جب زمین لرز اٹھی! - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اوائل ِ اکتوبر کی بات ہے، شعبان کی آخری تاریخیں تھیں، جب اس کی اسسٹنٹ نے متوجہ کیا کہ رمضان میں صبح قرآن کلاس نہ رکھ لیں؟ یوں بھی بسیں آٹھ سوا آٹھ تک پہنچ جاتی ہیں اور عملاً کام نو بجے کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ اسے ایسا لگا جیسے اسسٹنٹ نے اس کے دل کی بات کہہ دی ہے۔ ہر برس کی طرح وہ ایسا ہی پلان بنا رہی تھی۔ اس کے اقرار کے بعد فوراً ہی اکیڈمک آفیسر کے کمرے کے باہر رمضان میں ہر صبح قرآن کلاس کا دعوتی نوٹس لگا دیا گیا۔ ایک نسبتاً بڑے کلاس روم کا انتخاب کیا گیا، جو مریم بلاک کے شروع ہی میں تھا اور پہلے گھنٹے میں فارغ بھی تھا۔

یکم رمضان کو کلاس میں حاضری مناسب تھی، لیکن دو رمضان کو یہ تعداد کافی بڑھ گئی۔ ملازم خواتین کے علاوہ طالبات کی کافی تعداد بھی موجود تھی۔ رمضان میں دلوں کی نرمی قرآن کی جانب متوجہ کر دیتی ہے، میڈم نے درس دیتے ہوئے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہ حیران ہو گئیں۔ آج تو ڈائریکٹر کیمپس بھی موجود تھیں۔ وہ بیٹھی نہیں، کھڑے کھڑے سنتی رہیں۔ اسے ان کے چہرے پر کچھ اضطراب بھی محسوس ہوا۔ چند ثانیے بعد وہ کمرے سے چلی گئیں۔ اپنے آفس میں واپس داخل ہوئی ہی تھیں کہ وہ بھی آن پہنچیں۔ انہیں رمضان کی مبارک دی، چند رسمی کلمات کے بعد جلد ہی اپنے مطلب پر آگئیں:۔

’’آپ نے درس کا سلسلہ کس کی اجازت سے شروع کیا ہے؟ ‘‘ لب و لہجہ درشت تھا۔ وہ انیسویں گریڈ کی افسر تھیں، چاہتیں تو مقابلے پر آجاتیں لیکن یہ انداز بات سمجھانے کے لیے مناسب نہیں۔ اس لیے مختصر انداز میں بتایا کہ

"صدر صاحب نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ انہیں طالبات اور سٹاف کے لیے دروس کے پروگرامات کے لیے کہا ہے اور گزشتہ میٹنگ میں بھی توجہ دلائی تھی کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس مثالی تعلیمی ادارے کا اسلامی تصور کمزور ہو رہا ہے، اس کے لیے وہ اپنا کردار ادا کریں۔"

ڈائریکٹر صاحبہ کا چہرہ کچھ اور تن گیا، "آپ کے پاس اس کا تحریری حکم نامہ موجود ہے؟ "

"جی نہیں، ایسی سرگرمیوں کے لیے حکم نامہ کبھی جاری نہیں ہوا، البتہ ہر سال رمضان المبارک میں صبح کا آغاز قرآن کلاس ہی سے ہوتا ہے، یہ تمام افراد کے لیے لازمی نہیں ہے البتہ جو اس میں شریک ہونا چاہیں ان کے لیے عمومی دعوت ہے۔"

" لیکن اب میں یہاں کی ڈائریکٹر ہوں، اور تحریری حکم نامے کے بغیر کوئی کلاس نہیں ہو گی، ’آئی وانٹ ٹو سی ایوری پرسن آن ہر جاب پلیس،' صبح کے وقت کوئی کام ہے یا نہیں، ہر ورکر اپنی سیٹ پر ہونا چاہیے۔"

وہ پوری رعونت کے ساتھ حکم چلا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھیں۔ کوریڈور سے ان کی بڑبڑاہٹ اور جوتوں کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔ وہ تقریباً پانچ منٹ تک اس کے کمرے میں رہی تھیں۔ 8:50 پر وہاں سے نکلیں اور 8:51 پر وہ بمشکل اپنی ’’کرسی ‘‘ پر بیٹھی ہی تھی کہ کرسی ہلنے لگی، چھت کا پنکھا، دروازے کھڑکیاں سب بجنے لگے، فضا میں زور دار گڑگڑاہٹ تھی، ’’أامنتم مّن فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذا ھی تمور‘‘ "کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے، اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے"۔

یہ کیسی تنبیہہ تھی؟ ہر جانب شور تھا، سب گھبرا کر باہر نکل آئے، اساتذہ، طلبہ و طالبات، ملازمین، سب کی آنکھوں میں خوف تھا۔ سب لا حول ولا قوۃ پڑھ رہے تھے۔ سب اللہ کے جلال اور ہیبت کو محسوس کر رہے تھے۔ اکیڈمک آفیسر ارد گرد کھڑی طالبات کو چند لمحے پہلے کی گفتگو بڑے درد انگیز انداز میں سنا رہی تھیں۔ زلزلے کے جھٹکے ختم ہوتے ہی ڈائریکٹر صاحبہ نے ارد گرد کی خیریت دریافت کی۔ یہاں وہاں جھمگٹے دیکھ کر ان کا انتظامی تحکم پھر لوٹ آیا، ’’چلیے چلیے، اللہ کا شکر ہے، زلزلہ ختم ہو گیا، شاباش چلیے واپس، سٹوڈنٹس کلاس میں چلیے"

وہ ایک کوریڈور سے دوسرے میں سب کو کلاسوں میں بھجوا رہی تھیں، مگر کوئی بھی واپس جانے کو آمادہ نہ تھا۔ چہروں پر خوف کے اثرات ابھی باقی تھے، زبانیں لا حول پکار رہی تھیں۔ اتنے میں ایڈمن آفیسر ڈائریکٹر صاحبہ کے پاس آئے اور انہیں مارگلہ ٹاور کے منہدم ہو جانے کی بریکنگ نیوز سنائی۔ ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ جیو ٹی وی کے ذریعے لوگوں کو عمارتوں سے باہر نکل جانے کو کہا گیا تھا کیونکہ مسلسل آفٹر شاکس آ رہے تھے۔ اگلے چند منٹ کیمپس کو چھوڑ کر گراؤنڈ میں آجانے کے اعلانات ہو رہے تھے۔ ایک ہنگامہ تھا۔ موبائل فون سروس منقطع ہو گئی تھی۔ کبھی کبھی کوئی سگنل ملتا اور گھر والوں سے رابطہ ہوتا۔ خیریت ہے وہاں؟ خیریت ہے یہاں! کی آوازوں کی کثرت تھی۔ سب میدان میں اکٹھے تھے اور اجتماعی استغفار ہو رہا تھا، آنکھیں بہہ رہی تھیں، گلے رندھ رہے تھے۔ رب سے رحمت، امن اور عافیت کی دعائیں تھیں حالانکہ اس وقت تک کسی زخمی اور فوت شدہ کی کوئی اطلاع نہ پہنچی تھی۔

کسی کو معلوم نہ تھا کہ ۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء کے اس زلزلے نے کہاں کہاں کیا آفت ڈھائی ہے؟ کتنے شہر، کتنے گاؤں ملیامیٹ کر دیے ہیں، بالا کوٹ کا شہر صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے، کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس روز آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں سکولوں اور کالجوں میں سو فیصد حاضری تھی کیونکہ وہاں آج پہلا پرچہ تھا۔ یونیورسٹی کے طلبا بھی کلاسوں میں موجود تھے، اساتذہ بھی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ ایمرجنسی کی صورت میں شہری جس ہسپتال کا رخ کرتے ہیں وہ اپنی چھتوں سمیت زمین بوس ہو گیا ہے، جس میں کتنے ہی مسیحا خود جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ کس کو معلوم تھا کہ جب سکولوں کی عمارتوں کا ملبہ اٹھایا گیا تومعلوم ہوا کہ ان کے نیچے سے نئی نسل کے ہونہار کاغذ قلم کے ساتھ ہی اگلی منزل کی جانب سدھار گئے ہیں۔ آزاد کشمیر یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کی بڑی تعداد علم کے سفر پر نکلی تو گھروں کو واپس نہیں آئی۔ سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے کتنے اساتذہ اپنے طلبہ کے ساتھ ہی اگلے سفر پر سدھارے ہیں۔ جہاں پائلٹ سکول کے پرنسپل اپنے سکول کے اتنے بچوں کو ملبے میں دبا پا کر ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گئے ہیں۔ تقریباً نوے فیصد سرکاری عمارتیں بشمول مظفر آباد جیل منہدم ہو گئی ہیں۔ سیکریٹریٹ کی رہائش گاہیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ یہی حال باغ کا ہے اور اس سے کچھ کم راولا کوٹ کا۔ خیبر پختون خوا کے کئی علاقے کھنڈر بن گئے ہیں۔

اگلے کئی دن، کئی ہفتے اور کئی مہینے جنازے دفنانے، زخمیوں کی عیادت، اور بے گھروں کی آباد کاری میں گزر گئے۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور امداد کے ساتھ آزاد کشمیر اور صوبہ پختون خوا کے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے۔ تعمیر کے نئے اور جدید بزعم ِ خود زلزلہ پروف انتظامات اپنائے گئے۔ چند برس قبل مظفر آباد کے سیکرٹریٹ کے علاقے میں نئی بستی میں جانے کا اتفاق ہوا تو حیرت ہوئی کہ اتنے پوش علاقے میں ٹین کی چھتیں ہیں۔ اندر کی دیواریں بھی سیمنٹ کی نہیں۔ صاحب ِ خانہ سے پوچھا تو بولیں، زلزلے کے اثرات سے بچنے کے لیے بہترین ہے۔ گرمیوں میں چھتیں تپ جاتی ہیں، سردی بھی زیادہ اندر آتی ہے، مگر کوئی بات نہیں، جان ہے تو جہان ہے۔

موت تو حقیقت ہے، مگر ناگہانی موت اور کسی بھی آفت سے اللہ محفوظ رکھے۔ یہ تو دنیا کا انتظام ہے، عارضی زندگی کا عارضی انتظام!کیا حقیقی ابدی اور دائمی زندگی کے لیے بھی کوئی تیاری ہے؟

Comments

Avatar

ڈاکٹر میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.