مشرقی طرز زندگی میں بوڑھے افراد کی سماجی حیثیت - محمد زاہد صدیق مغل

چند روز قبل ایم ایس کا ایک طالب علم مقالہ کے لیے چند آرٹیکلز ساتھ لیے موضوع پر ڈسکشن کرنے آیا۔ آرٹیکلز کی نوعیت کچھ یہ تھی کہ جن خواتین کے یہاں معذور بچے ہوں، ان کی مارکیٹ میں شمولیت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ جن لوگوں کے یہاں معذور بچے ہوں ان کے انوسٹمنٹ رویے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ (یعنی کیا وہ زیادہ رسکی اثاثوں میں انوسٹمنٹ کرتے ہیں یا کم میں؟)۔ اسی طرح مختلف عالمی جریدوں میں اسی طرح کے تحقیقی آرٹیکلز بوڑھے لوگوں کے بارے میں بھی چھپتے ہیں کہ مثلا بوڑھوں کی تعداد بڑھنے سے ریاست کے اخراجات پر کیا اثر پڑتا ہے؟ معاشرے کی مجموعی پیداواری صلاحیت کیسے متاثر ہوتی ہے؟ وغیرہ۔

مغربی طرز زندگی جس تصور قدر پر یقین رکھتی ہے، اس کے مطابق صرف پیداواری صلاحیت رکھنے والا شخص ہی معاشرے کے لیے معنی خیز و کام کا فرد ہے، اس کے سوا باقی سب "سماج پر بوجھ" (social cost) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مغربی ممالک کے لوگ ایسے موضوعات پر تحقیق کرتے ہیں تو چلو سمجھ آتی ہے کیونکہ ان کے فریم ورک میں تو بوڑھا و معذور بچہ سب "سوشل کاسٹ" سے زیادہ کچھ نہیں۔ مگر ہمارے یہاں کے محققین بھی اسی قسم کے موضوعات پر مقالے لکھتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اس طالب علم کو سمجھایا کہ آپ یہ بےکار کے کام نہ کریں کیونکہ نہ تو ان سے کچھ معنی خیز چیز برآمد ہوگی اور نہ ہی یہ موضوعات ہمارے معاشرے سے متعلق ہیں۔

ہمارے معاشرے کی اصل اقدار کے مطابق بوڑھا و معذور بچہ سوشل کاسٹ نہیں بلکہ آپسی میل ملاپ اور روپے پیسے کے لین دین کو بڑھا کر خاندان کو جوڑے رکھنے کے ظروف ہیں۔ چنانچہ اپنے خاندانوں میں ہر شخص یہ مشاہدہ کرسکتا ہے کہ جب تک گھروں میں بزرگ حیات ہوں، تب تک لوگ عید اور شب برات کے تہواروں، غمی اور خوشی کے مواقع پر ایسے گھروں میں جانے کا بالخصوص اہتمام کرتے ہیں۔ میں چند سال قبل تک جب بھی گاؤں جاتا تھا، کوئی تیس چالیس کلومیٹر کا سفر طے کرکے اپنی ایک خالہ سے ملنے جایا کرتا تھا۔ پھر جب خالہ کا انتقال ہوگیا تو خالو سے ملنے کا سلسلہ کچھ عرصہ جاری رہا۔ چند سال بعد خالو کا بھی انتقال ہوگیا، تب سے لے کر اب تک کئی سال ہوگئے، اپنے ان خالہ زاد کزنز سے ملنے جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ تو یہ ایک عام پریکٹس ہے کہ لوگ ان گھروں میں جانے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں جہاں بڑے حیات ہوں۔ اسی طرح جس بھائی کے ساتھ والدین رہتے ہوں، وہ گھر سب بھائیوں کے گھر سے زیادہ آباد ہوتا ہے۔ اسی طرح جس گھر میں ماں باپ رہتے ہوں وہاں پیسے کی لین دین بھی زیادہ ہوتی ہے، ان کے ساتھ رہنے والا بچہ اگر معاشی طور پر کمزور بھی ہو تو اسے ماں باپ کی وجہ سے رقم ملتی رہتی ہے۔ اور لوگ یہ سب احسان کے طور پر نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری و سعادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے یہاں بڑے بوڑھے سوشل کاسٹ نہیں بلکہ گھر کو جوڑنے اور رابطے کا ذریعہ ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم ترین سماجی کردار ہیں اور ان کے بغیر خاندان کا جڑے رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں