اُولو داگ - سعود عثمانی

بہت گھنا اور سرسبز پہاڑ تھا۔ درختوں سے ایسا ڈھکا ہوا پہاڑ شاید اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ سیڑھیاں چڑھتے، زینہ بہ زینہ اونچے لمبے درختوں کے بیچ نہ کہیں کوئی چھدرا پن تھا اور نہ درختوں کے درمیان گھاس کے سبز قطعات تھے۔ جیسے درختوں کی ایک قدرتی کان تھی جو پہاڑ کے اوپر واقع تھی۔ ہر کہ در کانِ شجر رفت، شجر شد۔ شاید سارے پہاڑ میں زرخیز مٹی ہی مٹی تھی۔ لگتا تھاچٹان یا پتھر اس جنگل نے کبھی دیکھے ہی نہیں ہیں، اور اگر کہیں ہیں بھی تو روئیدگی کی اس کان میں سینہ گداز ہوچکے ہیں۔

ہم ترکی کے شہر برصہ پر سایہ فگن ''اُولو داگ'' (یعنی شاندار پہاڑ) کے دامن میں اس حد پر کھڑے تھے، جہاں تک گاڑیاں جاسکتی ہیں۔ اس سے آگے محض کیبل کار یا پہاڑی پگڈنڈیاں ہی رہرو کو راستہ دیتی تھیں۔ پیدل چل چل کر قدم چور ہوچکے تھے اور آگے جانے کی ہمت نہیں تھی۔ اور اس وقت شدید خواہش تھی تو یہ کہ ترکی چائے (chay) اور کچھ دیر آرام سے توانائی پھر جمع کرنے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ میں نے اور اکبر نے کچھ چکردار پہاڑی سیڑھیاں چڑھیں اور گھنے درختوں کے بیچ بنے ہوئے ایک ریستوران کے کھلے حصے میں بیٹھ گئے۔ بیٹھتے ہی نچلے دھڑ کے جوڑوں نے صدائے احتجاج بلند کی کہ یہ کہاں کرسی پر بیٹھ گئے۔ تم سے اتنا بھی نہ ہوا کہ استراحت کے لیے کوئی بستر ہی فراہم کر دیتے۔ ریڑھ کی ہڈی میں بولنے کا یارا نہیں تھا لیکن صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ ان کی ہم نوا ہے۔

ترکی کے حسین شہر برصہ کو دیکھنے کی آرزو ہمیشہ سے تھی۔ آج صبح صبح سلطان احمد، استنبول سے بذریعہ فیری برصہ جانے کے لیے پہلے ''امینونو'' (Aminono) اور پھر ''کباتاش'' (Kabatash) کے ساحل پر آیا۔ امینونو پر کوئی آئے اور مشہور و معروف مچھلی کا سینڈوچ ''بالک اکمک'' (Balik ekmek) نہ کھائے، نہ پیک کرائے تو بہت بدذوقی کی بات ہے۔ میں ہمیشہ اس الزام سے بہت ڈرتا ہوں چنانچہ ''مجبورا'' سینڈوچ پیک کروایا اور ''بودو'' (Budu) نامی فیری کمپنی کی انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔ خوبصورت فیری کچھ ہی دیر میں لہروں پر رواں ہوگئی۔ آرام دہ نشستیں، سفری سامان کے علیحدہ کیبن اور کینٹین میں سفری خورد و نوش کا انتظام۔ لیکن فیصلہ کھلی ہوا کے حق میں کیا گیا۔ دخان کشی کے لیے کیبن سے بار بار باہر جانے سے بہتر تھا کہ ڈیک کی کرسیوں پر بیٹھ کر سامنے ریلنگ پر پیر پسار لیے جائیں۔ آزادی کا یہ فیصلہ بہت اچھا ثابت ہوا۔ کوئی رکاوٹ نہیں۔چاہے کافی پی جائے، چاہے مرغولے اڑائے جائیں ،چاہے ہم سفروں کی مصروفیات پر خود کلام تبصرے کیے جائیں۔ آپ توجانتے ہیں کسی کی موجودگی میں اس کی غیبت کا کتنا لطف ہوتا ہے۔ اور پھر چمکیلی دھوپ، نیلا بحر مرمرا اور فرشتہ پر سمندری پرندے۔ خدایا تیری یہ زمین کتنی حسین ہے۔

''مدانیا'' (Mudanya) وہ ساحل تھا جہاں کم و بیش دو گھنٹے کے سفر کے بعد فیری نے مسافروں کو الوداع کہا۔ مدانیا دراصل برصہ کے نواح میں مرکز شہر سے سوا یا ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ایک قصبہ ہے۔ خیر یہ تو ہمارا خیال نہیں تھا کہ برصہ کے جملہ معزّزین اور چنیدہ حسینائیں ہمارے استقبال کے لیے ساحل پر رومال ہلاتے نظر آئیں گے، لیکن اکبر کو بھی وہاں منتظر نہ پاکر دھچکہ سا لگا ۔میرے ترک دوست ڈاکٹر عبد الحمید برشک کی مہربانی کہ انہوں نے برصہ کے ایک ہوٹل میں میرے ٹھہرنے کا بھی انتظام کر دیا تھا اور اپنے ایک افغان شاگرد اکبر کو بھی مامور کردیا تھا کہ وہ برصہ گھومنے پھرنے میں میری رہنمائی کرے۔ رابطے سے معلوم ہوا کہ اکبر اپنی تعلیمی مصروفیت کی وجہ سے دیر سے روانہ ہوا ہے اور ایک گھنٹے تک مجھے لینے پہنچے گا۔ یہ وقت ترکی چائے (Cay) پینے، مدانیا کے صاف ستھرے بازاروں میں گھومنے اور ان ترکوں سے مکالمے میں گزرا جنہیں میری طرح فصیح و بلیغ ترکی نہیں آتی تھی۔ جب تک اکبراعظم نے قدم رنجہ فرمایا، میں ان دکانداروں کی ترکی تمام کرچکا تھا۔ اس کے بعد میرا کوئی کام وہاں باقی نہیں رہ گیا تھا سو اکبر کے ساتھ روانہ ہوگیا اور ایک بس اور پھر ایک ٹرین نے ہمیں ایک گھنٹے سے کچھ زائد میں برصہ کے مرکزی علاقے میں پہنچا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

برصہ صوبہ بھی ہے اور شہر بھی۔ برصہ شہر، شمال مغربی اناطولیہ کا آبادی کے لحاظ سے ترکی کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ 400 مربع کلو میٹر میں پھیلا ہوا یہ شہر بحر مارمرا کی سطح سمندرسے شروع ہوتا ہے۔ اور اولو داگ نامی اونچے پہاڑ کی شمال مغربی ڈھلوانوں پر بلند ہوتا جاتا ہے۔ اولو داگ اپنے بلند ترین مقام پر 8343 فٹ بلند ہے۔لوگوں کے پیار کے نام (nick names) ہوتے ہیں۔ برصہ کا بھی پیار کا نام ''یسل برصہ'' (yesil Bursa) یعنی سرسبز برصہ رہا ہے اور اس کی وجہ برصہ کے باغات، پارک اور اطراف کے گھنے جنگل ہیں۔
اس شہر کے گوشے گوشے میں قدیم تاریخ کی خوشبو ہے۔ برصہ میں انسانی تمدن کی تاریخ 5200 سال قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔ 202 قبلِ مسیح میں قدیم یونانی بادشاہ فلپ پنجم نے بیتھانیا (Bithynia) کے بادشاہ پروسیاس (Prusias) کو یہ شہر بخش دیا جس نے اس کی تعمیر ِنو کی اور اس کا نام پروسہ (Prusa) رکھا. یونانیوں سے 74 قبل مسیح میں یہ سلطنت رومن ایمپائر کے پاس آئی اور تادیر اس کے زیرِ نگیں رہی۔ 1326 عیسوی میں برصہ بازنطینیوں سے مسلمانوں نے چھین لیا۔ 1335 عیسوی سے 1363 عیسوی تک یہ سلاطین عثمانی کا دارالحکومت رہا۔ اس دوران برصہ کی بےمثال ترقی ہوئی۔ادرنہ (Adrianople) کی فتح کے بعد 1363ء میں عثمانیوں نے دارالخلافہ وہاں منتقل کر دیا لیکن برصہ کی اہمیت میں کمی نہ آئی۔ عظیم ترک سلطان بایزید یلدرم نے یہاں 1390ء میں ایک بہت بڑا مدرسہ قائم کیا اور ایک بڑی جامع مسجد ''اولوجامع'' (Ulu Cami) تعمیر کی۔ برصہ انتظامی اور تجارتی مرکز بنا رہا یہاں کہ سلطان محمد فاتح نے 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کرلیا۔

ٹرین سٹیشن شہر کے وسط میں تھا اور وہاں سے ہوٹل اچھا خاصا دور تھا۔ٹیکسی لی جاسکتی تھی لیکن میرا ہمیشہ سے خیال یہی ہے کہ کسی شہر کو دیکھنے کا سب سے بہتر طریقہ پیدل چل پھر کر اسے دیکھنا ہے۔ چنانچہ چڑھائیاں چڑھتے، پر رونق بازاروں سے گزرتے، قدیم عمارتوں کے دائیں بائیں سے نکلتے ہم ڈیڑھ دو میل پیدل چل کر اولو جامع (جامع مسجد) کے سامنے بازار میں پہنچ گئے۔ مسجد کے بالکل سامنے ہوٹل تھا۔ صاف ستھرا اور آرام دہ۔ مہابلی اکبر کا خیال تھا کہ شام کا وقت ہو رہا ہے اس لیے اولوداگ کے لیے فورا نکلنا ضروری ہے۔ یہ بات بھی درست تھی اور جمال احسانی کا وہ شعر بھی
تھکن بہت تھی مگر سایہ شجر میں جمال
میں بیٹھتا تو مرا ہم سفر چلا جاتا

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

ہم 22 کلومیٹر دور جانے کے لیے بس میں بیٹھے اور ''یلدرم'' نامی قصبے کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ برصہ شہر کا ہی مضافاتی حصہ ہے جو بایزید یلدرم کے نام پر بسایا گیا تھا۔ مسافر زیادہ تر مقامی ترک تھے۔ اسکول اور کالجوں سے چھٹی کا وقت تھا چنانچہ طالب علموں کی بہتات تھی۔ پرانے دہقانی ترکی لباس میں بھی مرد اور عورتیں موجود تھے۔ ہجوم کی وجہ سے بس میں کھڑا ہونا ہی بس میں تھا۔ بس بتدریج پہاڑی راستے پر گامزن ہوئی۔ سیدھا راستہ پیچ و خم میں بدلتا گیا۔ تنگ پہاڑی موڑ جگہ جگہ تھے اور چھوٹی سڑکوں پر بس چلانا بھی ایک ہنر تھا۔ یلدرم تک پہنچتے پہنچتے، جھٹکے کھاتے اور کئی بار مشکل سے سنبھلتے سنبھلتے مجھے یقین ہوچکا تھا کہ بےخوف ڈرائیور بایزید یلدرم کے خاص شہ سواروں کی نسل سے ہے، اور اس کی سرکوبی کے لیے کوئی نیا تیمور لنگ ہی درکار ہے۔ یلدرم اتر کر اب ہمیں اس بس کی تلاش تھی جو کیبل کار پوائنٹ تک ہمیں سیدھی اولو داگ نیشنل پارک لے جائے۔ لیکن یہ چھوٹا سا خوب صورت اور پرسکون پہاڑی قصبہ میرے دل میں اتر گیا۔ درختوں میں سرسراتی خنک ہواسرگوشیاں تو پتوں سے کرتی تھی لیکن وہ ہمارے کانوں تک بھی پہنچتی تھیں۔ ڈھلان نیچے اترتی ہوئی برصہ شہر تک جاتی تھی اور شہر نیچے سامنے اپنی وسعت کے ساتھ پھیلا ہوا تھا۔ دور سامنے مدائنا کے سمندر کی نیلاہٹ نمایاں تھی۔ ابھی منظر پوری طرح آنکھوں میں سمویا بھی نہیں تھا کہ بس آگئی اور اس نے دس پندرہ منٹ کی کھڑی چڑھائی کے بعد اولو داگ کے کیبل کار پوائنٹ تک پہنچا دیا۔

''اچھا تویہ ہے مشہور زمانہ پہاڑ'' میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔ سامنے ایک نہایت بلند پہاڑ اپنے گھنے درختوں کے ساتھ راستہ روکے کھڑا تھا۔ اس خطے کا سب سے اونچا پہاڑ۔یونانیوں کا ماؤنٹ اولمپس۔ سکی انگ کا بہترین مرکز۔ پہاڑوں اور سمندروں کی خوب صورتی، ہیبت اور عظمت کو کون پہنچ سکتا ہے۔ اس پہاڑ کی عظمت، ہیبت اس کی خوبصورتی کا حصہ تھیں اور جہاں یہ تین چیزیں جمع ہوجائیں، وہاں انسان بس گنگ ہوجاتا ہے۔
ایک صوت ِگنگ جیسے گنبدوں کے سامنے
سواے میرے سخن ور دوستو!
بعض جگہ گنگ ہوجانا ہی اظہار کا بہترین طریقہ ہے۔

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.