بوٹ پالشیے کون؟ ثمینہ رشید

کہتے ہیں عشق اندھا ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں جو لوگ جمہوریت کے عشق کے دعویدار ہیں، ان پر اس کے اثرات عشق مجازی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ یعنی بندے کو بینا سے نابینا تو کرتے ہی ہیں، عقل پہ بھی خاصی حد تک اثرانداز ہوتے ہیں، حتی کہ محمود و ایاز کو ایک پیج پر لانے کا کارنامہ بھی جمہوریت سے اس عشق کے ہی سر جاتا ہے۔

اس تحریر کا مقصد جمہوریت کے ان عشاق کی کچھ غلط فہمیاں دور کرنا ہیں۔

سب سے پہلی تو یہ غلط فہمی ہے کہ پی ٹی آئی کے سب سپورٹرز دراصل اسٹیبلشمنٹ کے سپورٹرز ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے. جونہی ان جمہوریت کے دعویداروں پہ کوئی تنقید کی جائے تو ہر ایک پہ پہلا الزام "بوٹ پالشیا" ہونے کا لگتا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ ان کے اسٹیبلشمنٹ کی گود سے جنم لینے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ہے جو آج اچانک سے جمہوریت کے "لے پالک بچے" بھی بننے کو تیار ہیں، حتی کہ اس چکر میں اپنے پرانے مائی باپ کو بھی دوسروں کو مفت میں دان کرنے کے لیے بےتاب ہوئے جاتے ہیں۔

انہیں خود احساس نہیں کہ یہ کتنا بودا اور کمزور پروپیگنڈہ ہے۔ ذرا سوچیے کہ یہ کیسی اسٹیبلشمنٹ ہے جو اتنی طاقتور ہے کہ وزیر اعظم کو نااہل کرانے اور سپریم کورٹ کو اشاروں پر چلانے کی طاقت رکھتی ہے لیکن عمران خان کو ایک ضمنی الیکشن تک نہیں جتواسکتی؟ یہ کیسی طاقتور اسٹیبلشمنٹ ہے جس کی طاقت اور سازش کا راگ الاپتے آپ کی زبان نہیں تھکتی، جس پر دشنام طرازی کے لیے "شاہی لکھاری" دن رات صحفے سیاہ کیے جاتے ہیں اور وہ انہیں روک بھی نہیں سکتی۔ یہ کیسی طاقتور اسٹیبلشمنٹ ہے جس کو آپ کھلے بندوں دھمکیاں لگا سکتے ہیں اور وہ خاموش تماشائی بنی آپ کی ہرزہ سرائی سنتی رہتی ہے۔

جمہوریت کے ان دعویداروں کے نعروں کی حقیقت سب پہ عیاں ہے۔ جن کی جماعت کے رہنما سزا سے بچنے کے لیے این آر او سائن کر کے اپنے کارکنوں کو پیچھے جیلوں میں چھوڑ جاتے ہوں۔ وہی رہنما جنہوں نے ماضی میں اپنی ہوس اقتدار کے لیے بینظیربھٹو کی حکومت ختم کروائی تھی اور ان کے خلاف "اسٹیبلشمنٹ" سے مل کر سازشیں تیار کی تھیں۔ بغیر یہ جانے کے ایک دن اس گڑھے میں وہ خود بھی گر سکتے ہیں۔ جو میمو گیٹ کیس لے کر عدالت پہنچے تھے۔ یہ وہی موصوف ہیں نا جنہوں نے ملک میں مک مکا کی سیاست کی بنیاد ڈالی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیرون ملک علاج: ایئر ایمبولینس اتنی مہنگی کیوں؟

ایک اور عمومی غلط فہمی جس کا شکار حکمران پارٹی کا ہر دوسرا وزیر ہے کہ حکمران جماعت بیس کروڑ عوام کی نمائندہ جماعت ہے، یعنی انتہائی مبالغہ آرائی کے تڑکے کے ساتھ ایک سفید جھوٹ۔ سب سے پہلے تو یہ یاد رہے کہ بیس کروڑ کی آبادی میں سے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ساڑھے سات کروڑ کے لگ بھگ تھی جس میں سے حکمران جماعت کو محض ڈیڑھ کروڑ ووٹ ملے تھے، جو ٹوٹل ڈالے گئے ووٹوں کا بھی صرف بتیس فیصد تھے۔ حمکران جماعت کے رہنماؤں اور جمہوریت کے دعویداروں سے درخواست ہے کہ ایسی مبالغہ آرائی آپ اپنے ورکرز سے تو کر سکتے ہیں، لیکن دوسری جماعتوں کے سپورٹرز اور عوام کے سامنے نہیں، کیونکہ حقیقت اس کے قطعی برعکس ہے۔

ایک اور غلط فہمی یہ ہے جمہوریت کے دعویداروں کو کہ انہوں نے الیکشن اصلاحات کے نام پر فردِ واحد کے لیے قوانین بناکر گویا ملک یا جمہوریت پر کوئی احسان کیا ہے تو اس کی حقیقت کنویں کے مینڈک والی سوچ سے زیادہ کچھ نہیں۔

آج مسلم لیگ نون کے شاہی لکھاریوں کو اپنے قائد کے لیے لینن اور چی گویرا کی مثالیں یاد آتی ہیں۔ کاش آپ کے قائد نے لینن اور چی گویرا نہ سہی، فیڈرل کاسترو کے بارے میں ہی جاننے کی کوشش کی ہوتی کہ ان کو تو رخصت ہوئے ابھی سال بھی نہیں گزرا. شاید انہیں پتہ چلتا کہ ایک نظریے کی طاقت سے کیسے فردِ واحد دنیا کی سپر پاور کو چیلنج کرسکتا ہے۔ یہ کاسترو تھا جس نے اپنے ملک سے باہر کبھی علاج کے لیے قدم نہ رکھا، کیونکہ علاج کی جو سہولت اس کے ملک کے کسی بھی دوسرے شہری کو حاصل تھی بالکل وہی سہولت اس کو بھی حاصل تھی، نہ کہ ہمارے حکمرانوں کی طرح جو زکام کا علاج کروانے بھی لندن تشریف لے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   انااورفنا - محمد ناصر اقبال

ایک اور غلط فہمی راتوں رات نظریاتی ہونے کی ہے۔ خدار کچھ بھی کہیے بس نظریاتی ہونے کے دعوے نہ کیجیے کہ ابھی کچھ دن پہلے تک بھی چھوٹے شریف صاحب اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرنے کی کوششیں کرتے پائے گئے۔ یہ اور بات کہ اب اسٹیبلشمنٹ روایتی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں، لیکن "جمہوری رہنما" ہیں کہ بیک ڈور کے ذریعے واپس اقتدار میں آنے کے راستے ڈھونڈتے نہیں تھکتے۔

ایک اور غلط فہمی جمہوریت کے عشق میں مبتلا لوگوں کو یہ ہے کہ انہوں نے پارٹی کے نااہل رہنما کو ہی "جمہوریت" سمجھ لیا ہے۔ ایک ایسی جماعت جس نے اس ملک میں اندھی شخصیت پرستی کی ایسی تاریخ رقم کر دی ہے جس کی کوئی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ الیکشن اصلاحات کے نام پہ قوم سے ملک سے ایک ایسا مذاق کیاگیا ہے کہ دو اکتوبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ عوام کے نمائندوں کی جگہ ہے جہاں عوامی نمائندے عوام کے مسائل ڈسکس کرتے اور قانون سازی کرتے ہیں، لیکن حکمراں جماعت نے ثابت کیا ہے کہ عوام کے نمائندے نہیں اپنے لیے کاٹھ کے الّو چن کر لاتے ہیں، جو ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ جو عوام کی فلاح کے لیے قانون نہیں بناتے بلکہ ایک کرپٹ سسٹم کو زندہ رکھنے کے لیے قانون سازی کرتے ہیں۔ یہ بس ایک خاندان کے وفادار ہیں اور اس پر غلط فہمی یہ ہے کہ یہ جدوجہد جمہوریت کے لیے ہے۔ جمہوریت کے ان عشاق سے درخواست ہے کہ اچھا ہوگا کہ یہ غلط فہمی بھی اب دور کرلی جائے۔ کیونکہ آپ جمہوریت کی نہیں ایک خاندان کی خدمت کر رہے ہیں۔

یوں تو جو بھی مغلیہ انداز حکمرانی کے خلاف لکھتا ہے، وہ آپ کو بوٹ پالشیا نظر آتا ہے، لیکن وہ بوٹ والے بس اب آپ کے گمان میں ہی رہ گئے ہیں۔ ذرا اپنے ہاتھوں پہ نظر دوڑائیے ،کہیں دوسروں پر کف اڑاتے آپ کو پتہ نہ چلا ہو کہ پالش تو اب آپ کے ہاتھ میں آچکی ہے، بس بوٹ بدل چکے ہیں۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.