امربیل - بانو قدسیہ

محبت کی امر بیل میں ہمیشہ ہائی سنتھ کے پھول لگتے ہیں۔
تم نے کبھی ہائی سنتھ کا پھول دیکھا ہے زری؟
ہائی سنتھ کا پھول جس کی پنکھڑیوں پر تاسف کے آنسو منجمد ہوں اور جس کی مخملیں جِلد سے جدائی کی خوشبو آئے.... لیکن تم نے تو ہائی سنتھ کا پھول دیکھے بغیر ہی اپنے دل کے نہالچے پر کیوپڈ دیوتا کو سُلایا۔ اور پھر آپی آپ ایک رات پچھلے پہر اس کا گلا گھونٹ دیا۔ محبت کا کھیل گنجفہ کا کھیل نہیں ہوتا زری.... پھر تم نے اسے بچوں کی بازی کیوں سمجھا۔ یہ تو ایک بجھارت ہے، ایک کہہ مکرنی ہے، ایک پنتھ ہے جس کی سمجھ برسوں نہیں آتی۔ تم تو ابھی فلیٹ بوٹ پہنتی تھیں۔ کندھے پر دو چوٹیوں میں سرخ ربن ڈالتی تھیں۔ تمہاری عمر آئس کریم کھانے اور نٹ بال کھیلنے کی تھی۔ پھر تم نے سانپ کی بانبی میں ہاتھ کیوں ڈالا؟ تم سے کس نے کہا تھا کہ پارے کا کشتہ اتنی آسانی سے بن جاتا ہے؟

تم نے محبت کے لیے جو ہدف چُنا وہ بڑا پُرپیچ تھا۔ کیسی عجیب سی بات ہے کہ میری محبت تم سے مہ رُخ کے توسط سے ہوئی۔ اگر وہ خجستہ صورت لیکن منحوس لڑکی میری زندگی میں نہ آتی تو تمہاری محبت کا سربند چشمہ میرے دل میں کبھی نہ پھوٹتا۔ تمہاری محبت میرے دل میں اس طرح بچھی ہے جیسے کسی پرانے مزار پر تازہ پھولوں کی چادر.... نئی عقیدت کا اظہار۔ اس مرقد میں تمہاری محبت دفن ہے اور تعویذ پر ہائی سنتھ کی پھولوں کی تازہ چادر تنی ہے.... جن کے مومی وجود پر تاسف کے آنسو منجمد ہیں۔ ان کی مخملیں جِلد سے جدائی کی خوشبو آتی ہے۔ موت کی ٹھنڈی باس اُٹھتی ہے۔

آئڈا سے پہلی ملاقات نیل کے کنارے ہوئی تھی۔ میں اپنے دیس واپس آرہا تھا اور وہ اپنے ہسپانیہ لوٹ رہی تھی۔ مسجدِ قرطبہ کے عقب میں رہنے والی آئڈا جس کے چمپئی سینے پر پلاٹینم کی صلیب آویزاں تھی، ہماری ملاقات چند روزہ تھی۔ بادام کے شگوفوں کی طرح معطر، بے حد نازک اور اپنی موت کے احساس سے لرزاں۔ اس شام ہم دونوں ہوٹل سے اُٹھ کر نیل کے ناسپاس پانیوں میں فاتلے آبیٹھے تھے۔ اندھیرا سست مدعی کی طرح دبے پائوں آگے بڑھ رہا تھا اور قاہرہ شہر کی بتیاں نیل کے ناسپاس پانیوں میں فانوس رنگ جل بجھ رہی تھیں۔ ان منعکس بتیوں کو دیکھ کر ہسپانیہ کی دختر نے کہا تھا:

آصف! ان بتیوں کا اپنا تو کوئی وجود نہیں.... نہیں ہےناں!“
”کن بتیوں کا آئڈا؟“

”جو بتیاں آپی آپ نیل کے سینے سے آلگی ہیں۔ میلوں کا فاصلہ طے کرکے۔“
”نہیں.... “

آئڈا لونا چماری تھی۔ جادوگرنی تھی۔ اس کا یمین ویسار سیسہ پلائی دیوار کی طرح شکست سے ناآشنا تھا۔ اس میں کارمن کی روح تھی۔ وہ مسجدِ قرطبہ کی طرح خوبصورت اور جادو آفریں تھی۔ لیکن نہ جانے اس روز ہمارے قیام کی آخری شام وہ شمع رو کیوں قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی۔ اس کی ستواں ناک ضبط کیے ہوئے آنسوئوں کے باعث ٹیڑھی نظر آرہی تھی اور سینے کی چمنی میں رُکی ہوئی آہوں نے زیروبم کا نامتواتر ساز چھیڑرکھا تھا۔

”اس میں ان بتیوں کا بھی تو کوئی قصور نہیں جو قاہرہ میں جل رہی ہیں.... ہے نا.... “

مرد ہر لمحہِ جرات میں بزدل بن جاتا ہے۔ وہ کچھار میں پناہ لینے والے شیرببر کی مانند سویا رہنا چاہتا ہے۔ مجھ پر بھی اس وقت بزدلی طاری تھی۔ کوئی چیز فضا میں ایسی تھی جو نامانوس تھی جو بموں کی خوشبو سے مشابہ، لیکن عطرِ حنا میں لپٹی گیس غبارے کی طرح اوپر اُٹھ رہی تھی۔ شام پر انہونے پن کی روشنیاں پڑرہی تھیں۔ مجھے.... لگ رہا تھا.... میں نہیں ہوں.... اور پھر بھی کرسی پر بیٹھا ہوں۔ میرا کوئی مستقبل نہیں۔ میرا کوئی ماضی نہیں.... میرا حال بھی سائے کی مانند ہے جس کا اپنا کوئی وجود نہیں.... میں اس کیفیت سے ڈرتا تھا۔ جیسے آپریشن ٹیبل سے بھاگ کر میں سڑکوں پر بلامقصد گھوم رہا ہوں اور میرے سر پر میرے جسم، میری شریانوں میں کلوروفارم کا نشہ شاں شاں کررہا ہے۔

”میری بات کا جواب دو آصف!“

اس کی بات کا ایک ہی جواب تھا کہ میں چپکے سے اُٹھتا اور نیل کے پانیوں کو اپنا غیرمرئی، حساس اور کلوروفارم سے مدہوش جسم سپرد کردیتا۔ لیکن میں نے اپنی بزدلی کو ہنسی ٹھٹھول میں چھپاتے ہوئے کہا: ”سیدھی بات کیا کرو۔ سمجھ میں آنے والی۔ ہر وقت کارکن بننے کی کوشش نہ کیا کرو۔“

اس نے منہ پھیرلیا۔ نیلی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسوئوں کو ضبط کرتے ہوئے وہ بولی:
”جو خواہ مخواہ کسی کا عکس اپنے دل میں ڈال لیں اور اسے چھپائے رکھیں.... وہ بے وقوف ہوتے ہیں ناں۔“

”خدا کے لیے اتنی خوبصورت شام کو تباہ نہ کرو۔“

لیکن آئڈا کے اپنے وجود کے اندر خصی پرنالہ گررہا تھا۔ اس کے اندر شکست وریخت کا ایک طوفان موجزن تھا۔ وہ شیام رنگ لمحوں کی کیا پروا کرتی، بھڑک کر بولی: ”اگر نیل ان بتیوں کو اپنے پانیوں میں یوں بسانا چاہتا ہے تو اس میں شہر کی بتیوں کا کیا قصور؟“

”تمہیں کیا ہوگیا ہے آیڈا.... ؟“ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

دور کسی ریڈیو پر اُم کلثوم گارہی تھی۔ ہرتان میں فی سبیل اللہ، فی سبیل اللہ کی التجا تھی۔ میرے اردگرد رنگین چھتریاں، ان کے نیچے بیٹھے ہوئے لوگ، ان میں گھومنے پھرنے والے بیرے چرخے کی مال کی طرح گھومتے نظر آرہے تھے۔ آیڈا نیم وا آنکھوں میں چقماق سے آنسو لیے بولی:

”ہائی سنتھ پھول کی کہانی سنی ہے تم نے؟“

”نہیں.... اور میں یہ سننا بھی نہیں چاہتا۔ میری ایک کزن مجھے فلمی کہانیاں سنایا کرتی ہے۔میں کبھی ان کے گھر نہیں جاتا۔“

”ہائی سنتھ کی کہانی فلمی نہیں ہے آصف۔ یہ تو دُکھ کے پھول کی داستان ہے.... ایسا پھول جس میں محبت کا مدفن تھا۔“

میں نے خاموشی اختیار کرلی۔ میری قوتِ مدافعت جواب دے چکی تھی۔ سارے میں زمستانی ہوائوں کی سیٹیاں بج رہی تھیں۔ چرخے کی مال گھوم رہی تھی اور اُم کلثوم التجا کررہی تھی.... رورہی تھی۔ فی سبیل اللہ.... فی سبیل اللہ۔

آئڈا اپنے آپ سے بولی: ”کہتے ہیں کہ دیوتا اپالو کی دوستی ایک یونانی نوجوان سے تھی۔ ہائی سنتھ نامی یہ یونانی نوجوان حسن میں بے مثل تھا۔ انگور کے پتوں کا تاج پہنے اخروٹ کی مکڑی کی کمان سنبھالے چیتے کی کھال میں ملبوس جب وہ پہاڑیوں سے اُترتا تو یونان کی دوشیزائیں پانی بھرنا بھول جاتیں۔ خود اپالو.... سورج کی طرح پلک جھپکے بغیر اس کی طرف تکتا چل جاتا.... لیکن اپالو اور ہائی سنتھ کی دوستی چند روزہ تھی۔ اپنی موت کے احساس سے خود لرزاں۔ یہ بتائو آصف ہر خوبصورت چیز، ہر مکمل ملاپ چند روزہ کیوں ہوتا ہے؟ کیوں ہوتا ہے، بتائو ناں؟“

میں چپ رہا۔ میری عافیت اسی میں تھی کہ میرے منہ سے کچھ نہ نکلے۔

”سنو آصف! ابھی ہائی سنتھ اور اپالو پر محبت کی اولین سرشاری طاری تھی کہ ہائی سنتھ گیا۔ یہ بتائو جب محبت کا نشہ چڑھا ہو تب موت کا حادثہ ہو تو المیہ زیادہ ہے کہ محبت کا نشہ اُترجانے پر.... یعنی دونوں میں سے کون سا بڑا المیہ ہے؟“

نیل کے پانی گنبدی گونج بن کر میری طرف بڑھے۔ میں جلدی سے اُٹھا اور اس کی کرسی پر جھک کر بولا: ”یہ میری آخری شام ہے پردیس میں.... اسے یوں مضمحل نہ کرو.... آئو بازار چلیں۔“

وہ اپنی جگہ سے اُٹھے بغیر بولی: ”تبھی کہا کرتے ہو کہ مشرق کے لوگ دل کے معاملے بہتر سمجھتے ہیں۔“

میں اس کے طعنے کا تھوتھا تیر کھاکر بیٹھ گیا اور وہ بولتی چلی گئی:
”ہائی سنتھ کی قبر پر اپالو کے اتنے آنسو گرے کہ ایک دن قبر سے ایک پودے نے سر نکالا۔ ہولے ہولے اس میں شاخیں نکل آئیں اور پھر ایک پھول کھلا۔ ارغوانی رنگ کا.... ہائی سنتھ کا پھول.... جب اپنے دیس لوٹ جائو تو یاد رکھنا کہ آئڈا کو ہائی سنتھ کے پھولوں سے عشق تھا عشق.... “

میں نیل کے پانیوں میں جھلملاتی بتیوں کا رقص دیکھنے لگا.... ارغوانی بتیاں.... آسمانی بتیاں.... گڈمڈ پھولوں کی قطاریں.... آئڈا نے ایک چھوٹی سی سسکی لی۔ سینے کے پہلو کی ہڈیوں میں ایک چھوٹا سا زلزلہ آیا اور وہ میرے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر بولی:
”جانتے ہو ہائی سنتھ کی پنکھڑیوں پر کیا لکھا ہوتا ہے؟ جانتے ہو آصف؟“

”نہیں.... “

اس کے ہاتھوں کا دبائو شکنجے کی طرح بوجھل بھی تھا اور آسمان میں تیرنے والے پر کی مانند ہلکا بھی....

”ہائی سنتھ پچھتاوے کا پھول ہے۔ محبت کا مدفن ہے۔ اس سے جدائی کی خوشبو آتی ہے۔ اس میں تمنائوں کا لہو جھلملاتا ہے۔ اس کی ہر پنکھڑی پر لکھا ہوتا ہے: افسوس.... صد افسوس.... “

اس کی آنکھوں سے دو چھوٹے سے آنسو چھچھلاتے ہوئے مجھ پر آن گرے۔

”جب میں پاکستان آئوں گی تو مجھے تاج محل دکھائوگے ناں؟“

میں نے اس کے گریبان میں لٹکی ہوئی صلیب کو چھوکر کہا: ”تاج محل ہندوستان میں ہے آئڈا.... تمہیں اپنا ہم سفر بدلنا پڑے گا بارڈر پر.... “

آئڈا نے اب تک ضرور اپنا ہمسفر تلاش کرلیا ہوگا زری.... یہ تم ہی تھیں کہ جس میں سفرِ حیات کا حوصلہ نہ تھا۔ ورنہ راستہ چاہے جاں گسل ہی سہی، لیکن اس راہ میں اور آبلہ پا بھی ملتے ہیں۔ آئڈا کا میری زندگی سے ایسا ہی تعلق تھا جیسے بچوں کی نصابی کتابوں میں رنگین تصویروں کا وجود۔ ان تصویروں کا تعلق اصل متن سے ضمنی ہوتا ہے۔ اسی طرح آئڈا میری زندگی میں آئی اور چلی گئی۔ ایک طرح سے تو مہ رُخ بھی میری زندگی میں اصل متن نہیں ہے۔

جب بھی بارش آتی ہے زری اور بوندیں گرم مٹی سے لپٹ کر سوندھی خوشبو میں بھیگ جاتی ہیں، میں تم کو ہمیشہ یاد کرتا ہوں۔ تم اس خوشبو کی طرح تھیں۔ انوکھی، انجان.... گرم اور سرد کے باہم اتصال کی خوبصورت دلیل.... آج شام سے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ بجلی ان سیاہ بادلوں میں گھبرائی پھرتی ہے۔ پہلے آسمان پر ایک سفید چادر لہرائی۔ پھر مشرق کی جانب سے اودی نیلی سیاہ ساڑھیوں کے تھان اُڑاُڑ کر آنے لگے اور بہت جلد ان کپڑے کے تھانوں میں نے غف اونی تنبو کی شکل اختیار کرلی۔ اس تنبو کی طنابیں ابھی ٹھیک طورپر کسی بھی نہ گئی تھیں کہ جابجا غف کپڑے میں شگاف آگئے۔ مینہ اس طرح برسا جیسے رکھیل عورت میکہ یاد کرکے رودے۔ بارش کو دیکھ کر تمہاری یاد کا گھٹا ٹوپ اندھیرا میرے چاروں طرف چھانے لگا۔ میں نے کھڑکی کھول دی۔ مٹی کے گرم وجود سے لپٹی ہوئی ٹھنڈی بوندوں کی خوشبو اُٹھی... کچھ لوگ کم ظرف اور پتیلے ہوتے ہیں۔ ان میں محبت کا مشکیزہ جب غٹ غٹ انگبیں گراتا ہے تو عموماً ان کا وجود گڈی کاغذ کی طرح پھٹ جاتا ہے۔ کچھ کے لیے محبت بپھرنے اور اُترنے کا موقع ہوتی ہے۔ وہ اُپچی بنے ہوا میں تلواریں مارتے ہیں۔ کچھ طفل زادے محبت کے نذرانے کو ٹھوکریں مار مارکر کچے گھڑے کی طرح بے وقعت کردیتے ہیں۔

ایسے ہی فرعونوں میں میرا شمار بھی تھا، لیکن مہ رخ سے ملنے کے بعد نہیں۔ اس وقت مجھے محبت اور محبت میں محرومی دونوں کا احساس پوری طرح ہوچکا تھا۔

جب میں نے پہلی بار تمہیں دیکھا تو تمہارے سینے پر دو لمبی لمبی چوٹیاں تھیں جن میں بل دئیے ہوئے سرخ ربن گڑھل کے پھولوں کی طرح لٹک رہے تھے۔ تمہارے پیروں میں فلیٹ بوٹ، کانوں میں گول سنہری رِنگ اور کندھے پر اسکول یونیفارم کا سرخ دوپٹہ تھا۔ تمہارے گال پکے ہوئے سیبوں کی طرح شنگرفی ہورہے تھے۔ اس سرخی میں کسی آئرن ٹانک یا غازے کی آمیزش نہ تھی۔ اوپر والے لب پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے تھے۔ یہی پسینہ کسی معمر عورت کی بدصورتی کی وجہ ہوسکتا تھا لیکن تم پر یہ صحت اور تازگی کا اشتہار تھا۔ آنکھوں کے دونوں جانب دنبالہ دار سُرمہ تھا۔ بھاگتے تیر کی طرح پُرافشاں اور تیزرو۔

یہ عمر عشق وعاشقی کی عمر نہ تھی۔ یہ عمر سوڈا واٹر، لیمن ڈراپس اور آئس کریم کی عمر تھی۔ تم اگر چیونگم منہ میں چچوڑتی کولہے کو چست قمیص میں لچکاتی بائی بائی کہہ کر میرے پاس سے گزر جاتیں تو مجھے تعجب نہ ہوتا۔ لیکن تم آکر چپ چاپ کھڑی ہوگئیں۔ تم نے نہ اپنی عمر پر ترس کھایا نہ اس مشکل راہ پر نظر کی جو تم نے اپنے لیے لمحوں میں انتخاب کرلی تھی۔ بس تم پر تو خبط اچھلا... اور تم میری محبت میں گرفتار ہوگئیں۔ تمہاری طرف سے یہ پہلی نظر کی محبت تھی۔ اس میں استانی جی سے والہانہ عشق کا دیوانہ پن بھی تھا۔ باپ سے دل شیفتگی بھی تھی اور ایک اور چیز بھی تھی جسے صرف تم ہی سمجھتی تھیں۔ جو صرف تمہاری ہی رگِ جاں تھی۔

”میجر صاحب گھر پر ہیں بے بی؟“

بے بی کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

”ڈیڈی نہیں ہیں جی۔ ممی ہیں اندر۔“

”تو انہیں جاکر بتائیے کہ آصف تنویر آیا ہے... آصف تنویر یاد رہے گا ناں؟“

”جی آصف تنویر صاحب... یاد رہے گاجی... “

پھر تم جالی کا دروازہ کھول کر اندر بھاگ گئیں۔ گیلری میں تمہارے بھاگنے کی آواز آتی رہی۔ اس عمر میں بھاگنا کتنا فطری اور خوبصورت فعل ہے۔ ہرن کی قلانچوں سے مشابہ عربی گھوڑے کی جسامت کی طرح بے خوف، چیتے کی طرح سڈول جسم کو فضا میں تولتے ہوئے بھاگنا۔ یہ فلمی بھاگنا نہ تھا۔ ٹپے کھاتی گیند کا سا دوڑنا تھا۔ چند ہی لمحوں میں تم واپس بھی آگئیں۔

”جی! اندر آجائیے۔ ممی بلارہی ہیں۔“

تم مجھے اپنے ساتھ ڈرائنگ روم میں لے گئیں۔ یہ بیٹھک یا دیوان خانہ کم تھا اور میجر اقبال کے شکار کیے ہوئے شیر، چیتے، بارہ سنگھوں کا عجائب گھر زیادہ تھا۔ صوفوں پر ہرنوں کی ملائم گندم گوں کھالیں پڑی تھیں۔ آتش دان کے پاس دو چیتے مع اپنے چار بڑے بڑے خونخوار دانتوں اور نارنجی آنکھوں کے سر اُٹھائے لیٹے تھے۔ کارنس پر بارہ سنگھے ٹنگے تھے۔ ان کے سینگ اخروٹ کی لکڑی کے بنے نظر آتے تھے۔ بجابجا ہاتھی دانت اور پیتل کا آرائشی سامان سجا تھا۔ سارے کمرے میں کمائے ہوئے چمڑے کی مہک تھی۔ تم مجھے کمرے میں بٹھاتے ہی پھر بھاگ گئیں۔ غالباً میں تمہارے رسی پھاندنے کے شغل میں مخل ہوا تھا۔

تمہاری ممی چند لمحے بعد تشریف لائیں۔

وہ پہلے سے بہت زیادہ موٹی اور سانولی ہوچکی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے نہایت دہشت انگیز قسم کی گلابی لپ اسٹک بمقدار وافر استعمال کررکھی تھی۔ بغیر آستینوں کے بلائوز اور بڑے بڑے پھولوں والی واش اینڈ ویئر قسم کی ساڑھی میں وہ مجھے اپنے ماضی کا بھوت نظر آئیں۔

”ہیلو آصف... بھئی بیٹھو بیٹھو... ہم تو سوچ رہے تھے کہ تمہیں ڈھونڈہی نکالیں گے ایک دن، لیکن اقبال کو تو سوائے شکار کے اور کچھ سوجھتا ہی نہیں... زری... زری ڈارلنگ... “

”مجھے ابھی مال پر رانا حمید مل گیا۔ اس سے پتا چلا کہ اقبال کی تبدیلی لاہور ہوگئی ہے۔ بڑی مشکل سے گھر تلاش کیا۔ اس نے تو گلوب سینما کی طرف کوٹھی بتائی تھی، آپ لوگ تو صدر بازار کی طرف رہتے ہیں۔“

”رانا حمید وہیں آئے تھے لیکن وہ کوٹھی مجھے پسند نہیں آئی تھی۔ پانی کا پرابلم تھا۔ غسل خانوں میں سے تلی چٹے نکلتے تھے۔ رات کے وقت بڑی سیلن رہا کرتی تھی۔ سارے قالین خراب ہوگئے وہاں... آپ ابھی تک سیف گارڈ انشورنس میں ہی ہیں ناں... زری... زری ڈارلنگ۔ یہاں آئو! انکل آئے ہیں۔“

”جی ہاں! ابھی تک تو ان ہی لوگوں کے ساتھ دانہ پانی بندھا ہے۔“

”شادی... ہوگئی کہ ابھی تک؟“
”ابھی تک نہیں۔“

تمہاری ممی کھڑکی میں جاکھڑی ہوئیں اور تمہیں آواز دینے لگیں۔ تمہاری ممی ایک زمانے میں بڑی خوبصورت عورتوں میں شمار ہوتی تھیں۔ نمک کی کان تھیں۔ نقشہ اور جسم ایسا تھا کہ سارے میں ان کا چرچا ہوتا تھا۔ اب وہ ایک بے جان تودے کی طرح سامنے کھڑی کسی اینگلو انڈین بڑھیا کی طرح تمہیں بلارہی تھیں۔

تم آکر پردوں کے پاس رُک گئیں۔

”آجائو زری ڈارلنگ... انکل آصف ہیں۔ تم ان سے اپنی Booties پہنا کرتی تھیں۔ پنڈی کے دن بھی خوب تھے۔ ہے نا آصف۔“ ممی بولیں۔

”جی ہاں۔ ویسی بے تکلفی کا دور پھر میں نے کبھی نہیں دیکھا... یورپ میں بھی نہیں۔“

”کیسا انجوائے کرتے تھے ہم سب... یاد ہے آصف؟ وہ مری کی پکنک یاد ہے تمہیں جس روز روزی تقریباً مر ہی چلی تھی۔“

”میری بے وقوفی تھی۔ میں نے تجربے کے طورپر پانی میں اُتاردیا تھا۔“

ممی کھی کھی کرکے ہنسنے لگیں۔

”زری ڈارلنگ۔ انکل کو کافی تو پلائو۔ یہ کیا بچوں کی طرح پردہ پکڑکر کھڑی ہو۔ جائو بیٹے!“

تم پھر بھاگ گئیں اور تمہاری ممی مجھے پرانے دنوں کے واقعات یاد دلانے لگیں۔ ایسے واقعات جو بظاہر وہ ہم دونوں کے لیے بالکل غیراہم تھے۔

یہ میری تمہاری پہلی ملاقات تھی۔ اسی ملاقات میں کیویڈ دیوتا نے تمہیں منتخب کرکے تمہاری دستاربندی کردی۔ تمہارے لیے یہ ملاقات حرزِ جاں تھی۔ اس ملاقات کو تم نے ہیرے جڑی انگوٹھی کی طرح بار بار پرکھا۔ ہر سمت سے دیکھا۔ قریب سے، دور سے۔ اس کی چمک میں تمہیں دھنک کے سارے رنگ نظر آنے لگے۔ تمہارے لڑکپن کی فصیل میں یہ پہلی دراڑ تھی۔ اس ملاقات کے بعد جب بھی میں تمہاری طرف گیا تمہاری خوشی دیکھ کر مجھے ایک دن بھی شہادت نے نہ گھیرا کیونکہ میں تو تمہیں اپنے ہاتھوں جوتے پہناچکا تھا۔ تمہیں سائیکل کی سیر کرانا اور تمہاری چوٹیوں میں ربن ڈالنا بقول تمہاری ممی کے ایک زمانے میں میرا محبوب مشغلہ رہا تھا۔ میں تمہاری خوشی کی اصل وجہ کبھی بھی جان نہ پاتا۔ اگر اچانک ایک دن تم سے ڈرامائی ملاقات نہ ہوجاتی۔

اقبال گھر پر نہیں تھا۔ تمہاری ممی اپنی کسی دوست کے ساتھ شاپنگ کو گئی ہوئی تھیں۔ تم اپنی گیتوں کی کاپی لیے اکیلی آتش دان کے پاس بیٹھی تھیں۔

”ڈیڈی کہاں ہیں بے بی؟“

”مرغابیوں کے شکار پر گئے ہیں جی... “ تم نے یکدم کاپی کو پشت کی جانب چھپالیا۔

”اور ممی کہاں ہیں بے بی؟“
”آپ جی مجھے بے بی نہ کہا کریں۔“

”کیوں؟“

تم نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا... ”کیونکہ جی... کیونکہ... بس جی... آپ مجھے بے بی نہ کہا کریں۔“

حکمت عملی کے خلاف جو حرکت مجھ سے اس وقت ہوئی وہ ناقابلِ معافی ہے۔ میں نے تمہیں قدآور بچہ سمجھ کر تمہارا بازو پکڑا اور صوفے پر انپے پاس بٹھالیا۔

”پتا ہے تم بہت تنگ کیا کرتی تھیں پنڈی میں۔ کیا بات ہے زری! تم کانپ کیوں رہی ہو؟“

میرا بازو تمہارے کندھوں کے گرد حمائل تھا اور تم ڈری ہوئی کبوتری کی طرح لرز رہی تھیں۔

”کیا بات ہے زری! بخار تو نہیں کہیں... “ میں نے انگریزی میں سوال کیا۔

تم خاموش رہیں۔
”تم ٹھیک تو ہو زری؟“

تم نے اُٹھنے کی کوشش کی تو تمہارے ہاتھ سے گیتوں کی کاپی پھسل کر قالین پر جاگری۔ دانت نکالے چیتے سے ایک فٹ ادھر۔ میں نے اسے ہرگز کھولنے اور پڑھنے کی نیت سے نہ اُٹھایا تھا۔ لیکن کاپی کچھ اس انداز سے گری کہ پہلے صفحے پر بنا ہوا پان کے پتے جیسا دل جگرجگر چمکتا ہوا نظر آرہا تھا۔ میں نے جھک کر اس دل کو اُٹھالیا۔ دل کے وسط میں ایک لمبا سا تیر کھنچا تھا جس سے آنسوئوں کی لڑی ٹوٹ کر صفحے پر بکھری پڑی تھی۔ اوپر انگریزی میں رقم تھا... ”الف کے لیے جو نہیں جانتا۔“... اس تصویر کے گرد ارغوانی آسمانی پھولوں کی جدول بنی تھی۔ ہائی سنتھ کے پھولوں کا حاشیہ۔

تم خوفزدہ کھڑی تھیں اور میں احمق پن سے بار بار پوچھ رہا تھا: ”یہ الف سے کس کا نام شروع ہوتا ہے زری ڈارلنگ۔“

تم نے منہ پھیرلیا اور آہستہ سے بولیں: ”اسے نہ دیکھیے پلیز... پلیز۔“

میں نے صفحوں کو بڑی بے دردی سے اُلٹنا شروع کردیا۔ ”بے وقوف۔ انکل سے شرمایا نہیں کرتے۔ انکل تو رازدار ہوتے ہیں اُلٹا... ہم کوئی ممی کو بتائیں گے تھوڑا ہی۔“

تمہاری کجلائی آنکھوں میں آنسوئوں کا ترمرا پھیلنے لگا۔ میں نے اس کو اپنی بے وقوفی سے نہ سمجھا اور کاپی کو بے توجہی سے دیکھنے لگا۔ یہ تو ایک کجلی بن تھا جس میں شرم وحیا والے ہاتھی رہتے تھے۔ دنیا سے چھپ کر محبت کرتے تھے اور اس محبت کو سب سے چھپائے رکھتے تھے۔ سارے گیت انگریزی میں تھے۔ ہر گیت کے اوپر ایک ہی جملہ لکھا تھا:
”الف سے مخاطب ہوکر۔“

”پلیز۔ میری سونگ بُک واپس کردیجیے۔ پلیز“

اگر مجھے لمحے بھر کے لیے بھی احساس ہوتا کہ میرا نام الف سے شروع ہوتا ہے تو شاید میں بہت جلد تمہاری کتاب لوٹاکر گھر چل دیتا، لیکن میں تو پورے دو سیٹ ٹینس کے کھیل کر آرہا تھا۔ میرا سارا وجود ٹپہ کھائی گیند کی طرح کھلنڈرا ہورہا تھا۔

”پلیز...“

یکدم میری نگاہ ایک صفحے پر رُک گئی۔ اوپر بار بار لکھا تھا۔ شاید کبھی... شاید کبھی۔ نیچے کونونٹ مارکہ مخصوص لکھائی میں نظم مرقوم تھی۔

”الف... شاید کبھی تمہیں میرا خیال آئے
تنہائی میں
شاید جس کا آج تمہیں انتظار ہے وہ بے وفا نکلے
شاید!
تم آہیں بھرو اور دست بدعا رہو
میرے لیے... شاید
کون جانے میں لوٹ کر آ بھی سکوں۔“

نظم نے مجھ سے بسولی مارکر ساری ہوا نکال دی۔

”یہ الف کون ہے زری... کون ہے یہ؟“

لیکن تمہارے چہرے پر موٹے موٹے آنسو برس رہے تھے۔ فلمی آنسو نہیں، بلکہ وہ آنسو جو بڑی شدت سے حلق میں بھی اُترا کرتے ہیں۔

”آئی ایم سوری بے بی ڈارلنگ خدا کی قسم... لو اپنی سونگ بُک۔ یہ لو۔ میں تمہارا راز نہیں جاننا چاہتا... پلیز بے بی!“

میں نے تمہیں چپ کرانے کی نیت سے تمہارا سر اپنے سینے سے لگادیا۔ اگر چانکیہ زندہ ہوتا تو وہ دست بستہ عرض کرتا کہ مہاراج! ایسی کنیا کو سینے سے لگانا حکمت عملی کے خلاف ہے۔ یہ سراندیپ کی سروپ نکھا ہے۔ کام دیو کی بانی پر ننگے پیر آنے والی۔ ایسی کنیا کی ناک اول تو ہوتی ہی نہیں اور جو باقی رہ بھی جائے تو اسے کاٹ لینا ہی بہتر ہے۔ حکمت عملی کی دوسری غلطی کرچکنے کے بعد... بہت بعد میں مجھے احساس ہوا کہ اگر مجھے الف کا نام نہ معلوم ہوتا تو اس میں ہم دونوں کی بہتری ہوتی۔

اس واقعے کے بعد کئی روز تک میں تمہارے گھر نہ گیا۔ دل میں ایک انجانا سا خوف تھا۔ گو بظاہر اس خوف کی کوئی وجہ نہ تھی۔ تم نے اپنے منہ سے کچھ نہ کہا تھا لیکن میرے دل کی ٹیلی پرنٹر پر مسلسل یہی خبر پہنچ رہی تھی کہ حذر کرو... بچ جائو۔ آگے خطرہ ہے۔ زیرولائن ہے۔ یہ جگہ بیمہ کمپنی کے مینیجر کے لیے بارود خانے سے کم نہیں۔ تمہارا Vaccination کارڈ مکمل نہیں حذر کرو... بچ جائو۔

جب سے یہ پرچہ دل کو لگا تھا میں نے چھائونی کا رُخ کرنا ہی چھوڑدیا تھا۔ اچانک ایک دن مجھے دفتر میں اقبال کا فون آگیا۔

”ابھی اسی وقت گھر پہنچو۔ میں چولستان سے تین چیتل اور دو ہر نوٹے مارکر لایا ہوں۔“

میں نے کام کا عذر پیش کرنا چاہا تو میجر نے دھمکی دی... ”سنو! اگر آدھ گھنٹے میں نہ پہنچے تو ہم خود تمہیں لینے آجائیں گے... خدا حافظ۔“

پیشتر اس کے کہ میں کوئی معقول بہانہ تراش سکتا فون ادھر سے بند ہوگیا۔ میں عجب گھولے میں پڑگیا۔ نہ تو جانے پر طبیعت آمادہ ہوتی تھی نہ ٹھہرنے کی جاء تھی۔ ہموار زندگی میں یہ نیا شاخسانہ پیدا ہوگیا تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد جب میں بالآخر وہاں پہنچا تو ممی اور ڈیڈی برآمدے میں بیٹھے تھے۔ حسبِ عادت اقبال پائپ پی رہا تھا۔ چہرے پر بڑی ہشاش بشاش مسکراہٹ تھی۔ ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ دھرے اوپر والی ٹانگ بڑے تواتر سے ہلائے جارہا تھا۔ ممی کی کرسی سے چند قدم پر سے ہرن اور چیتل پڑے تھے اور ان کے پیٹ کوئلوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ممی ایک چھوٹا سا رومال لیے اپنا ناک کریدنے میں مشغول تھیں۔

”ہیلو ینگ مین... کمال ہے اِدھر کا چکر ہی نہیں لگاتے۔ تم اچھے دوست ہو... “

اقبال نے اپنی کرسی سے اُچھل کر کہا۔

تمہاری ممی نے پہلے تمہیں آواز دی اور پھر رومال سے کہنی صاف کرتے ہوئے بولیں: ”ہم تو تمہارے ہوٹل آرہے تھے ہرن لے کر۔ پھر اقبال کہنے لگا یہ ہرن اس کے کس کام کا۔ وہ تو ہوٹل میں رہتا ہے۔“

تم باہر آئیں تو میں نے محسوس کیا کہ تمہارا چہرہ ہسپانوی لیموں کی طرح زرد ہوچکا تھا۔ سرخ رِبن فلیٹ بوٹ اور یونیفارم کے باوجود تمہاری آنکھیں باب المندب بن چکی ہیں۔ تم میں ایک ایسی بیاہی ہوئی عورت کا سروپ تھا جس کا شوہر اسے پہلی رات ہی چھوڑ گیا ہو۔

”زری نہایت اعلیٰ کباب بناتی ہے آصف... انکل کو سلام کرو زری ڈارلنگ۔“

تم مقدس کبوتر جیسا سفید ہاتھ اٹھاکر پیشانی کی طرف لے گئیں۔

”یہ تو آپ کو بہت یاد کرتی ہے آصف۔ ابھی کل ہی کہہ رہی تھی اب تو انکل کبھی آتے ہی نہیں۔ میں نے جواب دے دیا تمہارے ڈیڈی چوبستان گئے ہیں۔ وہ بھلا کس سے ملنے آئیں؟“

میں نے تمہاری جانب دیکھا۔ تمہارے ہونٹوں میں ضبط کیے ہوئے آنسوئوں کی کپکپاہٹ تھی۔ آنکھوں میں بے رُخی اور اپنی کم نصیبی کا گلہ تھا۔ ان آنکھوں میں ایک پوری داستان تھی۔ شہر پومپیائی کی تباہی کی داستان۔ میں نے اس کی عبرانی زبان بظاہر سمجھتے ہوئے کہا:

”زری تو ہم سے بولتی ہی نہیں۔ ہم کس سے ملنے آئیں بھلا۔“

اپنے غلط جواب پر پشیمان ہوکر میں نے فوراً ہی باتوں کا رُخ پلٹ دیا... ”اچھا یہ بتائو کہاں کہاں شکار کرنے گئے۔“

”پہلے تو گئے بہاولپور... وہاں نواب صاحب کے مقربین میں سے ایک حضرت ساتھ تھے۔ بڑا آسائشی شکار کھیلا بالکل پرنس آف ویلز بن کر۔ شکار کم اور ضیافتیں زیادہ ہوئیں۔ پھر چار دن چولستان میں رہے... ونڈر فل... سمندر... پہاڑ... اور ریگستان یہ تینوں اللہ نے اس لیے بنائے ہیں کہ جب انسان زیادہ اِترانے لگے تو انہیں دیکھ کر اپنی اصلیت کو پہچانے۔“

یہ بھی پڑھیں:   سراب زندگی (4) - احسن سرفراز

”کافی پئیں گے آپ... “ ممی نے سوال کیا۔

اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر زری کو آرڈر لگایا۔ ”جائو زری۔ انکل کے لیے کافی لائو۔ چیز اور ویفرز بھی لانا۔“

اقبال اپنی ترنگ میں بولتا گیا۔ ”یار چولستان خوبصورت ہے۔ بہت ہی خوبصورت۔ خاص کر چاندنی میں۔ لیکن وہ سندر بن والی بات کہاں۔“

تمہاری ممی نے گہرے فیروزی رنگ کا پلو کندھے پر گھسیٹ کر کہا: ”توبہ توبہ۔ میمن سنگھ میں یہ اس قدر خوش تھے آصف کہ کیا بتائوں۔ صبح صبح آدھی درجن کیلے کھاتے۔ رات کو دو چار انناس۔ اور شام کے وقت کچے ڈاب۔ ان کا بس چلتا تو کبھی لوٹ کر مغربی پاکستان نہ آتے۔“

”میری زندگی کے چار بہترین سال میمن سنگھ میں گزرے ہیں۔ وہ شکار ہے وہاں یار۔ وہ شکار ہے کہ انسان شکار Afford ہی نہیں کرسکتا۔ کارتوس ختم ہوجاتے ہیں، لیکن شکار ختم نہیں ہوتا۔ میلوں پھیلا سبزہ، جھیلیں، بجے... کوئی بیوٹی ہے۔ کوئی وائلڈ لائف مائی گاڈ... ونڈر فل... ونڈرفل... لیکن یہ تمہاری بھابی بہت بور ہوئیں وہاں۔“

تمہاری سانولی ممی نے فوراً کہا... ”توبہ۔ میرا تو رنگ سنولا گیا تھا وہاں۔ سال دو اور ہوتی تو بالکل کالی ہوجاتی۔“

”میں تو ریٹائر ہوکر وہیں چلا جائوں گا یا کھلنا میں کاٹج بنالوں گا یا چندرگونا میں جھونپڑی ڈال لوں گا... میمن سنگھ اب Sophisticated ہوچلا ہے۔

”چاٹگام بہتر ہے۔“ ممی بولیں... ”ہم لوگ بھی چھٹیوں میں آجایا کریں گے۔

”کہیں بھی ہو۔ رہوں گا مشرقی پاکستان میں۔ یار آصف۔ اس قدر سادہ زندگی ہے ان لوگوں کی۔ ایسی سادہ زندگی کہ انسان عبرت پکڑتا ہے۔ ہر گھر کے آگے ایک پول بھی ہوتا ہے چھوٹا سا۔ سارا خاندان اس میں تین چار بار نہاتا ہے۔ باتھ روم کا خرچ صفر۔ بارہ روپے کی فرسٹ کلاس دھوتی آتی ہے... ایک پہن لی ایک دھولی۔ پیروں میں کھڑاویں۔ سونے کو سیتل پائی۔ کھانے کو مچھلی بھات۔ نہ انہیں کوئی کراکری چاہیے نہ قالین درکار ہیں نہ الیکٹرک گڈز۔ سبحان اللہ کیا زندگی ہے۔ شیر کی طرح آزاد پھرتے ہیں بنوں میں۔“

”توبہ بس بھی کیجیے۔ بہشت کا نمونہ ہی بنادیا مشرقی پاکستان کو۔“

”بس کیسے کروں۔ جس نے ایک بار ڈابھ پی لی اس نے سوم رس پی لیا۔ یار آصف! کیا لذت ہے کچے ناریل میں۔ سبحان اللہ۔ ونڈرفل۔ کبھی گئے ہو مشرقی پاکستان؟“

”جاتا ہی رہتا ہوں۔“

”پھر کیسی جگہ ہے؟“

”تفریح کے لیے نہایت اعلیٰ ہے۔“

”بالکل ٹھیک... بالکل ٹھیک... “ ممی چہکی۔

”تم لوگ جنت میں بھی صرف تفریح کے لیے جائوگے۔“ اقبال نے کہا۔

اتنے میں تم کافی لے کر آگئیں۔ اخروٹ کی لکڑی کے بڑے ٹرے میں۔ تم میرے پاس بیٹھ کر کافی بنانے لگیں۔ جب بھی تم میری طرف نگاہ کرتیں تو مجھ تکلے کے سب بل نکل جاتے۔ مجھے سلسلہِ کلام جوڑنا مشکل ہوجاتا۔ کوئی چیز مجھے اندر ہی اندر سمجھارہی تھی کہ مجھے جلد گھر جانا چاہیے، لیکن اقبال ہر قسم کے کارتوس، بندوقوں کی قسمیں، مچان باندھنے کے طریقے، جانوروں کی شکار سے بچنے کی گھاتیں، آدھی رات، پچھلے پہر اور دوپہر کے شکار کے فوائد اور نقصانات پر سیر حاصل بحث کرتا رہا۔

یک طرفہ بحث جس میں میری شمولیت برائے نام اور تمہاری ممی براہِ صحبت شامل رہیں۔ تم کونے میں کتابیں لیے بیٹھی رہیں۔ گو کئی بار تمہاری ممی نے تمہیں سوجانے کو کہا لیکن نے سنی ان سنی کردی۔

عجب بات ہے مجھے تمہارے دلی جذبات کا اندازہ ہوچکا تھا۔ پھر بھی میں اپنے آپ کو سمجھارہا تھا کہ یہ میری خودستائی ہے۔ کبھی اس قدر پیاری بچی کو عشق ہوسکتا ہے۔ یہ سب کنچوں کی جھٹل کھیل ہے کہ بازی ہار جانے پر سب کھلاڑی اپنے اپنے کنچے واپس لے کر ہنسی خوشی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے... مجھ انکل نما انسان سے ایسی محبت... اور پھر وہ بھی اتنی کم عمر معصوم لڑکی کرے۔ توبہ توبہ!

اس روز کے بعد میں نے دل ہی دل میں عہد کرلیا کہ جو کچھ بھی ہوگا، میں تمہارے گھر نہیں جائوں گا۔ لیکن ایک انشورنس کے سلسلے میں مجھے ایک ایسے گھر جانا پڑا جہاں میرے عزم کو توڑنے والی تمہاری ممی موجود تھیں۔ انہوں نے میرے عذر کو پس پشت ڈال دیا اور مجھےا پنے ساتھ لے گئیں۔ آخری بات جو انہوں نے کی، اس کے بعد انکار کی گنجائش نہ تھی، وہ بولیں: میرے پاس گاڑی نہیں ہے۔ صرف مجھے گھر پہنچا آئو۔ اُترنا نہ اُترنا تمہاری مرضی... “

اور جس وقت میں نے کارپورش میں کھڑی کی وہ فر سے اُتریں اور اقبال کو فون کرنے چلی گئیں۔ میرا ارادہ اندر جانے کا نہیں تھا۔ میں صرف تمہاری ممی کو تکلفاً خدا حافظ کہنے کے لیے رُک گیا۔ لان کے ایک گوشے میں رنگین نواڑ سے بنی ہوئی کرسیاں پڑی تھیں۔ میز پر تمہاری کتابیں تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا جیسے تم ابھی پڑھتی اُٹھ کر گئی ہو۔ میں وقت کٹی کے طورپر ان کتابوں کو اُلٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ تمہاری انگریزی کی لکھائی اچھی تھی لیکن اُردو کے حروف ناپختہ اور بچگانہ تھے۔ رف کاپی میں ایک مضمون بہار پر، ایک رخصتی کی عرضی اور چھوٹے چھوٹے پیروں کو اختصار سے لکھنے کی مشق کی گئی تھی۔ جابجا میرا نام لکھ کر اس طرح پینسل سے کاٹا گیا تھا کہ بمشکل پڑھا جاتا۔ میرا دل خوف سے لرزنے لگا۔ آسمان پر جیٹ طیارے زناٹے سے گزرتے ہوں تو گھر کی کمزور کھڑکیاں دروازے سے اسی طرح لرزا کرتے ہیں۔ اسی کاپی کے آخری صفحے کو پینسل سے کاٹ کاٹ کر سیاہ کیا ہوا تھا۔ میرے دل نے گوشمالی کی لیکن تجسس نے حروف کو شناخت کیے بغیر نہ چھوڑا۔ صفحے کے ایک کونے میں حروف بھی اچھی طرح مٹائے نہ گئے تھے۔ اوپر میرا نام لکھا ہوا تھا۔ نیچے تمہارے نام کے انگریزی میں ہجے کیے گئے تھے۔ جو حروف دونوں ناموں میں موجود تھے، انہیں بعدازاں کاٹ کر محبت اور نفرت کا پڑتا لگایا گیا تھا۔ اس عمل سے ظاہر ہوتا تھا کہ تمہیں مجھ سے محبت اور مجھے تم سے نفرت ہے۔ تم نے یہ نتیجہ بدلنے کے لیے سارا صفحہ سیاہ کردیا تھا... میں تمہیں کیا سمجھاتا زری کہ جب نصیب کا ہارا ڈوب جاتا ہے تو کوئی عمل کام نہیں آتا... میں تمہیں کیا بتاتا کہ محبت تو امربیل ہے... جس درخت پر یہ چڑھ جاتی ہے وہ پیر سُوکھ جاتا ہے اور درخت ایک دن آپ ہی آپ گرجاتا ہے... میں تمہیں کیا سمجھاتا کہ محبت کی امربیل میں کبھی کسی کے پھول نہیں لگتے۔ اس بیل میں تو ہمیشہ ہائی سنتھ کے شگوفے کھلتے ہیں... پشیمانی کے ارغوانی پھول... تاسف کے آسمانی پھول!

میں تم سے ملے بغیر تمہاری ممی کو فون کرتا چھوڑکر فوراً ہی چلا گیا۔ کئی گھنٹے ہوٹل کےایرکنڈیشنڈ کمرے میں کروٹیں بدلنے کے باوجود مجھے ٹھنڈے پسینے آتے رہے۔ کٹے ہوئے حروف... ایل او وی ای سے بھری ہوئی کاپی۔ ذرا سی برآمدے میں آہٹ ہوتی تو میں چونکیل جانور کی طرح اُٹھ بیٹھتا اور آہٹ پر کان دھرکر سوچتا کہیں یہ زری نہ ہو... کہیں اس کے دماغ کی ڈھبریاں اس قدر ڈھیلی نہ پڑگئی ہوں کہ وہ یہاں تک آگئی ہو۔ پھر جی کو تسلی دیتا کہ اول تو وہ میرے ہوٹل کا رستہ نہیں جانتی ہوگی اور پھر اتنی چھوٹی عمر میں اتنی جرات کہاں سے آجائے گی۔ مجھے بھی ہالی ووڈ کا کوئی ایکٹر سمجھ کر محبت کرنے بیٹھ گئی ہے۔ چند روز ملیریا بخار جیسی تھرتھری چھوٹے گی۔ پھر آپی آپ پنڈا نارمل پڑجائے گا۔

اب میں نے پھر پکا عہد کرلیا تھا کہ تمہارے گھر کسی قیمت پر بھی نہ جائوں گا۔ اور تو اور میں یہاں تک سوچنے لگا تھا کہ اپنی تبدیلی کہہ سن کے کراچی کروالوں تاکہ اس دھبدھا سے جان چھوٹ جائے...!

اس شام میں نہاکر غسل خانے سے نکلا تو مجھے برآمدے میں چوڑیوں کے چھناکے کی آواز آئی۔ پھر یوں لگا کسی نے میرے کمرے کا کنڈا کھولنے کی کوشش کی ہو۔ میں نے کنویاں اُٹھاکر پوچھا:
”کون ہے؟“

ابھی میں قمیص پہن ہی رہا تھا کہ تم دروازہ کھول کر اندر آگئیں۔ میں کلر زدہ زمین کی طرح سفید پڑگیا۔ سینے پر وہی دو چوٹیاں اور چوٹیوں کے سروں پر سرخ گڑھل کے پھول، لٹھے کی سفید شلوار قمیص اور کندھوں پر سفید دوپٹا... ہاں ایک بات خلافِ معمول تھی۔ تمہارے دونوں ہاتھوں میں آج کالی چوڑیاں نظر آرہی تھیں۔

”زری... ہیلو بے بی! تم یہاں کیسے؟“

لمحہ بھر تو مجھے وہم ہوا کہ شاید تمہارے والدین نیچے کھڑے ہوں اور انہوں نے مجھے چونکانے کی خاطر تمہیں بھیج دیا ہو۔ میں اس وہم پر بھروسہ کرکے جلدی سے برآمدے تک گیا اور نیچے جھانکنے لگا۔ ایک بھڑ سی زرد اور سیاہ ٹیکسی پھاٹک سے نکل رہی تھی۔ امان... پورچ اور پکی سڑک تک تمہارے والدین جیسا کوئی بھی شخص موجود نہ تھا۔ میں ڈرتے ڈرتے واپس آیا اور پہلی بار میں نے تمہارے چہرے کی طرف دیکھنے کی جرات کی۔ تمہاری آنکھیں زیادہ رولینے کے باعث سرخ ہورہی تھیں۔ ہونٹ اور ناک کی پھننگ یاقوت رنگ کی تھی، اور تم چھوٹے سے رومال کی لگدی بنارہی تھیں۔

”کیا بات ہے زری! ممی ڈیڈی کہاں ہیں؟“

تم چپ چاپ کھڑی رومال کا گولا بنانے میں مصروف رہیں۔

”بات کیا ہے؟ کچھ بولو ناں... “ میں نے انگریزی میں سوال کیا۔

”میں اکیلی آئی ہوں... “

زن سے سارا ہوٹل میرے پیروں تلے سے نکل گیا۔

”کیوں... کیوں بیٹے؟“

میں لفظ بیٹے کا قفل ڈال کر تمہارے جذباتی وجود کو مقید کرنا چاہتا تھا لیکن اس کا اثر اُلٹا ہوا۔ آنسوئوں کی چمک پھر سے آنکھوں میں پیدا ہوگئی اور تم نے تھوک نگلتے ہوئے کہا: ”آپ مجھ سے ناراض ہیں؟!“

”نہیں نہیں نہیں... ہرگز نہیں... توبہ، ہرگز نہیں... یہ خیال تمہیں کیسے آیا؟ کبھی انکل ناراض ہوتے ہیں؟“

بحر رمل میں ایک سے وزن کے آنسو تمہارے گالوں پر بہنے لگے۔

”پھر جی آپ ہمارے گھر کیوں نہیں آتے؟“

”آئوں گا... بھئی ضرور آئوں گا۔ ان شاء اللہ“

تم نے رومال کا گیند کھولا اور اسے ہونٹوں پر رکھ کر بولیں: ”میں تو سمجھی تھی آپ کبھی نہیں آئیں گے۔“

”چلو بے بی... چلو میں تمہیں گھر چھوڑآئوں۔ کم آن ڈارلنگ“

تم دو قدم پیچھے ہٹ کر بولیں: ”آپ مجھے ڈارلنگ نہ کہا کریں۔ ڈیڈی کی طرح۔“

میں نے کار کی چابی میز پر سے اُٹھائی اور تحکمانہ لہجے میں بولا: ”چلو گھر چلیں۔“

”میں اکیلی چلی جائوں گی... میری سہیلی گیٹ پر کھڑی ہے۔ میں اس کے ساتھ جائوں گی۔“

یکدم مجھے احساس ہوا کہ پہلی بار جھجک مٹ جانے پر شاید تم دوبارہ سہ بارہ اور پھر تواتر سے یہاں آنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرو۔ یوں تن تنہا ہوٹل کے ایک بیچلر روم میں آنا میرے ان سفارتی مراسم کو تباہ کرسکتا تھا جو میرے تمہارے خاندان سے تھے۔ میں تمہیں بدنامی سے اپنے آپ سے اور سب سے زیادہ تمہارے اپنے نوشگفتہ ضمیر کی زدوکوب سے بچانا چاہتا تھا۔

”بے بی اگر تم مجھ سے ایک وعدہ کرو تو پھر میں تمہارے گھر آئوں گا۔“

مجھے علم تھا کہ اس عمر میں وعدے کا بڑا پاس ہوا کرتا ہے۔

”جی؟... ضرور... !“

”تم یہاں کبھی نہیں آئوگی... کبھی نہیں۔ سمجھیں؟“

تم نے آنکھیں اُٹھاکر میری طرف دیکھا۔ ”کیوں جی؟“

”اس لیے کہ... کہ میں تمہارا یہاں آنا پسند نہیں کرتا۔ اس لیے کہ تمہارے ڈیڈی کو اگر علم ہوگیا تو وہ بھی ناخوش ہوں گے۔“

تم نے لب کاٹا اور نظریں جھکالیں۔

”دیکھو زری! ابھی تم بہت چھوٹی ہو۔ ان باتوں کو نہیں سمجھتیں۔ تمہیں میری بات ماننا ہوگی۔“

”جی مانوں گی۔“

”وعدہ ہے نا پھر؟“

تم نے اثبات میں سر ہلایا اور اس غیرمشروط وعدے پر تمہارے لبوں نے ایک ہلکی سی سسکی سے مہر لگادی۔

اس واقعے کے بعد میں مہینے میں ایک آدھ بار تمہارے گھر جانے لگا، لیکن کچھ اس التزام سے کہ تمہیں مجھ سے بات کرنے کا ایک لمحہ نہ ملتا۔ میں تمہارے پہنچنے سے پہلے اقبال کو فون کرتا اور اگر وہ گھر پر موجود نہ ہوتا تو پھر میں اُدھر کا قصد بھی نہ کرتا۔ جتنی دیر تک اقبال گھر پر ٹھہرتا میں بھی قیام کرتا۔ اگر اسے کہیں جانا ہوتا تو میں بھی فوراً اُٹھ جاتا۔ اس احتیاط کی کچھ وجہ تو تمہارا تحفظ تھا اور کچھ اس داخل خارج مقدمے میں مہ رخ کا نزول بھی ہوچکا تھا اس لیے میں تمہارے قرب کا متمنی نہ ہوسکا۔

میرے لیے مہ رخ بڑی منحوس صورت اور سبز قدم ثابت ہوئی۔ اس سے ملاقات کے وقت مجھے یہ علم نہ ہوسکا کہ وہ اس طرح میری عنانِ حکومت سنبھال کر میری خوشیوں کے راہوار پر سوار ہوجائے گی۔ مہ رُخ کا اصلی نام امۃ الحفیظ اور قلمی نام مہ رُخ تھا۔ وہ ایک مشہور اخبار میں عورتوں کا کالم لکھتی تھی۔ اس کالم کے اوپر روز مہ رخ کی تصویر چھپتی تھی اور اسی تصویر کے باعث میں نے اسے پہچان بھی لیا تھا۔ گو تصویر میں جو خیرگی تھی وہ اس کی اصلی صورت میں موجود نہ تھی۔ پھر بھی مجھ پر اس صورت کا اثر ہونا تھا ہوکر رہا۔

مہ رخ سے میری ملاقات شالیمار میں ہوئی تھی۔ اکابرین شہر چین کے صدر لیو شائو چی کو ایک نظر قریب سے دیکھنے کے لیے اس جی داری سے ٹوٹ کر آئے تھے کہ کار پارک کرنے کو جگہ نہ ملتی تھی۔ عورتیں پھولوں کی پتیاں پلاسٹک کے لفافوں میں لیے روش کے کنارے بھڑی کھڑی تھیں۔ اس نسوانی دیوارِ چین میں جگہ بناکر آگے بڑھنا قریب قریب ناممکن تھا۔ میں بھی انچ انچ آگے کھسکتا بڑھ رہا تھا کہ میری نظر مہ رُخ پر پڑی۔ پہلی نظر میں ہی میں نے اس کالم نگار خاتون کو پہچان لیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لمبی ڈائری اور پنسل تھی۔ وہ اچک اچک کر بے قراری سے اِدھر اُدھر چکر لگارہی تھی۔ اسی بے قراری کے عالم میں وہ گھستی گھساتی لوگوں میں جگہ بناتی مجھ تک آپہنچی۔ اب اس سے ناک چندی اینٹوں کی روش تین فٹ کے فاصلے پر تھی اور وہ آسانی سے صدر لیوشائوچی کے درشن کرسکتی تھی۔ میں نے قرونِ وسطیٰ کے جانبازوں کی طرح اس کے لیے جگہ چھوڑتے ہوئے پوچھا:

”محترمہ! آپ مہ رُخ ہیں ناں؟“

”جی... “

”آپ خواتین کا صفحہ لکھتی ہیں... میرا قیاس درست ہے کیا؟“

دل میں وہ اپنی شہرت پر بہت خوش ہوئی لیکن بظاہر چڑکر بولی: ”آپ کیوں پوچھتے ہیں؟“

”اس لیے کہ اگر واقعی آپ مہ رخ ہی ہیں تو میں آپ کی مدد کروں گا۔ آپ کاکالم بہت دلچسپ ہوتا ہے اور اسے مرد زیادہ شوق سے پڑھتے ہیں۔“

مہ رخ کا نام سن کر چند لڑکیوں نے پلٹ کر دیکھا۔ آپس میں نوٹس ملانے اور کھسر پھسر کرنے لگیں۔ میری تعریف کا خاطر خواہ اثر ہوا اور مہ رخ سے تنائو کی کیفیت جاتی رہی۔ وہ ہنس کر بولی: ”واقعی... “

یہ ہنسی میرے حق میں بڑی ناانصاف ثابت ہوئی۔ میں نے ایک ہی دار میں سارے ہتھیار ڈال دئیے اور دل کے قلعے کی تمام چابیاں اسے نذر کردیں۔

”ادھر آجائیے میرے سامنے۔ یہاں سے آپ بہتر دیکھ سکیں گی۔“

وہ مجھ سے چھ انچ آگے آکر کھڑی ہوگئی۔ اب اس کے بالوں کی گندھک آمیز خوشبو اور بغیر آستینوں کی قمیص سے اُٹھنے والے جسم کی گرمی مجھ تک بلاروک ٹوک پہنچنے لگی۔ اس نے کوئی نامعلوم فرانسیسی سینٹ استعمال کررکھا تھا لیکن اس سینٹ پر لائف بوائے سے دھلے ہوئے جسم کی خوشبو غالب تھی۔

”دراصل آج میں دفتر والوں کے ساتھ نہیں آئی ورنہ مجھے اتنی تکلیف نہ ہوتی۔ وہ سامنے جو آدمی بیٹھا ہے ناں... وہ رنگین چھتریوں تلے... پریس گیلری میں... وہ ہمارا سب ایڈیٹر ہے لیکن میں اسے بلانا نہیں چاہتی... “

یہ بات اس نے یک رُخی ہوکر کی اور پھر جیسے اپنے آپ سے بولی: ”اللہ جانے اگر ظفر نہ ملا تو پھر میں واپس گھر کیسے پہنچوں گی۔“

اس کے آخری جملے پر ذہن میں پلان بناتے ہوئے میں نے کہا: ”میں سیف گارڈ انشورنس کا زونل مینیجر ہوں۔ آصف قدیر... “

”میرا اصلی نام امۃ الحفیظ ہے... سلام علیکم“

”اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تومیں آپ کو گھر پہنچا آئوں گا۔“

میری شوخ چشمی کا جواب اس نے بڑی بے رُخی سے دیا۔ ”جی نہیں! شکریہ یہاں ضرور کوئی نہ کوئی واقف مل جائے گا۔“

لیکن عجیب اتفاق ہے کہ مہ رخ کو اس بھرے مجمع میں ایک بھی واقف شخص نہ ملا جو اسے گھر لے جاتا۔ اور بالآخر جب وہ شام گئے میری کار میں بیٹھی تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ میرے ساتھ دفتر تک جائے گی اور وہاں سے تھوڑی دیر بعد اکیلی بس پر گھر چلی جائے گی۔ میں نے کسی قسم کی حجت بازی نہ کی کیونکہ میرے لیے یہ بھی بارانِ رحمت سے کم نہ تھا۔

مہ رخ بڑی چمکدار گفتگو کرتی تھی۔ ٹکسال سے نکلے ہوئے چمکدار سکوں کی طرح۔ اس گفتگو میں دل آویز مسکراہٹوں اور کھنک دار قہقہوں کی چیپیاں لگاکر وہ نفسِ مضمون کو بڑا معنی اور دلچسپ بنادی تھی۔ حالانکہ نہ تو اس کی تحریر میں ذہانت تھی اور نہ ہی اس کی کھوپڑی میں فطرت نے معمول سے زیادہ مغز بھرا تھا۔ ایک عام سی سادہ لڑکی جو حسن اتفاق سے کالم لکھنے پر مامور ہوگئی تھی۔ اس کالم لکھنے نے اس کی شخصیت میں ایک قسم کا وقار پیدا کردیا تھا جیسے کوئی چھوٹے قد کی عورت ایڑی والی جوتی پہن کر خوداعتمادی محسوس کرتی ہے۔ اسی طرح خواتین کا کالم لکھ کر مہ رُخ مردوں سے بے تکلف بات کرنے میں گفتگو کا دھارا موڑنے میں، برجستہ جواب کو احمق پن کی دلیل بنانے اور خواتین کی سائیکلوجی پر سیر حاصل بحث کرنے کے قابل ہوگئی تھی۔ عورتوں کے مسائل کی وکالت کرتے ہوئے اس کی نظروں میں مردوں کی ذات بالکل بے وقعت ہوکر رہ جاتی۔ جب وہ باتیں کرتی تو اس کی باتوں میں قندھاری انار کا کھٹا میٹھا مزا اور رنگ ہوتا۔ عجیب سی بات ہے کہ سارے دفتر میں اس گفتگو کا کوئی شیدائی نہ تھا اور سب اسے ایک Pushing لڑکی سمجھتے۔

مہ رُخ سے ملاقات ہونے کے بعد میں بڑے تواتر سے تمہارے گھر جانے لگا۔ تم کو دیکھ کر اب مجھ پر مراقی کیفیت طاری نہ ہوتی تھی۔ میں تم سے، تمہارے جذبے سے خوفزدہ نہ رہا۔ میں نے اپنے جملہ حقوق مہ رُخ کے نام محفوظ کرکے اپنے آپ کو نظرِبد سے بچانے کا اشٹام لکھالیا تھا۔ تمہارے لیے شاید یہی بہت تھا کہ میں نے تمہارے گھر کو یاد تو رکھا، کیونکہ نہ تو تم نے مجھے کبھی بلانے کی کوشش کی اورنہ کبھی مجھے اکیلا پاکر میرے پاس ہی آئیں۔ بس مجھے دیکھ کر تم میں اتنی تبدیلی آتی کہ تمہارا چہرہ دمکنے لگتا۔ جیسے سرشام برف آلود چوٹیوں پر شفق کی روشنی پڑرہی ہو۔ کانسی کے گلدان میں سرخ گلابوں کا عکس پڑرہا ہو۔ جیسے کوئی بچہ، ہتھیلی میں ٹارچ جلاکر اپنی انگلیوں کی نارنجی روشنی دیکھنے لگے۔ تمہاری ہسپانوی لیموں جیسی جلد پر اتنی سرخی کا عود کرآنا بذاتِ خود ایک بہت بڑی علامت تھی لیکن میرے لیے یہ علامت اپنا مطلب کھوچکی تھی۔

مہ رخ سے شالیمار میں ملنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اتنے برس اتنے قرن میں ایک تیر کی مانند گھومتا رہا ہوں۔ ایک ایسا تیر جس کا ہدف کھوگیا ہو۔ میری ساری زندگی آبشاری تھی۔ شوروغوغا سے پُر... بہت ساری عورتیں میری زندگی میں سمندر کے جھاگ کی طرح آئیں اور چلی گئیں۔ مجھ سے ان کا رشتہ سطحی تھا۔ ان عورتوں کی محبت میں جانبین کی کوئی ذمہ داری نہ تھی۔ نہ ذہنی نہ جسمانی۔ وہ مجھے اور میں انہیں کھیل کود کے شریک سمجھ کر علیحدہ ہوئے تھے۔ کسی سے بھی بچھڑکر مجھے پامالی، مکمل خستہ حالی کا دورہ نہ پڑا تھا۔ نہ میں نے کبھی شیو بڑھائی نہ خواب آور گولیاں کھائیں اور نہ کبھی دل بہلانے کے لیے شہر چھوڑا۔ لیکن جونہی مہ رُخ کار سے اُتری مجھے یوں محسوس ہوا کہ اب میں زندہ نہ بچوں گا۔ اس کی صورت دل پر کندہ ہوگئی تھی۔ اس کی آواز، اس کے قہقہے، اس کی مہک دل کو تھامے بیٹھی تھی ورنہ میں تو شاید اسی روز کچھ کربیٹھتا۔ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ دمے کے مریض کی طرح میرا سانس اکھڑرہا ہے۔ میری ٹانگیں کمزور پڑچکی ہیں اور میں... وہ رہا جو اَب تک تھا۔ مجھ میں حضرت عیسیٰ جیسی انکساری... کچھوے جیسی سخت جانی... فاختہ جیسی ناعاقبت اندیشی اور نہ جانے کیا کیا خاصیتیں پیدا ہوئی جارہی ہیں۔ میں ان چند گھنٹوں میں بہت زیادہ بڑھ گیا تھا یا بہت زیادہ گھٹ گیا تھا۔ کوئی ایسی قوت تھی جو میرے ماضی کو ربڑ سے مٹارہی تھی، جو میرے مستقبل کو تشکیل دئیے بغیر جستی حروف میں میرے حال کا نفسِ مضمون تیار کررہی تھی۔ میں ساری رات جاگتا رہا۔ میں نے کئی درجن سگرٹیں پھونک ڈالیں۔ کئی بار مسہری لگائی۔ اندر لیٹا۔ پھر ہڑبڑاکر باہر نکلا۔ مسہری اوپر چڑھائی اور پھرنے لگا۔ کوئی صاحبِ عصا ایسا تھا جو اونگھ سے جگاتا اور مہ رخ کے خیالوں میں غلطاں کردیتا۔

میں بے خواب آنکھیں، بوجھل سر اور اڑا اڑا سا چہرہ لیے دوسرے دن مہ رُخ کے دفتر پہنچا۔ وہ ہاتھ میں پنسل اور ڈائری لیے ایک عینک پوش آدمی سے چتر چتر باتیں کررہی تھی۔ اس نے میرا رتی بھر نوٹس نہ لیا۔

”مجھے آپ سے کچھ کام تھا... “

مہ رُخ نے مجھے پہچاننے سے قطعی طور پر انکار کرتے ہوئے کہا: ”فرمائیے۔“

”آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟“

”جی نہیں! میں نے پہچان لیا ہے۔ آپ سیف گارڈ انشورنس کمپنی کے زونل مینیجر ہیں۔ تنویر آصف صاحب... فرمائیے۔“

عینک والے شخص کی باچھیں خواہ مخواہ کھل گئیں اور وہ بڑے اخلاق سے ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا: ”ظفر... میں یہاں فوٹو گرافر ہوں۔“

تو یہ ظفر تھا۔ منحنی سا فوٹو گرافر۔ چھوٹی سی فرانسیسی ڈاڑھی اور انتہائی چست ٹیڈی پتلون میں ملبوس ظفر! ... اس کے چہرے پر کسی قسم کی ظفرمندی کے آثار نہ تھے بلکہ یوں لگتا تھا جیسے وہ عادتاً یا مصلحتاً بھوکا رہنے کا عادی ہو۔

میں نے اس سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ ”آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔“ می نے ازراہِ تکلف کہا۔

”بہت جلد آپ نے یہ بات کہہ دی ہے... “ فوٹوگرافر نے انگریزی میں کہا۔ یہ بات مہ رُخ کے قہقہے کا باعث ہوئی۔ میرے منہ پر تالا پڑگیا۔

مہ رخ دیر تک ہنستی رہی اور وہ نیم مسخرہ، نیم فلاسفر، دبلا پتلا ہاتھ چپنی چوپ سٹکوں کی طرح ٹانگیں ہلاتا اندر چلا گیا۔

”فرمائیے... “ کچھ دیر کے بعد مہ رُخ نے میری خبر لی۔

میں ذاتی طور پر کسی کو انشورنس کے لیے نہ کہتا تھا۔ یہ کام میرے فرائض میں شامل نہیں، لیکن اس وقت مہ رخ سے اس سے بہتر تقریب ملاقات کا بہانہ بھی تو نہ تھا۔ میں نے کاروباری لہجہ میں کہا:
”میں حاضر ہوا تھا کہ آپ سے انشورنس کے لیے کہوں۔ سیف گارڈ انشورنس کمپنی کم سے کم پریمیم پر زیادہ سے زیادہ روپیہ ادا کرتی ہے۔“

مہ رخ کچھ طیش میں آگئی۔ پہلا ہی وار اوچھا پڑا... ”اسی لیے تو میں انشورنس والوں سے گھبراتی ہوں۔ ذرا سی ملاقات بھی ہو تو فوراً انشور ہونے کو کہیں گے۔“

عجیب سی بات اسی لمحے ہوئی۔ جونہی اسے غصہ آیا میری ہمت عود کرآئی۔ ممکن ہے یہ ان سالوں کی ریاضت اور صبر کا نتیجہ تھا۔ جب میں لوگوں کو انشور کرنے نکلا کرتا تھا... وہ بھی ٹیلی فون ڈائریکٹری میں سے ایڈریس دیکھ کر۔ اب مجھے حالات کے خاطر خواہ ہونے کا احساس ہونے لگا۔

”ہماری کمپنی عورتوں کی انشورنس نہیں کرتی۔ لیکن میں آپ کو بہت اچھی ٹرمز پر انشورنس دلوادوں گا۔ پریمیم بھی کم دینا ہوگا اور... “

”دیکھیے میں انشورنس کرواچکی ہوں... تھینک یو۔“

اب مجھے حجت بازی میں مزا آنے لگا۔

”دیکھیے فی زمانہ انسان جتنی بھی انشورنس کروائے کم ہے۔ زندگی کی Risks بہت بڑھ چکی ہیں مس مہ رُخ!“

”آصف صاحب! میں ایک ڈیلی اخبار میں کام کرتی ہوں۔ میرا وقت بہت قیمتی ہے پلیز... “

”محترمہ مہ رُخ صاحبہ! اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ ایسے قیمتی وقت اور ایسی گرانمایہ شخصیت کے تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔“

جوں جوں اسے غصہ چڑھ رہا تھا میری کمزوری میں کمی واقع ہورہی تھی۔ میں بھولتا جارہا تھا کہ میں اچانک اس لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوچکا ہوں۔

”پہلی بات تو یہ ہے کہ میرا نام امۃ الحفیظ ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس وقت مجھے اسلامیہ کالج جانا ہے ایک مشاعرے پر... معاف کیجیے۔“

یہ جملہ بول کر اس نے بڑے طمطراق سے اپنا بڑا سا بیگ اُٹھایا۔ اس میں ڈائری اور پنسل ڈالی اور بیگ جھلاتی دفتر کی عمارت سے باہر نکل گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ سابقائے کتے کی طرح میں سڑک تک چلا آیا۔ نہ اس وقت مجھے یہ خیال تھا کہ شاید وہ دل ہی دل میں مجھے بے حیا سمجھ رہی ہے نہ ہی اس بات کا خدشہ تھا کہ شاید میرا غلط رویہ ہمیشہ کے لیے اسے مجھ سے بدظن بھی کرسکتا ہے۔ بس ایک لگن تھی ایک کلک تھی، اسے زیادہ سے زیادہ وقت تک دیکھنے کی۔ اس کے قریب رہنے کی۔

دفتر کی سیڑھیاں اُترتے وقت اس نے چپراسی سے پوچھا: ”ظفر صاحب کہاں چلے گئے؟“

چپراسی نے پہلے اندر نظر دوڑائی، پھر سائیکلوں والے چھپر کے قریب گیا اور دور سے آتے ہوئے بولا: ”جناب! وہ ابھی ابھی یونیورسٹی کیمپس گئے ہیں۔“

یہ بھی پڑھیں:   دُرویش ( پہلا پڑاؤ) - مہران درگ

مہ رُخ جھنجھلاتی ہوئی سڑک پر آگئی۔ حسنِ اتفاق سے سڑک سنسان پڑی تھی۔ دو رکشے گزرے۔ دونوں میں سواریاں لدی تھیں۔ مہ رُخ بار بار اپنی گھڑی دیکھ رہی تھی۔

”میری کار حاضر ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ ساری راہ ایک بار بھی آپ کو انشورنس کے لیے نہ کہوں گا... وعدہ... !“

اس نے لمحہ بھر کو میری طرف دیکھا اور پھر کار میں بیٹھ گئی۔

مہ رُخ فلرٹ لڑکی نہ تھی۔ فقط ذرا بے احتیاط تھی۔ باتیں کرنے، ترپ کے پتے چھوڑنے، شام گھاتے دکھانے اور بازی لوٹ لے جانے کا اسے چسکا تھا۔ اس کا جسم اور دل بالکل پاک تھے۔ صرف نیت نیک نہ تھی۔ عام عورتوں کی طرح جو سج بن کر بازار جاتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ نظروں ہی نظروں میں سارے جہاں کے مرد ان کے عاشق ہوجائیں، لیکن اوچھا آوازہ کوئی نہ کسے۔ ان کے دوپٹے کو کسی کی اُنگلی بھی نہ چھوجائے۔ مہ رخ بھی یہی چاہتی تھی کہ چاہنے والوں کے پشتارے لگ جائیں جو ایکبار اس سے بات کرلے ہمیشہ کے لیے اس کا پلیتھن نکال لے۔ وہ اپنی جودت طبع کی خود اس قدر قائل تھی کہ ہر مرد کو اس میدان میں ہراکر اسے ذہنی سکون ملتا تھا... گو بعد میں مجھے علم ہوگیا کہ یہ ذہانت بھی بالکل سطحی ہے۔ اس میں نہ تو اصلی ذہانت کے ابرق جیسے پرت درپرت تھے نہ گہرے پانیوں کا سکون۔ اور نہ ہی خیال کی گہرائی۔ زیادہ سے زیادہ وہ پنڈت رتن ناتھ سرشاد کی بٹیارنوں کی طرح ضلع جگت کی ماہر تھی۔ بہت جلد مجھ پر عیاں ہوگیا کہ آم تو سارے ظفر کے لیے ہیں۔ میری طرف تو وہ گٹھلیاں پھینکتی ہے۔ لیکن میں مہ رخ کی محبت میں اس قدر محصور ہوچکا تھا کہ اس لم چھڑے مسخرے سے جلنا تو درکنار، اُلٹا اس کی خوشنودی کا خیال ہر وقت رہتا تھا۔ مجھے یہ گٹھلیاں اس قدر عزیز تھیں کہ میں ان ہی کی تلاش میں مہ رخ کے دفتر میں جاتا اور پہروں ٹکر گدائوں کی طرح بیٹھا رہتا۔

جب کبھی میں تمہارے گھر جاتا تو ان باتوں کی چمک میرے ساتھ آتی۔ پھر نہ تو زری مجھے تمہاری روتی ہوئی آنکھیں نظر آتیں نہ تمہارا گم سم چہرہ دکھائی دیتا نہ تمہاری آوازیں دیتی خاموشی سنائی پڑتی۔ میں تو سارا وقت خلوت اور جلوت میں مہ رخ سے ہی باتیں کیے جاتا۔ اسی طرح ایک روز میں تمہارے ہاں بے دھیان بیٹھا تھا۔ اقبال نے پہلی مرتبہ میری توجہ تمہاری طرف لوٹائی۔

”صبح تم نے انڈا کھایا تھا بے بی ڈارلنگ؟“ اقبال نے پوچھا۔
تم نے نفی میں سر ہلایا۔

”دودھ؟“

”جی پیا تھا... “ تم آہستہ سے منمنائیں۔

”کہاں پیا تھا زری... ہاں چکھا ضرور تھا اقبال۔ اللہ جانے اسے کیا ہوتا جاتا ہے۔ نہ کچھ کھاتی ہے نہ کسی سے بولتی ہے۔ دو بوتلیں کا ڈلیور آئل کی پلائیں۔ وٹامن بی اور سی کی گولیاں کھلاتی ہوں۔ ذرا رنگ تو دیکھیے اس کا۔ چھپکلی سی نکلتی آتی ہے... ہے ناآصف!“

میں نے ہسپانوی لیموں جیسی جلد پر نظر ڈالی اور پرے دیکھنے لگا۔ بڑے دنوں کے بعد میرا ضمیر مجھے ملامت کرنے اور نیکی کرنے پر اُکسانے آبیٹھا تھا۔

اقبال اپنی بندوق کو گزر سے صاف کررہا تھا۔ اس نے تمہاری ممی کی بات پر کان دھرے بغیر کہا ”آؤ آصف! ذرا باہر چلیںکھیتوں کی طرف۔ شاید کوئی سینڈ گرواز مل جائے۔“

میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ تمہارا شکاری باپ مجھ سے تمہارے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ جب ہم آبادی سے بہت دور نکل گئے اور فضا سے شہر کی آوازیں غائب ہوگئیں تو وہ اچانک رُک گیا اور گھاس پر بیٹھتے ہوئے بولا:

”آصف! مجھے زری کے متعلق بڑا فکر رہتا ہے... میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔“

میں مہ رخ کے متعلق سوچ رہا تھا۔ یکدم میرے گھٹنے کمزور پڑگئے۔

”ہاں... ! ہاں ضرور پوچھو... “

”نہ تو وہ کچھ کھاتی ہے نہ کسی سے بولتی ہے نہ کسی سہیلی سے ملنے جاتی ہے اور نہ ہی اب کوئی اس کی سہیلی گھر آتی ہے۔ پہلے تو وہ کرنل افتخار کی بیٹیوں سے بہت فری تھی۔ اب کبھی ان کا نام بھی نہیں لیتی۔ میں بڑا فکرمند ہوں۔“

میں نے تھوک نگل کر کہا: ”کسی ڈاکٹر کو دکھانا اقبال... شاید معد،... ہو“

”دکھایا تھا۔ کرنل وسیم سے سارا چیک اپ کروایا ہے۔ بلڈ ٹیسٹ لیا ہے۔ چیسٹ کا ایکسرے کروایا ہے۔ بظاہر وہ بالکل تندرست ہے۔“ اقبال نے انگریزی میں کہا۔

”تعجب ہے... “ دور کہیں چکی چلنے لگی تھی اور اس کی آواز میں مدھم آہوں کی ہُوک تھی۔

شکاری کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں نے ہمیشہ اقبال کو کھلنڈرے موڈ میں دیکھا تھا۔ کارتوس سے لے کر چیتے کی آنکھوں تک اس کی باتوں کی اُڑان تھی۔ اس کے سامنے شکار سے ہٹ کر اگر کوئی بات کی جاتی تو وہ اونگھنے لگتا۔ آج وہ گھاس پر بندوق پرے رکھے گھٹنوں کو بازوئوں میں لیے متوحش سا بیٹھا تھا۔ اقبال کا یہ پہلو میرے لیے بالکل اجنبی تھا۔ بڑی دیر کے بعد اس نے انگریزی میں بڑے اکھڑپن سے پوچھا: ”تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا اسے کسی سے محبت ہوگئی ہے؟ ... اگر مجھے علم ہوجائے کہ اسے کس سے محبت ہے تو میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں... میں... میں زری کی بڑی عزت کرتا ہوں آصف۔“

میرے لیے اس سوال کا جواب دینا سہل نہ تھا۔ ذرا سا اعتراف بھی مجھے اتنی دور لے جاتا کہ پھر میں لوٹ کر نہ آسکتا۔ میں نے ساری بات کو معمولی روپ دے کر کہا: ”ابھی کہاں اقبال۔ ابھی تو وہ اپنی استانی سے Calf-love کررہی ہوگی۔“

اقبال نے لمحہ بھر کو میری جانب دیکھا۔ اس نظر میں بڑی مجروح سی چمک تھی۔ پھر اس نے بندوق اٹھائی اور گھر کی طرف لوٹنے لگا۔ سارا راستہ اس نے جنگلی مرغابی، تیتر، بٹیر، مچھلی کے گوشت کی جداگانہ خاصیتوں پر بحث کی۔ شکار کے گوشت کو کوکموں پر سینک کر پکانے اور سُکھانے کے طریقے بتائے لیکن ایکبار بھی پھر اس نے تمہارا نام نہ لیا۔ لیکن اتنی ساری باتوں کے باوجود آج کی تشویش مجھ سے چھپی نہ تھی۔ وہ اپنی اکلوتی بچی کے لیے بڑے چکر میں تھا۔ اس کی باتوں میں آج انہماک تو ضرور تھا لیکن وہ گہری دلچسپی نہ تھی جو عموماً اس کی باتوں سے مترشح ہوا کرتی تھی۔ میں اقبال کی مدد کرنا چاہتا تھا اور کسی قسم کی مثبت گفتگو ہم میں ممکن نہ تھی۔ پورچ کے پاس پہنچ کر میں نے اس سے اجازت چاہی۔ اس نے مجھے روکنا چاہا لیکن میں دل ہی دل میں جو فیصلہ کرچکا تھا مجھے اس پر عمل کرنا تھا اور وہ بھی بہت جلدی۔

میں بڑی عجلت میں رخصت ہوا اور سیدھا مہ رُخ کے پاس پہنچا۔ وہ ایک فل اسکیپ پیپر پر بال پن کے ساتھ کچھ لکھ رہی تھی۔ دفتری میز پر بہت سی تصویریں پڑی تھیں اور ہر تصویر کے اوپر ایک چِٹ لگی تھی۔ میں سلام کرکے اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے بڑے صاحب کی طرح سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیا اور کام میں مصروف رہی۔ میں نے جھک کر صفحے پر دیکھا۔ لکھا تھا:

”میرے میاں شادی کی سالگرہ بھول گئے... “

اسی عنوان کو نیک شگون سمجھ کر میں نے کاغذ پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے بولا:
”امۃ الحفیظ... “

اس نے نظریں اُٹھائے بغیر جواب دیا: ”امۃ الحفیظ بہت ذاتی نام ہے... مہ رُخ کہیے۔“

گرم استری پر جیسے پانی کے چھینٹے پڑگئے۔

”مہ رُخ!“

وہ کاپی پر لکھتے ہوئے بولی ”آنسو نیک شگون ضرور ہیں لیکن چہرے کا میک اپ خراب کردیتے ہیں۔ شادی کی پہلی رات... “

”مجھے تم سے ایک ضرورت بات کہنا ہے۔“

”وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال خود کرتی ہیں... بیگم رضوانی سے ایک ملاقات۔“

”میری بات سنو مہ رُخ... خدا کے لیے... “

”ٹین کے ڈبوں سے آراستہ کھانا... “ وہ تصویروں پر کیپشن لکھتی گئی۔

”مہ رُخ لمحہ بھر کے لیے میری طرف توجہ دو۔“

وہ قلم گھسیٹتے ہوئے بولی: ”فرخ دیبا۔ اپنے شوہر کی چہیتی بیگم۔“

”اللہ کے لیے مہ رُخ مجھے تم سے محبت ہے۔“

”ملکہ الزبتھ دس لاکھ کی مالیت کے ملبوسات لے کر سفر کرتی ہیں۔“

میں نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر کہا: ”مجھے تم سے محبت ہے مہ رُخ۔“

”محبت کی شادی میں ناکامی کی وجہ... “

اب میں جھنجھلاکر اُٹھا اور اس کے ہاتھوں سے کاغذ چھین کر بولا: ”مہ رخ! مذاق کی ایک حد ہوتی ہے۔“

”مذاق کون کررہا ہے؟“

میں نے چڑکر کہا: ”اور میرے ہر سوال کا وہی جواب ہے جو آپ نے دیا؟“

مہ رخ نے کاغذ بڑی اتراہٹ سے میرے ہاتھوں سے چھینا اور اوپر اُٹھاکر بولی: ”جناب! میں کچھ عنوان بنارہی تھی اپنے کالموں کے لیے... دیکھیے پسند فرمائیے۔“

”اچھا۔ آج تم سنجیدہ نہیں ہو۔ میں پھر آئوں گا۔“

جب میں دروازے کے پاس پہنچ گیا تو مہ رُخ اپنی میز پر بیٹھتے ہوئے بولی: ”اور وہ کلاسیکی موسیقی کی کنسرٹ پر نہیں جائیں گے۔ ابھی کل تک تو بڑا جوش تھا۔“

مہ رخ سے ناراض ہونا اور پھر اس ناراضی کو مستقل کرنا میرے بس کی بات نہ تھی۔ میری شخصی آزادی اس کے حضور بالکل ختم ہوچکی تھی۔ میں دُم دبائے کتے کی طرح دوبارہ کرسی پر آبیٹھا۔ اس کے بعد کسی قسم کی گفتگو نہ ہوئی۔ میں اپنا جھوٹا وقار قائم رکھنا چاہتا تھا اور وہ مجھ جیسوں کو دھوئیں میں اُڑاتی تھی۔ اس لیے جب تک وہ لکھتی رہی میں تصویریں دیکھتا رہا۔ میں نے ان تصویروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ پاکستان کی خواتین فینسی ڈریس کو بہت پسند کرتی ہیں۔ جابجا کلچرل شوز میں عورتیں گہنے پاتے سے لیس، غرارے، سندھی قمیص، چوڑی دار پاجامے، پشواز، سلہٹ کے انداز کی ساڑھی، وہ گزے لہنگے، پٹھانی کرتے اور شیشوں کی بنی ہوئی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھیں۔ پنجابی لڑکیوں کو پٹھانی بننے کا شوق تھا۔ سندھی لڑکیاں ساڑھے پہنے اِترارہی تھیں۔ معمر عورتیں چوڑی دار پاجاموں اور عروسی لباسوں میں ملبوس تھیں۔ غرضیکہ بڑے پیمانے پر ایک بڑا وسیع وعریض گھپلا تھا۔ فیشن کے ان مقبول شوز کے علاوہ ان خواتین کی تصویروں کا بھی پلندہ دھرا تھا۔ جو ایکٹریس بنتے بنتے کسی طرح بچ گئی تھیں۔ یک رُخا پورا چہرہ اور تین چوتھائی چہرے کی ان گنت تصویریں تھیں۔ سب شکلوں پر وہی ایک لیمن ڈراپ قسم کی مسکراہٹ تھی۔ کچھ تصویریں ان پارٹیوں کی تھیں جو شادی، سالگرہ اور نوجوان لڑکوں کے یورپ جانے کی تقریبوں پر دی جاتی ہیں۔ ان تصویروں میں مہمان عموماً دُلہا دُلہن، سالگرہ منانے والا یا سفر پر جانے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ افسرِ بالا یا مشہور آدمی ہوتا ہے۔ جن کے اردگرد تمام مہمان گھسنے کی کوشش کریں۔ میں نے تو ایک آدھ تصویر میں یہاں تک ظلم دیکھا کہ دُلہا اور دُلہن کے عین درمیان ایک گنجے سروالے صاحب براجمان ہیں۔ اردگرد گھروالوں کی دو رویہ پلٹن کھڑی ہے۔ نیچے رقم ہے:
”دُلہا دلہن کے درمیان جناب اعزاز الحق صاحب“

ان تصویروں پر مستزاد ان معمر لیڈر نما عورتوں کی تصویروں کا اجتماع تھا جو بیرونی ممالک کے سربراہوں کا خیرمقدم کرنے ایرپورٹ کے وی آئی پی Enclosure میں پہنچی تھیں۔ جنہیں مقامی فنکشنز پر پہلی قطار میں بیٹھنے کا موقع ملا تھا۔ جو زنانہ جلسوں میں صدارت کے فرائض ادا کرچکی تھیں۔ ان خواتین کے چہرے فوٹو گرافروں کی چابکدستی کے باوجود وہیل مچھلی کی طرح تھل تھل اور بے جان نظر آرہے تھے۔ میں یہ تصویریں دیکھنے میں مصروف تھا کہ مہ رُخ اٹھتے ہوئے بولی:

”کیوں چلیے گا کہ ناراض رہیے گا ابھی۔“

ابھی ہم مال تک پہنچے تھے کہ مجھ پر پھر دورہ پڑا۔

”مہ رخ! یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟“

”کونسا سلسلہ؟ دیکھیے دیکھیے آہستہ چلائیے رکشا آرہا ہے ادھر سے۔“

”میری گرویدگی اور تمہاری بے رُخی۔“

”جب تک آپ چلانا چاہیں۔ ساری کارروائی یکطرفہ ہے۔“

میں نے ستر کی رفتار پر موڑ کاٹا۔

”اللہ! آج آپ صحیح سالم لے جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔“

”مہ رُخ! میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو شادی کے بعد عورتوں کی آزادی سلب کرلیا کرتے ہیں۔ تم چاہے ساری عمر عورتوں کا کالم لکھنا خدا قسم مجھے اعتراض نہ ہوگا۔“

”یہ تومیری مرضی پر منحصر ہے۔ شاید میں جرنلزم فوراً چھوڑدوں۔“

ایک تانگے سے ٹکر ہوتے ہوتے بچی۔

”ہم دونوں کی مرضی ہمیشہ ایک ہوگی مہ رُخ... ہمیشہ۔“

وہ کھلکھلاکر ہنسی دی... ”یعنی بالا ہی بالا میرے حقوق آپ کے نام محفوظ بھی ہوگئے۔“

”تمنا تو میری یہی ہے۔“

”خوب... اللہ کے لیے اتنی تیز نہ چلائیے گاڑی۔“

مجھ پر اپنی محبت کا بوجھ بڑا شدید ہوچلا تھا اور گاڑی بے قابو ہوکر کبھی دائیں کبھی بائیں مڑنے اور جھولنے لگی تھی۔

”آصف صاحب! کیوں مفت میں بدنام کرنے لگے ہیں مجھے۔ صبح اخبار میں چھپے گا... مہ رخ خواتین کی کالم نگار... سیتلا مندر کے پاس حادثے کا شکار ہوگئیں... ان کے ساتھ کار میں جو شخص تھا اس کی شناخت جاری ہے۔“

میں نے گڑگڑاکر کہا: ”تم دن بھر میں کسی وقت سنجیدہ بھی ہوتی ہو کہ نہیں؟“

اس نے پکا سا منہ بناکر جواب دیا: ”میرا خیال ہے سارے دن میں مجھے غیر سنجیدہ ہونے کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آتا۔“

”خدا کے لیے مہ رخ۔ مجھ سے شادی کرلو پلیز۔“

”اب اگر آپ نے مجھ سے ایسا مذاق کیا تو میں یہیں اُترجائوں گی۔ اسی لمحہ۔“

میں خاموش ہوگیا اور کنسرٹ کے اختتام تک خاموش رہا۔

لان پر رنگدار نواڑی کرسیاں پڑی تھیں اور کنسرٹ شروع ہونے میں ابھی تھوڑی دیر تھی۔ ہمیں ایسی جگہ ملی جہاں سے ہر آنے جانے والا آدھ فٹ کے فاصلے سے گزرتا تھا۔ شامیانے تلے اکابرینِ شہر کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ مجمع میں عورتوں کی اکثریت تھی اور ان میں وہ خواتین زیادہ تھیں جو شوہروں کے شانہ بشانہ بڑے ٹھسے سے آئی تھیں۔ عورتوں کی تعداد کچھ اس لیے زیادہ نہ تھی کہ یکدم لاہور کی مستورات کن رس ہوگئی تھیں اور انہیں موسیقی سے عشق ہوگیا تھا بلکہ اکثر اس لیے آئی تھیں کہ ان کے پاس کچھ ایسے لباس تھے جو لوگوں کو دکھانا بہت ضروری تھا۔ کچھ اس لیے تشریف لائی تھیں کہ صبح ہی انہیں اپنی ہمسائی اور دوستوں کو بتانا تھا کہ رات وہ بھی کنسرٹ پر موجود تھیں۔ کچھ محض اس لیے چلی آئی تھیں کہ آج شام کنسرٹ سے بہتر شہر میں کوئی اور پروگرام نہ تھا... بیگمات کی خیرہ کن زیبائش ایسی تھی کہ بڑی بڑی رسہ گیر طوائفیں کان پکڑتیں اور ان سے لباس پہننے کا سبق حاصل کرتیں۔ مجھ سے ایک مرتبہ ایک ٹیکسی گرل نے شکایتاً کہا تھا:
”جناب جب سے بیگمات طوائف گیری کرنے لگی ہیں، انہوں نے ہمارے رزق پر لات ماردی ہے۔“

”وہ کیسے؟“ میں نے سوال کیا۔

”پہلے مرد طوائفوں کے پاس اس لیے زیادہ آتے تھے کہ گھریلو بیبیاں سادہ لباس پہنتی تھیں۔ اور اپنے آپ کو ڈھانپے رہتی تھیں۔ اب تو بیگمات ہر پہلو سے اپنے آپ کو یوں پیش کرتی ہیں کہ طوائف دنگ رہ جاتی ہیں۔ اب ہم لوگوں کو کون پوچھے بھلا!“

آج چونکہ میں بظاہر مہ رخ سے ناخوش بیٹھا تھا، اس لیے میری نظروں میں تنقید زیادہ تھی اور تحسین کم۔ سجی سجائی عورتوں کو دیکھ کر مجھے سالم خرگوش کا روسٹ یاد آنے لگا۔ ایسا روسٹ جو بڑے سلیقے سے اسٹین لیس ٹرے میں پیش کیا گیا ہو۔ ان عورتوں کا ہر رنگ آپ کے سامنے تھا۔ آپ کے تخیل کے لیے کچھ باقی نہ تھا۔ یہ مرد کی تواضع تھی۔ سوء ہضم پیدا کرنے کی حد تک تواضع۔

کنسرٹ ختم ہونے کے بعد ہم دونوں مہ رُخ کے گھر چل دئیے۔ ساری راہ نہ میں نے اسے بلایا اور نہ ہی اس نے مجھ سے کوئی بات کی، لیکن جونہی وہ میکلوڈ روڈ کے پہلو میں ایک بند گلی کے پاس اُتری، میں نے اس کا ہاتھ پکڑلیا۔ ”مہ رُخ!“

مہ رخ نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا اور تنک کر بولی: ”مسٹر آصف! میرا خیال تھا کہ مرد اور عورت میں افلاطونی محبت ممکن ہے لیکن یہ تجربہ غلط نکلا۔ مرد اور عورت میں کیسا ہی لاتعلق رشتہ کیوں نہ ہو، دونوں میں سے ایک کو ضرور توقع پیدا ہوتی ہے۔ محبت کی۔ خدا حافظ۔

”مہ رُخ۔ سنو تو!“

”کیا سنوں! خدا جانتا ہے کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس نے آپ کو غلط اُمید دلائی ہو، پھر بھی غلط فہمی پیدا ہوگئی۔ ہوگئی، ہوگئی ناں!“

”مہ رُخ۔ تم لوٹ کر مجھ تک ضرور آئوگی۔“

”فی الحال تو میں ظفر کی طرف مراجعت کررہی ہوں۔ خدا حافظ۔ مجھ سے ملنے کی کوشش نہ کیجیے گا۔ یہ بات طے ہے۔“

مہ رخ جلدی سے روانہ ہوگئی اور میں کتنی ہی دیر وہاں کھڑا رہا۔ ظفر۔ مہ رُخ۔ چوپ اسٹک جیسی ٹانگیں چلانے والا نیم مسخرہ نیم فلاسفر۔ اس آتش بازی کا منظور نظر ہے۔ یہ حقیقت مجھے سمجھ نہ آئی تھی... بڑی دیر بعد جب میں کار میں بیٹھا تو ونڈ اسکرین پر مجھے تمہاری صورت نظر آئی۔ ہسپانوی لیموں جیسی جلد، گم سم آنکھیں، سینے پر لٹکتے دو لمبے لچکیلے سانپ اور سانپوں کے منہ میں گڑھل کے آتشیں پھول۔ میں نے تم سے ایسی کوئی بات نہ کی تھی جس سے محبت کی بُو آتی ہو۔ پھر تم نے آپی آپ یہ فیصلہ کیوں کرلیا۔ میری محبت کے بغیر تمہارا وجود نامکمل ہے۔ شاید مہ رُخ ٹھیک ہی کہتی تھی۔ مرد اور عورت کا رشتہ کبھی لاتعلق نہیں ہوسکتا۔ یہاں ہمیشہ ایک وائرس موجود رہتا ہے جو مکمل بھولپن اور سادگی کو مفلوج کردیتا ہے۔ یہ وہ بتیاں ہیں جو آپی آپ نیلے پانیوں میں منعکس ہوجاتی ہیں۔

دوسرے دن سہ پہر کے وقت میں تمہارے ہاں پہنچا۔ یہ میری خودغرضی تھی کہ میں تمہاری عقیدت کے پھاہے سے اپنی زخمی انا کو سینک دینا چاہتا تھا۔ میں ہمدردی وصول کرنے اس جگہ پہنچا جہاں کا ہر ذرہ محبت کے وائرس میں ڈوبا ہوا تھا۔ جب میں نے کار کو پورچ میں روکا تو پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ شاید تمہارے ممی ڈیڈی گھر پر نہ ہوں لیکن بھاگ جانے کی راہ مسدود ہوچکی تھی۔ کار کا شور سنتے ہی تم برآمدے میں آپہنچی تھیں۔ تمہارا چہرہ زرد تھا۔ کبھی یہ آئرن ٹانک اور غازے کی سرخی سے بے نیاز شنگرفی نظر آیا کرتا تھا۔ مجھے دیکھ کر تمہارے کان کی لوئیں سرخ ہوگئیں۔ تم بھاگ کر ڈرائیور والی سیٹ کی جانب آگئیں اور ہینڈل گھماتے ہوئے بولیں: ”آئیے!“

”ڈیڈی کہاں ہیں تمہارے؟“

”وہ جی ہرن منارے گئے ہیں۔“

”اور ممی جان؟“

”وہ بھی ساتھ گئی ہیں جی۔“

”تم نہیں گئیں ان کے ساتھ؟“ میں نے سوال کیا۔

”میرے سینئر کیمبرج کے امتحان ہیں جی... پرسوں سے۔“

میں نے بالکل انکلوں جیسی آواز میں کہا: ”ٹھیک ٹھیک۔ پھر تم تو پڑھو بے بی۔ میں تو چلتا ہوں اقبال کو بتادینا میں آیا تھا۔“

تم نے پہلی بار جرات سے دروازہ کھول کر بات کی: ”جی ممی ڈیڈی آنے والے ہیں۔ بس آپ ذرا تو اُترآئیے۔“

تمہاری آواز میں جو التجا تھی میں نے اس کے سامنے اپنے آپ کو نہتا محسوس کیا۔

”نہین بھئی! تمہاری پڑھائی میں حرج ہوگا۔“

”پانچ منٹ رُک جائیے۔ سچ ڈیڈی آنے والے ہیں ابھی۔“

تمہاری آنکھوں میں آنسو آگئے۔

ان آنسوئوں کا دُکھ میں نے پہلی بار محسوس کیا۔ اپنی محرومی کے احساس سے میرا اپنا حلق نمکین ہوگیا۔ تم مجھے ڈرائنگ روم میں لے گئیں۔ میں اسی مخصوص صوفے میں بیٹھ گیا جو آتشدان کے قریب تھا۔ سارے کمرے میں کمائے ہوئے چمڑے کی مہک تھی۔ چیتے کے سر، بارہ سنگھوں کی آنکھیں اور شیر ببر کی کھال یکدم بہت جاندار ہوگئی تھی۔ مجھے جنگل کا سناٹا کمرے میں مقید محسوس ہورہا تھا۔

”پہلا پرچہ کس کا ہے؟“

”انگلش کا“

”پھر؟“

”دوسرے دن سنڈے ہے جی۔“

”اچھا بھئی میں تو چلتا ہوں۔ تمہارے ڈیڈی تو مچھلی کا شکار کھیلنے گئے ہوں گے۔“

یکدم میں اُٹھ کھڑا ہوا اور چلنے کی نیت سے دو ہی قدم اُٹھائے ہوں گے کہ تمہاری آواز آئی۔ یہ آواز ایک بچے کی تھی لیکن اس میں میرا بائی کا سارا غم تھا۔ اس پر آنسو ان کا اور تعاون بھی کررہے تھے۔

”مجھ سے شادی کرلیجیے۔ دو دن کے لیے۔ ایک دن کے لیے۔ ساری لڑکیاں مجھے چھیڑتی ہیں آصف صاحب۔ خدا کے لیے مجھ سے نکاح کرلیجیے۔ ایک گھنٹہ بھر کے لیے، چاہے پھر آپ مجھے طلاق دے دیجیے گا۔ میں ہمیشہ آپ کی احسان مند رہوں گی۔“

میرے سر کے عین اوپر بم کا گولہ پھٹا۔

”لڑکیوں کو اس بات کا علم کیسے ہوا زری؟“

”ہوگیا ہے جی۔ ہونا ہی تھا۔ میں آپ کی تصویر جو ساتھ لے جاتی تھی بستے میں۔“

میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ میری تصویر اس کے پاس کہاں سے آئی، لیکن جب میں نے لوٹ کر اس کی طرف دیکھا تو وہ مجھے بے حد چھوٹی، دل برداشتہ نظر آئی۔ بالکل جنگی قیدی کی طرح مجبور اور بدحال۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھے اور آہستہ آہستہ بولا:

”سنو زری! میں تمہاری محبت کی عزت کرتا ہوں، لیکن ابھی تم بچہ ہو۔ یہ دور گزر جائے گا۔ تم خود اس جذبے پر ہنسوگی۔ بچپن میں سبھی اس طرح محبت کرتے ہیں۔ لیکن اقبال میرا جگری دوست ہے۔ ہم دونوں چاہے برسوں نہ ملیں ہماری دوستی بہت گہری ہے۔ میں ایک خاص اعتماد پر یہاں آتا ہوں۔“

تمہاری آنکھیں بند تھیں اور پلکوں سے بھری برسات ٹوٹ رہی تھی۔

”اور ایک اور بات بھی ہے زری!“

تم نے آنکھیں کھول دیں۔ آنسوئوں سے لبالب بھری آنکھیں۔

”مجھے کسی اور سے محبت ہے۔ بالکل ایسی ہی محبت جیسی تمہیں مجھ سے ہے۔ میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ سمجھیں زری!“

”جی!...“

نہ جانے وہ سارے آنسو کیسے یکدم خشک ہوگئے۔

میں بھاری قدم اُٹھاتا باہر آیا اور کار میں بیٹھا اور پورچ سے رخصت ہوگیا۔ کاش! میں پلٹ کر ایک بار تمہیں دیکھ ہی لیتا۔

رات کو پونے دو بجے مجھے اقبال کا فون ملا۔ جب میں ہسپتال پہنچا تو اقبال باہر ٹہل رہا تھا۔

”بڑی دیر لگادی تم نے آصف“

مجھے معلوم نہ تھا کہ اقبال میرے متعلق کس قدر جانتا ہے۔ میں خاموش رہا۔

”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ اس قدر جلد مرنا چاہتی ہے تو میں اسے خود شوٹ کرتا۔ اسے دو گھنٹے مرنے میں نہ لگتے۔“

”آئی ایم سوری اقبال“

”ابھی تک میرا خیال تھا کہ زری اتنی سخت دل نہیں ہوسکتی۔ اس کے دل میں میری محبت ضرور ہوگی، لیکن...“میں بلامقصد اس کا کندھا تھپتھپانے لگا۔

”ایک شکاری کی بیٹی کا نشانہ اتنا خراب۔ پورے دو گھنٹے سسکتی رہی۔ بہت دیر کردی تم نے آصف۔“

”کاش! میں اسے ہسپتال نہ لایا ہوتا۔ آصف! گھر اور ہسپتال میں خدا تو وہی رہتا ہے نا!“
میں خاموشی کے ساتھ اس کے برابر ٹہلنے لگا۔

”وین ابھی تک نہیں آئی۔“

”وین؟...“ میں نے بے دھیانی سے سوال کیا۔

”زری کو گھر لے جائیں گے۔ اسے نہلائیں گے۔ دھلائیں گے۔ میں اس کے ماتھے کا زخم خود صاف کروں گا۔ بڑی Darling لڑکی تھی۔ تھی ناآصف؟!“

میرے پاس اس کی باتوں کا کوئی جواب نہ تھا۔

”میں اصل وجہ سمجھ نہ سکا۔ میں ہرن منار سے لوٹا تو وہ بے ہوش پڑی تھی۔ خانساماں بدبخت گھر پر نہیں تھا۔ دی ایڈیٹ“

”چلو ذرا بنچ پر بیٹھ جائیں۔“

اس نے میری نصیحت پر عمل نہ کیا۔ ”زری مجھے ہمیشہ شکار سے منع کیا کرتی تھی۔ کہا کرتی تھی ڈیڈی اللہ میاں سزا دیتا ہے۔ یہ گناہ ہے۔“

اس کی آنکھوں میں تھوڑا تھوڑا پاگل پن اُتر آیا تھا۔

”آصف! کیا اسے کسی سے محبت تھی؟ تم ہمارے گھر آتے تھے تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا کوئی ایسا بھی اس صفحہ ہستی پر تھا جو زری کو نہ چاہ سکا۔ ہم کبھی اس کے خلاف نہ ہوتے۔ زری نے یہ کیوں سمجھا کہ میں اس کی محبت پر معترض ہوتا۔ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟“

میں تمہارے ڈیڈی کو کیا سمجھاتا کہ نیل کے پانیوں میں منعکس ہونے والی بتیوں کا کوئی قصور نہیں۔ میں تمہارے ڈیڈی کو کیا بتاتا محبت تو امر بیل کی مانند ہے۔ جس درخت پر اس کی زردرُو ڈالیاں چڑھ جاتی ہیں وہ درخت آپی آپ مرجاتا ہے۔ میں تمہارے باپ کو کیا سمجھاتا اور وہ کیوں سمجھتا۔

میں تو تمہیں بھی نہ بتاسکا زری کہ تمہارے جانے کے بعد مہ رخ کی محبت چھن جانے کے بعد مجھ پر کیا گزری۔ تمہاری محبت مجھ تک مہ رخ کے توسط سے پہنچی ہے زری۔ اس محبت کا تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ لیکن میں نے تمہارا قرض لوٹادیا ہے۔ میرے اردگرد امربیل چڑھ چکی ہے۔ اس میں ہائی سنتھ کے پھول کھلے ہیں۔ پشیمانی کے ارغوانی پھول۔ تاسف کے آسمانی پھول۔ میں تمہارا قرض لوٹا رہا ہوں۔ ہولے ہولے۔ آنسو بہ آنسو۔ آہ در آہ!

تمہاری محبت کی بتیاں میرے دل کے ناسپاس پانیوں میں منعکس ہوچکی ہیں زری۔ لیکن میں بتیاں تمہیں نہیں دکھاسکتا۔ میرا کوئی مستقبل نہیں۔ میرا کوئی ماضی نہیں۔ میں وہ مریض ہوں جس کی شریانوں میں کلوروفارم کا نشہ شاں شاں کررہا ہے اور وہ آپریشن تھیٹر سے بھاگ آیا ہے۔

بارش بہت زور سے آئی ہے۔ بادلوں کے غف کپڑے میں شگاف آگئے ہیں۔ مٹی کے گرم وجود سے ٹھنڈی بوندوں نے لپٹ کر سوندھی خوشبو اٹھائی ہے۔ تمہاری یاد کا گھٹا ٹوپ اندھیرا میرے چاروں طرف چھانے لگا ہے۔ میں اس طفل زادے کی طرح تھا جو محبت کے نذرانے کو ٹھوکریں مار مارکر بے وقعت کردیتے ہیں، لیکن اب نہیں۔ اب نہیں زری!!!

لیکن اب کیا فائدہ؟
اب کیا فائدہ زری؟؟