کون سکھائے گا یہ باتیں؟ - محمد عامر خاکوانی

میرا تعلق اس نسل سے ہے، جس کی زندگی میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کا بڑا اہم حصہ رہا ہے۔ پی ٹی وی کے ستّر کے عشرے کے ڈرامے تو ہم نہ دیکھ سکے ۔ اسّی کے عشرے کے وسط سے ٹی وی ڈرامہ دیکھنے کا موقع ملا اور یہ ماننا چاہیے کہ زندگی کی بہت سی خوشیاں اور مسرّت انگیز لمحات ٹی وی کی بدولت ملے۔انکل عرفی، شہ زوری اور وارث، سونا چاندی وغیرہ جب دوبارہ نشر ہوئے ، تب دیکھے اور ان کے سحر سے نکل نہ پائے۔پی ٹی وی کا وہ سنہرا دور تھا۔ پورا گھر شام کو اکٹھا ہو کر ڈرامہ دیکھتا۔گرمیوں میں بڑے اہتمام سے صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کر کے چارپائیاں نکالی جاتیں اور پھرٹی وی سیٹ اٹھا کر باہر لایا جاتا۔ اس زمانے کے بے شمار گھروں کی طرح ہمارے گھر میں بھی رات آٹھ سے نوبجے کا ڈرامہ ایک مشترکہ فیملی انٹرٹینمنٹ تھی۔ خبر نامہ دیکھنے کے بعد والد محترم ٹی وی بند کرنے کا حکم صادر کر دیتے، یہ سو جانے کا اشارہ ہوتا۔ بعد میں پی ٹی وی نے لانگ پلے اور ٹیلی تھیٹر وغیرہ کا سلسلہ شروع کیا تو ہم اندر کمرے میں ٹی وی رکھ کر گرمی اور حبس کے باوجود یہ شاندار ڈرامے دیکھتے۔ کون ہے جو ”فہمیدہ کی کہانی، استانی راحت کی زبانی“جیسا لانگ پلے بھول سکتا ہے؟ اس زمانے کے دل موہ لینے والے ڈراموں کی ایک طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔ اب تو وہ محفل اجڑ چکی، پی ٹی وی عملاً غیر متعلق اور دلچسپی سے عاری چینل بن چکا ہے۔اگربجلی کے بلوں کے ذریعے عوام کی جیبوں سے جبراً چھینے گئے پیسے نہ ملیں تو سرکاری ٹی وی کب کا دم توڑ چکا ہوتا۔

خیر مقصد یہ بتانا تھا کہ شام کو ڈرامہ دیکھنے کی ایسی عادت بنی کہ اب جب کبھی شام کو گھر میں ہوں اور وقت مل جائے تو انٹرٹینمنٹ چینلز دیکھنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں پاکستانی چینلز کے گیم شوز دیکھنے کا اتفاق ہوا، کیبل کی وجہ سے بھارتی چینلز بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں، ان کے پروگرام بھی دیکھے اور لاشعوری طور پر موازنہ بھی کرتا رہا۔ بھارتی چینلز پر بھی بہت سے بیکاراور فضول پروگرام چل رہے ہیں۔ ان کے ڈرامے تو اپنی سست روی اور طوالت کے باعث مذاق بن چکے ہیں۔ بعض پہلو البتہ مختلف اور دلچسپ لگے۔

”کون بنے گا کروڑ پتی“ بھارت کا ایک مشہور ٹی وی کوئز شو ہے۔ یہ کوئز شو سولہ سترہ سال پہلے شروع ہوا اور آج کل اس کا نواں سیزن چل رہا ہے ۔ پہلے سیزن میں سب سے بڑا انعام ایک کروڑ تھا، اس سال یہ رقم سات کروڑ ہے۔ فارمیٹ کچھ یوں ہے کہ ہر سوال کے ساتھ پیسے بڑھتے جاتے ہیں۔دس بارہ سوالات کے بعد معاملہ پچاس لاکھ اور ایک کروڑ تک چلا جاتا ہے ۔ایک کروڑ سے اگلا سوال سات کروڑ کے جیک پاٹ انعام تک رسائی دلادیتا ہے۔

مشہور بھارتی اداکار امیتابھ بچن کون بنے گا کروڑ پتی کے میزبان ہیں۔ پہلا سیزن بھی انہوں نے کیا اور حالیہ سیزن بھی وہی کر رہے ہیں۔ درمیان میں ایک سیزن شاہ رخ خان نے بھی کیا، مگر وہ رنگ نہ جما پائے۔ امیتابھ بچن کی اپنی ایک خاص گریس فل شخصیت ہے۔ پروگرام میں وہ شائد دانستہ طور پر نہایت گاڑھی شدھ ہندی بولتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں اس کے کئی پروگرام دیکھے، رواں سیزن کا ایک پروگرام دیکھا اور پھر دانستہ نیٹ سے تین چار مزید قسطیں بھی بغور دیکھیں۔ تین چار چیزیں مجھے بڑی دلچسپ اور اہم لگیں۔

یہ اندازہ ہوا کہ اس پروگرام کے ذریعے دانستہ طور پر پوری بھارتی قوم کے لیے امید کی ایک کرن پیدا کی گئی ہے۔پروڈکشن بہت عمدہ ہے۔ شرکاء کے حوالے سے بڑی دلچسپ اور معلوماتی چھوٹے چھوٹے ویڈیو کلپس بنائے گئے ہیں۔ان کے گھر جا کر انٹرویوز کیے گئے، ان کے ماحول ، گھر والوں کو دکھایا گیا اور مستقبل کے عزائم کے حوالے سے بھی بات چیت ہوتی رہی۔ جیسے ہی کوئی مہمان مختلف سوالات کے جوابات دے کر آگے بڑھتا ہے، وہ فوٹیج دکھائے جاتے ہیں۔پچھلے سیزن میں بھی یہ بات نوٹ کی تھی، اس سال بھی ایسا ہی ہورہا ہے کہ زیادہ تر شرکاء کا تعلق لوئر مڈل کلاس اور غریب گھرانوں سے ہے۔ نہایت پسماندہ ماحول میں رہنے والے مرد یا عورتیں، مگر ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنی محنت اور ذہانت سے یہ پروگرام جیت کر اپنی زندگیاں بدلنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اکثر جیتنے یا آگے جانے والے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کوئی بنگال، کوئی تامل ناڈو،کرناٹک یا پھر کوئی اسی ہفتے ایک کروڑ جیتنے والی خاتون کی طرح ”جھاڑکھنڈ“ کا رہائشی نکالا۔ جھاڑکھنڈنہایت پسماندہ اور دوسرے خوشحال صوبوں سے خاصا پیچھے ہے۔ اس خاتون نے ہر ایک کو اپنے اعتماد اور پختہ فکری سے متاثر کیا۔ گھریلو خاتون ہونے کے باوجود وہ اپنے علاقے میں سماجی کام کر رہی ہے، شو میں اس لیے آئی کہ انعامی رقم سے اپنے سوشل ورک کو آگے بڑھا سکے۔ پروگرام کا فارمیٹ اور اس کاشہرہ آفاق میزبان تو اپنی جگہ کشش رکھتا ہی ہے، جو فوٹیج دکھائے گئے ، ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ انہیں دیکھ کر لاکھوں کروڑوں مزید بھارتیوں کے دلوں میں محنت کر کے کوئز شو جیتنے کا خواب پیدا ہوا ہوگا۔

پروگرام کی دوسری خاص بات ہندی زبان سے رغبت دلانے اور ہندو تاریخ سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ امتیابھ بچن الہ باد کے رہنے والے ہیں اور وہ شستہ اردو بولنے پر قادر ہیں،ان سے یہ خالص ہندی دانستہ بلوائی جا رہی ہے۔ بی جے پی کے دور میں ویسے بھی بیشتر بھارتی چینلز پر ہندی کو دوبارہ سے رائج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 'کے بی سی' کے اکثر سوالات رامائن ، ویدوں یا پھرانگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہندو کانگریسی رہنماﺅں سے متعلق ہیں۔ ہندو تاریخ، کلچر، تمدن ، ہیروز،زبان اور شناخت سے متعلق موضوعات کو بڑی مہارت اورہوشیاری سے نئی نسل کو ذہن نشین کرانے کی کوشش ہورہی ہے۔ مسلمان تہذیب اور مسلم کلچر سرے سے غائب ہے، یوں لگتا ہے جیسے بائیس، چوبیس کروڑبھارتی مسلمان اس ملک کا حصہ ہی نہیں۔نوواتری، گنیش مہاراج کا جنم دن،دیوالی ، دسہرہ وغیرہ پر ہر چینل ہفتوں گلیمر سے بھرپور پروگرام دکھاتا ہے ، جبکہ عیدین، شب برات وغیرہ کے لیے کوئی بھارتی چینل ایک منٹ صرف کرنے کوتیار نہیں۔ سیکولر ازم کا چیمپیئن ملک جبکہ اتنی بڑی اقلیتی آبادی کے لیے بھارتی میڈیا میں ایک فیصد گنجائش موجود نہیں۔

ایک اہم بات مجھے یہ لگی کہ اپنے نوجوانوں کو وہ کون بنے گا کروڑ پتی ٹائپ پروگراموں کے ذریعے امید اور تبدیلی کے سپنے دیکھنا سکھا رہے ہیں۔ اس کے لیے شارٹ کٹ نہیں بلکہ محنت، ذہانت اور مستعد دماغ شرط ہے۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ پیسہ حاصل کرنے کے لیے ''کے بی سی'' جیسے پروگراموں میں جاؤ، مگر وہاں تُکے بازی یا شارٹ کٹ سے لاٹری نہیں ملے گی۔ جو محنت کرے گا، وہ آگے جائے گا۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں احمقانہ ، مضحکہ خیز گیم شوز چل رہے ہیں۔ ہاتھ استعمال کیے بغیر منہ سے تربوز کھانا، غبارے پھوڑنا، باسکٹ میں گیندیں پھینکنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میزبان کی خوشامد اور چاپلوسی کر کے موٹرسائیکل، موبائل، گاڑی وغیرہ جیتنے کی کوشش کرنا۔ پاکستانی گیم شوز کو دیکھ کر لگتا ہے جو جتنا لالچی، گھٹیا اور عزت نفس سے عاری ہے، اسے اتنا بڑا انعام ملے گا۔ کہیں پر بڑی بڑی گاڑیاں ریوڑیوں کی طرح بانٹی جا رہی ہیں تو کہیں پر سیروں کے حساب سے سونا انڈیلا جا رہا ہے۔ کوئی میزبان شرکا میں کیچ کیچ کے نعرے لگاتا ہوا موبائل اچھال رہا ہے تو کبھی دینی سوالات پر مسلمانوں سے تکے لگانے کی فرمائش کی جاتی ہے۔ لگتا ہے ان شوز کو بنانے والے میں تخلیقی صلاحیت ہے نہ اتنا وژن کہ ایک تفریحی پروگرام سے کس طرح قوم کی تعمیر ہوسکتی ہے؟ کسی کو یہ خیال نہیں کہ نوجوانوں کو شارٹ کٹ نہیں سکھانا بلکہ انہیں یہ بتانا ہے کہ ان تھک محنت اور کوشش کے بغیر زندگی تبدیل نہیں ہوسکتی، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ صرف اپنی زندگی بدلنا کوئی بڑی بات نہیں۔

اصل کامیابی تو یہ ہے کہ انسان اپنے اردگرد کا ماحول تبدیل کرے، جس دنیا میں رہتا ہے، اسے خوبصورت بنائے، وہاں سے کانٹے چن لے، دکھ کم کرنے اور خوشیاں دینے کی کوششیں کرے۔ یہ باتیں اپنے سکول ، کالج دور کے پی ٹی وی میں ہم نے دیکھیں۔ افسوس کہ ہمارے آج کے انٹرٹینمنٹ چینل چلانے اور تفریحی پروگرام بنانے والوں کو یہ بنیادی، سادہ باتیں بتانے والا کوئی نہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.