جماعت اسلامی 'آدھا تیتر، آدھا بٹیر؟' – مہتاب عزیز

جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیے جانے والے کارکنان سے جماعتیں اور تنظیمیں یہ کہہ کر لاتعلقی اختیار کررہی ہیں کہ "ہم تو اُنہیں نکال چکے ہیں"۔ جماعت اسلامی کے ذمہ دار اور قائدین اس سلسلے میں فورا مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کا قول پیش کر دیتے ہیں، جس میں انہیں نے ہر قسم کی خفیہ تحریکوں سے برات کا اعلان کیا تھا اور فرماتے ہیں کہ ہمارا منہج واضح ہے۔ اس لیے جو بھی موجودہ یا سابق کارکن کسی خفیہ غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو ہمارا اُس سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اس لیے ہم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

آئیے ذرا دعوے اور حقیت کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں خفیہ تحریکوں کے حوالے سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ رحمہ کا منہج دو ٹوک تھا۔ انہوں نے کارکنان جماعت کو اس حوالے واضح تنبیہ کی تھی۔ وہ پیغام ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے فرمایا، "میں اصولاً قانون شکنی اور غیر آئینی طریق کار اور زیر زمین کام کا سخت مخالف ہوں"۔(تصریحات)

مولانا نے حکومت اور فوج کی جانب سے جہاد کشمیر کا اعلان کرنے اور کارکنان جماعت کو شمولیت پر آمادہ کرنے کے حکومتی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے اعلان جنگ یا جہاد کے بغیر مدد سے قطعی انکار کر دیا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا، ’’جہادِ کشمیر کے سلسلے میں میرے نزدیک یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کہ وہاں لڑائی بھی ہو اور نہ بھی ہو۔ یعنی ایک طرف ہماری حکومت تمام دنیا کے سامنے اعلان کرے کہ ہم لڑ نہیں رہے بلکہ لڑنے والوں کو روک رہے ہیں اور دوسری طرف وہ لڑیں بھی۔" (تصریحات)

مشرقی پاکستان میں جمعیت کی تنظیم کو فوج کی حمایت میں البدر نامی مسلح تنظیم بنانے پر انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ "ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے، فوج زیادہ دیر تک کسی پر اعتماد نہیں کیا کرتی، یہ اس کی نفسیات ہے کہ اندرونِ ملک جو قوت اس کے ساتھ تعاون کرتی ہے، مشکل وقت گزرنے کے بعد یہ سب سے پہلے اسی پر حـمـلـہ آور ہوتی ہے" (تصریحات)

اسی طرح مولانا نے افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد وہاں شروع ہونے والے جہاد اور بین الاقوامی پراکسی وار میں کارکنان جماعت کی شرکت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا۔ ’’کوئی شک نہیں کہ ہمارے افغان بھائی اس وقت نہ صرف صدی کے بہت بڑے جہاد میں مصروف ہیں، بلکہ جن مشکلات کا انہیں سامنا ہے، دوسروں کو ان کا اندازہ بھی نہیں ہوسکتا لیکن جب تک کابل حکومت ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کرتی یا حکومت پاکستان اس سے تمام تعلقات توڑ کر اعلانِ جنگ نہیں کرتی، آپ پاکستانی شہریوں کو سرحد پار کرکے میدانِ جنگ میں نہیں اترنا چاہیے"۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے پولا کرو، پھر کھاؤ - سہیل وڑائچ

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت اسلامی مولانا رحمہ اللہ کے منہج پر قائم نہ رہ سکی۔ مولانا کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد جماعت اسلامی نے افغان جہاد میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی۔ جماعت کے مرکز منصورہ میں باقاعدہ "شعبہ امور جہاد" قائم ہوا۔ جماعت کے اراکین ہی نہیں قیادت نے بھی افغانستان میں ہونے والی لڑائی میں حصہ لیا۔ مرحوم قاضی حسین احمد بطور امیر جماعت اسلامی پاکستان خود بغیر ویزہ لیے سرحد پار کر کے جلال آباد تشریف لے گئے۔ جہاں انہوں نے مجاہدین کے کیمپوں کا دورہ کیا، مجاہدین سے خطاب فرمایا۔ جہاد میں علامتی شرکت کے طور پر کلاشنکوف گلے میں ڈال کر تصاویر بنوائیں۔

اسی دوران عرب سے آنے والے مجاہدین کے میزبان جماعت اسلامی کے اراکین اور ذمہ داران ہوا کرتے تھے۔ عالمی جہاد کے فکری رہنما شیخ عبداللہ عزام طویل عرصے تک ایک بڑے ذمہ دار کے مہمان رہے تھے۔ جماعت کے ہر دفتر میں جہاد افغانستان کے لیے فنڈ جمع ہوتا تھا۔ جماعت کی وساطت سے لوگ جہاد افغانستان میں شرکت کیا کرتے تھے۔ جنہیں جلال آباد اور خوست کے قریب جماعت کے ہم خیال لوگوں کے قائم کیمپوں میں ٹریننگ کروائی جاتی تھی۔ جماعت کے اُس وقت کے تمام رسالے مجاہدین، شہدا اور زخمیوں کے تذکروں اور قصائد سے بھرے ہوا کرتے تھے۔

جہاد افغانستان ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ جہاد کشمیرکا آغاز ہوگیا۔ جماعت اس جہاد میں بھی پوری قوت کے ساتھ شریک ہو گئی۔ شعبہ امور جہاد کی جگہ حزب المجاہدین نے لے لی۔ جس کی شاخیں ہر شہر اور قصبے میں کھل گئیں۔ جہادی ترانے،سٹیکرز، پوسٹرز اور لٹریچر کی تیاری میں تخلیقی جوہر آزمائے جانے لگے۔ گھر گھر جہادی لٹریچر تقسیم ہونا اور فنڈ جمع ہونا شروع ہوا۔ جماعت کا کوئی جلسہ، ریلی یا مظاہرہ ایسا نہ ہوا کرتا تھا جس میں کمانڈو جیکٹ پوش مجاہدین خطاب نہ کریں۔ بڑے پروگرامات کی سکیورٹی مجاہدین کی ذمہ داری تھی۔ کئی پروگرامات میں کمانڈو یونیفارم پوش مجاہدین امیر جماعت کو سلامی بھی پیش کیا کرتے تھے۔ کشمیر کے جہاد میں شہید ہونے والوں میں جماعت کی چوٹی کی قیادت کے فرزند اور قریبی عزیز بھی ہیں۔ جس کا جماعت بجا طور پر فخریہ کریڈٹ بھی لیتی رہی ہے۔ گویا کہ ایک ایسا کلچر تھا جس میں مجاہد اور جہاد آئیڈیل بنائے گئے تھے۔

جہادِ کشمیر ابھی جاری ہی تھا کہ نائن الیون کا واقعہ پیش آیا اور امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ یہاں بھی جماعت کا آفیشل موقف یہی رہا کہ امریکہ اور اتحادی غاصب قوت ہیں، ان کے خلاف لڑنے والے طالبان مجاہد ہیں۔ جماعت نے افغانستان میں 'یو ٹرن' لینے پر آمر پرویز مشرف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اُس کے سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کی سب سے بڑی نقاد جماعت اسلامی ہی تھی۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان میں دینی جماعتوں پر مشتعمل "دفاع افغانستان" نامی تنظیم میں جماعت، دامے، درمے، قدمے، سخنے شامل ہوئی۔ یہی تنظیم بعد میں "دفاع افغانستان و پاکستان" اور پھر متحدہ مجلس عمل میں تبدیل ہوئی۔ جزوی واقعات کی بات کی جائے تو کئی جلدوں کی کتاب بھی ناکافی ثابت ہوگی، اس لیے طوالت سے بچنے کی خاطر انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے پولا کرو، پھر کھاؤ - سہیل وڑائچ

اب دوسری جانب کا کچھ جائزہ لیتے ہیں، پاکستان میں 2001 کے بعد نافذ ہونے والے قوانین جن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، پاکستان پروٹیکشن ایکٹ اور فوجی عدالتوں کے قیام کو بین الاقوامی ادارے ظالمانہ قرار دے چکے ہیں۔ ان قوانین کے تحت کسی بھی شخص کو انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر بھی سزا دیے جانے کا امکان موجود ہے۔ اسی طرح ان قوانین کے تحت نہ صرف دہشت گردی یا مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہونا جرم ہے بلکہ دہشت گردی کے کسی واقعے یا کسی دہشت گرد کے ساتھ کسی درجے کا تعاون بھی سہولت کاری کے زمرے میں آتا ہے۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور اُن لٹریچر رکھنا ہی نہیں بلکہ معمولی سے معمولی حمایت بھی سہولت کاری میں آتی ہے۔ کئی کیسز میں ایسے لوگوں کو بھی سزا ہو چکی ہے جنہوں نے راہ چلتے کسی دہشت گرد تنظیم فرد سے راستہ پوچھ لیا تھا یا اُس کے پوچھنے پر راستہ بتایا تھا اور اُن کا یہ عمل کسی سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہوگیا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر جعلی پولیس مقابلوں میں مارے کون جاتے ہیں؟

جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جانے والوں میں اکثریت اُن افراد کی ہوتی ہے جن پر کسی عدالت میں دہشت گردی کی حمایت کا جرم بھی ثابت کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے اداروں کی نظر میں وہ ممکنہ دہشت گرد (potential terrorist) ہوتے ہیں۔ یعنی دہشت گردی کی تعریف میں آنے والا کوئی بھی اقدام انہوں نے عملا نہیں کیا ہوتا، لیکن اُن پر شک ہوتا ہے کہ مستقبل میں دہشت گرد بن سکتے ہیں۔ ایسے افرد مسلح جدوجہد کی طرف میلان یا رجحان گزشتہ تیس سال سے جاری اُس جہاد کلچر کا شاخسانہ ہے۔ یہ جہاد کلچر ہمارے معاشرے میں ریاستی سرپرستی میں اُن تنظیموں نے عام کیا ہے جو آج اعلان لا تعلقی کر رہی ہیں۔

تیس سال سے جہاد کلچر کو فروغ دینے کے بعد کیا ریاست کی جانب سے ماوائے عدالت قتل اور مقتول سے اظہار لاتعلقی کا کوئی جواز بنتا ہے؟ اگر اظہار لاتعلقی کرنا ہی ہے تو پہلے ماضی سے اظہار لاتعلقی کیجیے، مولانا مرحوم و مغفور کے بعد جن قائدین کی پالیسی کا یہ خمیازہ ہے، اُن سے اظہار برات کیجیے تاکہ کارکنان آپ کی بات کو سمجھ سکیں۔ ورنہ 'نیم تیتر نیم بٹیر' قسم کی پالیسی مزید کنفیوژن کا باعث ہی بنتی رہے گی۔