صنم خانے سے کعبے کو ملنے والا پاسبان - عبدالرحمٰن

جب دنیا کے کسی کونے میں کفر و شرک اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ عنقریب اس علاقے سے اللہ کا ایک ایسا بندہ نکلے گا جو اللہ کی مخلوق پر حجت پوری کرے گا اور کفر کے مقابلے میں اس کی حیثیت ایک ڈھال کی سی ہوگی۔ وہ الرحمن کی طرف دعوت اسی زور و شور سے دے گا جس زور و شور سے شیطان کی طرف دعوت دی جارہی ہوگی۔ عبداللہ کوئیلیئم (10 اپریل 1856 تا 23 اپریل 1932) کا شمار بھی کچھ ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ آپ متحدہ برطانیہ میں عیسائیت سے مسلمان ہوئے اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کا آغاز اس وقت کیا جب متحدہ برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور اکثر مسلمان ممالک متحدہ برطانیہ کی براہ راست کالونیا ں تھے۔ آپ کی دعوت و تبلیغ اس قدر پر اثر اور کثیر الجہات تھی کہ آپ یورپ میں اسلامی فوبیا کا پہلا شکار بنے۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

عبداللہ کوئیلیئم 10 اپریل 1856 کو متحدہ برطانیہ کے شہر لیور پول میں پیداہوئے۔ آپ کا پرانا نام ہنری کوئیلیئم تھا۔ جب عیسائیت سے مسلمان ہوئے تو اپنا نام بدل کر عبداللہ کوئیلیئم رکھا۔ آپ کا بچپن آئر لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان چھوٹے سے جزیرے آئل آف مین گزرا۔ آپ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ آ پ کے والدین لیور پول میں آبسے۔

آپ کے خاندان کا شمار لیور پول کے امیر اور شاہی گھرانوں میں ہوتا تھا۔ آپ کے والد کا نام روبرٹ کوئیلیئم تھا۔ جن کا گھڑی بنانے کا کارخانہ تھا۔ آپ کے دادا جون کوئیلیئم، متحدہ برطانیہ کی رائل نیوی میں کیپٹن تھے۔ آپ کی والدہ کا ہیرٹ تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر جون لیور پول کے مشہور فزیشن تھے۔ شادی سے پہلے ان کی والدہ مذہبی کاموں میں بھر پور شرکت کرتی، مگر شادی کے بعد انہوں نے اپنی تمام توجہ عبداللہ کی تعلیم وتربیت دی۔ انہوں نے 1893 میں63 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور خرابی صحت کے باوجود اسلامک انسٹیٹیوٹ کی سرگرمیوں میں بھر پور شرکت کرتیں اور رسالہ ’’ اسلامک ورلڈ‘‘ کے لیے کالم بھی لکھتی رہیں۔

عبداللہ نے ابتدائی تعلیم لیور پول انسٹیٹوٹ اور مین کنگ ولیئم کالج میں حاصل کی۔ جب 1878 کو عملی زندگی میں قدم رکھا تو وکالت کو بطور پیشہ اختیار کیا، اپنے پیشہ کے لحاظ سے اس قدر محنتی اور کامیاب رہے کہ جلد ہی ان کا شمار متحدہ برطانیہ کے چوٹی کے وکیلوں میں ہونے لگا اور آپ قتل کے بڑے بڑے پیچیدہ کیسوں کے ماہر تھے۔ بلکہ ایک ہفتہ وار جرنل سے اس بات کی شہادت بھی ملتی ہے کہ آپ لیور پول کے غیر رسمی اٹارنی جنرل بھی تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے صحافت، تقریر، تصنیف، شاعری اور مختلف تجارتی یونیننر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

آپ کی پرورش عیسائیت کے فرقے میتھوڈسٹ میں ہوئی تھی۔ عیسائیت کے ساتھ آپ کا تعلق مثالی تھا۔ جب اس فرقے نے شراب کی ممانعت پر ایک تحریک چلائی آپ اس کے سر گرم کارکن تھے۔

1887میں ابھی وکالت میں آپ کی سروس کو دس سال ہی ہوئے تھے کہ آپ نے ایک مسلمان ملک مراکش کا دورہ کیا اور اسلام کا تحفہ لے کر واپس لوٹے۔ آپ نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ 1928 میں مصر میں ایک تقریر کے دوران بیان کیا۔ یورپ میں خود غرضانہ طرز زندگی اور مراکش میں مسلمانوں کی باہمی رواداری، ہمددری اور لحاظ کا جب تقابل کیا تو مسلمانوں کی اخلاقیات نےان کو قرآن اور اسلامی تاریخ پڑھنے پر مجبور کیا۔ آپ نے قرآن کا ترجمہ اور تھامس کارلائل کی کتابBook of Heroes اور دیگر کتابوں کا مطالعہ کیا۔

اسلام کے بارے یہی مطالعہ آپ کے قبول اسلام کا سبب بنا اور آخر کار آپ نے 1887 میں 31 سال کی عمر اسلام قبول کر لیا ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے مقامی انگریز ہیں، جنہوں نے اسلام قبول کیا اور دوبارہ لیور پول میں مسلمان کی حثییت سے داخل ہوئے۔ آپ کے قبول اسلام کا واقعے نے فاتح برطانیہ میں اسلام کی دعوت کا ایک خاص مقام دیا اور بے شمار لوگوں کے قبول اسلام کا سبب بنا، آپ کا اسلام قبول کرنا محض ایک حادثہ، اتفاق یا ایک تجربہ نہ تھا، بلکہ اسلام نے آپ کی زندگی کو 360 کے زاویے پر بدل دیا۔ آپ نے اپنی باقی تمام زندگی اسلام کی دعوت و تبلیغ اور جدوجہد کے لیےوقف کرنے کا نہ صرف پختہ عزم کیا بلکہ عملی طور پر اس کام میں لگ گئے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے ایک مسجد، اسلامک سنٹر، سکول، رسالوں اور کتابوں کی تصنیفات اور تراجم پر کام شروع کیا اور متحدہ برطانیہ میں اسلا م کی دعوت کی بھر پور تحریک چلائی۔

متحدہ برطانیہ میں اسلام کی دعوت کو موثر اور بھر پور بنانے کے لیے ایک ایسے مرکز کی ضرورت تھی، جہاں سے تمام دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جاسکے۔ آپ نے فوری اس ضرورت کو محسوس کیا اور ایک مسلم سوسائٹی کی بنیاد رکھی، جس کے تحت لیور پول میں بروگہم ٹیرس نمبر 8 کو خریدا گیا اور اس میں ایک مسجد اوراسلامک سنٹر، لیور پول اسلامک انسٹیٹوٹ، کی بنیاد رکھی گئی، اس کے بعد اس ٹیرس کے بقیہ حصے کو بھی خرید لیا گیا اور اس میں لڑکوں کے ایک اقامتی سکول اور لڑکیوں کے لیے ایک غیر اقامتی ادارے کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے مدینہ ہاؤس کے نام سے ان غیر مسلم بچوں کے لیے ایک سکول بھی قائم کیا، جن کے والدین ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے نہیں کر سکتے تھے۔ ان سکولوں کے لیے ایک سائنس لیبارٹری اور میوزیم بھی بنایا گیا۔

آپ نے ایک بھر پور ادبی زندگی گزاری اور متحدہ برطانیہ میں انگلش میں اسلامی ادب کا آغاز بھی آپ کے ہاتھوں ہوا۔ آپ نے مونٹ ورنر سٹریٹ میں ایک مصلی اور دفتر بنایا، جہا ں بیٹھ کر آپ تصنیف و تالیف کا کام کرتے۔ اس کے علاوہ ایک ادبی سوسائٹی کا قیام کیا جس میں ہفتہ وار پروگرام کا انعقاد کیا جاتا، جس میں مسلم اور غیر مسلم کثیر تعداد میں شرکت کرتے۔ یہ ادبی سوسائٹی بہت سے غیر مسلموں کے قبول اسلام کا سبب بنی۔ اسلام کا عقیدہ اور دو رسائل (کریسنٹ، اسلامی دنیا) کا آغاز اور پرنٹنگ کا قیام آپ کی اہم ادبی خدمات میں شامل ہے۔ ان رسائل میں انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے مسائل کا اجاگر کیا۔ آپ نہ صرف اچھے نثر نگار بلکہ ایک اچھے شاعر بھی تھے، انہوں نے اپنے دونوں رسالوں میں پچاس سے اوپر نظمیں لکھیں۔ آپ کا شعری مجموعہ ’’The Convert`s Passion‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ آپ کی بیش قیمت تصنیفات کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں اوربہت سے علماء و مفکرین نے آپ پر قلم اٹھایا۔

انہوں نے اپنا آدھا گھر پرنٹنگ پریس کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ سب سے پہلے آپ نے ایک کتاب ’’ اسلام کا عقیدہ ‘‘ کے نام سے شائع کی، جس کو سب سے پہلے 2000 اور ایک سال کے بعد 3000 کی تعداد میں شائع کیا گیا۔ اس کتاب کا ترجمہ دنیا کی تیس مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے۔ سب سے پہلے اسلامی عقائد پر کتاب شائع کرنا ان کے ہاں اسلام کی عقیدے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے کہ ان کے ہاں عقیدے کی کتنی اہمیت تھی اور انہوں نے اس کو پہلے درجے میں رکھا۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں آپ کی ادارے کی طرف سے صحافت کا آغاز بھی کیا گیا۔ جس میں سب سے پہلے ایک ماہانہ رسالہ The Muslim World اور ایک ہفتہ وار رسالہ ’’ کریسنٹ ‘‘ کے نام سے شائع کیے گئے۔ ان رسالوں میں پوری دنیا، متحدہ برطانیہ اور لیور پول کے مسلمانوں کے مسائل اور واقعات کی منظر کشی کی جاتی اس کےعلاوہ تربیتی موضوعات پر بھی کالم لکھے جاتے۔ یہ رسالے ادارے کے اپنے پریس پر چھپتے تھے۔ اور ان کی تقسیم دنیا کے تقریباً 20 ممالک میں تھی، ان رسالوں کی سینکڑوں کاپیں اب بھی’’ برٹش لائبریری ‘‘ میں محفوظ ہیں۔

آپ کی اسلام کے ساتھ وارفتگی جنون کی حد تک تھی، آپ نے لیل و نہار دین متین کی تبلیغ و ترویج میں بسر کیے۔ متحدہ برطانیہ میں آپ کی حیثیت ایک اسلام کے ایک وکیل کی سی تھی۔ آپ مسلمانوں کے اتحاد کے زبردست حامی تھے اور تمام امت مسلمہ کو متحد دیکھنا چاہتے تھے۔ جب متحدہ بر طانیہ نے سوڈان کے خلاف لڑنے کے لیے مسلمانوں کی فوج میں بھرتی کی تو آپ نے مسلمانوں کو اپنے ہم مذہبوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے روکا۔ دعوت کے اثرات آپ کی دعوت کے بے پناہ اثرات براعظم یورپ، ایشیا ء اور امریکہ پر مرتب ہوئے۔ 1889ء تک تقریبا 20 لوگوں نے ان کی دعوت پر اسلام قبول کیا جس میں پروفیسر نصر اللہ ویرن، پروفیسر ہاشم وائلڈ اور اسٹیلی برج کے میئر ریشیڈ پی اسٹینلی بھی تھے۔ 1892میں ان کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے والوں کی تعدا د 83 ہو گئی، تقریباً 600 لوگوں نے ان کے ہاتھوں اسلام کی دعوت کو قبول کیا جس میں کثیر تعداد شہر کے رؤسا کی تھی۔ یورپ میں دعوت و تبلیغ کا کام ابھی تک آپ کے طریقہ کار اور منہج کے مطابق ہو رہا ہے۔

1895 میں افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن خان نے ملکہ وکٹوریا سے ملنے کے لیے انگلینڈ جانے کا ارادہ کیا، مگر صحت نے ساتھ نہ دیا تو انہوں نے اپنے 20 سالہ بیٹے نصراللہ خان کو بھیج دیا۔ شہزادے نے لیور پول کا دورہ بھی کیا اور وہاں لیور پول اسلامک انسٹیٹوٹ میں عبداللہ کوئیلیئم سے بھی ملے اور ادارے کے لیے 2500 پونڈ تعاون کے طور پر دیا۔ 1894ء میں خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ عبدالحمید ثانی کی طرف سے شیخ الاسلام کا خطاب دیا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ بھی آپ کی شخصیت سے اچھی طرح آگاہ تھی۔ جب آپ نے اسلام کے بارے میں اپنی کتاب ملکہ کو ارسال کی تو ملکہ نے اپنے بچوں کے لیے بھی اس کی مزید کاپیاں منگوائیں۔

پروفیسر گیو لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ لیور پول میں دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں اور جرنیلوں کا ڈنر تھا۔ جس میں عبداللہ کوئیلیئم کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جب آپ ہال میں تشریف لائے تو لمبے چوغے اور پگڑی میں ملبوس تھے اور آپ کا استقبال برطانوی سلوٹ کی بجائے ’’اللہ اکبر ‘‘ کے نعروں سے کیا گیا۔ آپ کی زندگی پر لکھی گئی تین معروف کتابیں : Victorian Muslim (Abdullah Quillium and Islam in West), Jamie Gilham-Ron Geaves, Oxford The Convert`s Passion , Brent D. Singleton, Poetry Islam in Victorian Britain, The Life and Time of Abdullah Quillium, Ron Geaves

عبداللہ کوئیلیئم کو پہلے دن سے ہی دعوتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا رہا۔ جیسے جیسے لوگ مسلمان ہوتے گئے، ویسے یسے مشکلات بڑھتی گئیں۔ مسجد کے مؤذن پر اکثر پتھر او ر کوڑا کرکٹ پھینکنے کے واقعات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ اکثر فائر کریکر اور شیشے کے ٹکڑے مسجد کے صحن پھینک دیے جاتے تاکہ لوگ نماز ادا نہ کر سکیں اور اس سے زچ ہوجائیں۔ اس سارے عمل میں چرچ اور میڈیا پیش پیش تھے۔ بعض دفعہ ایسے بھی ہوا کہ عبداللہ کوئیلیئم جمعہ کا خطبہ دے رہے ہوتے تو کچھ غیر مسلم کھڑے ہوجاتے اور آپ پر طرح طرح کے جملے کستے اور برا بھلا کہتے۔ چرچ کی طرف سے آپ کو 'شیطان کا چیلہ' بھی قرار دیا گیا، مگر یہ سارے واقعات آپ کے عزم اور حوصلہ کو کم نہ کرسکے۔ آپ اکثر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے، آخر کار 1908ء میں حکومت برطانیہ، آپ کی دعوتی سرگرمیوں سے خوف زدہ ہوگئی اور انہیں ملک بدر کر دیا گیا جس کی وجہ سے ان کا دعوتی کام رک گیا۔ مسجد اور اسلامک سنٹر کی پراپرٹی قبضہ میں لے لی گئی۔ اس واقعہ کی وجہ سے لیور پول میں مسلم سوسائٹی بکھر گئی۔ ادارے اور مسجد کو سرکاری تحویل میں لے لیا کر رجسٹرار آفس میں تبدیل کر دیا گیا۔

آپ 1914 میں دوبارہ انگلینڈ آئے اور آپ نے اپنا نام عبداللہ کوئیلیئم سے بدل کر ہارون مصطفی لیون رکھ لیا اور لیور پول کی بجائے لندن میں قیام کیا۔ وفات آپ نے ٹوائٹن سٹریٹ بلوم بری لندن میں 1932 میں وفات پائی۔ انہیں بروک فیلڈ قبرستان لندن میں دفن کیا گیا۔ اسی قبرستان میں عبداللہ یوسف، محمد پکھتال اور لارڈ ہیڈلی بھی مدفون ہیں۔

1999 میں مسلمانوں کے ایک گروپ نے عبداللہ کوئیلیئم سوسائٹی کی بنیاد رکھی تاکہ ان کے ورثے کو محفوظ کیا جاسکے۔ ان کے ورثہ میں ایک مسجد، اسلامک سنٹر اور پبلشنگ ہاؤس شامل ہے۔ اس سوسائٹی کے حکومت وقت سے بھر پور مطالبہ پر اس ورثہ کو سوسائٹی کی تحویل میں دے دیا گیا، سوسائٹی مسجد اوراسلامک سنٹر پر دوبارہ تزئین و آرائش کا کام کررہی ہے اور عوام کے لیے اس کو کھولنا چاہتی ہے کیونکہ یہ ورثہ متحدہ برطانیہ میں اسلام کے آغاز کی بنیاد ہے۔

آپ جیسی نادر شخصیت صدیوں بعد پیدا ہوتی ہے۔ آپ کی شخصیت ظلمت کدہ یورپ میں مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اس عظیم مرد مومن کی زندگی میں پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم اور خاص سبق اور پیغام موجود ہے کہ موجودہ نفسا نفسی کے دور میں کس طرح ہم اپنی زندگی اسلام کی تعلیمات اور اس کے مقاصد کے مطابق گزار سکتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو قیامت کے دن شہداء اور صدیقین کا ساتھ نصیب کرے۔ آمین!

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.