاد" ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور بات جب اپنے ہی لبرل بیانیے کی دھجیاں اڑانے کی ہو تو پھر سید مودودی کا ذکر تو لازمی ہوتا ہے سو داماد ملت نے ان کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کو کیسے بھولا جا سکتا تھا، ان کا بھی ذکر ہوا تاکہ قوم مطمئن ہوجائے۔

آپ سب جانتے ہوں گے کہ مسلم لیگ میں وزراء اور ممبران اسمبلی کی اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں ہوتی جب تک وہ شریف فیملی کے نہ ہوں یا پھر میاں صاحب کے رشتہ دار نہ ہوں۔ شریف فیملی سے باہر کا ممبر اسمبلی آج تک اس سوچ میں پھنسا ہوا ہے کہ کلثوم نواز کی جگہ اگر اس کا کتا بھی انتخابات کے لیے کھڑا ہو تو اس کو ووٹ دینے کا طریق کار کیا ہونا چاہیے (جیسا کہ این اے ایک سو بیس الیکشن میں مسلم لیگی ممبر اسمبلی نے فرمایا تھا)، ایسے میں آپ خود سوچیے خواجہ آصف یا احسن اقبال کا مقام کیا ہے۔

ختم نبوت کے معاملے پر تو بحث مباحثے ہوتے رہیں گے اور ایک مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ختم نبوت کے معاملے میں کسی بھی قسم کے کمپرومائز سے پرہیز کرتا رہے لیکن اس چیز کو مسلم لیگ کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے، کیونکہ ہم نے ہمیشہ دیکھا کہ نوازشریف کو ہمیشہ صرف اپنی بادشاہت بچانے کی فکر رہی ہے۔ مذہبی ووٹ حاصل کرنے کے لیے لشکر جھنگوی جیسی تنظیموں کے ہاتھ مضبوط کیے گئے، سیکولر حکومتوں کو گرانے کے لیے اسامہ بن لادن سے پیسے کھائے گئے، لبرل دانشوروں اور صحافیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے لبرل پاکستان کا نعرہ لگایا گیا، اور اب چونکہ پھر الیکشن سر پر ہے تو پھر سے مذہبی ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیپٹن صفدر جذبات سے کھیلنا چاہتے ہیں۔

کسی کے ایمان اور عقیدے پر شک نہیں کیا جانا چاہیے لیکن اگر شریف فیملی کی سیاست کو دیکھیں تو صرف ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ مذہبی نہ لبرل، بس وزیراعظم، ان کی پوری سیاست اسی ایک عہدے کے گرد گھومتی ہے۔ لہذا ختم نبوت کا پورا پورا تحفط ہو لیکن اس کی آڑ میں قادیانیوں کے ساتھ کسی قسم کے ناروا سلوک پر آواز اٹھانی چاہیے، ان کو بطور اقلیت شہری حقوق ملنے چاہییں۔

مسلم لیگ کے قائدین بالخصوص میاں نواز شریف صاحب سے گزارش ہے کہ خدارا اپنی حکومت بچانے اور لبرلز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آئین پر حملے نہ کروائیں، اور نہ ہی مذہبی حلقوں کو ساتھ رکھنے کے لیے کیپٹن صفدر جیسوں سے ملک میں انتشار پھیلائیں۔