سلطانی جمہور اور اسلامی جمہوریت - ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

یونان والوں نے دنیا کو جمہوریت کا تصوّر دیا، یعنی لوگوں کی حکومت کا تصور۔ البتہ یورپ میں اس تصور کو عملی طور پر جڑیں پکڑنے میں صدیاں لگ گئیں۔ یونانیوں کے بعد رومی دنیا پر چھائے، لیکن ان کی حکومت بھی آمرون کی تھی یعنی فوجی جرنیلوں کی ایک مجلس تھی جو اپنے رہنما کا انتخاب کرتی تھی۔

رومیوں کو زوال آیا تو مسلمانوں کی باری آئی اور مدینے میں جو ریاست قائم ہوئی وہ عالمی تاریخ میں اپنی نوعیت کی منفرد ترین ریاست تھی، جو ایک روحانی اصول پر قائم تھی۔ وہ اصول تھا انسان شعور و اختیار رکھنے کی وجہ سے ایک ذمہ دار مخلوق ہے اور اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ضروری ہے کہ خالق کو قانون سازی کا ماخذ اولین مانا جائے۔ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کے لیے قانون ساز بنے۔ اگر ایک انسان کو یہ حق حاصل نہیں تو سارے انسانوں کو بھی یہ حق حاصل نہيں۔ اس اصول کے تحت بہترین انسان وہ ہے جو تقویٰ والا ہے (اس پر کسی دوسری تحریر میں بات ہوگی)۔

تقوی پر مبنی یہ ریاست تین دہائیوں تک قائم رہنے کے بعد بدقسمتی سے پٹری پر نہ رہ سکی اور نیم زندہ حالت میں چلتی رہی۔ بادشاہت غالب آ گئی اور بنیادی قوانین، سول و فوجداری، نافذ رہے۔ موروثی بادشاہت کی کمزوری یہ ہے کہ باپ اگر نیک اور متقی ہو تب بھی ضروری نہیں کہ بیٹا باپ جیسا ہو۔ اس وجہ سے اسلامی نظام کمزور ہوتا گیا اور سولہویں صدی میں مغرب اپنی محنت اور قوم پرستی کی بناء پر دنیا پر چھانا شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی علم پرستی بھی شروع ہوگئی جس کو وہ 'احیائے ثانیہ' کہتے ہیں۔ پھر عقل پرستی کا دور آیا، مختلف تحریکیں شروع ہوئیں۔ یکے بعد دیگرے بادشاہوں کے بت ٹوٹتے گئے اور اگر کہیں رہ بھی گئے ہیں تو علامتی طور پر اور لوگوں کی حکومت کا دور آیا، جو اردو میں جمہوریت کے نام سے مشہور ہوا۔ لوگوں کی حکومت! بظاہر اتنا اچھا تصور ہے کہ دل اچھلتا ہے کہ کیا زبردست خیال ہے کہ معاہدہ عمرانی کے تحت لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنا حکمران چن لیں، یا اپنے نمائندے منتخب کرلیں اور یہ نمائندے ایک رہنما کا انتخاب کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   سارے مسائل کا حل نظام خلافت میں ہی ہے -حبیب الرحمن

یہاں تک بات درست اور معقول ہے، اب جہاں سے نامعقولیت شروع ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ کیا معیار ہے جس کے تحت کسی کو عوامی نمائندگی کا حقدار مانا جائے؟ مغرب میں پھر بھی کوئی اصول کارفرما ہے۔ ہمارے ہاں تین باتیں کارفرما ہیں: زمین، دولت اور چرب زبانی!

جن پارٹیوں کو آج ہم مقبول دیکھ رہے ہیں، ان کی کہانی زمین سے شروع ہوتی ہے، یا دولت سے۔ اگر بھٹو صاحب نواب گھرانے سے نہ ہوتے، آکسفرڈ نہ پڑھتے تو جنرل ایوب خان کے دورے میں وزیر خارجہ کیسے بنتے؟ پارٹی بنانے کے لیے طاقتور پس منظر چاہیے۔ بھٹو صاحب کو معلوم تھا کہ یہاں کی اکثریت غریب ہے اور غریب کو 'روٹی، کپڑا اور مکان' چاہیے۔ اس لیے یہ نعرہ بک گیااور مارکیٹ میں اس کوزبردست پذیرائی ملی۔ پڑھے لکھنے لوگوں کے لیے اشتراکی معیشت اور مذہب پسندوں کے لیے اسلام ہمارا مذہب کے نعرے بھی مارکیٹ کرنے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں نظریاتی اشتراکیت پسند اشتراکی نظام کے پرچار میں مصروف تھے۔ ان کو بھٹو صاحب کی صورت میں ایک رہنما مل گیا۔ پھر وہ اس بات کو بھول گئے کہ بھٹو کا خود نواب گھرانے سے تعلق ہے تو وہ اشتراکی انقلاب کیسے لا سکتے تھے؟ یہ بھٹو صاحب کی ہوشیاری تھی کہ وہ غریبوں، اشتراکی تعلیم یافتہ افراد اور نیم خواندہ مذہبی لوگوں کو ایک ہی جملے میں دیوانہ بنا گئے۔

اب نواز شریف صاحب دولت کے سیاست میں آئے۔ اگر ان کے پاس دولت نہ ہوتی تو، اگر ڈگری جعلی نہیں، تو عام سے وکیل ہوتے۔ ان کو سیاست دان بنانے میں کلیدی کردار دولت کا ہے۔ دوسرا، ضیاء الحق صاحب کو خوش کرنے کے لیے مذہب والوں سے تعلقات استوار کیے۔ اس وقت کے اخبارات و رسائل اس بارے میں واضح ثبوت فراہم کریں گے، ایشیا سے لے کر اردو ڈائجسٹ اور تکبیر تک۔ آج یہ موقع کی تلاش میں ہیں، کبھی یورپ اور کبھی امریکا کو خوش کرنے کے لیے خود کو آزادی پسند ظاہر کرتے ہیں اور کبھی مولانا فضل الرحمٰن سے ڈر کر خواتین کا بل 'رول بیک' کرتے ہیں۔ کبھی پیپلز پارٹی اور مہاجروں کے ساتھ "ادھر تم، ادھر ہم" والی سیاست کا تماشہ لگاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سارے مسائل کا حل نظام خلافت میں ہی ہے -حبیب الرحمن

درمیان میں عمران خان صاحب ایک تیسری طاقت کی حیثیت سے نمودار ہوئے۔ ان کے پاس بھی پیسہ تھا لیکن بھٹو صاحب کے پاس جو ٹیم تھی یا شریف برادران کے ساتھ ہے، وہ عمران خان کے پاس نہیں۔ ان کی ٹیم میں اکثریت ان لوگوں کی ہے، جو اچھے "مواقع" کی تلاش میں دوسری پارٹیوں سے تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ اگر عمران صاحب کو مرکز میں حکومت بنانے کا موقع مل بھی جائےتو یہ حکومت ناکام ہو جائے گی۔ پھر خود عمران صاحب کو حکومت میں رہنے کا وہ تجربہ نہیں، جو دوسروں کا ہے۔

مذہبی جماعتیں، میری رائے میں، مذہبی جماعتیں بے شک ہوں گی۔ لیکن اسلامی نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک ہے، قران ایک ہے اور پیغمبر ایک ہے۔ انہوں نے اگر اس کو دھڑوں میں تقسیم کیا ہے تو یہ اسلام نہیں، البتہ سیاست ضرور ہے اور ان کا فائدہ بھی اسی میں ہے۔ جس دن یہ توبہ کرکے ایک اسلام کے پرچم تلے جمع ہوں گے اور اس کو پائیدار بنیادوں پر استوار کریں گے تو اسلام بھی غالب آئے گا۔ لیکن اگر اس کو سادہ لوح عوام کے ووٹ لینے کے لیے اتحاد کی صورت میں استعمال کریں گے تو انجام کا ر ناکا می یقینی ہے۔

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مغربی جمہوریت کی بنیاد لوگوں کی رائے پر ہے اور یہ رائے کسی اصول پر مبنی نہیں ہوتی، لوگوں کی رائے ہی قاعدہ کلیہ ہے۔ اس کے بر خلاف اسلامی جمہورت کی بنیاد ایک روحانی اصول ہے، وہ روحانی اصول یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرنے والی ذات خالق ہے۔ ان بنیادی اصولوں کی روشنی میں مسلمانوں پر مشتمل یوان قانون سازی کر سکتا ہے۔ مغربی جمہوریت کا اصول یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت جس چیز کو پسند کرے گی، وہی قانون۔ لوگوں کی اکثریت اگر یہ کہے کہ وہ ہم جنس پرستی کو اپناتے ہیں، تو حکومت مجبور ہے کہ وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یہ قانون سازی کرے۔ لیکن اسلامی جمہوریت میں لوگوں کی خوشی کے بر عکس رضائے الٰہی کا اصول کار فرما ہوتا ہے۔

Comments

Avatar

ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.