کالعدم تنظیمیں اور سیاسی میدان - محمد عمار احمد

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اس وقت کے صدرِ پاکستان و چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) پرویزمشرف نے امریکہ کے زیرِ اثر رہنے کافیصلہ کرلیا تھا۔ 2002ء میں بیرونی دباؤ کے سبب 'کمانڈو' نے ملک کی کچھ تنظیموں کو کالعدم قرار دیا اور انہیں کام کرنے سے روک کر ان کے خلاف ملکی سطح پر کریک ڈاؤن کاحکم دیا۔

یہ وہ وقت تھا جب کالعدم قراردی گئی دو بڑی تنظیموں میں ایک کے سربراہ جھنگ سے رکن قومی اسمبلی تھے جبکہ ایک تنظیم خیبر پختونخوا (اس وقت سرحد) میں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کا حصہ تھی۔ مولانا اعظم طارق نے ’ملتِ اسلامیہ ‘ جبکہ علامہ ساجد نقوی نے’ تحریکِ اسلامی‘ کے نام سے نئی تنظیموں کااعلان کیا۔ کریک ڈاؤن میں کالعدم سپاہِ صحابہ، کالعدم تحریک نفاذفقہ جعفریہ اور دیگر تنظیموں کے کارکنوں اور مرکزی وصوبائی رہنما پابندِ سلاسل ہوئے، دفاترسیل کیے گئے۔ مگر دونوں بڑی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں اس وقت بھی جاری رہیں۔ 6 اکتوبر 2003ء کو ملتِ اسلامیہ کے سربراہ اورایم این اے جھنگ مولانااعظم طارق اسلام آباد میں مخالفوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان کے قتل کے بعد ضمنی انتخاب میں ملتِ اسلامیہ نے انہی کے بھائی مولانا عالم طارق کو شیخ وقاص اکرم کے مدِ مقابل کھڑا کیا۔

مولانا عالم طارق نے مقتول سربراہ سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کیے مگر الیکشن کے نتائج شیخ وقاص اکرم کے حق میں رہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں ملتِ اسلامیہ اور تحریکِ اسلامی کے سربراہ وعہدیداران نے ملک کے مختلف علاقوں سے اپنے امیدوار میدان میں اتارے۔ کئی حلقوں میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے انہی کالعدم تنظیموں کی مددسے انتخابی فوائد سمیٹے۔ پیپلزپارٹی کے عہدِ حکومت میں پنجاب حکومت کے کچھ وزراء بلکہ وزیرِ اعلیٰ تک پر یہ الزامات عائد ہوتے رہے کہ ان کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں اور یہ ان سے سیاسی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ یہ الزام ایک حد تک درست بھی ہے کیونکہ اہلسنت والجماعت کے صوبائی سرپرست مولانا عبد الحمید خالد کو بھکر کے صوبائی حلقہ سے شہباز شریف کے حق میں دستبردار کراکے نااہلی کے بعد میاں صاحب کے دوبارہ وزیرِ اعلیٰ بننے کی راہ ہموارکی گئی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر اہلسنت والجماعت اور تحریکِ اسلامی، مجلس وحدت المسلمین، کالعدم لشکرِ جھنگوی کی سابق قیادت نے قومی وصوبائی اسمبلی کے مختلف حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے۔

یوں پرویز مشرف اور آصف زرداری کی حکومتیں، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کالعدم تنظیموں کے ارکان کوسیاسی میدان میں اترنے سے روکنے میں ناکام رہے۔ پنجاب حکومت کے خلاف پروپیگنڈے اور مختلف پابندیوں کے باوجود 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نواز نے انہی جماعتوں سے سیاسی حمایت حاصل کی۔ جبکہ خودان کالعدم جماعتوں کے امیدواران نے پچاس پچاس ہزار سے زائد ووٹ بھی حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ مولانا کو نظرانداز نہیں کر سکتے - عامر ہزاروی

دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھنے میں آئی جب کالعدم سپاہِ صحابہ کے مقتول بانی مولانا حق نواز کے صاحبزادے مسرور نواز تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے مجموعی ووٹوں سے بھی زائد ووٹ لے کر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ ملک کے سیاسی مبصروں کے لیے یہ خبر فکر و مایوسی کا سبب بنی جبکہ کچھ غیر جانبدار حلقوں نے سراہا بھی کہ شدت پسند طبقات جمہوریت کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ حالانکہ ان جماعتوں کا ایک مکمل سیاسی سفر ہے، جو ان کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا اور کوئی آمر وجمہوری حکمران ان کے اس سفر کو روکنے میں ناکام رہا، یہاں تک کہ نیشنل ایکشن پلان یا فوجی عدالتیں بھی۔

ایک بار پھر این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں جماعت الدعوۃ نے اپنا امیدوار میدان میں اتارا تو ملک کی حکمران جماعت کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم نے بھی لب کشائی فرمائی کہ ’’کالعدم جماعتوں کا انتخابات میں حصہ لینا تشویشناک ہے۔ ‘سپریم کورٹ نے بھی یہ ریمارکس دیے ’بتایاجائے کہ یہ کس کی چھتری تلے کام کررہی ہیں؟‘ نوزائیدہ وزیرِ خارجہ خواجہ آصف صاحب کو بوجھ محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ کاہے کو سیاسی میدان میں اترتی ہیں؟ جماعت الدعوۃ کی حیثیت بہرحال اتنی خطرناک نہیں جتنی کہ سپاہِ صحابہ و تحریک نفاذفقہ جعفریہ کی ہے۔ اگر ان کے امیدوار انتخابات میں حصہ لیتے آرہے ہیں تو جماعت الدعوۃ کی بابت اس قدر شور شرابہ کرنے کاکیا مقصد ہے؟ جماعت الدعوۃ کے امیدوار نے 3سے 4ہزار ہی ووٹ لیے ہیں جبکہ پولیس مقابلہ میں قتل ہونے والے لشکرِ جھنگوی کے رہنما سید غلام رسول شاہ نے 2013ء کے عام انتخابات میں بہاولنگر کے قومی اسمبلی کے حلقہ سے 10ہزار سے زائد ووٹ لیے۔

ان دنوں اسمبلی کے ایوانوں میں ایسے نمائندگان کی فہرست تیار کی جارہی ہے جو کالعدم جماعتوں سے سیاسی تعاون حاصل کرتے رہے ہیں اور انہی کی مدد سے ایوانوں تک پہنچتے آرہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ خصوصاً پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں یہ جماعتیں بہت بڑا ووٹ بینک رکھتی ہیں جوواقعتاً سیاسی جماعتوں کے امیدواران کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہر بڑی سیاسی جماعت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ فیصلہ کن ووٹ ان کے حق میں استعمال ہو۔ اس کے لیے وہ ان جماعتوں کے سربراہوں و ذمہ داران سے ملاقاتیں کرتے ہیں جن کی تصاویر بعدازاں دوسری سیاسی جماعتوں کی طرف سے سیاسی مخالفت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ مولانا کو نظرانداز نہیں کر سکتے - عامر ہزاروی

دیکھنا ہے کہ واقعی عالمی حالات میں واضح تبدیلی نے ملک کے مقتدر طبقے اور سیاسی جماعتوں کو اس بابت سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کالعدم جماعتوں یا عالمی سطح پر دہشت گردی کے نام سے جڑی تنظیموں کا ناطقہ بند کیا جانا ضروری ہے تاکہ یہ ایوانوں تک نہ پہنچ سکیں یا پھر یہ سب محض وقتی سیاسی مخالفت کے سبب کیا جا رہا ہے؟ یہ بات 2018ء کے عام انتخابات میں واضح ہوگی وہ بھی اس طرح کہ سیاسی جماعتیں شدت پسند جماعتوں سے انتخابی فوائدحاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں۔ مگر سیاسی حلقوں کو یہ بھی دیکھنا اور سوچنا ہوگا کہ ان جماعتوں کے ووٹ بینک کو توڑنا ممکن ہے کہ نہیں؟ کیا جس نظریہ اورمؤقف کے نام پر یہ جماعتیں اتنا ووٹ بینک رکھتی ہیں وہ نظریات یا مؤقف لے کر کوئی دوسری سیاسی جماعت سیاسی اکھاڑے میں اترنے کی ہمت رکھتی ہے؟ کیونکہ ان جماعتوں کاووٹ بینک صرف اسی صورت ہی توڑا جا سکتا ہے کوئی دوسرا راستہ مددگار نہیں ہوگا۔ کہیں سیاسی جماعتیں اور مقتدرطبقہ ان جماعتوں کے لاکھوں ووٹرز کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم کرکے بند گلی میں دھکیلنے کی غلطی کرنے تو نہیں کر رہے، جہاں ہتھیاراٹھانے کے علاوہ ان کارکنوں کے پاس کوئی راستہ نہ ہو؟ ہمیں ملک کے مفاد میں کسی بھی بہترلائحہ عمل کو مرتب کرنا ہوگا کہ ہم ان ووٹرزاورجماعتوں کو پرامن و روادار معاشرے کے قیام کے لیے استعمال کرسکیں۔

کچھ لوگوں کو یہ خطرہ ہے کہ یہ جماعتیں شدت پسند نظریات لے کراسمبلی میں پہنچیں گی تو مبادا شدت پسند نظریات کے تحت قوانین نہ بننے لگیں۔ ان لوگوں کی دانش پر دو، دوحرف! جو یوں تو ان شدت پسند لوگوں کو ’مٹھی بھر‘ سمجھتے ہیں جبکہ ان سے خطرہ یہ ہے کہ وہ قانون ساز ادارے پر اپنی اجارہ داری قائم کرلیں گے۔ ایک بات مگر طے ہے کہ شدت پسند نظریات عوام کے ووٹ کی حمایت سے قانون ساز اداروں میں زیرِ بحث لائے جائیں، یہ اس سے بہتر ہے کہ کوئی بندوق اور خودکش دھماکوں کاراستہ اختیارکر کے شہریوں کا جینا دوبھر کردے۔