ماضی کی طرف سفر! - محمد عرفان ندیم

یہ ایک ستّر سالہ ملک کی کہانی ہے، کہنے کو اس کی عمر ستر سال ہے لیکن یہ صرف کہنے کی حد تک ہے، حقیقت میں اس کی عمر چالیس سال یا اس سے بھی کم ہے۔ میں پاکستان کی بات کر رہا ہوں، ستر سال میں سے تقریباً تیس سال اس ملک میں آمریّت رہی اور باقی صرف چالیس سال بچتے ہیں اور ان چالیس سالوں میں بھی جمہوریت کبھی عدلیہ اور کبھی سیاسی جماعتوں سے ٹکراتی رہی۔

آپ پاکستان کی ماضی کی تاریخ پر ایک نظر دوڑائیں آپ کو جمہوریت ہر دور میں ستم رسیدہ اور ٹھوکریں کھاتی نظر آئے گی۔ یہ پاکستانی تاریخ کا المیہ ہے۔ پاکستان میں پہلی آئین ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس 10 سے 14 اگست 1947ء کو منعقد ہوا۔ قائد اعظم صدر اور اقلیتی رکن جوگندرناتھ منڈل کو عارضی چیئرمین منتخب کیا گیا۔ ابتدائی طور پر آئین ساز اسمبلی کے ارکان کی تعداد 69 تھی جو بعد میں بہاولپور، خیر پور اور بلوچستان کی ریاستوں اور قبائلی علاقوں کو نمائندگی دینے سے بڑھ کر 74 ہو گئی۔ آئین کی تشکیل کے لیے مختلف کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ بنیادی اصولوں کی کمیٹی سب سے اہم تھی۔ اس نے دسمبر 1950ء میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کی۔

16 ستمبر 1954ء کو آئین ساز اسمبلی میں پاکستان کے پہلے آئین کا حتمی ڈرافٹ منظور کر لیا گیا۔ آئین کی منظوری کے بعد کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ گورنر جنرل غلام محمد نے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا اور وہ تاریخی جملے ادا کیے جو بعد میں نظریۂ ضرورت کی ماں بنے۔ انہوں نے کہا ’’ملک سیاسی بحران کا شکار ہے، آئینی مشینری تباہ ہوچکی ہے لہٰذا پورے پاکستان میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا جاتا ہے۔‘‘ آئین ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خاں نے گورنر جنرل کے اس اعلان کو غیر آئینی، غیر قانونی، دائرہ اختیار سے تجاوز اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے فل بینچ نے متفقہ طور پر مولوی تمیز الدین کے حق میں فیصلہ دیا اور کہا کہ آئین ساز اسمبلی ایک مقتدر مجلس ہے، جسے ایک خاص مقصد کے لیے بنایا گیا تھا اور جب تک اس کا مقصد پورا نہیں ہو گا اس وقت تک یہ برقرار رہے گی تاآنکہ اس کے ارکان کی دو تہائی اکثریت اسے خود تحلیل نہ کر دے۔ عدالت نے کہا کہ آئین ساز اسمبلی کو تحلیل کر نے کا اختیار تو اب انگلستان کے پاس بھی نہیں رہا اور یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ جو اختیار اب انگلستان کے پاس بھی نہیں رہا، وہ 1947ء کے بعد پاکستان میں پھر سے استعمال میں لایا جاسکے؟

حکومت نے سندھ کورٹ کے فیصلے کے خلاف فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اس و قت محمد منیرچیف جسٹس تھے۔ فیڈرل کورٹ نے ایک تکنیکی نکتے کا سہارا لیتے ہوئے 21 مارچ 1955ء کو چار ایک کی اکثریت سے گورنر جنرل کے حق میں فیصلہ دے دیا اور یوں پاکستا ن میں نظریہ ضرورت کی آبیاری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اب ایک نیا کھیل" آئین توڑو، آئین بناؤ" شروع ہو گیا۔ اس فیصلے کے چھ دن بعد 27 مارچ 1955ء کو گورنر جنرل نے ایک آرڈیننس کے ذریعے متعدد اختیارات سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے نئے آئین کی تشکیل کا اعلان بھی کر دیا۔ تاہم 13 اپریل 1955ء کو فیڈرل کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آئین کی تشکیل کا کام صرف آئین ساز اسمبلی کر سکتی ہے، گورنر جنرل اور کابینہ کو یہ اختیار حاصل نہیں۔ 7 جولائی 1955ء کو دوسری آئین ساز اسمبلی کا اجلاس مری میں ہوا۔ 8 جنوری 1956ء میں آئین کا ڈرافٹ اسمبلی میں پیش کیا گیا، جسے کچھ تبدیلیوں اور ترامیم کے بعد 29 فروری 1956ء کو منظور کر لیا گیا۔ 2 مارچ 1956ء کو آئین کا بل گورنر جنرل کی منظوری کے لیے بھیجا گیا، جسے 23 مارچ 1956ء کو نافذ کر دیا گیا۔ یہ دوسرا آئین نفاذ کی محض ڈھائی بہاریں دیکھ سکا تھا کہ 7 اکتوبر 1958ء کی ایک رات کے نصف پہر میجر جنرل اسکندر مرزا نے مارشل لاء لگا دیااور آئین منسوخ کردیا۔ بعد ازاں جنرل ایوب نے اسکندر مرزا کو معزول کر کے ملک سے باہر بھیج دیا اور اقتدار خود سنبھال لیا۔ مرکزی اورصوبائی کابینہ برطرف اور قومی اور صوبائی مقننّہ تحلیل کردی گئیں اور ساتھ ہی تمام سیاسی جماعتوں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

اس ملک کے بنانے والے اس کو کیسا دیکھنا چاہتے تھے اور انہوں نے کس طرح اس ملک کو چلایا اس کا اندازہ آپ کو ان چند واقعات سے ہو جائے گا۔ قائداعظم کے اے ڈی سی میجر جنرل گل حسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایک دن قائداعظم گورنر جنرل ہاؤس سے ملیر کی طرف جارہے تھے، راستے میں ریلوے کا پھاٹک بند ملا۔ گاڑی آنے میں چند منٹ باقی تھے۔ گل حسن نے پھاٹک کھلوایا مگر قائداعظم نے آگے جانے سے انکار کردیا اور کہا گل اگر میں قانون توڑوں گا تو میری قوم قانون پر عمل کیسے کرے گی؟۔ 1945-46ء کے انتخابات میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے پارٹی ٹکٹوں کے معاملے میں قائداعظم سے صوبائی پارلیمانی بورڈ سے سفارش کی درخواست کی۔ قائداعظم نے مسلم لیگ کے دستور کے مطابق مداخلت سے انکار کردیا اور مولانا عثمانی سے کہا کہ اگرکسی کی حق تلفی ہو تو وہ مرکزی پارلیمانی بورڈ میں اپیل کریں۔ قیام پاکستان کے بعد گورنر جنرل کے طیارے کا آرڈر دیا گیا۔ طیارہ ساز کمپنی نے پرواز کے دوران سرکاری کام کے لیے کچھ اضافی لوازمات تجویز کیے۔ گورنر جنرل نے ان اضافی اخراجات کی منظوری دے دی۔ وزارت خزانہ نے فائل پر نوٹ لکھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہیں۔ گورنر جنرل قوم کے باپ ہیں، وزارت خزانہ ان کے طیارے کے لیے انتظام کرے گی البتہ اضافی اخراجات کے لیے وزارت خزانہ کی منظوری ضروری تھی جو نہیں لی گئی، قائداعظم نے وزیر خزانہ غلام محمد کے نوٹ سے اتفاق کیا اور اپنی غلطی تسلیم کرکے اضافی اخراجات کا آرڈر منسوخ کردیا۔

جنوری 1948ء میں کراچی میں فسادات ہوئے، اس موقع پر چند صوبائی وزیروں نے کرفیو توڑتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی۔ فوج نے وزیروں کو حراست میں لے لیا۔ یہ مسئلہ گورنر جنرل کے پاس پہنچا۔ صوبائی وزیروں نے موقف اختیار کیا کہ وہ امن و امان قائم کرنے کے لیے صوبائی انتظامیہ کی معاونت کررہے تھے۔ کراچی کے جنرل اکبر نے کہا کہ امن و امان کا قیام ان کی ذمے داری ہے، قانون کے مطابق وزراء مداخلت نہیں کرسکتے۔ قائداعظم نے جنرل اکبر کی رائے سے اتفاق کیا۔ وزراء کو قانون کا پابند بنانے کے لیے ان سے معافی نامہ تحریر کرایا البتہ سیاسی نمائندوں کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے قائداعظم نے جنرل اکبر کو ہدایت کی کہ وہ وزیروں سے ہاتھ ملائیں اور ان کو کار تک چھوڑ کر آئیں۔

اداروں کے مابین اختیارات کی جو جنگ پچھلے ستّر سالوں سے چل رہی تھی پچھلے کچھ مہینوں سے اس میں شدت آ گئی ہے، میرے خیال میں اب یہ کھیل فائنل راؤنڈ میں داخل ہو چکا ہے، نواز شریف اب آخری حد تک جائیں گے اور اختیارات کسی ایک ادارے کے ہاتھ میں آ جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اختیارات اصل حقدار ادارے کی طرف منتقل ہوتے ہیں یا ہمیں ایک بار پھر ماضی کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com