"اعتدال پسندوں" کا اضطراب - ارشد زمان

"بھٹو دور سے مذہبی مافیا نے پارلیمان کے سر پر سوار ہو کر جو قوت پکڑی اور ضیاء نے جس کو عروج پر پہنچایا وہ اب اس قدر طاقت ور ہو گئی ہے کہ اس کے خوف سے پارلیمان کسی بھی جزئی قانون سازی سے بھی خوف زدہ رہتی ہے۔ مذہب کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے ۔ اعلان کر دینا چاہیے کہ آئندہ قانون ساز ادارے کسی بھی مذہبی معاملے میں قانون سازی کے حق سے محروم ہو چکے ہیں ۔ اسی کو مّلائیت کہتے ہے۔"

درج بالا خیالات ایک دوست کے ہیں جو فکرغامدی کے اسیر ہیں۔ جب پارلیمنٹ نےاپنی غلطی کی تصحیح کرتےہوئے ختم نبوت کےحوالے سے"حلف نامے" کو بحال کیا تو ان حضرات کی بھی حساس رگ پڑک اٹھی اور حد سے زیادہ متفکر ہوئے۔

ہم نے گزارش کی کہ جناب! کیا بھٹو دور میں "مذہبی مافیا" نے بزور شمشیر پارلیمنٹ سےقادیانیوں کو کافر قرار دلوایا تھا؟ یا یہ فیصلہ پارلیمنٹ میں ایک طویل مباحثے کے بعد ہوا تھا ؟

معلومات کے لیے عرض ہے کہ قادیانیوں کو باقاعدہ موقع فراہم کیاگیاتھا کہ وہ آکر اپنا موقف سامنے رکھیں اور انہوں نے آکر تفصیل کے ساتھ اپنا مقدمہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھا بھی اور سوالات جوابات کی ایک طویل نشست بھی کی۔ دوسری بات یہ کہ کیاایک مسلمان ملک میں مسلمانوں کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے منتخب کردہ لوگوں اور اداروں کو متوجہ کرادے کہ ان کے ایمان اور عقیدے کے خلاف کوئی قانون نہ بنوادیاجائے؟

ان کے شعار، اقدار، روایات اور نظام کو تحفظ فراہم کیا جائے؟ آپ کا کیا ارشاد ہے کہ پارلیمنٹ کو کسی بھی مذہبی معاملے میں قانون سازی اور ٹانگ اڑانے کا مکمل حق حاصل ہے؟ یعنی اگر پارلیمینٹ خدانخواستہ"ختم نبوت " پر بھی سوال اٹھائے؟ قرآن میں بھی کوئی"تجدید" کرڈالے؟ حدود کو بھی "محدود" کردے؟ عبادات کو بھی"قید" کردے؟ اور اگر کسی غلطی کی جانب مسلمانوں کی جانب سے مسلمان پارلیمنٹ کو توجہ دلانے پر وہ غلطی کو رجوع کرلے تو کیا یہ عمل "ملّائیت" ٹھہر جائے گا؟

یہ بھی پڑھیں:   ختم نبوت کا دفاع اصل طاقت سے کیجیے - حافظ یوسف سراج

کسی مسلمان معاشرے اور مسلمان ریاست میں کسی بھی ادارے کو مذہب کے حوالے سے لامحدود اختیارات ہرگز نہیں دیے جاسکتے۔ کوئی بھی سماج اور کوئی بھی ریاست اس کے بسنے والوں کے مذہب کی پابند ہوتی ہے۔ جمہوریت اور آزادی کے نام پر سماج اور ریاست کو بےلگام گھوڑا بنانا، لبرازم اور سیکولرازم تو ہوسکتا ہے مگر اسلام نہیں۔ اگر ملّائیت کی یہی تعبیر ہے تو یہ عین اسلام کا تقاضہ ہے۔

دستور کی اسلامی دفعات، قرارداد مقاصد، حدود آرڈیننس اور قادیانیت کو کافر قرار دینے سے سیکولرولبرل حلقوں کو پرخاش تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن مگر "روشن خیال" اور"اعتدال پسند" حضرات کا اضطراب سمجھ سے بالاتر ہے ۔

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!