اسلام اور فتوحات - محمد زاہد صدیق مغل

ایک پوسٹ پر نظر پڑی جس میں یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ "اگر مسلمان استعمار کی صورت اختیار نہ کرتے تو کیا اسلام پھر بھی اتنا ہی پھیلتا؟"
اس پر یہ تبصرہ کیا:
اسلامی تاریخ کے لیے "استعمار" کی اصطلاح کا استعمال بتا رہا ہے کہ سائل غلط فہمی کا شکار ہے۔ جس طرح "سٹیٹ" ایک جدید فنامینا ہے اسی طرح "استعمار" بھی جدید فنامینا ہے۔ پہلے ادوار میں استعمار نہیں "ہمیشہ پھیلنے والی سلطنتیں" ہوا کرتی تھیں نہ کہ استعمار۔ استعمار کا معنی ایسی قومی ریاست ہوتی ہے جو اپنی سرحدوں سے باہر لشکر کشی کر کے دوسروں کو اپنی شناخت عطا کیے بغیر انھیں اپنی ریاست کا حصہ بنا لیتی ہے یا ان کے ذرائع کو قابو کرلیتی ہے۔ جیسے تاج برطانیہ نے مثلا برصغیر و افریقہ کو اپنی ریاست کا حصہ تو سمجھا مگر برصغیر و افریقہ کے لوگوں کو برطانوی شہریت عطا نہیں کی۔ اسے استعمار کہتے ہیں۔ چنانچہ خلفائے راشدین سے لے کر خلافت عثمانیہ تک کم از کم مجھے تو ایسی کوئی اسلامی سلطنت نظر نہیں آتی جو دوسرے علاقے والوں کو محض اپنا باجگزار بنا لے۔ سلطنت جہاں تک پھیل جائے وہاں کے لوگوں کو اپنی شناخت میں سمو لیتی ہے۔ یہی حال رومی سلطنت کا تھا۔

"استعمار" کا لفظ اگرچہ برے و منفی معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر خود یہ لفظ برے معنی کا حامل نہیں۔ اسی کے مصدر سے لفظ تعمیر و عمارت ہے، اس اعتبار سے استعمار کا معنی ایسی قوت و حاکم بنتا ہے جو کسی غیر مہذب علاقے و قوم کی تعمیر و تشکیل کی جستجو کرے۔ جیسے تاج برطانیہ سمیت یورپی اقوام کا خیال تھا کہ گوری چمڑی والے دیگر کے مقابلے میں "زیادہ انسان و مہذب" ہیں، لہذا یہ ان کا فرض ہے کہ دوسروں کو مہذب بنائیں، نیز دوسروں کا فرض ہے کہ ان کی اطاعت کریں اور جو کوئی ریڈ انڈینز کی طرح بالکل ہی جاہل و اجڈ ہو، اسے تہذیب کی بقا کی خاطر صفحہ ہستی سے مٹا دینا لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دین اسلام کے اساسی و آفاقی تصورات - عبدالمتین

جو لوگ اسلام کے پھیلاؤ کے تناظر میں "مسلمانوں کے استعمار" کا حوالہ دیتے ہیں، درحقیقت وہ اس بات پر سوال کھڑا کر رہے ہوتے ہیں کہ آخر مسلمانوں نے دوسرے علاقوں پر لشکر کشی کرکے انھیں فتح ہی کیوں کیا؟ گویا یوں مسلمانوں نے ان کے حق خودمختاریت پر ڈاکہ ڈال دیا تھا۔

اس سوال میں تہہ در تہہ مسائل ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں جدید دور کے "قومی تصور حق خود مختاریت" کو یونیورسل فرض کرلیا جاتا ہے،گویا یہ آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک سب ادوار میں مانا ہوا چلا آ رہا ہے، تو ایسے میں پھر مسلمانوں نے اس کی خلاف ورزی کیوں کردی تھی؟ چنانچہ "قوم کے حق خودمختاری" کا تصور جہاں خود مختاری کے ایک مخصوص سیاسی تصور کو فرض کیے ہوئے ہے وہی "قوم" کے بھی اس جدید سیاسی تصور کو فرض کیے ہوئے ہے جس کا پہلے وجود نہ تھا۔ سلطنت کے دور میں سلطنت کی حد وہاں تک ہوا کرتی تھی جہاں بادشاہ کی فوج کا گھوڑا بندھا ہوا کرتا تھا اور وہ گھوڑا وہیں جا کر رکتا تھا، جہاں سامنے والے کا نسبتا تگڑا گھوڑا کھڑا ہوتا تھا، چنانچہ اس اعتبار سے مسلمانوں کے پاس کوئی عملی چوائس تھی ہی نہیں کہ وہ اپنے گھوڑے کو تگڑا کرکے دوسرے کے گھوڑے کو پیچھے دھکیل دیں، بصورت دیگر سامنے والے کا گھوڑا کسی جنیواکنونشن وغیرہ کی بنیاد پر کہیں رکنے والا نہیں ہوا کرتا تھا۔ تو یہ اس کا عملی پہلو ہے۔

اس کا نظریاتی پہلو یہ ہے کہ اسلام واقعی حق ہے اور ہر حق اسے اپنا فرض سمجھتا ہے کہ وہ باطل پر غلبہ حاصل کرے اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو گرائے یا انہیں کمزور کرے۔ یہ بات تو اتنی واضح ہے کہ اس پر کلام کرنا ہی بےکار ہے اور مجھے اس میں آج تک کوئی مسئلہ محسوس نہیں ہوا۔ یہ بات سمجھنے میں دشواری انھیں محسوس ہوتی ہے جو اسلام کے مقابلے میں عیسائیت وغیرہ کو دیکھتے ہیں نہ کہ لبرل سیکولرازم کو۔ تو لبرل سیکولرازم بھی اسی طرح خود کو حق سمجھتا ہے جیسے اسلام اور وہ بھی اسی طرح غلبہ پانے کی کوشش کرتا ہے جیسے اسلام۔ چنانچہ اس اعتبار سے توجہ کرنے کی چیز یہ نہیں کہ مسلمانوں نے علاقے فتح کیوں کیے بلکہ قابل غور و اہم چیز یہ ہے کہ دیکھو اس سے کتنے لوگ "مہذب" (بمعنی مسلمان) ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:   سیکولرزم کی تعریف - ڈاکٹر سفر الحوالی

اب یہاں صرف ایک دلیل رہ جاتی ہے کہ چلو سیکولرازم والے بھی ایسا ہی چاہتے ہیں مگر وہ دوسروں کی سرحدوں پر حملہ کرکے ان کا حق خود مختاری تو نہیں چھین رہے ناں۔ تو یہ بھی محض جھانسا ہے کیونکہ دوسرے کی سرحدوں کا تقدس اولا تو صرف وہاں تک ہی مانا جاتا ہے جہاں سامنے والے کا گھوڑا تگڑا ہو ورنہ وہ کون اندھا ہے جسے ڈرون نظر نہیں آرہا؟ ثانیا یہ کہ اب تو "قانونا" ایسا بندوبست کر لیا گیا ہے جس کے ذریعے عالمی نظام کے تحت دوسرے کے معاملات میں مداخلت جائز ہوگئی ہے اور ظاہر ہے "عالمی قوانین" کے اس پل پر دوطرفہ نہیں بلکہ صرف یکطرفہ ٹریفک ہی چلتی ہے، یعنی طاقتور گھوڑے سے کمزور والے کی طرف۔ ثالثا ہم کہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے جتنے علاقے فتح کیے، وہاں ہونے والی کل اموات کو جمع کرلو اور پھر یہی حساب کتاب سیکولر نظام و جمہوریت غالب کرنے والوں کا لگا لو، فرق صاف نظر آجائے گا۔ اس کے جواب میں اگر کسی کا خیال یہ ہے کہ تعداد کا یہ فرق ہتھیاروں کی نوعیت کی بنا پر ہے تو یہ غلط ہے کیونکہ ریڈ انڈینز یا ابورجینز پر یکبارگی کوئی ایٹم بم گرا کر ان کا وجود صفحہ ہستی سے ختم نہیں کردیا گیا تھا بلکہ ایک صدی تک جاری رکھے جانے والے عمل کے نتیجے میں یہ ان کی نسل کشی ہو سکی تھی۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!