پراف اور گوانتانامو - عمار بیگ

گوانتاناموبے اور ابو غریب دنیا کے بدنام زمانہ عقوبت خانے ہیں۔ یہاں عموماً دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ محصورین کو چھ فٹ لمبے، چار فٹ چوڑے آہنی سلاخوں سے بنے پنجروں میں قید کیا جاتا ہے۔ ان ٹارچر سیلز کی بناوٹ ایسی ہوتی ہے کہ قیدی نہ تو ان میں لیٹ سکتا ہے، نہ ہی بیٹھ سکتا ہے۔ یہاں کئی کئی مہینوں تک اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ اس اذیّت سے گزار کر ملزموں سے اقرار جرم کروایا جاتا ہے۔

پراف یعنی سالانہ امتحان کی کڑیاں کہیں نہ کہیں اسی سلسلے سے ملتی ہیں۔ فرق محض اتنا ہوتا ہے کہ طلباء از خود نظر نہ آنے والے پنجروں میں قید ہو جاتے ہیں۔ جہاں نہ تو وہ لیٹ سکتے ہیں نہ بیٹھ پاتے ہیں ۔ بس پڑے پڑے کروٹیں بدلتے رہتے ہیں،اپنے بال نوچ نوچ قسمت کوس رہے ہوتے ہیں۔

پورا سال قسم قسم کی رنگ رنگیوں سے دل پشوری کرنے والے شہزادے بھی پراف سے ایسے خوفزدہ پائے جاتے ہیں، جیسے قدیم زمانے میں سلطانہ ڈاکو کے ڈر سے لوگ سر شام ہی کواڑ بند کیے گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے تھے۔ مگر سلطانہ ان کو لوٹتا تھا، جن کے ہاں اسے مال ملتا تھا۔ پراف ان کی قسمت پر خاک ڈالتا ہے جن کی جھولی خالی ہوتی ہے۔

پریپس موسم کی قابل ذکر وباؤں میں تمباکو نوشی، چائے اور کافی کہ کثرت نمایاں ہے ۔ طلباء تو خیر ازل سے ہی دھتکارے ہوتے ہیں، پریپس سیزن میں کئی طالبات بھی دھوئیں کے مرغولے اڑاتے، اپنے آپ کو ریلیکس کرنے کا ناٹک کرتی پائی جاتی ہیں۔ طلباء میں سے بعض عادی نشئی بھی بن جاتے ہیں اور کہیں کسی فلائی اوور کے نیچے بیٹھے بھنگیوں کو ہیروئن کے ٹیکے لگانے کی تربیت دے رہے ہوتے ہیں جو انہوں نے کلینیکل سکلز میں سیکھا تھا۔

پرچہ حل کرنے کا منظر سب سے دلچسپ ہوتا ہے۔ عام زندگی میں ماڈرن بننے والے اور والیاں بھی تیز رفتاری سے آیتیں پڑھتے خالی گتے کو پھونکیں مار رہے ہوتے ہیں۔

پرچہ ملنے پر کچھ دیر تو شاک کی سی کیفیت پائی جاتی ہے رفتہ رفتہ رِیکٙوری کے بعد طلباء کنّکشن تلاش کرتے ہیں۔

کنّکشن کی تلاش میں طلباء کی ویژؤل فیلڈ 360 کے زاویے پر گھومتی ہے اور آخر کار رخِ یار پر جا ٹھہرتی ہے۔ جہاں سے یہ بشمول کامہ و فل سٹاپ فوٹو کاپی کرتے ہیں۔

کچھ عقابی نگاہیں اس قدر تیز ہوتی ہیں کہ اگر دوسرا طالبعلم مریخ پر بھی بیٹھا ہو تو بھی ان کا فُوکس بنا رہتا ہے۔ بقول شاعر

پرچہ اس کا دیکھتے ہیں اس ادا سے وہ

اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو

اس 'کوئی' میں نگران محمتحنوں کے علاوہ کوئی شامل نہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com