مایوسی سے اُمید کی طرف بڑھتے قدم (2)

کرکٹ کے عظیم کھلاڑی ویوین رچرڈز کی حیران کن آپ بیتی، جب لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اُن کے خواب ٹوٹ گئے ہیں، وہ خود بھی فٹ بال کھیلنے لگ گئے، مگر وہاں بھی ناکامی ملی۔ مگر وہ کرکٹ کے میدان میں پھر اُترے اور اُبھرے، کیسے؟ ایک دلچسپ اور سنسنی خیز روداد!


ترجمہ وتلخیص: عبدالستار ہاشمی

پچھلی قسط یہاں پڑھیں

چھوٹی ہی عمر میں کرکٹ میرے خون میں رچ بس گئی تھی۔ میرا دھیان پڑھائی کی طرف بالکل بھی نہیں ہوتا تھا۔ یقین کریں مجھے ہوم ورک کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ہوسکتا ہے کچھ ماحول کا فرق ہو۔ آج میرا بیٹا مالی ہوم ورک، پڑھائی کے ساتھ کرکٹ اور ٹینس پر یکساں توجہ دیتا ہے۔ وہ کلاس روم میں بھی اچھے نمبر لیتا ہے اور اس کے ٹیچر اس کی کارکردگی سے خوش ہیں، جبکہ میدان میں وہ کھیل کے ساتھ بھی پورا انصاف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں تو اس طرح کی سہولت میسر نہ تھی۔ میرے ہیڈ ماسٹر بہت ہی شفیق انسان تھے۔ آج مجھے افسوس ہے کہ میں نے ڈھنگ سے پڑھائی کیوں نہیں کی۔ ہوسکتا ہے ایسا اس لیے ہو کہ میں کھیلوں کی طرف بہت راغب تھا اور اس کے بارے میں میری معلومات دیگر طالب علموں سے کہیں زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ میں اپنے جزیروں، ویسٹ انڈیز اور برطانوی راج کی تاریخ سے آگاہ تھا۔ مذہبی تعلیمات میں بھی خود کو بہتر سمجھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں مذہبی تعلیمات کے امتحان میں کبھی ناکام نہیں ہوا تھا۔ میں اس باقاعدگی سے چرچ نہیں جاتا تھا جس جذبے سے ہر سہ پہر کرکٹ کھیلنے نکلا کرتا تھا۔ میرے والد سخت طبیعت کے مالک تھے، اس لیے ہمیں گلیوں میں گھومنے کی اجازت نہ تھی۔ وہ علاقے بھر میں معتبر جانے جاتے تھے اور ہمیں قدم بہ قدم ان کی اس عزت کا خیال رکھنا پڑتا تھا۔ یہ شرافت آج بھی میری شخصیت کا خاصا ہے۔

اینٹیگا ایک چھوٹا جزیرہ ہے۔ یہاں کھیل کے میدانوں کے علاوہ لوہے کے بنے گھروں کی بہتات تھی۔ لوگ پُرامن تھے اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میرا کبھی کسی مجرم سے واسطہ پڑا ہو۔ ماں کہا کرتی تھیں کہ اگر تم اچھی زندگی کے خواہاں ہو تو چرچ جاؤ، بائبل پڑھو اور محبت کے دروازے سب کے لیے کھلے رکھو تو زندگی کے مصائب سے آزاد رہوگے۔

ہمیں بچپن سے ہی محنت کرنے کا عادی بنایا گیا۔ میں اسکول بوائے تھا اور میری عمر 14 برس کے لگ بھگ تھی۔ میں نے اس عمر میں ’’ڈار سے ان سٹیٹ جونزبار‘‘ میں کام کیا اور کچھ پیسے کمائے۔ اس بار کا مالک ڈارسے ولیم کرکٹ کا دلدادہ تھا اور ایک مقامی کرکٹ کلب کا چیئرمین بھی تھا۔ میری کرکٹ کی دلچسپی اس کے نوٹس میں آئی تو اس نے مجھے اپنے کلب میں شامل کرلیا۔ بار میں میری ملازمت عموماً چھٹیوں میں ہوا کرتی تھی یا جب مجھے پیسوں کی ضرورت محسوس ہوتی تو میں بار کا رُخ کرتا۔ اس کا یونیفارم پہنتا اور کام میں جت جاتا۔ مجھے اجرت میں 30 ایسٹرن کیریبیئن ڈالر ملتے اور اس میں ٹپ کی رقم ڈال دی جائے تو یہ 70 ڈالر تک ہوجایا کرتی تھی جو اس زمانے میں بڑی رقم تصور ہوتی تھی۔ مجھے اچھا لگتا کہ میں ایک میز سے دوسرے میز تک کھانا، مشروبات اور دیگر اشیا سرو کیا کرتا تھا۔ سونے پر سہاگا یہ تھا کہ مالک کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ وہ میرے لیے پیڈ، گلوز اور بلے خریدکر رکھا کرتا تھا، لیکن یہ خوشی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور ڈارسے ولیم کا انتقال ہوگیا۔ اس کی موت میری زندگی کا پہلا بڑا دھچکا تھی۔

اسکول کے بعد میں نے جزیروں کے مابین چلنے والی فضائی کمپنی ’’لیٹ‘‘ میں ملازمت کی۔ یہ فضائی کمپنی کارگو کاکام کرتی تھی اور سامان کو ایک سے دوسرے جزیرے تک پہنچانے میں مدد کرتی تھی۔ یہاں کے لوگوں کو اپنے کام سے غرض ہوتی تھی۔ یہاں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو میری کرکٹ کو سمجھتا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کرکٹ کھیلنے سے زیادہ کام کرنا پڑا، لیکن کرکٹ سے عاجز ان لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ میری رگوں میں ایک کرکٹر باپ کا خون دوڑ رہا تھا اور یہ کرکٹر اینٹیگا اور باربودا جزیروں کی کرکٹ ٹیموں کی نمائندگی کرچکا تھا۔ وہ آل راؤنڈر تھا اور اس کی کرکٹ کی گونج یہاں سنائی دیتی تھی۔ ایک چھوٹے بچے کی حیثیت سے میں نے اپنے باپ سے کرکٹ سے لگاؤ کے جذبے کو وراثت میں پایا۔ وہ گھر کے پچھواڑے میرے بھائی کو گیندیں کروایا کرتے تھے۔ سرکاری نوکری کی وجہ سے نظم وضبط ان کی زندگی کا لازمی جزو تھا اور یہی ڈسپلن انہوں نے ہمیں بھی سکھایا۔

اچانک وکٹ کیپر متجسس لہجے میں پکارا: ’’ویوین! وہ دیکھو یوں لگ رہا ہے، جیسے تمہارے والد آرہے ہیں۔‘‘ میری نظر جیسے ہی والد صاحب پر پڑی، میری تو جان ہی نکل گئی لیکن میں نے اوسان خطا نہیں ہونے دیے۔ میں بلے بازی کرتا رہا اور وہ باہر کھڑے دیکھتے رہے۔ میچ ختم ہوا، سب لوگ خوش تھے کہ کامیابی ملی ہے لیکن۔۔۔

میرے اور میرے بھائی کے لیے سب سے بڑی فساد کی جڑ اتوار کا دن ہوتا تھا۔ اس دن ہمیں کھیلنے کی قطعی اجازت نہ تھی۔ والد صاحب کا خیال تھا کہ چھ دن کھیلنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ ساتویں دن یا تو آپ عبادت کریں یا پھر خاندان کے ساتھ رہیں تاکہ باہمی محبت میں اضافہ ہو۔ اس دن سارے لوگ اکٹھے کھانا کھاتے اور چرچ جاتے۔ گھر آکر قیلولہ کرتے اور پھر سنڈے اسکول کا رُخ کرتے۔ وہاں سے واپسی پر چرچ میں دوبارہ حاضری دیتے۔ ہمارے لیے مشکل یہ تھی کہ کھیل کے بڑے ایونٹ اتوار کو ہی ہوتے تھے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، میری ٹیم نے مجھ پر انحصار بڑھانا شروع کیا۔ جس میچ میں ہم دونوں بھائی شامل ہوتے، ہماری ٹیم انتظامیہ سکون میں دکھائی دیتی اور اتوار کو ان کے مضطرب ہونے کی باتیں دوستوں سے سنتے تھے۔ آخر ہم نے چوری چوری اتوار کو کھیلنے کی منصوبہ بندی کرلی۔ سنڈے اسکول جاتے ہوئے کرکٹ کا یونیفارم پہن کر اوپر گھریلو کپڑے پہن لیتے۔ سب لوگ چرچ میں ہوتے تو ہم کھسک کر میچ کھیلنے چلے جاتے۔ شام کو واپسی پر گھریلو کپڑوں میں گھروالوں کے ساتھ ہولیتے اور یوں ظاہر کرتے جیسے سب کچھ نارمل ہے۔ کچھ اتوار کو ایسا ہی ہوا لیکن والد جیلر تھے۔ ان کی عقابی نگاہوں سے کچھ بھی چھپنا ممکن نہیں تھا۔ ایک اتوار میں میدان میں کھیل رہا تھا کہ اچانک وکٹ کیپر نے متجسس لہجے میں پکارا: ’’ویوین وہ دیکھو یوں لگ رہا ہے جیسے تمہارے والد آرہے ہیں۔‘‘

میری نظر جیسے ہی والد صاحب پر پڑی، میری تو جان ہی نکل گئی۔ لیکن میں نے اوسان خطا نہیں ہونے دیے۔ میں بلے بازی کرتا رہا اور وہ باہر کھڑے دیکھتے رہے۔ میچ ختم ہوا، سب لوگ خوش تھے کہ کامیابی ملی ہے لیکن میں خاموش تھا اور میری حیثیت اس مجرم کی سی تھی جو موقع واردات پر دھرلیا گیا ہو۔ گھر پہنچے تو عین ممکن تھا پٹائی ہوجاتی، لیکن ماں کی ممتا نے ہمیں بچالیا۔ وہ ہمارے اور والد صاحب کے درمیان حائل ہوئیں اور سمجھایا کہ وعدہ کرو چرچ جایا کروگے اور اس کے بدلے میں آپ کو کھیلنے کی اجازت ہوگی۔ ہم نے بخوشی اس معاہدے کو خوش آمدید کہا اور اس طرح سنڈے کرکٹ کی اجازت مل گئی۔

میرے والد بہت مثبت سوچ کے مالک تھے۔ انہیں کرکٹ سے بھی محبت تھی۔ وہ اسے بہترین کھیل تو تصور کرتے، لیکن اسے بطورِ کیریئر اپنانے کے حق میں نہ تھے۔ میرا ان سے اختلاف اس بات پر ہوا کہ وہ مجھے امریکا بھجوانا چاہتے تھے، جہاں میری دادی قیام پذیر تھیں۔ والد صاحب کا کہنا تھا کہ میں امریکا میں دادی کے پاس رہ کر کالج کی تعلیم پاؤں۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب کا بندوبست بھی کردیا تاکہ اخراجات پورے ہوتے رہیں۔

میرین نہ صرف میرا بھائی تھا، بلکہ جگری یار بھی تھا، لیکن باپ کے فیصلے میں وہ میرے کام نہ آیا۔ وہ عجیب طبیعت کا مالک تھا۔ کرکٹ سے اس کی وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی، لیکن کرکٹ ہی اس کا اوڑھا بچھونا نہ تھا۔ اس کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ اینٹیگا میں میچ تھا اور وہ جزیرے کی ٹیم کا اہم رکن تھا، لیکن اسی رات اس کے میوزک بینڈ کا کنسرٹ نیوس میں تھا۔ وہ دن بھر میچ کھیل کر نیوس پہنچا۔ کنسرٹ میں گانا گایا اور رات گئے واپس اینٹیگا پہنچا اور ٹیم میں دوبارہ شامل ہوگیا۔ میں کرکٹ اور فٹ بال کا کھلاڑی تھا۔ ایک مرتبہ کرکٹ میچ اور فٹ بال میچ ایک ہی دن قرار پائے۔ مجھے ہر ایک نے مشورہ دیا کہ میں اینٹیگا نیشنل فٹ بال ٹیم کی طرف سے کھیلوں۔ مجھے لگا کہ کرکٹ کھیلنا زیادہ مناسب ہوگا، اس لیے کہ یہ کھیل زیادہ منظم تھا جبکہ فٹ بال باغیانہ کھیل تھا۔ میں نے کرکٹ میچ کھیلنا زیادہ مناسب سمجھا۔

میرے دو اور بھی بھائی ہیں۔ ڈونلڈ اور ڈیوڈ، ان کی مائیں اور تھیں۔ یعنی یہ میرے سوتیلے بھائی تھے۔ ڈونلڈ اینٹیگا گرائمر اسکول میں پڑھتا تھا اور اسکول ٹیم کا ہونہار کھلاڑی تھا۔ بڑی خوشی ہوئی کہ میرے دو بڑے بھائی اور بھی ہیں۔ میں ان کے میچ دیکھنے گراؤنڈ جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ڈونلڈ نے مجھے اپنے پرانے بوٹوں کے جوڑے دیے جسے میں نے مدتوں تک سنبھال کررکھا۔

اب آپ کو ایک اور پہلو سے بھی آگاہ کرتا ہوں۔ اسکول کرکٹ میں میں بڑے کرکٹرز کے خلاف کھیلا کرتا تھا۔ ان میں اینڈی رابرٹس بھی شامل تھے۔ وہ مختلف اسکولوں کی طرف سے کھیلتے تھے اور ان کے کلب کا نام رائزنگ سن تھا۔ ہمارے علاقے کی ایک معروف شخصیت کا نام چارلی ہنری تھا۔ وہ کاروباری شخص تھا، لیکن کرکٹ سے اس کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ چارلی ہنری نے پہلی مرتبہ ہمیں ٹیسٹ کرکٹ کے بارے میں گراں قدر معلومات دیں۔ ایک مرتبہ وہ ہمیں بارباڈوس لے گیا جہاں ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے مابین ٹیسٹ میچ کھیلا جارہا تھا۔ یہ وہ موقع تھا جہاں مجھے گیری سوبرز اور چارلس ڈیوس کو سنچریاں بناتے دیکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پھر ایک دن کھیل کے بعد سرگیری سوبرز سے ڈریسنگ روم میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اس موقع پر لارس رو نے مجھے گلوز کی جوڑی بطورِ تحفہ دی۔ یہاں ایک اور بڑے کھلاڑی بھی ملے جن کا میں مداح تھا۔ ان کا نام سمورنرس تھا۔ یہاں پر ویزلی ہال سے بھی ملاقات ہوئی۔

میری عمر 19 برس تھی اور جنوری کی ایک سرد شام کو مجھے یہ خوشخبری سنائی گئی کہ مجھے پہلے فرسٹ کلاس میچ کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔ پہلے میچ میں ونڈوارڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے میں نے بالترتیب 20 اور 26 رنز بنائے۔ پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔ مقامی ٹیموں کے خلاف فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز ہوا۔ چار برس اس جدوجہد میں گزرے۔ 22 برس کی عمر میں میرے اندر چھپی صلاحیتوں کو سمرسیٹ کے وائس چیئرمین لن کریڈ نے پہچان لیا۔ ان کی پیش کش کو مسترد کرنا کسی صورت بھی مناسب نہ تھا۔ مجھے لگا جیسے میری منزل کی طرف راہیں کھل گئی ہیں۔ کریڈ نے میرے لیے لیگ کرکٹ کھیلنے کا بندوبست کردیا اور میں پہلی ہی دستیاب فلائٹ سے باتھ پہنچا۔ یہاں ایک اور مہربانی کی گئی اور مجھے اسسٹنٹ گراؤنڈ مین کی نوکری بھی دلادی گئی۔ میرے باس گراؤنڈ مین جان ہاورڈ تھے۔ انہوں نے میری مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے کچھ رقم بھی عنایت کی۔ یہاں ایک برس گزارنے کے بعد میں ٹاٹون چلا آیا اور سمرسیٹ میں کاؤنٹی ڈیبیو کیا۔ میں حیران تھا کہ قدرت کس طرح مہربان ہورہی ہے؟ یہاں مجھے ایئن بوتھم اور ڈینس بریک ویل کے ساتھ کمرہ شیئر کرنے کا موقع ملا۔ میں نے بڑے کھلاڑیوں کی سنگت میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کے اس نادر موقع سے فائدہ اُٹھایا اور بنسن اینڈ ہیجز کپ کے پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ ایوارڈ پایا۔

یہ میچ میرے لیے خوش بختی کا پیغام لے کر آیا تھا۔ 1974ء میں بھارت جانے والی ویسٹ انڈیز ٹیم کا اعلان ہوا تو اس میں میرا نام بھی شامل تھا۔ اس طرح میرے ٹیسٹ کیریئر کی شروعات ہوگئی۔

(جاری ہے)