حلف نامۂ ختم نبوت میں تبدیلی کا ٹیسٹ کیس ناکام - ڈاکٹرعمرفاروق احرار

حالیہ دنوں میں وطن عزیز کے عوام شدید اِضطراب کی کیفیت سے گزرے ہیں۔ 02؍اکتوبر کو قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحاتی بل کی منظوری دی تو اِنکشاف ہوا کہ پارلیمنٹ کے امیدوار کے لیے کاغذات نامزدگی میں موجود ختم نبوت کے حلف نامے کے حلیے ہی کو بگاڑ دیاگیا ہے۔ جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا۔ اِس موقع پر حکومتی کیمپ نے عوامی ردعمل کے جواب میں اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ڈھٹائی کے ساتھ مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے رکھا کہ بل میں حلف نامہ موجود ہے، اُسے حذف نہیں کیاگیا اور نہ کوئی ترمیم کی گئی ہے۔ یہ بیان دراصل اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا اور عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکنا تھا۔ جھوٹ کی عمر نہیں ہوتی، اس لیے جب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پرانا اور نیا حلف نامہ اور اُس کی حذف شدہ شقیں بھی پیش کر دی گئیں تو اُس کے باوجود بھی سرکاری درباری ’’میں نہ مانوں‘‘ کی پالیسی ہی پر کاربند رہے اور اُنہوں نے اِس نازک اور حساس مسئلے کو سیاسی اِیشو بنانے کی مکمل کوشش کی، چونکہ بل کی تبدیلیوں کی بابت شیخ رشید احمد ہی نے قومی اسمبلی کی تقریر میں انکشاف کیا تھا اور اُس کے بعد ہی عوام و خاص کی توجہ اِس طرف مبذول ہوئی تھی، اِس لیے اِس مسئلے کو حزب اختلاف کی اختراع کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، جب شدید عوامی ردعمل کے بعد میاں نوازشریف نے بل کی مذکورہ ترامیم کو بحال کرنے کا اعلان کیا تو پھر کل تک جو سرکاری کارندے اور اُن کے ہمنوا، کسی قسم کی تبدیلی سے انکار کے ڈھونڈرے پِیٹ رہے تھے، اُنہوں نے بھی یکایک مؤقف بدلنے میں دیر نہ لگائی اور اپنے قائدکی بولی بولنا شروع ہوگئے۔ بہرحال یہ قضیہ طے ہوگیا، مگر اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے جن کے سیرحاصل جوابا تلاش کرنا ضروری ہیں۔

جناب ایازصادق سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بل میں تبدیلیاں کلیریکل مِسٹیک ہیں۔ کوئی اُن سے پوچھے کہ پورے بل میں سے صرف ختم نبوت کے حلفیہ بیان ہی میں ٹائپنگ کی ایسی غلطی کیوں ہوئی؟ یہ غلطی، اگر واقعی اسے غلطی تسلیم کیا جائے تو باقی بل میں کسی دوسری جگہ پر کیوں رونمانہیں ہوئی۔ کلیریکل مسٹیک میں سپیلنگ کی غلطی یا کوئی ایک آدھ لائن شامل ہونے سے رہ سکتی ہے، مگر یہاں معاملہ اِس کے برعکس ہے کہ صرف حلف نامہ کی ہیڈنگ یا ابتدائی عبارت ہی میں تبدیلی نہیں کی گئی، بلکہ حلف نامہ کی ذیلی دو اَہم ترین شقیں سیون بی اور سیون سی ہی کو سرے سے حذف کر دیاگیا تھا۔ یہ کلیریکل غلطی نہیں، بلکہ کسی شہ دماغ شاطر کی مجرمانہ شعوری کوشش تھی، جسے انتہائی ٹیکنیکل طریقے سے انجام دیاگیا، تاکہ حلف نامہ کے بِل میں موجود ہونے کی وجہ سے، اگر کوئی سرسری نظر ڈالے تو اُسے دِیگر شقوں اور عبارات کے حذف ہونے کا احساس ہی نہ ہو۔ ایسی غلطی کا اِرتکاب کوئی ٹائپسٹ کرنے کی جرأت کر ہی نہیں سکتا، بلکہ یہ روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ کام انتہائی اعلیٰ سطح پر اَنجام پایا ہے۔ جس میں وزیر قانون اور اُن کے سرپرست مکمل طور پر شریک ہیں۔ اِسی لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کسی ملازم کا نام لینے کے بجائے دوٹوک کہا ہے کہ اِس سازش میں ملوث وزیر کو برطرف کیا جائے۔ وزیراعلیٰ کے اِس بیان کے بعد ہی نوازشریف کو ترامیم کی واپسی کا اعلان کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:   ختم نبوت کا دفاع اصل طاقت سے کیجیے - حافظ یوسف سراج

اِس مرحلے پر جہاں پوری قوم کا ختم نبوت کے مسئلہ پر اِتفاق و اِتحاد دیکھنے میں آیا، وہیں یہ خوش کن امر بھی واقع ہوا کہ پاکستان آرمی نے بھی پہلی بار قوم کے جذبات و اِحساسات کے احترام میں کھل کر اَپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنر ل آصف غفور نے کہا کہ ’’جہاں تک ختم نبوتﷺ کا تعلق ہے تو ہر پاکستانی ناموس رسالتﷺ پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے اور اِس پر ترمیم کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ختم نبوت ﷺ کی شق کے خاتمے کو کوئی بھی پاکستانی قبول نہیں کرسکتا۔‘‘ پاک فوج کے اِس جرأت مندانہ اعلان نے پاکستانی قوم کے مورال کو بلند کیا ہے اَور دینی قوتوں کے مطالبہ کی تائید کر کے فوج کے بارے میں کئی منفی تاثرات کو کافی حد تک زائل کرنے میں مدد دی ہے۔

اِس دورانیہ میں ایک افسوسناک امر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی اکثریت نے انتخابی اصلاحات کے بل کا سرے سے مطالعہ ہی نہیں کیا، یہاں تک کہ جہاں دیدہ سیاست دان شیخ رشیداحمد، جن کی قومی اسمبلی میں تقریر ہی سے تحفظ ختم نبوت کے مسئلہ پر لوگوں کی توجہ مبذول ہوئی۔ انہوں نے بھی اپنی تقریر میں کہہ ڈالا کہ اِس بل کی منظوری کے بعدختم نبوت کی شق ہی ختم کر دی گئی ہے، حالانکہ یہ شق اُس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی ، جب تک کہ دوتہائی اکثریت اسے ختم کرنے کے لیے ووٹ نہ ڈالے۔سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک تلخ تجربے کی بھی نشاندہی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے متحرک دینی دوست بھی سنی سنائی باتوں کی بناء پر، سوچے سمجھے اور معلوم کیے بغیر یہی کہتے پائے گئے کہ بل سے ختم نبوت کا حلف نامہ ہی ختم کر دیاگیا ہے جبکہ حکومت اور اُس کی اتحادی جماعتوں کے مخلص احباب بھی سوشل میڈیا پر حکومتی دِفاع کرتے ہی پائے گئے اور انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ حلف نامہ سے ختم نبوت کا پیراگراف ختم نہیں کیاگیا۔ حالانکہ اگر جماعتی وابستگیوں سے ہٹ کرصرف چند لمحوں کے لیے قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے نئے اور پرانے فارم دیکھ لیے جاتے تو معلوم ہو جاتا کہ حلف نامہ تو موجود ہے، مگر فارم میں کیا کیا خوفناک تبدیلیاں اور رَدوبدل رونماہو چکا ہے؟ سوشل میڈیا پر موجود ہمارے دینی و سیاسی کارکن اگر بغیر تحقیق فوری کمنٹس دینے اور بلاسوچے سمجھے دوسروں کی پوسٹیں شیئر کرنے سے پرہیز کریں اور خود تھوڑی سی محنت کی عادت ڈالیں تو یقینا کبھی ایسے مسائل درپیش نہیں ہوں گے اور جگ ہنسائی بھی نہیں ہوگی۔

عوام سیکولر پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ کو مذہب دوست سیاسی جماعت سمجھتے چلے آئے ہیں، اور مذہبی ووٹ بینک بھی مسلم لیگ کے حق میں پڑتا رہا ہے، لیکن طُرفہ تماشا ہے کہ حالیہ عرصہ میں مسلم لیگ نے مذہبی رجحانات کی حامل جماعت ہونے کے برعکس سیکولر جماعت ہونے کی شناخت قائم کی ہے۔ مسلم لیگ کے لبرل اور سیکولر اِقدامات کا محور دَراصل بیرونی قوتوں کا ایجنڈہ ہے جن کی تکمیل کے لیے ایسے دل آزار اِقدامات کر کے عوام کے جذبات مجروح کیے جاتے ہیں۔ قانون توہین رسالت ہو، یا قادیانیوں کی آئین میں متعینہ غیرمسلم اقلیت ہونے کی حیثیت، امریکہ اور مغرب کی آشیرباد ہی پر اِن قوانین کو غیر مؤثر کرنے کے حربے وقتاً فوقتاً بروئے کار لائے جاتے رہے ہیں، لیکن یہ سیکولرسٹ اقتداریوں کی بھول ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی من مانی کا اسلام لا سکیں گے کہ جس کا تقاضا اُن سے بیرونی ایجنڈے کے تخلیق کار کرتے ہیں۔ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور اِسلام ہی کے نام پر قائم رہے گا اور اس کی اسلامی شناخت کے خاتمے اور نظریاتی تشخص کو مٹانے کے خواہش مند ہمیشہ ناکام و نامراد رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   انتخابی بل اور ختم نبوت، حقیقت کیا ہے؟ - آصف محمود

قومی اسمبلی ختم نبوت کے حلف نامہ کی حذف شدہ عبارات اور دو ذیلی شقوں کو اُن کی اصل شکل میں بحالی کا بل منظور کر چکی ہے۔ سینٹ سے بھی بل منظور ہو گیا ہے، اب صدر سے منظوری کے مراحل باقی ہیں۔الحمدللہ عوام نے بیداری کا ثبوت دیا اور حکومت کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کر دیا۔ ختم نبوت کے پروانوں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، اختر شیرانی کی طرح اپنی جان و مال اور اولاد سے عزیز ترین ہستی ﷺکے ناموس کی حفاظت کے لیے آخری حدوں تک جا سکتا ہے۔ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت و حرمت کی توہین کے راستے کھولنے چاہے، انہیں منہ کی کھانا پڑی اور جب تک وہ توبہ نہیں کرتے، انہیں نشان عبرت بننے کے لیے عذابِ الہٰی کا منتظر رہنا چاہیے۔

پوری قوم جس کرب سے گزری ہے۔ اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ بدنصیب ہیں وہ لوگ! کہ جو تحفظ ناموس رسالت کے بجائے اپنی سیاسی وابستگیاں بچانے میں مگن رہے۔ وقتی شہرت اور عارضی مفادات کی خاطر اپنے قلم اور عمل سے گنبد خضریٰ کے مکین کو تڑپاتے رہے۔ سلام ہے ان خوش بختوں پر! جو آقا علیہ السلام کے منصب نبوت پر ڈاکہ زنی کرنے والوں کے راستے میں چٹان بن کر کھڑے رہے۔ سیاست کو جوتے کی نوک پر رَکھا اور سارقانِ نبوت کے ہمنواؤں کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ دوستو! ابھی رُکنا نہیں، کیونکہ سفر باقی ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے کئی خارزار گھاٹیوں کو پار کرنا ہے۔ سیکولر، لبرل اور منکرینِ ختم نبوت کے ناپاک ارادوں اور مذموم اقدامات کا سدباب کرنا ہے۔ باہم اتحاد اور ایمان کی قوت سے اپنی جدوجہد کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے، مگر نام و نمود کی نمائش کے بغیر:
مجھے خاک میں ملا کر میری خاک بھی اڑا دے
ترے نام پہ مٹا ہوں مجھے کیا غرض نشاں سے

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!