میاں صاحب اپنی جنگ لڑ رہے ہیں، جمہوریت کی نہیں - عامر خاکوانی

میاں نوازشریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد پاکستانی معاشرے میں ایک واضح لکیر کھینچے کی سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے۔ اس میں میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی میڈیا ٹیم اور صحافتی مشیروں کا اہم کردار ہے۔ ان سب نے بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ اس وقت ملک میں سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ (ملٹری) کے مابین اختیارات کی جنگ چل رہی ہے، ہر ایک کو چاہیے کہ سیاسی حکومت کو سپورٹ کرے تاکہ سول بالادستی کا ایشو ہمیشہ کے لیے طے ہوجائے۔ سول بالادستی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا چورن دانستہ طور پر بیچنے کی کوشش کی گئی ہے، مقصد ایک تیر سے تین چار شکار کرنے ہیں۔ غورسے دیکھیں تو چند وجوہات نظر آ رہی ہیں۔

پہلی وجہ
انھیں لگتا ہے کہ پاکستان میں کئی حلقے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سوچ رکھتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ سے جنگ کی بات کر کے انھیں ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ بلوچستان میں بلوچ، پشتون قوم پرست، خیبر پختون خوا کے قوم پرست، افغانستان کے متعلق پاکستانی پالیسیوں کے ناقد لکھاری، سندھی سرائیکی قوم پرست، آپریشن ضرب عضب سے ناخوش مذہبی شدت پسند لابی، عمومی طور پر لبرل سیکولر حلقے اور خصوصاًانگریزی اخبارات میں لکھنے والی انٹلکچوئل کلاس، بھارت کی طرف جھکاؤ رکھنے والا حلقہ جو بھارتی غلبہ کی راہ میں رکاوٹ بننے والی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے ہمیشہ ناخوش رہا وغیرہ وغیرہ۔ یہ حلقے تعداد میں کم ہونے کے باوجود میڈیا میں خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں، اکیڈیمیا میں ان کی طاقتور لابی موجود ہے، اپنی قوت مجتمع کرنے سے یہ ایک خاص تاثر ضرور پھیلا سکتے ہیں۔ کم و بیش یہ سب میاں صاحب کے ساتھ مل چکے ہیں۔

دوسری وجہ
میاں صاحب نے تصادم اور لڑائی کی فضا سے عروج حاصل کیا تھا۔ وہ ایک زمانے میں فخریہ یہ بات کہا کرتے تھے کہ محاذ آرائی نے مجھے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچایا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ دفاع کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیار کر کے وہ اپنے مخالفین کو پیچھے دھکیل دیں گے۔ سیاسی اعتبار سے زیادہ نقصان انھیں عمران خان نے پہنچایا۔ پانامہ کیس میں اگر عمران خان ہمت ہار دیتے اور پیچھے ہٹ جاتے تو معاملہ کچھ عرصے میں تحلیل ہو جاتا۔ عمران خان کی ہٹ دھرمی کی حد تک پہنچی ضد اور مستقل مزاجی نے میاں صاحب کو تنگ دائرے میں مقید کر دیا اور وہ آخر کاراس انجام تک پہنچ گئے، جو پانامہ سکینڈل کا فطری نتیجہ تھا۔ میاں صاحب اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنا صرف عمران خان کے بس کی بات نہیں اور اس کے پیچھے اداروں کی قوت کارفرما ہے۔ حالانکہ پانامہ ایشو کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی تعلق نہیں، یہ تو عالمی سطح پر آنے والا سکینڈل تھا، جس نے دنیا کے بہت سے ملکوں میں بھونچال کھڑا کیا۔ میاں صاحب کے خلاف معاملہ عدالت میں جانا ہی تھا، انھوں نے خود قوم سے خطاب میں یہ بات کہی اور اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ ہماری عدلیہ نے ماضی میں شریف خاندان کو بھرپور سپورٹ فراہم کی اور انھیں اکثر مواقع پر من چاہے نتائج دیے۔ شریف فیملی کی بدقسمتی کہ بحالی عدلیہ تحریک کے بعد عدلیہ کی ساخت، مزاج اور کردار یکسر بدل چکا ہے۔ اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجود شریف خاندان کو اس بار عدلیہ سے من پسند تعاون نہ مل سکا۔ عدالتی کارروائی کے دوران اتنا کچھ سامنے آیا کہ نااہلی کا فیصلہ آنا فطری اور منطقی تھا۔ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کا بار بار یہ فرمانا عجیب ہے کہ پانامہ کیس تھا، مگر فیصلہ تو اقامہ پر ہوا؟ ان سے پوچھنا چاہیے کہ حضور والا، سپریم کورٹ کے دو ججوں نے تو آپ کو نااہل اقامہ کی بنیاد پر نہیں کیا، بلکہ بیانات میں تضادات اور شواہد پیش نہ کرنے پر کیا۔ اسے آپ نے کون سا تسلیم کر لیا؟ فیصلہ اگر اقامہ کی بنیاد پر نہ کیا جاتا، اگر تنخواہ کے ایشو کے بجائے کسی اور قانونی نکتے پر سزا ملتی تو پھر کیا میاں صاحب اسے مان لیتے؟ ہرگز نہیں۔ انہیں کسی بھی صورت میں، کسی بھی حال میں اپنے خلاف فیصلہ قبول نہیں تھا۔ درحقیقت وہ اپنے خلاف سزا کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ نااہلی کی سزا کو وہ کیسے مان لیتے، ان کے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی تھی۔ صرف عدلیہ کو مطعون کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا، اس لیے انہوں نے عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ جوڑ توڑ کی کہانی چلائی۔ یہ تاثر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے پس پردہ عدلیہ پر اثر انداز کر کے یہ فیصلہ کرایا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ عدلیہ کے ججوں نے جواب نہیں دینا۔ اپنے ضابطہ اخلاق اور عدالتی روایات کے احترام میں جج صاحبان میاں نوازشریف یا مسلم لیگ ن کے خلاف پریس کانفرنس بھی نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آرمی چیف یا آئی ایس پی آر بھی ان الزامات کے حوالے سے ایک دو بار وضاحت ہی کرے گا، روزانہ کی بنیاد پر کی گئی پریس کانفرنسوں یا الزامات کا وہ ترکی بہ ترکی جواب کیسے دیں گے؟ میاں صاحب یہ جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے حملوں کا جواب دے ، تب اسے نقصان ہے اور نہ دے تو بھی نقصان۔

یہ بھی پڑھیں:   سارے مسائل کا حل نظام خلافت میں ہی ہے -حبیب الرحمن

تیسری وجہ
میاں نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف، چودھری نثارعلی خان یا پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں کے مشوروں کو نظرانداز کر کے اس لیے جارحانہ کھیل رہے ہیں کہ انھیں صورتحال اور وقت کی نزاکت اور پیچیدگیوں کا بخوبی علم ہے۔ کوئی اور جانتا ہو یا نہیں، میاں نواز شریف چار سال وزیراعظم رہنے کی وجہ سے اچھی طرح جانتے ہیں کہ سی پیک کا معاملہ ریاست پاکستان کے لیے کس قدر اہم ہے اور فوج خود کو سی پیک کے محافظ اور گارنٹر کے طور پر پیش کر چکی ہے۔ سی پیک کو کامیاب بنانے کی خاطر فوج اور دوسرے ریاستی ادارے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ امریکہ سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آ چکا ہے، بھارت میں نریندر مودی جیسا شدت پسند ا ور نرگسیت پسند سو چ رکھنے والا رہنما حکمران ہے، جو کبھی پاکستان کو خوشحال یا مستحکم نہیں ہونے دے گا۔ جو چاہے گا کہ بطور بھارتی وزیراعظم پاکستان کو ناکام بنا کر وہ بھارتی تاریخ میں جگہ بنا سکے۔ خطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے بھی کئی مسائل موجود ہیں۔ میاں صاحب کا تجزیہ غالباً یہ ہے کہ آج وہ حالات نہیں کہ بارہ اکتوبر ننانوے کو دہرایا جا سکے، سسٹم لپیٹنا ممکن نہیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ اس انتہائی حد تک جانے کا رسک لے گی۔ اسلام آباد میں سیاسی حکومت کی موجودگی ریاست پاکستان کے لیے ایک شیلڈ کا کام دے رہی ہے۔ اسی پیچیدگی اور حساسیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میاں نواز شریف چھکے، چوکے لگانے کے موڈ میں ہیں۔ بہترین حملہ ہی بہترین دفاع ہے، کا اصول ان کے سامنے ہے۔ انھیں شاید یہ لگ رہا ہے کہ اس طرح ان کی قوت مجتمع رہے گی، ان کی پارٹی کے ٹوٹنے کے امکانات کم ہوجائیں گے اور پہلے سینیٹ کے انتخابات میں اکثریت اور پھر عام انتخابات میں دوبارہ جیت کر اقتدار میں آنا ممکن ہوجائے گا۔ اس کے بعد وہ آئینی ترمیم کرا کر وزیراعظم بھی بن جائیں گے۔ نیب قوانین میں ترمیم کی سوچ تو پہلے سے مسلم لیگی حلقوں میں چل رہی ہے، جس کے تحت ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ملزم کے بجائے نیب پر ڈال دی جائے۔ پیپلزپارٹی تو پچھلے دو برسوں سے نیب کے پر کترنے کی خواہشمند ہے، یوں کچھ لو کچھ دو کے تحت قانون سازی مشکل نہیں رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی شام میں کردوں سے کیوں لڑ رہا ہے؟ میگن سپیشیا

چوتھی وجہ
یہ وجہ کچھ کم اہم نہیں ہے۔ بات بڑی صاف ہے۔مسلم لیگ ن کے چار سالہ دور حکومت کے دوران ہر شعبے میں انتہائی مایوس کن نتائج آئے ہیں۔ ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا، تیس پینتیس ارب ڈالر کا خوفناک قرضہ ملک پر لاد دیا گیا، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کون اسے اتارے گا اور کیسے؟ زراعت ایسے ابتر حال میں پہلے کبھی نہیں رہی تھی۔ قومی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ بہت سی جگہوں پر زمینداروں نے زمینیں کاشت کرنے کے بجائے خالی چھوڑ دیں کہ گھاٹا اٹھانے سے بہتر ہے کاشت ہی نہ کریں۔ ایک ایک کر کے قومی ادارے تباہ ہوگئے۔ پی آئی اے اپنے اہم بین الاقوامی روٹس سے دستبردار ہو رہی ہے، سٹیل ملز اور دیگرکئی ادارے تو بند ہوچکے۔ تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، امن وامان، ماحولیات، غرض ہر اہم شعبے میں صورتحال بدترین ہے۔ ہاں سڑکوں، پل، انڈرپاسز، میٹرو بس اور اورنج ٹرین جیسے پراجیکٹس ضرور شروع ہوئے، جن میں کھانے پینے کے مواقع زیادہ ہوں یا پھر ان کی چمک دمک سے ووٹربے وقوف بن سکے۔ سوشل سیکٹر جہاں سب سے زیادہ پیسہ اور توجہ لگانے کی ضرورت تھی، وہ مکمل طور پر نظرانداز ہوا۔

میاں صاحب نے مئی تیرہ کے الیکشن میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تجربہ کار ٹیم ہے۔ یہ ٹیم ا نتہائی نااہل اور بیکار ثابت ہوئی۔ ناکامی کے بھیانک تاثر کے ساتھ وہ دوبارہ ووٹ لینے عوام میں کیسے جائیں؟ اس لیے اب بیڈ گورننس، بدترین کارکردگی کو دانستہ پیچھے کر دیا۔ عوام کی توجہ میاں صاحب نے سول اور ملٹری کشمکش، سویلین بالادستی کے حصول اور ”مجھے کیوں نکالا“ کی بحث پر مبذول کر دی ہے۔ وہ اپنی طرف سے الیکشن ایجنڈا سیٹ کر چکے ہیں۔ حقیقت میں لڑائی کرپشن اور اینٹی کرپشن لابی میں ہے، کرپٹ عناصر ایک طرف اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے مقابل ہیں۔ میاں نواز شریف اور ان کے صحافتی مشیر مگر مصر ہیں کہ لڑائی جمہوریت اور اینٹی جمہوریت لابی میں ہے، سول بالادستی اصل ایشو ہے۔ جو یہ بات نہ مانے وہ آمریت کا پرستار اور پرو اسٹیبلشمنٹ ہے۔ میاں نواز شریف اینڈ کمپنی کے نزدیک ان پر تنقید کرنے والے اخبارنویس اور کالم نگار نہ صرف جمہوریت دشمن، ملک دشمن بلکہ انسانیت دشمن ہیں۔ اس تنقید کو چھاپنے والے ایڈیٹروں کی اہلیت پر بھی اب شک ہونے لگا ہے۔ کاش میاں صاحب یہ جانتے ہوتے کہ پروپیگنڈے سے ہر بات ثابت نہیں کی جا سکتی، جھوٹ سچ نہیں ہوسکتا اور اقتدار کی جنگ بھی جمہوریت کی لڑائی نہیں بن سکتی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.