کیا مسلمانوں کے عروج کا دوبارہ امکان ہے؟ - پروفیسر جمیل چودھری

جب مسلم نوجوان اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو انہیں اپنا سنہری زمانہ یاد آتا ہے۔ اسلام بہت تیزی سے دنیا میں پھیلا تھا۔ اس وقت کی دونوں سپرپاورز کو پہلی صدی ہجری میں ہی تباہ و برباد کردیاگیاتھا۔ مسلمان جس طرف گئے، فتح ونصرت نے ان کے قدم چومے۔

تھمتانہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا

قرآن کے پیغام اور محمد عربی کی تربیت نے ابتدائی مسلمانوں میں بجلیاں سی بھر دی تھیں۔ ہزاروں کے لشکر لاکھوں پر غالب آگئے تھے۔ معلوم دنیا کا بہت بڑا حصہ چند صدیوں میں ہی مسلمانوں کے زیر نگیں آچکا تھا۔ خدا کی واضح نصرت مسلمانوں کے ساتھ نظر آتی تھی۔ دنیا کو اب قسطنطنیہ اور اصفہان کی بجائے دمشق اور بغداد سے کنٹرول کیا جارہاتھا۔ مسلمانوں نے عروج کی ان صدیوں میں صرف علاقے ہی فتح نہ کیے تھے۔ بلکہ مادّی علوم سماجی علوم اور ٹیکنالوجی میں بھی بہت کام کیاتھا۔ تب مدرسہ نظامیہ بغداد، مستنصریہ یونیورسٹی بغداد، زیتونیہ یونیورسٹی تیونس، یونیورسٹی آف القرویین مراکش، الازہر یونیورسٹی قاہرہ اوراصفہان کے تعلیمی اداروں کی وہی حیثیت تھی جیسی آج کیمبرج، آکسفورڈ، ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کی ہے۔ غرناطہ اور قرطبہ کے تعلیمی ادارے بھی تب یورپ بھر میں معروف تھے۔

مسلمانوں کی سائنسی دریافتوں اور ترقی کو یورپی سکالر کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ معروف مورخ اور فلاسفر Will Durant نے ایک جگہ لکھا کہ صلیبی جنگیں تومسلمانوں نے جیتیں، وہ جیت کر بھی زندگی میں آگے نہیں بڑھے لیکن یورپی اقوام نے تعلیمی روایات مسلمانوں سے حاصل کیں۔ انہیں مضبوطی سے پکڑا اور آگے سے آگے بڑھتے رہے اور اب آکر انسان حیران ہے کہ مغرب نے کیا سے کیابنادیا اور اب مغرب کے سائنسدانوں کا رخ کائنات کے دوسرے سیاروں کی طرف ہے۔

1258ء وہ سال تھا جب تاتاریوں نے بغداد کوتباہ کیا۔ عباسی خلافت گل سٹر گئی تھی، اس نے ختم ہی ہوناتھا۔ افریقہ کا مسلم شمال تاتاریوں کے ہاتھوں سے بچ گیاتھا۔ پھر کچھ عرصہ بعد یہی تاتاری مسلمان ہونا شروع ہوئے۔ اس موقع پر کیاگیاتھا۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانوں سے

پھرکرۂ ارض کی تاریخ کا اہم ترین سال1492ء آگیا۔ سپین کی تمام مسلم سلطنتیں ایک ایک کرکے ختم ہورہی تھیں۔ غرناطہ کے آخری مسلم حکمران عیسائی بادشاہ فرڈ یننڈ اور ملکہ ازابیلا کو شہر کی چابیاں پیش کررہے تھے۔ مسلم حکمران کو روتے ہوئے دیکھ کر اس کی والدہ نے اسے یاد دلایا۔ جب زندگی بھر آپ نے مسلمانوں کوطاقتور بنانے کے لیے کچھ کیا ہی نہیں، تو اب رونے کا کیافائدہ ؟ مسلمانوں کے لٹے پھٹے قافلے جب سپین سے افریقہ کی طرف بھاگ رہے تھے، عین انہی سالوں میں عثمانی ترک چاروں طرف اسلام کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ اسلام کا سورج اگر ایک طرف ڈوب رہاتھا تو دوسری طرف طلوع بھی ہورہاتھا۔ عثمانیوں کا روب ودبدبہ کئی صدیوں تک دنیا پر قائم رہا۔ یورپ جب سائنس اور صنعت میں طاقتور ہوگیا تو اس نے مشرق کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ 1818ء تک اکثر مسلمان ملک یورپی قوموں کے غلام بن چکے تھے۔

1492ء سال کو دنیا کے مورخین بہت اہمیت دیتے ہیں، بڑے ہی اہم واقعات اس سال شروع ہوئے تھے۔ ایک کتاب ایسی ہے کہ اس کا نام ہی 1492ء ہے۔ اسی سال پرتگال کا رہائشی کرسٹو فر کولمبس کشتیوں کا ایک بیڑا لیکر لمبے بحری سفر پر روانہ ہوا۔ وہ اپنی تیسری مہم میں "نئی دنیا"دریافت کرنے میں کامیاب ہوگیاتھا۔ اگلی تین صدیوں میں پوری عیسائی یورپی دنیا براعظم شمالی امریکہ، براعظم جنوبی امریکہ اور بڑے ملک آسٹریلیا پر قبضہ کر چکی تھی۔

اگر کرۂ ارض کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ ایک "انوکھا "واقعہ تھا۔ پوری نئی دنیا ایک ہی مذہب والوں کے قبضے میں آگئی تھی۔ عیسائیت یورپ کے چھوٹے سے علاقہ سے نکلی اور نئے دریافت شدہ تمام براعظموں اور جزائر پر چھا گئی۔ روسی فیڈریشن میں بھی آرتھو ڈکس عیسائی ہیں جو سائبیریا سے آگے بحرالکاہل تک چھائے ہوئے ہیں۔ الاسکا کی ریاست جو بحرالکاہل کے دوسری طرف ہے، بعد میں امریکہ نے اسے روس سے خرید لیاتھا۔ اگر مختلف مذاہب کے رنگوں پرمشتمل کرۂ ارض کا نقشہ دیکھا جائے تو ہرطرف عیسائیت ہی چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔ افریقہ کا نصف جنوب بھی عیسائی ہی ہے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کو خوف دلانے یا ڈرانے کے لیے نہیں بتائی جارہی بلکہ معروضی صورت حال کی وضاحت کی جارہی ہے۔ کسی بھی اس وقت کے مسلم حکمران کویہ یاد نہیں آیا کہ نئی دنیا کی دریافت میں وہ بھی کوئی حصہ لیتے۔ نئے براعظموں میں کوئی چھوٹا بڑا علاقہ مسلمانوں کے بھی قبضے میں آتا لیکن اس وقت کے مسلم حکمرانوں کے پاس صرف اپنے "حرم "کے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ کوئی اور کام تھاہی نہیں، جو صورت حال بتائی گئی ہے کیا اس میں کوئی امکان نظر آتا ہے مسلمانوں کے عروج کا؟

مسلمانوں کے عروج کے راستے میں دو بڑی رکاوٹیں اور وہ بھی کوہ ہمالیہ جیسی اونچی۔ اب تمام مسلم ممالک یورپی استعمار سے توآزاد ہوگئے تھے لیکن کمزور ہونے کی بنا پر امریکہ نے انہیں پھر آن گھیرا ہے۔ افغانستان اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ہے۔ عراق کی لائبریریوں کی کتابیں اور مخطوطے 2003ء میں سڑکوں پر اسی طرح ضائع ہورہے تھے جیسے1258ء میں دریائے دجلہ میں بہا دینے سے ہوئے تھے۔ تب تاتاری جاہل تھے اور اب پڑھے لکھے امریکی جہالت کا کام کررہے تھے۔ شام بھی تباہ ہوچکا ہے، اس کے دوبارہ ایک ملک بننے کا کوئی دور دور بھی امکان نہ ہے۔ عراق تین حصوں میں واقعی تقسیم ہوچکا ہے۔ مسلمان عروج حاصل کریں تو کیسے؟ حالات انتہائی گھمبیر ہیں مسلمان چار بڑے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ اخلاق واعمال کے لحاظ سے مسلمان زوال کی گہرائیوں میں ہیں۔ مسلم تہذیب کو اگر دیکھا جائے تو ان میں بہت سی بیماریاں پیداہو چکی ہیں۔ ہر پہلو سے وہ ایک کرپٹ قوم شمارہوتے ہیں۔ میں کرپشن کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال کررہا ہوں۔ وعدہ خلافی، جھوٹ، امانت میں خیانت اور ناپ تول میں ہیرا پھیری ان کی گھٹی میں ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا کہ وہ اپنی ریاست سے بھی وفادار نہیں ہوتے۔ مسلمانوں کے اردگرد کی دنیا میں فحش کاری کا سیلاب ہے اور اب یہ سیلاب مسلم علاقوں میں داخل ہوچکا ہے۔ مسلم تہذیب کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ ہم اس کرۂ ارض پر اسی وقت اوپر اٹھ سکتے ہیں جب ہم اپنی اسلامی تہذیب میں دیے ہوئے اصولوں اور اخلاقیات کو اپنے اوپر لاگو کریں گے۔ لوگ اکثر مجھ سے کہتے رہتے ہیں کہ فحش کاری نے مغرب کی ترقی کے راستے میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ یہ ہمارے راستے میں کیسے رکاوٹ ڈال سکتی ہے؟ میں انہیں بتاتا ہوں کہ ان کی تہذیب ان کے لیے ہے، ہماری ترقی صرف اور صرف اپنے اصولوں اور اخلاقیات سے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

ہم دوسروں کی نقل سے نہیں بلکہ اپنی سوجھ بوجھ اور قوت سے آگے بڑھیں گے تو بات بنے گی۔ ہمارا یہEdgeہے کہ ہم نے اپنے خاندانی نظام کو بچایا ہوا ہے۔ یہ ہمارے لیے بڑی ڈھال ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے مطابق اعمال کا نتیجہ صرف آخرت کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس کے نتائج اس دنیا اور آخرت دونوں کے لیے ہوتے ہیں۔ اللہ نے برے اعمال کے نتیجہ میں ماضی میں قوموں کو تباہ وبرباد بھی کیا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم غرق ہوگئی تھی۔ یہ مکافات عمل ہی تھا۔ طوفان نوح میں چند لوگوں کے علاوہ وہاں کی تمام قوم تباہ کردی گئی۔ لوط کی قوم، عاد اور ثمود کی قوموں پر اگر عذاب آیا تھاتو ان کے اسی دنیا کے اعمال کی وجہ سے آیا تھا۔ مسلمانوں کو بھی اپنے اندر تمام برائیاں ختم کرکے اپنی صلاحیتوں کو صرف مثبت کاموں میں لگانا چاہیے۔

اگر ہم نے عروج کی طرف سفرکرنا ہے تو اپنی موجودہ پوزیشن کو مستحکم اورمتحد کرنا ہوگا۔ مشرق وسطی کی شیعہ اور سنی لڑائیاں پوری مسلم امہ کو تقسیم کرنے کی طرف معاون ثابت ہورہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کو اپنی پالیسیوں پر غورکرنا چاہیے۔ عراق، شام اور یمن میں خونریزی بند ہونا ضروری ہے۔ اگریہ جاری رہتی ہے تومغرب یا عیسائی دنیاکو مسلم تہذیب کو ختم کرنے کے لیے خود کچھ نہ کرنا پڑے گا۔ عیسائی دنیا میں اس دور میں کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہ ہے۔ یہ تمام ممالک اپنے لوگوں کی خوشحالی کے لیے بڑے سکون سے اپنی معیشتوں کو ترقی دے رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ لڑائیاں ہمارے عروج کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہیں جیسے کہ میں نے پہلے ذکر کیا مغرب اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی کی قوت کی بنا پر بڑے اونچے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے ڈرون اڑتے تو افغانستان سے ہیں لیکن ریموٹ سے یہ تمام کیلی فورنیا امریکہ سے کنٹرول کیے جارہے ہوتے ہیں۔ آپ نے ان کا نشانہ چوکتے نہیں دیکھا ہوگا۔ کوئی گاڑی ہویا گھر تباہی یقینی ہوتی ہے۔ اس قوت قاہرہ کے سامنے ہم صرف اسی وقت کھڑے ہوسکتے ہیں جب ہم بھی سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھیں۔ ان کے اسلحہ جات اتنے ماثر ہیں کہ آپ نے 3 ماہ پہلے ٹرمپ کے دورہ کے وقت عربوں کو بے شمار اسلحہ خریدتے دیکھا ہوگا۔ پاکستان اور ترکی جیسے ملک بھی اسی امریکی اسلحہ کے خریدار ہیں۔

ہر شعبہ زندگی میں نئے نئے طریقے نئی سے نئی ٹیکنالوجیز استعمال کرنا مغرب میں ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اب مغرب نینو ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں آگیا ہے اور انٹرنیٹ نے تو دنیا میں انقلاب پیداکردیا ہے۔ ہر نیا طریقہ اور ٹیکنالوجی مغرب میں ہی پیدا ہورہا ہے۔ چین اور باقی ماندہ مشرق اسے صرف نقل کرتے ہیں۔ معلومات تک رسائی اور تبادلہ اب بہت تیز ہوگیا ہے۔ آخری اعدادوشمار کے مطابق عیسائیوں کی تعداد 2 ارب 40کروڑ اور مسلمانوں کی تعداد1 ارب60کروڑ ہے لیکن عیسائیوں کے پاس کرۂ ارض کا دو تہائی حصہ آگیاہے، جس میں تمام کی تمام آبادیاں عیسائی ہیں۔ مسلمان کرۂ ارض کے ایک بہت ہی چھوٹے حصے پر قابض ہیں، نقشے سے یہ بات واضح ہوتی ہے ۔ کرۂ ارض کے اس نئے حصے تک صرف اور صرف دعوت وتبلیغ کے ذریعے اسلام کی آواز پہنچائی جاسکتی ہے۔ امریکہ کے دونوں براعظموں میں دعوت و تبلیغ کے بڑے بڑے پروگرام مرتب کیے جائیں۔ مقامی آبادیوں کو اسلام کی طرف لانے کے لیے ماثر تبلیغی پلاننگ کی جائے۔ اس نئی دنیا میں کچھ تو حصہ مسلمانوں کاہو۔ ہماری تبلیغی جماعت ہویا جماعت اسلامی یا عربوں کی اخوان المسلمون انہوں نے اب تک دنیا میں کافی کام کیا ہے۔ شمالی امریکہ میں آباد مسلم آبادیوں نے بھی قرآن کے پیغام کو ترجموں کے ذریعے کافی آگے بڑھایا ہے۔ تمام تنظیموں اور اداروں کو اس کام میں توسیع کرنی چاہیے۔ اس نئی دنیا تک مسلمان طاقت کے ذریعے تو نہیں پہنچ سکتے اسلام کا پیغام حیات صرف دعوت وتبلیغ سے ہی پہنچایاجاسکتا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں کے عروج اور کرۂ ارض پر پہلے کی طرح دوبارہ چھا جانے کے راستے میں کتنی بڑی بڑی رکاوٹیں ہیں لیکن ہمت وحوصلہ، ارادہ اور جرات کے سامنے یہ رکاوٹیں دوربھی ہوسکتی ہیں۔ مسلمانوں کا دوبارہ عروج ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ مستقبل قریب کی بجائے دورتک کے بارے سوچا جائے۔ ہمت مرداں، مدد خدا!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */