جدید حکومتیں، احتساب اور اسلامی نظام - وقاص احمد

اگر پوچھا جائے کہ سیاست و حکمرانی کی معراج کیا ہوتی ہے؟ یہی کہا جائے گا کہ کسی بڑے قطعہ اراضی پر حاکم بننا، صدر و وزیرِ اعظم، بادشاہ بننا، کروڑوں لوگو ں کا اعتماد لے کر ووٹ کے ذریعے یا کسی بڑی فوج کی کمان کرتے ہوئے حکومت و اقتدار قائم کرنا۔ حکمرانی و بادشاہی دنیا کمانے یا دنیا کے معاملات کو اہمیت دینے کی آخری حد ہو سکتی ہے۔ اس میں لاکھوں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کے فیصلے، ہزاروں انتظامی احکامات و تقرریاں، ڈھیروں مال و دولت، درہم و دینار پر تصرف اور کنٹرول، بیرونی دنیا سے تعلقات، تجارتی اور مالی پالیسیاں، دفاع و جنگ وغیرہ سب شعبے آجاتے ہیں۔ اس سے اوپر دنیا کا کام یا اس کا حصول کیا ہوسکتا ہے؟

ہدایت کی کامل کتاب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دنیا متاع الغرور ہے، دھوکے کا سامان ہے، کھیل تماشہ ہے۔ دنیا کی محبت نے انسانوں کو دھوکے اور خسارے میں ڈال رکھا ہے جبکہ دوسری طرف پیغمبر اسلام رسول اللہ ﷺ کی دنیوی زندگی اور اس کے بعد خلافت کے دور کو اگر خالص دنیاوی چشمے سے دیکھا جائے تو نظر آئے گا کہ اللہ کے رسول ﷺ اور خلفاء لاکھوں مربع میل پر حکمران و منتظم ہیں، مسلمانوں کے امیر ہیں، خزانوں کے مختار ہیں، فیصلوں کے مجاز ہیں۔ تو یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نظر آنے والے ابہام کے جوابات قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات میں ہی ہیں کہ رسولوں کے آنے کا تکمیلی مقصد ہی رب کی زمین پر رب کا نظام لانا ہے، اسلام کو دوسرے نظاموں پر غالب کرنا ہے۔ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری مکمل تب ہی ہوسکتی ہے جب لوگوں کے انفرادی معاملات کے ساتھ ساتھ اجتماعی معلاملات بھی اللہ کے حکم و فرمان کے تابع ہوں۔ ایمان والوں کا کام رسول کے اس مشن میں ان کی مدد کرنا ہے، چاہے وہ ان کی نگاہوں کے سامنے ہوں جیسے صحابہؓ کے سامنے رسول اللہ ﷺ تھے یا غیب میں جیسے آج رسول اللہﷺ دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں۔

سورۃ الحدید آیت 25 میں ارشاد ہوا: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دیکر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری اور ترازو بھی تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں، اور ہم نے لوہا بھی اتارا جس میں جنگی طاقت بھی ہے اور لوگوں کے لیے دوسرے فائدے بھی، اور یہ اس لیے کہ اللہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے۔

سورۃ الصف کی آیت 9 میں ارشاد ہوا: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ترجمہ: وہی ہے اللہ جس نے بھیجا رسول ﷺ کو ہدایت کے ساتھ اور حق کے نظام کے سا تھ تا کہ آپ غالب کردیں اس کو تمام نظاموں پر، چاہے مشرکوں کو کتنا ہی برا لگے۔

لیکن اس جدو جہد کے دوران اور اس میں کامیابی کے بعد دونوں حالتوں میں ایک ایمانِ حقیقی کا حامل شخص اپنے آپ کو حکمران نہیں خلیفۃ الرسول سمجھتا ہے۔ اختیارات اور خزانوں کا مالک نہیں، امین سمجھتا ہے، عدل بین الناس اور مساوات بین المسلمین قائم کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا رہتا ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ظالم حکمران کو ہوگا۔(طبرانی فی الاوسط)۔ ایک اور روایت میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص بھی مسلمانوں کا امیر بنتا ہے اور امّت کے لیے خیر خواہی اور کوشش نہیں کرتا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(مسلم۔ ابوعوانہ۔بیھقی) ایک اور روایت میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:جس حکمران نے اپنے عوام کے ساتھ فریب کیا وہ جہنم میں جائے گا۔ (طبرانی)

اسی وجہ سے مؤمن ِ حقیقی کبھی اقتدار اور امارت کی تمنا نہیں کرتا۔ سب سے زیادہ اثر انگیز اور متاثر کن مثال خود رسول اللہ ﷺ کا طرزِ حکمرانی اور طریقہ سیاست ہے اور یہ غور کرنا بھی نہایت اہم ہے کہ ان تمام اختیارات و طاقت کا آپ ﷺ کی اپنی ذات، اپنے کردار اور نجی زندگی پر کیا اثر پڑا اور اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے اس کا impact آپ ﷺ کے اصحاب، آپ ﷺ کے اعوان و انصار، آپ ﷺ کے تلامذہ و شاگردوں کے کردار اور طرزِ حکمرانی پر کیا پڑا؟ یہی بات رسول اللہ ﷺ کا قرآن کے بعد میری نظر میں سب سے بڑا معجزہ ہے۔ کیا کوئی حکمران ہوتے ہوئے بھی اس سطح کی زندگی گزار سکتا ہے؟ عقل کو عاجز کردیتا ہے اور ایمان ِ حقیقی لانے پر مجبور کردیتا ہے اور ایسا ہزاروں لوگوں کے ساتھ ہوا بھی جب فتخ مکہ و حنین سے پہلے اور اس کے بعد کے دونوں ادوار میں رسول اللہﷺ کے دنیوی معاملات، مالی حالت، عاجزی و انکساری، بندہ پروری، ہوش ربا سادگی میں عدیم المثل سخاوت و ایثار، فیصلوں میں عدل وقسط کا اکمال و اتمام دیکھ کر ہزاروں لوگ دین اسلام میں داخل ہوئے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ رسول اللہ کے وصال کے بعد امت مسلمہ کے پہلے خلیفہ راشد بنے۔ سیرت رسول ﷺ کے مطابق رسول اللہ کی علالت کے ایام میں قریباً سترہ نمازیں ایسی ہیں جس کی امامت حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے کی۔ اور ایک مرتبہ جب آپ امامت کر رہے رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور آپ کے برابر اکھڑ ے ہو کر آپ ﷺ نے نماز کی امامت کی۔ یہ رسول اللہﷺ کی طرف سے امت کو اشارہ تھا کہ وہ کس شخصیت کو اپنے بعد اس دنیامیں مسلم امّہ کی قیادت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، خلافت کے فرض کی ادائیگی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ کوئی عام انتقال ِ اختیا ر و اقتدار نہیں تھا۔ یہ نبی آخر زماں، خاتم النبین و مرسلین، امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد ایک غیرِ نبی، غیر ِ معصوم شخص کی طرف امت کے اجتماعی معاملات کی منتقلی تھی جو رسول اللہ ﷺ کی ۲۳ سالہ محنتِ شاقہ کے بعد وجود میں آئی تھی۔ لیکن ابو بکر ؓ کوئی عام شخص نہیں تھے۔ یہ وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ اپنی دنیاوی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا کہ میں نے زندگی میں ہر شخص کا حق ادا کردیا جو مجھ پر تھا سوائے ابو بکر کے کہ جن کا حق اللہ ہی ادا کرے گا۔ آپ مردوں میں رسول اللہ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لائے۔ دور جاہلیت میں مکے میں حضرت ابو بکرؓ کو ممتا ز مقام و مرتبہ کو حاصل تھا اور ایک ایسے زیرک، نیک، صالح، بردبار شخص کا ایک انتہائی مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرنا ہی ابو بکر ؓ کو مقام صدیقیت کے اعلیٰ ترین مقام پر لے جاتا ہے۔ اسی صدیقیت کا اظہار آپ نے نبی اکرم ﷺ کے معراج کے واقعے کی تصدیق کرکے بھی کیا۔

لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی قیادت ایک نبی سے غیرِ نبی کی طرف منتقل ہورہی تھی۔ یہ دینی اور روحانی نقطۂ نظر سے تو انتہائی غیر معمولی بات تو تھی ہی، یہ دنیاوی اور سیاسی لحاظ سے بھی انتہائی اہم واقعہ ہونے جا رہا تھا۔ دنیاوی اور غیر ایمانی انداز سے بھی تجزیہ کیا جائے تو ایک غیر مسلم کہہ سکتا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کی حکمرانی اور ایک نئی قوم ، جس کی اساس دین اسلام ہے ، کی امامت اس کے بانی سے اس کے جانشین کو منتقل ہو رہی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے اپنے بانی و قائد کی قیادت میں چند سال پہلے ہی رومی طاقت کو تبو ک میں چیلنج کیا اور علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کا شاندار مظاہرہ کیا۔ یعنی اسلام سیاسی اور روحانی دونوں سطح پر دنیا میں اپنی موجودگی کا نہایت قوی احساس دلا چکا تھا۔

اُس وقت دنیا میں ایرانی اور رومی سلطنتوں کا ہی دور دورہ تھا۔ یہی دو دنیا کی سپر پاورز تھیں جن کے درمیان سرزمین حجاز تھی جہاں 633 عیسوی میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اگر خالص سیاسی اصطلاح میں کہا جائے تو مسلمان امت کا حکمران بن کر عوام سے اپنا پہلا خطاب کیا۔

کیا خیال ہے، انسانی تاریخ کے اس انتہائی اہم مو قع پر جب اس نئی مملکت و امت کے دینی اور دنیاوی دونوں ہی فیصلوں کا اختیار، منصب ایک مامور من اللہ و رسول سے ایک امتی، ایک بااعتماد رفیق و دوست کی طرف آرہا ہو تو کیا اس وقت کی گئی تقریر کوئی عام سی تقریر ہوگی؟ یہ اُس جانشین کی تقریر ہے جو رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی کامل مثال ہے۔

اس تقریر کا ایک ایک جملہ اسلامی ریا ستوں، حکومتوں اور امارتوں کے لیے رہنما اصول کا درجہ رکھتا ہے۔ اک اک عبارت سے خلیفہ، امیر و فرمانروا کی کردار سازی اور تربیت ہوسکتی ہے اور اک اک نکتے کی بنیاد پر جامع قانون سازی اور آئین سازی ہوسکتی ہے۔

اب ہم اس عظیم و فقیدالمثال تقریر کے ہر فقرے کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (مختلف حوالوں میں جملوں کی ترتیب مختلف ہے اور اضافے ہیں)

1۔اے لوگو! مجھے آپ لوگوں کا ذمہ دار بنایا گیا ہے حالانکہ میں آپ لوگوں سے بہتر نہیں ہوں جبکہ قرآن نازل ہو چکا ہے اور رسول اللہ ﷺ اپنی سنتیں بیان کر چکے ہیں۔

نکات: آپ ؓ نے اپنے آپ کو ذمہ دار کہا، کوئی اپنا حکم چلانے والا حکمران نہیں بلکہ اپنی فضلیت وبڑائی کی نفی کی۔ یہاں قرآن و سنت کا حوالہ دینا اس لیے بھی اہم ہے کہ واضح ہوجائے کہ خلیفہ کا کام قرآن و سنت کے اندر رہتے ہوئے حکم دینا ہے۔ کوئی حکم قرآن و سنت سے ٹکرانے والا نہیں ہوسکتا۔ خلافت کے حوالے سے اپنے حق کا کوئی نحیف سا اظہار بھی نہیں کیا تاکہ روایت قائم ہو کہ اسلام میں خلافت کوئی خاندانی، پیدائشی حق نہیں ہے۔ یہ اللہ کے بندوں کی دینی اور دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کرنے کا انتہائی مشکل، جان گسل اور دقیق ذمہ داری ہے، جس میں کوتاہی کی پکڑ آخرت میں عام لوگوں سے کئی گناہ زیادہ ہے۔

2۔سچائی ایک امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔

نکات: اپنے آپ کو لوگوں کو انتہائی بلیغ نصیحت کی اور اس طرح یہ سمجھایا کہ اس خلافت کی بنیاد، اس میں تمام فیصلوں اور قوانین کی اساس سچ اور تقویٰ ہوگی اور تقویٰ کیا ہے ؟ ایمان اور عمل صالح اور دوسرے لفظوں میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی خلوص و محبت کے ساتھ بجاآوری۔ جس کا سر چشمہ قرآن حکیم اور سنت ِ رسول اللہ ﷺ ہے۔

3۔جو تم میں سے سب سے زیادہ طاقتور ہے اور وہ میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے دوسروں کا حق وصول نہ کرلوں اور جو تم میں سے سب سے زیادہ کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک میں اسے اس کا حق لوَٹا نہ دوں۔

نکات: الفاظ کے چناؤ عظیم ہیں۔ ایک کمزور کی طاقت کیا ہوسکتی ہے؟ یہی کہ اس کا کوئی جگری دو ست ہو جو بہت طاقتور ہو، جو اس کی مدد کے لیے جب پکارے آجائے۔ حضرت ابو بکر ؓ اصل میں مجمع میں یہ باور کر وا رہے ہیں کہ یہ خلافت کا ادارہ ایک کمزور کے لیے اس کے جگری دوست کی طرح ہے جس کی پکار سن کر اس کی مدد کرنا اس پر واجب ہوجاتا ہے۔ اور طاقتوروں کو یاد دلایا کہ طاقت کو خدمت کے بجائے ظلم کے لیے استعمال کیا گیا تو خلافت کے لیے وہ شخص نہایت کمزور ہوگا۔

اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ خلافت میں کاروبار، خرید و فروخت، مضاربت و اجارہ، زمینداری اور مشارکت کی آزادی ایک حد تک تو ہوگی لیکن جہاں کہیں بھی طاقت، اثر و رسوخ اور سرمایہ ظلم کرے گا، ریاست و خلافت مداخلت کرے گی۔ یعنی انسانی فلاح و بہبود یقینی بنا ئے گی۔ استحصال نہیں ہونے دے گی۔ امن و امان کا قیام اور سستا اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گی۔

4۔اے لوگو! میں تو اتباع کرنے والا ہوں اور اپنی طرف سے گھڑ کر باتیں لانے والا نہیں ہوں۔

نکات: یہاں پھر بتایا کہ میں قیصر و کسریٰ کی طرح جو دل میں آئے جو نفس کو اچھا لگے وہ حکم دینے والا نہیں ہوں بلکہ جس طرح رسول للہ نے مدینے کی ریاست کی سربراہی کی بے نظیر مثال قائم کی اسی کی پیروی کرنے کی کوشش کرنے والا ہوں۔ میرے اوامر و نواہی کی اساس اتباعِ رسول ﷺ ہی ہوگی۔

5۔اگر میں اچھے کام کروں تو آپ میری مدد کریں اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو آپ مجھے سیدھا کردیں۔

نکات: مدد سے مراد یہ ہے کہ خلیفہ جو شوریٰ، کونسل، بنائے اس میں شامل ہوا جائے۔ جس کو جو ذمہ داری دی جائے اس میں وہ خلیفہ کی بھرپور مدد کرے اور پھر اس بات کا نہایت اطمینان سے تذکرہ کیا گیا کہ اگر میں غلط فیصلے کروں تو میرا حتساب کیا جائے۔ دوسروں کے احتساب اور پکڑ سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا گیا اور اس میں کسی بڑائی اور عظمت اور سابقہ خدمات و قربانیوں، یا رسول اللہﷺ سے اپنی قربت کا قطعاً کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شوریٰ میں خلیفہ کے فیصلوں پر اگر وہ تقویٰ( قرآن و سنت ) کے خلاف ہیں تو منسوخ کیے جاسکتےہیں اور اور اگر کسی حکمت کے خلاف ہیں واضح تنقید کے بعد نظر ثانی کرنے کو کہا جاسکتا ہے پھر ’ سیدھا کرنے ‘ کا اشارہ یہ ہے کہ کوئی مجاز اتھارٹی ہو یعنی آزاد عدالتیں، جو عوام کے ساتھ ساتھ حکمران کا بھی احتساب کر سکیں۔

6۔جب تک میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں تم لوگ میری اطاعت کرنا اور جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو میری اطاعت تمہارے ذمہ نہیں۔

نکات: خلیفہ کو ہٹانے کا طریقہ بھی بتا دیا گیا کہ یہ کوئی ہر قیمت پر تا حیات خلافت نہیں ہے، بلکہ اس کی اساس چونکہ سچ، تقویٰ اور فرمانبرداری ہے اس لیے اگر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی کھلی نافرمانی ہو رہی ہو تو عوام پر خلیفہ کی اطاعت فرض نہیں ہے اور کسی میکینزم کے ذریعے خلیفہ کو معزول کیا جاسکتا ہے۔ عدالتوں کے ذریعے اس عمل کو کروانے کی طرف اشارہ ہے۔

اب سوچیں ابو بکر صدیقؓ کا تاریخ کے اس اہم موڑ پر اتنی معرکۃالارا تقریر کرنے کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ خاص طور پر اپنے بعد آنے والے زمانوں کے خلفاء اور امیروں کی رہنمائی کی جائے۔ لگتا ہے کہ آپ ؓ جیسے ایک اسلامی خلافت کی عمارت کے ستونوں کا نقشہ بنا رہے ہوں جس کی ابتداء اللہ کے حبیب رسول اللہﷺ نے کردی تھی۔ رسول اللہﷺ کے بعد امت کی اس اعلیٰ ترین شخصیت کو صرف ڈھائی سال خلافت کی ذمہ داری اٹھانے کا موقع ملا جس میں سے بیشتر وقت جھوٹے مدعیان ِ نبوت، منکرینِ زکوٰۃ اور دوسرے فتنوں سے نبرد آزما ہونے میں صرف ہوگیا لیکن اس عظیم تقریر کے برگ و بارعمرِفاروق ؓ کے دورِ خلافت میں مزید نکھر کے سامنے آئے۔ یہیں سے بات وہیں جا کر جڑتی ہے کہ انبیاء اور رسول علیہ السلام کیوں دنیا میں دین کا غلبہ چاہتے تھے؟ کیونکہ انہیں پتا تھا کہ تبلیغِ دین، شہادت علی الناس یعنی لوگو ں پر حق کی گواہی دینا، خدمتِ خلق اور فلاحی کام ان سب اہم دینی امور کی چوٹی ایک متقی، خدا خوف، غریب پرور، عدل پسند اسلامی حکو مت ہے۔

عقیدت و جذبات کو ایک طرف رکھ کر معروضی طور پر عقل و شعور کی نگاہ سے بھی دیکھا جائے تو انبیاء علیہ السلام کو چھوڑ کر تاریخ میں شاید ہی ایسی کوئی افتتاحی تقریر ہو جو رہنما اصولوں، ریاستی اقدار، امیر و مامور کے رشتے اور سب سے بڑھ کر حکمران کی انکساری اور حکمران کا اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرنےکا مرقع ہو اور جیسے کہ اوپر بتایا گیا کہ یہ رسول اللہﷺ کے نبی برحق ہونے کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ کے بعد آنے والے چار خلفاء راشد جو آپ کی خاص تربیت سے مستفید ہوئے، تاریخ نے ایسے عادل، متقی، غریب و سادہ حکمران (خلیفہ) پھر کبھی نہیں دیکھے۔ مغرب میں عوامی سیاسی مساوات، حق رائے دہی، ریاستی ستون اور ان کے درمیان تفریق و تحدید (Seperation of Power, Checks & Balances)، سماجی فلاح کے موضوعات پرسوچ کا آغاز سولہویں صدی میں ہوا۔ جبکہ ساتویں صدی میں حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ہی ان سارے نظریات کا عملی ظہور بھی ہو چکا تھا۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */