’کلیریکل‘ نہیں ’’اعتماد‘‘ کی غلطی! - حامد کمال الدین

’’انتخابی امیدوار فارم‘‘ میں ’’ختم نبوت‘‘ ایشو کے حوالہ سے جو بظاہر ایک غیر محسوس ترمیم ہوئی، اس بات کا قوی امکان ہے کہ وقت پر اس کی نہ تو نواز شریف صاحب کو خبر ہوئی ہو اور نہ پارٹی کے کسی اور سینئر شخص کو۔ خبر سے زیادہ، ادراک ہی نہ ہوا ہو۔ کسی ذہین شخص نے یہ کام کیا اور بس وہ ہو گیا، یہ بات بعید از قیاس نہیں۔ ان سیاستدان حضرات کا احترام مسلّم، مگر میں تو یہ امکان بھی رد نہیں کرتا کہ ایسی دقیق باتیں انہیں اچھی خاصی سمجھائے بغیر سمجھ تک نہ آ سکیں اور سرسری دیکھنے میں تو یہ سب کچھ اوپر سے گزر جائے۔ اپنے اسلام پسند سیاستدانوں کا بھی، چند کو چھوڑ کر، یہی حال ہے۔ پڑھا انہوں نے ضرور ہو گا، مگر یہ دُوررَس مضمرات کی باتیں ذہن میں آئے بغیر رہ جائیں، بالکل ممکن ہے، جو کہ اب تسلیم بھی ہو رہا ہے۔ صرف ایک مولانا فضل الرحمٰن کی کیا بات، جناب سراج الحق کو اگر موقع پر یہ ادراک ہوتا کہ یہ کوئی ایسی اہم گھنڈی ہے اور اُس سوشل میڈیا شور کو جو بعد ازاں نظر آیا عین اُسی وقت اٹھا دینے کی ایک زبردست بنیاد بھی، تو کیا وہ اس ووٹنگ کے وقت ایوان سے غیر حاضر رہنا گوارا کرتے؟ کونسی مصروفیت اِس اہم بات سے بڑھ کر ہو سکتی تھی؟ پس اِن دینی و مذہبی قیادتوں کی بابت تو یقینی ہے کہ یہ لفظی تبدیلی اگر ان کے اندازے میں ہوتی تو اپنی حد تک یہ کبھی اس کو پاس نہ ہونے دیتیں۔ البتہ اُن غیر مذہبی جماعتوں کی بابت بھی قوی امکان ہے کہ خود اُنہیں اِس بظاہر ہلکی سی لفظی تبدیلی کا اندازہ نہ ہوا ہو، اور بل تھا کہ پاس ہو گیا۔ اور انسان بہرحال سہو، نسیان اور غفلت سے مبرا نہیں۔ واضح رہے، ہم صرف امکان کی بات کر رہے ہیں۔

تو پھر غلطی کہاں ہے؟ سہو، نسیان یا غفلت تو شاید اتنا بڑا جرم نہیں، لیکن ایسا بہرحال نہیں کہ یہاں کسی نے کوئی جرم کیا ہی نہیں اور قوم کے ساتھ یہ ہاتھ ہو گیا! اس کا اب کچھ ازالہ ہونے جا رہا ہے، ایک الگ بات ہے، اور بےشک خوش آئند ہے، جس کا اصل سہرا ان لوگوں کے سر ہے جنہوں نے تاخیر سے سہی مگر خوب شور اٹھایا اور پہلے دن تو بڑے بڑے نیک لوگوں سے اس پر کوسنے سنے۔ مگر جو ہوا وہ کیسے ہوا اور آئندہ بھی میرے نزدیک تو ایسے اور اس سے زیادہ دُوررَس سنگینی کے واقعات یہاں پل پل ہونے کا اندیشہ ہے، یہاں ہماری گفتگو اِس حوالہ سے ہے۔

جواب بہت آسان ہے۔ سیاستدان خود تو بلاشبہ مصروف ہی ہوتا ہے؛ ایسے امور میں وہ نہ تو ایک ایک بات پر توجہ دے سکتا ہے اور نہ اشیاء کی باریکیوں میں جا سکتا ہے۔ مگر وہ ان کے عواقب consequences سے خبردار بہرحال ہوتا ہے اور ان کےلیے ذمہ دار بھی۔ کیسے؟ وہ دراصل ان معاملات میں صرف اپنا ایک رخ متعین کرتا اور اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی ایک ٹیم بناتا ہے؛ آگے اشیاء کو خودبخود اُس رخ پر چلنا ہوتا ہے۔ (ہمارے سلف اس کو ’’بِطانۃ‘‘ کہتے تھے يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ کے تحت، اور اُمرائے وقت کو اُن کے اِسی ’’بطانۃ‘‘ کی روشنی میں جانچ لیا کرتے تھے)۔ پس اصل بات ایک سیاستدان کا عمومی رخ ہے۔ اس کا اندازہ کرنا ہو تو بس یہ دیکھ لیجئے کہ کس قسم کے بابو اُس کے معتمد ہیں اور کس بھانت کے اصحابِ دانش اُس کے منظورِ نظر۔ بدقسمتی سے ہم اہل سنت کا یہاں کوئی تھنک ٹینک نہیں جو ان بااثر سیاستدانوں کے مقرب بیوروکریٹوں اور ان کے معتمد دانشوروں کا پورا مالہٗ و ماعلیہ قوم کے سامنے پیش کرنے کےلیے دستیاب رکھے۔ اگر یہ ہو تو اس کی روشنی میں بڑے آرام سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ ایک سیاستدان کے ہاں سے کیسی اشیاء برآمد ہونے کا امکان ہے، اسلام دوست یا اسلام دشمن؟ ’لغزش‘ کا معاملہ بہت بعد کا ہے۔ پس اگر اس ’’معتمدین‘‘ والی پوشیدہ دَرزوں میں نجم سیٹھی اور عاصمہ جہانگیر وغیرہ کا کنبہ قبیلہ بیٹھا ہو تو اسے سہو اور نسیان کا نام دینا فی الواقع ان الفاظ کا مذاق ہو گا۔ تب ہر ایسے قانونی ڈرافٹ یا انتظامی پراجیکٹ میں ان گنت پوشیدہ ایجنڈے کام کر رہے ہوں گے۔ کچھ آپ کی ’برہنہ آنکھ‘ سے پکڑے جائیں گے اور بےشمار پکڑے جانے سے رہ جائیں گے۔ جبکہ ہم ماشاء اللہ وقت گزرنے کے بعد شور مچانے اور ایمانی حمیت دکھانے والی قوم! اندازہ تو کریں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا تھنک ٹینک ہم اسلامی سیکٹر کے پاس نہیں جو ہواؤں کا رخ یہاں ان کے چلنے سے پہلے بھانپ لیا کرے اور خود ہمارے مذہبی حضرات کو ان کی گوناگوں مصروفیات میں کچھ ممکنہ حادثات سے پیشگی خبردار کر دیا کرے۔ نیز یہاں کے ہر مخلص طبقے کو اس کے متعلقہ امور اور سفارشات بروقت پیش کر دیا کرے، کہ اور نہیں کم از کم اتمامِ حجت تو ہو۔ علاوہ کچھ دیگر اہداف جو ایسے کسی تھنک ٹینک سے اسلامی سیکٹر کو حاصل کرنا تھے۔

اس لحاظ سے، جس کسی نے اس کو ’کلیریکل غلطی‘ کہا شاید کچھ ایسا غلط نہیں کہا، اس معنیٰ میں کہ یہ بہت سارا معاملہ ہے ہی ’کلرکوں‘ کے ساتھ متعلق! صاحب یہ بابو جو اپنے روزمرہ امور کی انجام دہی کےلیے آپ نے رکھے ہیں وہ چہار اطراف کی خبر رکھتے اور بڑے دور دور کے کام کرتے ہیں؛ اور ان کی یہ قابلیت ہی انہیں آپ کے پاس لائی ہے؛ اتنے سادہ اب آپ مت بنیے! ایسی ’غلطیاں‘ اگر پکڑی جائیں تو معذرت، چل جائیں تو فبھا! واضح نظر آتا ہے، یہاں کے سٹرٹیجک امور کا پورا ٹھیکہ ہی بابوؤں اور دانشوروں کی ایک مخصوص لابی کو اٹھوا رکھا گیا ہے؛ اور اگر کچھ باخبر ذرائع کبھی ان کی حقیقت سے پردہ اٹھائیں تو یقیناً آپ عجب العجاب دیکھیں۔ ابھی تعلیم کے شعبے میں جائیں تو آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے؛ ایسی ایسی ’کلیریکل غلطیاں‘! ان کارندوں سے تو ایسی بھیانک اشیاء برآمد نہ ہوں تو آپ تعجب کیجئے! ایک عرصے سے یہی ہوتا آ رہا ہے۔ کم ہی کوئی آئینی یا قانونی بل ہو گا جس میں معاملہ کے مرکزی مضمون main subject کے ساتھ، خواہ وہ کچھ بھی ہو، سیکولر مفاد کے کچھ ’سرسری امور‘ ملحق نہ ہوں اور ان ’ملحق‘ امور کے اندر بہت سی دُوررَس اشیاء بڑے سلیقے سے گوندھ نہ رکھی گئی ہوں۔ پس آپ (حکمران طبقوں) کا اصل کمال ان کو ’’ہائر‘‘ کرنے میں... اور اُن کا، آپ کے اِس اعتماد پر ’’پورا‘‘ اترنے میں... اور ہمارا، آپ پر اعتماد کرنے اور اُن کے حدودِ اربعہ کی روشنی میں آپ کا ’’چہرہ‘‘ نہ دیکھ پانے میں۔ آہ! اصل دکھ کی بات یہاں اسلامی دانش کی نارسائی اور بےبسی ہے!

(حضرت عمرؓ کی ایک مشہور آہ):

اللّٰهُمُّ أشْكُوْ إلَيْكَ جَلَدَ الفَاجِر وَعَجْزَ الثِّقَة.

’’خدایا تیرے آگے رونا ہے بےدین کی تیزی طراری کا، اور دیندار کے از کار رفتہ ہونے کا‘‘۔

پس جو اصل سوال یہاں مجھے اٹھانا ہے وہ یہ کہ ان سیاستدانوں کا وہ مجموعی ’لبرل نواز‘ رخ ان کے اسلامی اتحادیوں پر مخفی کیوں ہے؟ کسی ایک بات کی چلیے کوئی توجیہ کی جا سکتی ہے۔ کسی ایک واقعے کی چلیے کوئی تاویل ہو سکتی ہے۔ مگر وہ مجموعی ہوائیں جن سے ملک پر دھاوا بول چکی لبرل یلغار کی پزیرائی میں ان موقع پرست سیاستدانوں کی مددگار پوزیشن صاف نظر آ رہی ہے، وہ بھلا کس پر اوجھل ہیں؟ لبرلزم کا یہ ہوش ربا پھیلاؤ یا تو یہاں کا واقعہ نہیں ہے اور یہ محض ہمارا وہم ہے کہ لبرل سیلاب یہاں کے سب تہذیبی بند توڑتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن اگر ہے تو اس کی سہولت کاری کیا یہاں جنات اور غیبی مخلوقات کے ہاتھوں انجام پا رہی ہے؟ اسلامی تہذیب کا جو خون یہاں بےرحمی سے ہو رہا ہے، وہ ہر اسلامی ‘’نقشِ کہن‘‘ جو یہاں بےدردی سے مٹایا جا رہا ہے، وہ ’میڈیا ریولیوشن‘ جو یہاں کے سب ثقافتی خد و خال مٹا چکا اور جس کے کارن اَسّی کی دَہائی کا پاکستان آج آپ کو ’بلیک اینڈ وائٹ‘ دور کی کوئی بھولی بسری مووی دکھائی دینے لگا ہے... آخر کوئی تو ہے جس کے ہاتھ پر، انتظامی حوالہ سے، یہ اسلامی تہذیب کا خون تلاش کیا جائے!؟ کیا ایسی فیاضی؟! سیاسی فائدہ دینے کا آخر کوئی تو مول اپنے اسلامی تہذیبی ایجنڈا کےلیے ان سیاستدانوں سے وصول کیا جائے!؟ اب یہاں میری بات کسی ایک واقعے یا کسی ایک سانحے سے متعلق نہیں۔ وہ مجموعی ہوائیں جو یہاں لبرلزم کے رخ پر چل رہی ہیں، آخر کسی کو تو ملک میں اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا!؟ چلیے، اس کے باوجود لبرلزم کی سہولت کار کسی قیادت کے ساتھ اگر کوئی تعاون آپ کی نظر میں ضروری ہے تو کچھ شروط بھی تو ایسے کسی تعاون کے حوالے سے اپنے اِس تہذیبی معرکہ میں اس پر رکھی جائیں!؟ اعتماد اس پر کیسا؟؟؟ وہ اگر فی الوقع لبرل یلغار کی ملک میں سرپرستی فرما رہی ہے، خواہ خوشی سے اور خواہ کسی ’حکمت‘ کے تحت، اور لبرل اس کی پیٹھ تھپکتے بلکہ اس کےلیے تڑپتے دیکھے بھی جا سکتے ہیں، تو ایسے ٹولے کی تو ایک ایک بات کو شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ حسن ظن ہوتا ہے ان طبقوں سے جن کے مجموعی احوال شریعت کے مطابق ہوں۔ لیکن شریعت کے بخیے جن ہاتھوں سے ادھیڑے جا رہے ہوں ان کے ساتھ خوش گمانی!؟ پھر واضح کردوں، ان دین بیزار سیاستدانوں کی تمام تر لبرل نوازی کے باوجود میرا اعتراض اس بات پر نہیں کہ سرے سے ان کے ساتھ تعاون کیوں کیا جا رہا ہے۔ آپ اسلام پسند پارٹیوں کی کوئی سیاسی حکمت عملی بلاشبہ اس بات کی متقاضی ہو سکتی ہے کہ ایسے سیاستدانوں کے ساتھ بھی کسی وقت کچھ لے دے کر لیا جائے۔ سیاست میں بہرحال ایسے لین دین کی نوبت آئی رہتی ہے، جس پر اصولاً کوئی جھگڑا نہیں۔ لیکن اس کےلیے کوئی معادلہ rate of exchange بھی تو ہو! کیا اسلامی ووٹر کو اوپر کی مارکیٹ میں نرا ’ہدیہ‘ نہیں کیا جا رہا؟ کچھ تو مول ہو اس بیچارے کا!

میں معذرت خواہ ہوں، سیاست میں اگر آپ ایک اسلامی نعرے کے ساتھ اتری ہوئی جماعت ہیں تو اسلام کو درپیش اس معرکہ کے حوالہ سے، جو اِس ملک کا سب کچھ تہ و بالا کیے دے رہا ہے، آپ کی پوزیشن بہرحال زیر بحث آئے گی۔ صرف آپ کا ’مؤقف‘ نہیں آپ کی باقاعدہ ’’پوزیشن‘‘۔ ہاں وہ طبقے جو ہیں تو اسلام پسند اور دین سے مخلص، لیکن کسی باقاعدہ اسلامی نام اور نعرے کے ساتھ وہ سیاست میں نہیں اترے، خواہ اس کی کچھ بھی وجوہات اور پس منظر ہوں، تو اسلامی ایجنڈا کی مدد و نصرت کے حوالے سے حالیہ صورتحال میں ان کے ساتھ البتہ ایک مختلف اپروچ اختیار کی جائے گی، جوکہ ہماری آئندہ تحریر کا موضوع ہے۔


تحریر کا رخ چونکہ بظاہر ایک ہی غیر مذہبی سیاسی جماعت کی طرف ہے، جس کے پس منظر میں قادیانیت کے حوالہ سے ملک میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ہے، اور جوکہ ظاہر ہے ایک ہی پارٹی کے ہاتھوں پیش آیا ہے، لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنے دو ٹویٹ بھی یہاں دے دیے جائیں، تاکہ معاملے کا پورا زاویہ perspective سامنے آ جائے:

1۔ خاطر جمع رکھیے۔ ختمِ نبوت سے متعلق حالیہ ایشو پر عمران خان صاحب خاموشی کی زبان میں اپنا پورا موقف دے چکے۔ یہ صرف ناسمجھ ہیں جو ان کا ’مؤقف‘ جاننے کے ابھی خواہشمند ہیں!
2۔ سچ فرمایا ہمارے ایک دوست نے: نواز شریف قادیانیت والے مسئلے پر وقتاً فوقتاً عالمی اسٹیبلشمنٹ کو اتنے ’اچھے‘ جیسچر gesture دے چکے ہیں۔ عمران خان کیا چپ بھی رہ کر نہ دکھائیں!؟ کیا چھوڑا ہے میاں صاحب نے خان صاحب کے لیے اِس مسئلہ پر؛ باہر دکھانے کےلیے!؟

Comments

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.