سی پیک؛ معلوم فوائد اور نادیدہ نقصانات - قیصر بنگالی

تمام منصوبوں کی لاگت بھی ہوتی ہے اور فوائد بھی۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بھی کچھ ایسے پہلو ہیں جو فوائد پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان پہلوؤں کو بروقت شناخت کرنا اور اِن کے منفی اثرات کا تدارک تلاش کرنا لازم ہے۔

سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر بننے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ یہ اتنا بڑا منصوبہ ہے کہ بروقت اور اعتبار سے جامع تکمیل کی صورت میں ملک کا معاشی جغرافیہ تبدیل کر دے گا۔ اس سے قبل جس منصوبے نے پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں کی راہ ہموارکی تھی، وہ انڈس واٹر ورکس منصوبہ تھا جس کے تحت منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہزاروں کلومیٹر طوالت کی نہریں بھی بنائی گئیں۔ اس کے نتیجے میں اب وہاں سال میں دو فصلیں ہوتی ہیں جہاں پہلے گھاس کا تنکا بھی نہ اگتا تھا اور جہاں 1970ء کے عشرے تک ویرانے تھے، وہاں اب ہنستے بستے شہر ہیں۔

انڈس واٹر ورکس منصوبے کا ایک نتیجہ یہ بھی برآمد ہوا کہ دو مشرقی صوبے (پنجاب اور سندھ) تیزی سے پروان چڑھے اور اُن میں شہری علاقوں کا رقبہ بھی وسعت اختیار کرگیا جبکہ مغربی صوبے (خیبر پختونخوا اور بلوچستان) غیر ترقی یافتہ یا پس ماندہ رہ گئے اور اب تک مجموعی قومی معیشت کے رحم و کرم پر ہیں۔ اب سی پیک کا مغربی روٹ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لیے ترقی کے امکانات کی نوید سنا رہا ہے۔

سی پیک پورے خطے کا سیاسی جغرافیہ تبدیل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان جنوبی اور مغربی ایشیا کے کناروں پر واقع ہے۔ سندھ اور پنجاب قطعی طور پر جنوبی ایشیا کا حصہ ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جنوبی سے زیادہ مغربی ایشیا میں واقع ہوئے ہیں۔ ایک پنجاب بھارت میں بھی ہے اور ایک بلوچستان ایران میں بھی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے پنجاب میں یکساں نوع کی پنجابی بولی جاتی ہے جبکہ پاکستانی بلوچستان اور ایرانی سیستان بلوچستان میں بلوچی کے علاوہ فارسی بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔گلگت بلتستان اور وادیٔ خیبر کے چین میں سنکیانگ اور وسط ایشیا سے صدیوں پرانے ثقافتی و معاشی تعلقات ہیں۔

سیاسی و جغرافیائی وجوہ کے باعث بیسویں صدی کے اوائل میں سنکیانگ اور وسط ایشیا سے معاشی روابط بری طرح متاثر ہوئے اور کچھ مدت پہلے تک بہتری کی صورت نکل نہ پائی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے گلگت بلتستان اور افغانستان کے شمال اور شمال مغرب کے لیے دنیا کا وجود تھا ہی نہیں۔ سی پیک شمال اور شمال مغرب کے لیے وسیع تر معاشی امکانات سمیت بہت سے دروازے کھولنا چاہتا ہے۔ ایشیا کے جنوب میں پاکستان کی گوادر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ واقع ہیں جو علامتی طور پر ہی سہی تقریباً جڑواں حیثیت میں پنپنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آج پاکستان بہت حد تک جنوبی ایشیا کے سیاسی و معاشی میدان کا کھلاڑی ہے۔ سی پیک کی تکمیل سے یہ وسطی اور مغربی ایشیا کی ایک ایسی قوت بن کر ابھرے گا جسے نظر انداز کرنا بہت مشکل ہوگا۔ افغانستان میں امن اور استحکام یقینی بنانے سے متعلق پاک روس اور پاک چین اقدامات اسی تناظر میں دیکھے جانے چاہییں۔

مشرق کی بات کیجیے تو سی پیک کے ہاتھوں پاک بھارت کشیدگی میں کمی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ تجارتی مال سے لدے ہوئے چینی ٹرک کاشغر سے گوادر یا گوادر سے کاشغر تک دو ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے دوران حسن ابدال سے بھی گزریں گے جو بھارتی سرحد سے محض 300 کلو میٹردور ہے۔ کاشغر سے حسن ابدال اور امرتسر کا 700 کلومیٹر کا روٹ بھی چین کے لیے انتہائی پرکشش ثابت ہوسکتا ہے کہ بھارت بھی ایک ابھرتی ہوئی اور پرکشش معاشی منڈی ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ شنگھائی اور ممبئی کے درمیان ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر کے سمندری راستے سے ہونے والی تجارت 100؍ارب ڈالر سے زائد کی ہے۔

اس بات کا امکان قوی ہے کہ چینی حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ حسن ابدال واہگہ روٹ پر چین کا مال لے جانے والے ٹرکوں کو بھارت جانے اور وہاں سے آنے کی اجازت دی جائے۔ اور اسی طور بھارتی ٹرکوں کو امرتسر، حسن ابدال، کاشغر روٹ استعمال کرنے کے لیے پاکستان کو مجبور کیا جاسکتا ہے۔ یوں بھارتی ٹرک پاکستانی علاقوں میں داخل ہوکر حسن ابدال سے ہوتے ہوئے کاشغر تک جائیں۔ بھارتی ٹرکس کو حسن ابدال سے 450 کلومیٹر دور کابل تک جانے کی اجازت دینے کا معاملہ بھی سر اٹھا سکتا ہے۔ سرِدست ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا، مگر ہوسکتا ہے کہ آنے والے زمانے میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کی راہ میں حائل دیواریں اُسی طور گر جائیں جس طور دیوارِ برلن گرا دی گئی تھی۔

پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے حوالے سے جو مساوات قائم ہے، وہ بہت حد تک بھارت کو مرتکز کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ بھارت اور چین مسلح تصادم، سرحدی تنازع اور برتری کے حوالے سے طویل محاذ آرائی کے باوجود ایک دوسرے کے روایتی اور ازلی دشمن نہیں۔ اس وقت پاکستان اور چین کے درمیان تجارت 12 تا 14؍ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ چین اور بھارت کے درمیان تجارت 100؍ ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان کسی بھی طرح کی جنگ کا کوئی امکان نہیں اور یہ سوچنا تو انتہائی مضحکہ خیز ہوگا کہ پاکستان کی خاطر چین کبھی بھارت سے کوئی جنگ لڑے گا۔ چین اس وقت بھارت کو ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا حصہ بننے پر مائل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب بھارت، محدود پیمانے ہی پر سہی، اس عظیم منصوبے کا باضابطہ حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کردے گا۔ اور جب ایسا ہوگا تب چین کو بھارت کے خلاف ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی پاکستانی حکمت عملی اپنے اثر اور تاثر سے محروم ہوجائے گی۔

ممکنہ خطرات
کسی بھی بڑے منصوبے کی ایک لاگت ہوتی ہے اور فوائد کے ساتھ ساتھ بہت سے ممکنہ اثرات ہوتے ہیں۔ سی پیک کو بھی اس کلیے سے استثنیٰ نہیں۔ اس عظیم منصوبے کے ممکنہ فوائد کا سوچتے وقت اس کے معاشرتی اثرات کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان اثرات کا اثر زائل کرنے سے متعلق اقدامات بھی یقینی بنانا ہوں گے۔

بہت کچھ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ کوئی منصوبہ تیار کس طور کیا جاتا ہے۔ سی پیک پاکستان کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہوگا اس کا مدار اس بات پر ہے کہ اس منصوبے کے مختلف مراحل کس طور تیار کیے جاتے ہیں اور ان پر عمل کس انداز سے کیا جاتا ہے۔ سی پیک کے بارے میں بہت سے دعوے کیے جا رہے ہیں اور تبصروں کی بھی بھرمار ہے۔ سی پیک کے تمام نہ سہی تب بھی اچھے خاصے اجزا تجربے کے بنیاد پر تیار کیے ہوئے معلوم نہیں ہوتے کیونکہ متعلقہ اعداد و شمار اور حقائق اب تک عوام کے سامنے نہیں رکھے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   آزاد مر کیوں نہیں جاتا؟ حافظ یوسف سراج

یہاں ہم 12 سوال پیش کر رہے ہیں جن کے جوابات کی بنیاد ہی پر سی پیک کے حوالے سے جامع بحث و تمحیص کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے، بنیاد ڈالی جاسکتی ہے۔

1۔ پاکستان نے سی پیک کی جامع فزیبلیٹی تیار کی ہے؟
2۔کیا پاکستان نے سی پیک کی تکمیل کی صورت میں ماحول پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے کوئی تخمینہ تیار کیا ہے؟
3۔ گوادر کی بندرگاہ سے ہونے والی مجموعی آمدن میں پاکستان کا حصہ کس حد تک ہوگا؟
4۔ گوادر کی بندرگاہ سے ہونے والی مجموعی آمدن میں بلوچستان کا حصہ کس قدر ہوگا؟
5۔ کیا گوادر سے خنجراب تک کی ہائی وے محض ٹول روڈ ہے؟ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اس آمدن سے ان صوبوں کو کس قدر حصہ ملے گا جن سے یہ ہائی وے گزرے گی؟
6۔ چین کی ٹرانزٹ ٹریڈ کا پاکستان کے مینوفیکچرنگ (اشیا سازی) سیکٹر پر کیا منفی یا مثبت اثر مرتب ہوگا؟
7۔ سی پیک سے متعلق درآمدات پر ٹیکس کی چُھوٹ دینے سے پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
8۔ سی پیک سے مالیاتی وسائل کی آمد (بیرونی قرضے اور بلا واسطہ بیرونی سرمایہ کاری) اور وسائل کے اخراج (قرضوں اور ان پر سود نیز منافع کی ادائیگی) سے متعلق توازن ادائیگی پر کیا قلیل المیعاد اور طویل المیعاد اثرات مرتب ہوں گے؟
9۔ خشکی پر اور سمندر میں ملکی تجارتی قافلوں کو زیادہ سے زیادہ یا جامع ترین تحفظ فراہم کرنے کا پاکستان کے بجٹ پر کیا اثر مرتب ہوگا؟
10۔ گوادر تا خنجراب سی پیک سے متعلق تجارتی قافلوں کو تحفظ فراہم کرنے والے سیکیورٹی یونٹس میں متعلقہ اضلاع کا حصہ کتنا ہوگا یعنی وہاں سے کتنوں کو بھرتی کیا جائے گا؟
11۔ گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے کیا انتظامات کیے گئے ہیں۔ اگر سمندری پانی کو میٹھا کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے تو اس حوالے سے خطیر لاگت سے متعلق مالیاتی وسائل کس طور فراہم کیے جائیں گے؟
12۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں کہ گوادر ایسا شہر نہ بن جائے جس میں بلوچ اقلیت میں ہوں؟

پہلے دو سوال بہت اہم ہیں۔ گوادر کو غیر معمولی حد تک ترقی دینے سے متعلق کسی بھی منصوبے پر عمل کرنے سے پہلے ہمیں اس کے تمام ممکنہ فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر سی پیک سے متعلق تمام ممکنہ معاشی، سیاسی، عسکری، سماجی اور ماحولیاتی امور کو ذہن نشین کیے بغیر اس منصوبے پر بھرپور عمل شروع کردیا گیا تو ایسا کرنا آنکھیں بند کر کے سمندر میں کودنے کے مترادف ہوگا۔

قومی معیشت
سوال نمبر 6، 7، 8 اور 9 کا تعلق براہِ راست قومی معیشت سے ہے۔ سی پیک سے کُلّی معیشت کے اصولوں کی بنیاد پر قومی معیشت کے لیے تین بڑے خطرات سَر اٹھا سکتے ہیں۔ یہ خطرات مینوفیکچرنگ سیکٹر، توازن ادائیگی کے استحکام اور مالیاتی توازن کے استحکام سے متعلق ہیں۔

مینوفیکچرنگ سیکٹر پر ممکنہ اثرات
اگر مؤثر حفاطتی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کو سی پیک سے دو بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کراچی کی بندر گاہ کے ذریعے جو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ہوتی ہے، اس کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر اشیاء پاکستان کی حدود ہی میں روک لی جاتی ہیں، یعنی وہ افغانستان میں اپنی منزل تک پہنچ نہیں پاتیں۔ یہ سستی اشیا پاکستان کے طول و عرض میں فروخت کی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں انھی اشیاء کو تیارکرنے والے ملکی یونٹس بند ہوچکے ہیں۔ گوادر کاشغر ٹریفک دراصل چین کی ٹرانزٹ ٹریڈ ہی کا دوسرا نام ہے۔ اور یہ ٹرانزٹ ٹریڈ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے ہزار گنا ہے۔ اگر چین کی ٹرانزٹ ٹریڈ کا محض ایک فیصد بھی پاکستان کی حدود میں اِدھر اُدھر کردیا گیا تو یہاں کے مینوفیکچرنگ سیکٹر پر اِس کے شدید منفی اثرات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

ماضی کا تجربہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ چند ایک صنعتوں یا علاقوں کو ٹیکس کے حوالے سے چُھوٹ دینے کے مثبت کم اور منفی اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسا کرنے سے معیشت کو فائدہ کم ہی پہنچتا ہے اور معاملات بگاڑ کی طرف زیادہ جاتے ہیں۔ سی پیک کے حوالے سے چینی اداروں کو ٹیکس کی جو چُھوٹ دی جارہی ہے وہ پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوگی اور مقامی صنعتی اداروں کے لیے اپنی بقاء یقینی بنانا انتہائی دشوار یا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔

یہ دلیل بالکل بے بنیاد ہے کہ ٹیکس کی چُھوٹ متعلقہ صنعتی علاقوں میں تمام اداروں کو (بلا استثنائے قومیت) میسر ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی کسی صنعتی علاقے کے لیے ٹیکس کی چُھوٹ کا اعلان کیا جاتا ہے تو بڑے صنعتی ادارے اُس علاقے میں محض علامتی طور پر چند یونٹس لگاکر ملک بھر میں اپنے دیگر یونٹس کی تیار کردہ مصنوعات پر ٹیکس کی چُھوٹ حاصل کرنے اور یوں قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ گدون امازئی انڈسٹریل زون اس سلسلے میں ایک کلاسک مثال کا درجہ رکھتا ہے۔ غیر ملکی صنعتی اور تجارتی ادارے بھی ایسی کسی بھی صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھانے سےگریز نہیں کریں گے۔

توازنِ ادائیگی کا استحکام
کبھی کبھی غیر معمولی بحرانی کیفیت کے باوجود پاکستان کا توازنِ ادائیگی مستحکم رکھنے میں کسی نہ کسی طور کامیابی ضرور حاصل ہوتی رہی ہے۔ اشیاء و خدمات کی برآمد میں کمی یا درآمدات میں اضافے کے باعث توازنِ ادائیگی ناموافق یا منفی ہو جاتا ہے۔ 2000ء کے بعد سے توازنِ ادائیگی میں آمدن (کچھ حد تک خدمات بھی) کا حصہ منفی رہا ہے جو فوری توجہ چاہتا ہے۔

آمدن کے حوالے سے خسارہ بنیادی طور پر بینکنگ اور ٹیلی کام سیکٹر کے مختلف اداروں کی نجکاری اور خدمات کے شعبے (فوڈ، ریٹیل سیکٹرز وغیرہ) میں بلا واسطہ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ غیر ملکی ادارے منافع کماتے تو روپے کی شکل میں ہیں مگر بھیجتے زرِ مبادلہ کے ذریعے ہیں۔ غیر ملکی ادارے ایسا کچھ نہیں کرتے جس سے پاکستان کے لیے زرِ مبادلہ کے حصول کی راہ ہموار ہو۔ ان میں سے چند ایک ادارے مقامی طور پر کچھ اشیاء تیار بھی کرتے ہیں تو بہرحال اُن کی برآمد کا کوئی معاملہ نہیں ہوتا۔ سیدھی سی بات ہے کہ غیر ملکی صنعتی یا تجارتی اداروں کے ہاتھوں پاکستان سے زرِ مبادلہ صرف جاتا ہے، آتا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پرویز مشرف کیخلاف خاموشی پر کیا پیشکش ہوئی؟ حامد میر کا خصوصی انٹرویو (2)

سی پیک سے متعلق مکمل ملکی یا غیر ملکی مدد سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری یا تو قرضوں کی شکل میں ہے یا پھر بلا واسطہ سرمایہ کاری کی شکل میں۔ غیر ملکی قرضوں پر تو اچھا خاصا زرِ مبادلہ سود کی شکل میں بھی جائے گا اور پھر منافع کے نام پر بھی خاصا زرِ مبادلہ پاکستان سے چلتا کردیا جائے گا۔ اگر پاکستان میں زرِ مبادلہ کی آمد یقینی بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی تو توازنِ ادائیگی کے حوالے سے غیر معمولی بحران کو سَر اٹھانے سے کوئی نہ روک پائے گا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی سیاسی و معاشی خود مختاری بھی داؤ پر لگ سکتی ہے۔

مالیاتی استحکام
سب سے پہلے ہمیں سیکیورٹی سے متعلق اخراجات پر نظر ڈالنا ہوگی۔ سی پیک سے پاکستان کی کمٹمنٹ کا تقاضا ہے کہ خشکی پر اور سمندر میں تجارتی قافلوں کو جامع اور بے داغ سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی یونٹس تشکیل دیئے جارہے ہیں۔ اگر آزادانہ طور پر فنڈنگ نہ کی گئی تو یہ تمام اخراجات قومی خزانے یا وفاقی بجٹ ہی سے ادا کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے لاگت ادا کرنے کے لیے تین یا زائد ذرائع سے فنڈنگ کی جاسکتی ہے۔

* جن ممالک کے تجارتی قافلوں کو سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے وہ براہِ راست ادائیگی کریں۔

* سی پیک سے ہونے والی آمدن ہی سے براہِ راست فنڈنگ کردی جائے۔ مثلاً گوادر کی بندر گاہ سے جو آمدن ہو اس کا ایک حصہ سیکیورٹی کے اقدامات کی مد میں رکھ دیا جائے۔

* تیسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ سی پیک کے قافلوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے اقدامات کے اخراجات بجٹ کا حصہ بنادیئے جائیں۔ ایسی صورت میں یہ بوجھ پوری قوم کو اٹھانا ہوگا۔ جو لوگ سی پیک سے مستفید ہوں گے وہ بھی ٹیکس دیں گے اور جن کا اس منصوبے کے فوائد سے کوئی تعلق نہ ہوگا وہ بھی ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ اگر سیکیورٹی کے اقدامات پر خرچ کی جانے والی رقم گوادر پورٹ سے ہونے والی آمدن سے زیادہ ہوں تو پھر اس منصوبے میں پاکستان کے لیے کچھ بھی نہیں۔

میٹھے پانی کی فراہمی
گوادر میں بڑے پیمانے پر میٹھے پانی کی فراہمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے مگر عام طور پر اس مسئلے کو کسی نہ کسی بہانے سے دبا دیا جاتا ہے کہ بحث و تمحیص کی منزل سے نہ گزرے۔ فوری طور پر دیا جانے والا جواب یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے ڈیم تعمیر کیے جائیں گے۔ یہ بات نظر انداز کردی جاتی ہے کہ ڈیم پانی ذخیرہ کرتے ہیں، پیدا نہیں کرتے۔ گوادر سمیت بلوچستان کی پوری ساحلی پٹی پر میٹھے یا پینے کے صاف پانی کے حصول کا ذریعہ صرف بارش ہے۔ بلوچستان میں بارشیں باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔ خشک سالی کا زمانہ کبھی کبھی تین سال کا بھی ہوتا ہے۔

سمندر کے پانی کو میٹھا کرکے بھی یہ مسئلہ کسی حد تک حل کیا جاسکتا ہے۔ مگر خیر، سمندر کے پانی کو میٹھا کرنا یا پینے کے قابل بنانا کوئی سستا سودا نہیں۔ اور اگر اس مقصد کے لیے بجٹ میں کچھ رکھا گیا تو عوام پر مزید بوجھ پڑے گا۔ بجٹ خسارے میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں عوام پر مزید ٹیکس لگانا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں افراطِ زر کا گراف مزید بلند ہوگا۔ اگر گوادر کو ایک بڑی بندر گاہ کے طور پر ترقی دینا مقصود ہے اور ایسا نظر بھی آرہا ہے تو لازمی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست بڑے پیمانے پر کرنا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں سمندری پانی کو میٹھا کرکے پینے کے قابل بنانا سب سے بڑا آپشن ہوگا۔ اگر اس مقصد کے لیے الگ سے فنڈنگ نہ کی گئی اور قومی بجٹ ہی پر بوجھ بڑھایا گیا تو سی پیک سے حاصل ہونے والے فوائد داؤ پر لگ جائیں گے۔ اگر گوادر کو صاف پانی کی فراہمی پر کیے جانے والے اخراجات گوادر کی بندر گاہ سے سی پیک کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن سے زیادہ ہیں تو پھر اس عظیم منصوبے میں ہمارے لیے کچھ نہیں رکھا۔

یہاں تک ہم نے سی پیک سے متعلق جن ممکنہ منفی پہلوؤں کا ذکر کیا ہے وہ مستقل نوعیت کے نہیں یعنی اگر ان تمام معاملات کا بروقت جائزہ لے کر تدارک کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جائیں تو سی پیک کو زیادہ سے زیادہ بارآور بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ان ممکنہ خدشات پر توجہ نہ دی گئی تو مورخ سی پیک کے حوالے سے کچھ لکھے گا تو گیم چینجر کے بجائے گیم اوور کی اصطلاح بھی ذہن بھی ابھرے گی۔

بلوچستان سے تعلق کا سوال
سوال نمبر 3، 4، 5، 10؍اور 11 کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ سی پیک گوادر ہے اور گوادر بلوچستان ہے۔ اگر سی پیک سے بلوچستان کو حاصل ہونے والے معاشی فوائد خاصے اور خاطر خواہ نہیں تب تو سی پیک بلوچستان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ اگر مختلف پس ماندہ علاقوں کو آپس میں جوڑا نہ جائے، شہری علاقوں کو زیادہ ترقی دینے پر توجہ دی جائے اور انسانی وسائل کی ترقی یقینی نہ بنائی جائے تو سی پیک کی کوکھ سے بلوچستان کے لیے کچھ بھی برآمد نہ ہوگا۔

گوادر کی بندر گاہ سے ہونے والی آمدن کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی شاہراہوں سے ہونے والی ٹول کی آمدن میں سے بھی بلوچستان کے لیے معتدبہ حصہ یقینی بنانا ہوگا۔ سی پیک کو بلوچستان کے لیے زیادہ سے زیادہ متعلق اور بارآور بنانے کی یہی ایک موثر صورت ہوگی۔ سی پیک روٹ کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تیار کیے جانے والے یونٹس میں بلوچستان کے نوجوانوں کو بھرتی کرکے بھی آمدن میں بلوچستان کا حصہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو سی پیک روٹ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بلوچستان کے طول و عرض میں تعینات کیے جانے والے سیکیورٹی یونٹس کو قابض فورس کے طور پر دیکھا جائے گا۔

سی پیک کی تکمیل کی صورت میں گوادر میں آبادی کا توازن مکمل طور پر بگڑ جانے کا بھی خدشہ ہے۔ ایک طرف تو پاکستان بھر سے لوگ گوادر کا رخ کریں گے اور دوسری طرف بیرونی ورکرز بھی بڑی تعداد میں آئیں گے۔ اس کے نتیجے میں گوادر اور اس سے ملحق علاقوں کی بلوچ آبادی اقلیت میں رہ جائے گی۔ گوادر اور اس سے ملحق علاقوں کی بلوچ آبادی کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے متعلقہ آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات لازم ہیں۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)