کیا جھل مگسی بھوٹان میں ہے؟ آصف محمود

جھل مگسی میں ایک خود کش حملہ ہوا، بائیس لوگ جاں سے گزر گئے ، ایک دو رسمی بیان جاری ہوئے، اس کے بعد اب تک خاموشی ہے ۔ اہل اقتدارسے کوئی جا کر پوچھے یہ جھل مگسی پاکستان ہی کا کوئی ضلع ہے یا بھوٹان کے کسی دور افتادہ قصبے کا نام ہے ؟

نواز شریف کی پیشی ہو تو اہل دربار کی ’’ نصرت‘‘ کو جناب احسن اقبال پورے با نکپن سے تشریف لاتے ہیں، مریم نواز وطن تشریف لائیں تو آدھی رات کو وزراء ہاتھ باندھے ایر پورٹ پر موجود ہوتے ہیں لیکن جھل مگسی کے مقتولین کا پرسہ دینے کا کسی کے پاس وقت نہیں۔ کوئی نہیں جو اس بات کا جائزہ لینے کی زحمت کرے کہ زخمی کس حال میں ہیں اور کیا ضلع جھل مگسی کے اکلوتے اور واحد ہسپتال میں ڈھنگ کی کوئی سہولت بھی موجود ہے؟ ان کے صاحبزادوں کی ائر کنڈیشنڈ کمرے میں تشریف فرما ہونے کی ایک تصویر شائع ہو جائے تو اہلِ دربار کے احتجاج سے زمین کانپ کانپ جاتی ہے لیکن بلوچستان میں پولیس کے جوان شہید ہو جائیں تو ان کی ماؤں کو جوان لاشے گاڑی کی چھتوں پر رکھ کر بھیج دیے جاتے ہیں۔

پورے بلوچستان میں جتنی یونیورسٹیاں ہیں اس سے زیادہ یونیورسٹیاں اسلام آباد ، راولپنڈی یا لاہور کی کسی ایک سڑک پر واقع ہوتی ہیں۔ چاغی کے پہاڑ کے ہم نے مجسمے بنا کر چوراہوں میں گاڑ دیے لیکن کسی کو یہ معلوم نہیں کہ چاغی کی حالت کیا ہے ۔ زیر زمین پانی کی سطح کتنی گر چکی ہے ، خشک سالی کا کیا عالم ہے، کتنے مویشی مر چکے ہیں اور وہاں بچیوں کا کوئی سکول ہے یا نہیں۔ ڈیرہ بگتی سے گیس لے کر پورے ملک میں پہنچا دی گئی لیکن شاہ زین بگتی نے بتایا کہ ڈیرہ بگتی میں ایک بھی زچہ بچہ سینٹر نہیں ۔میں نے ان سے عرض کی عالی جاہ گیس کی رائلٹی سے نواب اکبر خان بگتی کا عالی شان محل بن سکتا تھا تو ایک آدھ زچہ بچہ سینٹر بھی بن سکتا تھا ۔ یاد رہے کہ جھل مگسی کا ہسپتال بھی نواب ذو الفقار مگسی کی حکومت نے نہیں بنایا بلکہ یہ پنجاب حکومت نے بلوچ بھائیوں کو تحفے کے طور پر بنوا کر دیا۔

نوابوں اور وڈیروں کے بچے بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آتے ہیں لیکن مقامی نوجوانوں کے لیے ڈھنگ کے چار تعلیمی ادارے تک نہیں بن سکے۔ نواب ، سردار ، اور وڈیرے اس محرومی کا الزام پنجاب کو دے کر اپنا ووٹ بنک مضبوط کیے رکھتے ہیں اور مرکز بھی مزے میں ہے کہ عوام کے ساتھ معاملہ کرنے سے آسان ہے ان چند نوابوں اور سرداروں کے نخرے اٹھا کر کام چلا لیا جائے۔ میڈیا کا پاکستان جی ٹی روڈ سے شروع ہو کر جی ٹی روڈ پر ختم ہو جاتا ہے چنانچہ کوئٹہ سے ایک ٹاک شو نہیں ہو رہا ۔بلوچستان کی خبریں ہم تک ایسے ہی پہنچتی ہیں جیسے کوہ قاف کے قصے ہوں ۔

یہ بھی پڑھیں:   کوئٹہ میں نجی اسٹوڈنٹس ہاسٹل ایک منافع بخش کاروبار - گہرام اسلم بلوچ

بلوچستان اس ملک کا 46% رقبہ ہے اور باقی کے تین صوبے مل کر 54 فی صد۔ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ 54 فیصد علاقے سے 325 ایم این اے منتخب ہو کر آ رہے ہیں اور 46 فیصد رقبے سے صرف 17 ایم این اے ہیں ۔ یہ 17ایم این اے مل بھی جائیں تب بھی قانون سازی کے عمل میں کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ یوں گویااس صوبے میں ایک احساس پیدا ہو رہا ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں اس کا کوئی کردار نہیں۔

سینیٹ میں برابری کی بنیاد پر نشستیں اگرچہ موجود ہیں لیکن قومی اسمبلی میں نمائندگی کی اپنی معنویت ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقے کا انتخاب عوام کو سیاسی طور پر متحرک کرتا ہے اور اسے امور ریاست میں شراکت داری کا احساس دلاتا ہے۔ اگر محض آبادی کی بجائے رقبے کو بھی مد نظر رکھا جائے اور بلوچستان کی قومی اسمبلی کی نشستیں 17 سے بڑھا کر 50 یا 55 کر دی جائیں تو اس سے عوامی نفسیات میں غیر معمولی فرق آ سکتا ہے۔ ابھی تو چند نشستیں ہیں جن کا غالب حصہ نواب اور وڈیرے لے اڑتے ہیں، جب نشستیں بڑھیں گی تو سیاسی کارکنان کے لیے راستے کھلیں گے، سیاسی سرگرمیاں بڑھیں گی، شراکت اقتدار کا احساس ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری وغیرہ بھی بلوچستان جانے کو وقت ضائع کرنے کے مترادف نہیں سمجھیں گے، جس سے بلوچستان قومی دھارے میں آئے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ضروری ہے کہ قومی اسمبلی میں کسی صوبے کے ایم این ایز کی تعداد کا تعین اس صوبے کی آبادی کی بنیاد پر ہو؟ کیا بلوچستان کو بھرپور طریقے سے قومی دھارے میں لانے کے لیے آبادی کے ساتھ ساتھ رقبے کو بھی مد نظر نہیں رکھا جا سکتا؟۔۔۔ اس کا جواب ہمیں قائد اعظم ؒ کی فکر میں ملتا ہے ۔ ہم اس مسئلے کو سمجھنا اور حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سوال پر غور کرنا ہوگا کہ وہ کیا حالات تھے جنہوں نے حضرت قائداعظمؒ جیسے آدمی کو، جو تین عشرے متحدہ ہندوستان کا پیش منظر ترتیب دینے کی سنجیدہ کوششیں کرتے رہے، بالآخر تقسیم ہند کا مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا ۔ 1916ء میں معاہدہ لکھنؤ سے لے کر 1946ء کے کیبینٹ مشن پلان تک، تین عشروں پہ پھیلی اس جدوجہد میں وہ اپنی قوم کے مفادات کے تحفظ کی گارنٹی طلب کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تربت کے متاثر اساتذہ اور نمائندوں کی خاموشی - گہرام اسلم بلوچ

وہ مطالبات کیا تھے؟
ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی نشستیں ان کی آبادی کے متناسب نہیں ہوں گی بلکہ زیادہ ہوں گی۔۔ قائداعظم ؒ دیکھ رہے تھے کہ اگر متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نشستیں ان کی آبادی کے تناسب سے ہوئیں تو قانون سازی کے عمل سے مسلمان ہمیشہ کے لیے لاتعلق ہو جائیں گے۔ (اسی طرح جیسے آج بلوچستان کو آبادی کی بنیاد پرقومی اسمبلی میں محض 17نشستیں دے کر قانون سازی کے عمل سے لاتعلق کر دیا گیاہے)۔
دوسرا مطالبہ تھا کہ مرکزی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک تہائی سے کم نہ ہو۔ یہ مسلمانوں کی آبادی سے زیادہ نشستوں کا مطالبہ تھا۔
تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو ملازمتوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ کوٹا دیا جائے کیونکہ قائدؒ دیکھ رہے تھے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ملازمتوں میں مسلمان دیوار سے لگا دیے جائیں گے۔
1916ء میں کانگریس نے یہ مطالبات قریب قریب مان لیے۔ مگر 1928ء کی نہرو رپورٹ میں کانگریس جداگانہ انتخابات کے ساتھ ساتھ اس بات سے بھی مکر گئی کہ مسلمانوں کی نشستیں ان کی آبادی سے زیادہ ہوں گی۔ اس نے مرکزی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک تہائی کے بجائے ایک چوتھائی کرنے کی بات کر دی۔ قائداعظم ؒ نے بھانپ لیا کہ ایک چوتھائی نشستوں کے ساتھ تو مسلمان قانون سازی کے معاملات میں بے بس ہو جائیں گے۔ وہ نہ کوئی قانون بنوا سکیں گے اور نہ کوئی قانون بننے سے روک سکیں گے، یعنی معاملات ریاست میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ (بالکل ایسے ہی جیسے آج بلوچستان کو قومی اسمبلی میں صرف 17نشستیں حاصل ہیں۔ یہ صوبہ قومی اسمبلی میں اکٹھا بھی ہو جائے تو نہ کوئی قانون بنا سکتا ہے نہ کسی قانون کو بننے سے روک سکتا ہے۔) چنانچہ متحدہ ہندوستان کے بجائے تقسیم ہند پر معاملہ ہوا۔ یہی وہ پس منظر ہے جو جسونت سنگھ کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ کانگریسی رویوں نے مسلم لیگ کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ علیحدگی کی بات کرے۔

قائد اعظم ؒ کی اس فکر میں ہمارے لیے رہنمائی کا سامان موجود ہے۔ قائد اعظم ؒ کے تینوں مطالبات یہ بتاتے ہیں کہ محض آبادی کی بنیاد پر فیصلہ سازی کوئی حرف آخر نہیں۔ کچھ دیگر عوامل بھی زیر غور لائے جانے چاہییں۔ آج قائد اعظم ؒ کی اسی فکر پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہمیں آبادی کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے رقبے کو بھی زیر غور لانا ہوگا۔ بلوچستان کو بھر پور طریقے سے قومی دھارے میں لانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے ۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.