جذبہِ دل - رومانہ گوندل

انسان جس گھر یا حالات میں پیدا ہوتا ہے وہ اس کی مرضی اور اختیار سے باہر ہیں لیکن ان حالات کو بدلنا اس کے اختیار میں ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب بظاہر تو زندگی روز مرہ کے معمول پر ہی چل رہی ہوتی ہے۔ لیکن انسان کے اندر ایک بے چینی او ر تجسس پیدا ہو جاتاہے، جیسے اسے کسی چیز کی تلاش ہو۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کوزندگی میں کچھ بڑا کرنا ہوتا ہے، ان حالات کو بدلنا ہوتا ہے اور یہ جذبہ اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ کچھ کرے کیونکہ ہر انسان اگر اسی جگہ مطمئن ہو جائے، جہاں وہ پیدا ہوتا ہے تو ترقی کے دروازے تو بند ہو جائیں۔ لیکن دیکھا جائے تو بہت سارے لوگ زندگی اسی دائرے میں گزار دیتے ہیں جہاں سے وہ چلے تھے۔ کیونکہ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہر ا نسان اس جذبے کو سمجھ نہیں پاتا۔ جو سمجھ جاتا ہے وہ ترقی کے نئے راستوں پر چلتا ہے، نئی نئی منزلیں حاصل کرتا ہے، دنیا کے لیے ایک ہیرو بن جاتا ہے اور جو نہیں سمجھ پاتا وہ غصے اور بد اخلاقی میں خود کو ضائع کردیتا ہے۔ کیونکہ جب یہ جذبہ جاگتا ہے تو انسان بے چین ہوتا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ جس مقام یا ماحول میں وہ ہے یہ اس کے لیے نہیں ہے۔ اسے اس سے آگے نکلنا چاہیے، ایسے میں وہ یا تو ترقی کرتا ہے اور اس مقام سے آگے نکل جاتا ہے یا پھر اپنے والدین اور ارد گرد کے لوگوں کو الزام دے گا اور نتیجتا مقام کے ساتھ اخلاق سے بھی نیچے آ جاتا ہے۔

انسان کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ اس جذبے کو پہچانے اور اس دنیا میں اپنے حصے کا کام کرے۔ اگرچہ سکون اور اپنے ماحول کو قبول کرنا اور اس میں جینا سیکھ جانا بہت اچھی چیز ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو ہے، جیسا ہے اس کو ویسا ہی رہنے دیا جائے یہ انسانیت کی معراج نہیں۔ انسان کو اپنی ترقی اور عروج کے لیے کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ ہاں یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر جگہ بس آپ ہی آپ ہوں دنیا کے ہر شعبے کے ہیرو آپ ہی بن جائیں کیونکہ آپ سات ارب لوگوں میں سے ایک ہیں لیکن اس کے با وجود آپ اہم ہیں کیونکہ آپ ایک ہیں اور آپ کے وجود کے بغیر یہ اربوں کی گنتی پوری نہیں ہو تی، اس ایک کی کمی صرف آپ ہی پوری کر سکتے ہیں۔ اس لیے اس دنیا میں اپنا کردار ضرور ادا کریں۔ اس دنیا میں جو کام آپ کر سکتے ہیں وہ کوئی دوسرا نہیں کرے گا۔

جس طرح صرف سات ارب میں نہیں، بلکہ اس دنیا میں آ نے والے کھربوں لوگوں میں آپ کے فنگر پرنٹس کی ایک الگ شناخت ہے۔ اسی طرح آپ کی اپنی ذات بھی دنیا میں سب سے منفرد ہے اور اس انفرادیت کو دنیا میں متعارف کروانا آپ کے ذمہ ہے۔ لیکن اس تعارف کے لیے کچھ کرنا پڑے گا۔ ایک جگہ سست ہو کے بیٹھ گغے تو آپ خود کو ضائع کر دیں گے۔ چھوٹے سے چھوٹا کام کریں لیکن خود کو حرکت میں رکھیں۔ حرکت ہی زندگی کی علامت ہے۔ اپنی پہچان کا سفر آس پاس کے لوگوں سے شروع کریں۔ ان میں ایسے رہیں کہ آپ کے ہونے اور نہ ہونے سے فرق پڑے۔ اپنے آپ کو اپنی خوشی سے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے پیش کریں مجبوری میں تو جانور بھی بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ جذبات اور صلاحیتوں کا بہترین استعمال انہی چھوٹے چھوٹے کاموں سے شروع ہو گا اور ایک دن آپ اس مقصد کو پا لیں گے، جس کے لیے آپ کو تخلیق کیا گیا ہے۔

یاد رکھیں! ہم فاتح عالم بھی بن جائیں تو بھی ہمارے بغیر دنیا کا نظام رک نہیں سکتا۔ دنیا کا نظام ہم سے پہلے بھی چل رہا تھا ہمارے بعد بھی چلتا رہے گا لیکن پھر بھی اتنی کوشش تو ضرور کرنی چاہیے کہ اس دنیا میں ہمارے بعدبھی ہمارا کوئی عمل ہمیں زندہ رکھے لیکن اس کے لیے کوشش شرط ہے۔ حالات بدلنے کی خواہش سب کو ہوتی ہے بس ہر کوئی ہمت نہیں کر پاتا۔ جن حالات کو ہم بدلنا چاہتے اس کی صلاحیت ہم سب میں ہے بس اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ٖ

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں

وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہو گا

کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو برا کہنے سے

اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہو گا

ٹیگز