میرا چمکتا جزیرہ (1)

کرکٹ کے عظیم کھلاڑی ویوین رچرڈز کی حیران کن آپ بیتی، جب لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اُن کے خواب ٹوٹ گئے ہیں، وہ خود بھی فٹ بال کھیلنے لگ گئے، مگر وہاں بھی ناکامی ملی۔ مگر وہ کرکٹ کے میدان میں پھر اُترے اور اُبھرے، کیسے؟ ایک دلچسپ اور سنسنی خیز روداد!


ترجمہ وتلخیص: عبدالستار ہاشمی

ایک معروف اسپورٹس میگزین نے دنیا بھر سے 50 اسپورٹس ایڈیٹرز، مصنفین، کھلاڑیوں اور ماہرین پر مشتمل پینل کی مدد سے اب تک کے ون ڈے کے عظیم کھلاڑیوں کی جو فہرست مرتب کی، اس میں ویسٹ انڈیز کے سر ویوین رچرڈز کا نام ٹاپ پر ہے۔ پچاس رکنی کمیٹی کے 29 ارکان نے انہیں پہلے نمبر پر فائز کرنے کا فیصلہ سنایا جو ان کی صلاحیتوں کا برملا اعتراف تھا۔

ویوین رچرڈز جن کا بلّارنز اُگلتا تھا، ہمیشہ میرون ٹوپی پہنتے، چیونگم چباتے اور بے نیازی سے میدان میں اُترتے اور چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیل کر تماشائیوں کے دل موہ لیتے تھے۔ انہوں نے کبھی ہیلمٹ نہیں پہنا تھا۔ اینٹیگا کے جزیرے پر جنم لینے والے اس بڑے کھلاڑی نے کرکٹ کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایسی محنت کی کہ تاریخ ان کی کرکٹ کو ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھے گی۔

آج کا ہر نوجوان کھلاڑی ویوین رچرڈز سے ملنے کا خواہاں ہے۔ ابھی پاکستان میں پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ان کی خدمات بطورِ مشیر مستعار لیں اورجس جذبے اور پروفیشنل انداز سے انہوں نے اپنی فرنچائز ٹیم کی تربیت کی، وہ قابل تحسین اور فخر ہے۔

ویوین رچرڈ نے ’’سر ویوین‘‘ کے نام سے اپنی سوانح عمری لکھی جو کہ ان کی زندگی کے اُتارچڑھاؤ اور کرکٹ سے محبت، کیریئر کے آغاز سے اختتام تک کے واقعات پر محیط ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ وتلخیص 'روزنامہ 92 نیوز' نے اپنے سنڈے میگزین کے لیے کیا، جو اس کے شکریے کے ساتھ اب دلیل کے قارئین کے پیش خدمت ہے۔ حالیہ پی ایس ایل میں ویوین رچرڈز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی والہانہ انداز میں کوچنگ کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے دل جیتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ویوین رچرڈز کی زندگی کا پرتو سب کو دکھائیں تاکہ لوگوں کے پاس اپنے اس محبوب کرکٹر کی زندگی کے بارے میں معلومات ہوں۔


میں اکثر ان الزامات کی زد میں رہتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ خودسر، ضدی، ہٹیلا، سرکش، فسادی اور جھگڑالو کوئی دوسرا نہیں۔ میں اکثر ان واقعات کی تردید کرتاہوں، لیکن کیا کروں میرے کیریئر کے ابتدا ہی میں یہ الزامات میرے لیے پابندی کا سامان لے کر آئے۔ اینٹیگا کی طرف سے کھیلتے ہوئے پہلے ہی میچ کے بعد مجھ پر دو سال کی پابندی عائد کردی گئی۔ کوئی دوسرا ہوتا تو کرکٹ سے اُچاٹ ہوکر کسی دوسرے شعبے میں خود کو مصروف کرلیتا، لیکن میں نے اپنی بہت سی خامیاں دورکیں اور قدرے بہتر انداز میں دوبارہ میدان میں اُترا۔

میں سترہ برس کا تھا اور کرکٹ میں یہ شاندار ’’کارنامہ‘‘ انجام دیا کہ پہلے ہی میچ میں تین مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوا۔ یہ بات یہاں پر ہی نہیں رُکی، بلکہ میں نے میچ میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی مدد سے میدان میں اچھا خاصا ہنگامہ برپا کردیا۔ مقامی طور پر اچھی کارکردگی دکھانے کے انعام کے طور پر مجھے اینٹی گواٹیم کی طرف سے کھیلنے کا بہترین موقع فراہم کیا گیا۔ یہ میچ سینٹ جونز کے اس گراؤنڈ میں ہونے جارہا تھا جہاں کثیر تعداد میں لوگ تفریح کی غرض سے آتے تھے۔ اس دوران میں کسی میچ کا انعقاد ہوتا تو دیکھنے والوں کی تعداد نہایت مناسب ہوتی اور کھیلنے والوں کو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ کوئی انٹرنیشنل میچ کھیل رہے ہوں۔

میرے پہلے میچ میں بھی میرے اسکول کے دوست اور رشتہ دار میدان میں موجود تھے۔ اس دن اسکول سے آدھی چھٹی تھی، اس لیے آدھے سے زیادہ اسکول گراؤنڈ میں موجود تھا۔ ہر طرف یہی شور تھا کہ ہمارے اسکول کا نوعمر اینٹیگا کی طرف سے کھیلنے والا ہے اور دیکھنا وہ باؤلرز کی کس طرح پٹائی کرتا ہے۔ اس طرح کی گفتگو نے ان تمام لوگوں کی توقعات کو آسمانوں تک پہنچادیا جو میری کرکٹ پر کوئی تبصرہ تو نہیں کرسکتے تھے، بلکہ گراؤنڈ میں بیٹھے بیٹھے اپنے علاقے کے اس سپوت پر فخر کرنے سے نہیں ہچکچاتے تھے۔ لیکن افسوس کہ ان سب کی اُمیدوں پر اس وقت اوس پڑگئی جب میں پہلی ہی گیند پر شارٹ لیگ پر کیچ آؤٹ ہوگیا۔ مجھے لگا کہ گیند میرے بلے کے بجائے پیڈ سے چھوکر گئی ہے۔ ادھر امپائر نے باؤلر کی زوردار اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے مجھے آؤٹ قرار دینے کے لیے اپنی اُنگلی فضا میں کھڑی کردی۔ اسپورٹس مین شپ تو یہی کہتی ہے کہ میں کریز کو چھوڑدوں لیکن شائقین کی توقعات کو خاک میں ملانا کہاں کا انصاف تھا؟

میں نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا اور صفائی دینے کی کوشش کی کہ میں آؤٹ نہیں ہوں اور مجھے غلط آؤٹ قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے، لیکن امپائر خود کو غلط کہنے پر قطعی تیار دکھائی نہ دیا۔ ادھر باؤنڈری لائن کے اس پار بیٹھے تماشائیوں نے آوازے کسنا شروع کیے ’’نو ویوین، نو میچ‘‘۔ شور بڑھتا گیا اور قریب تھا کہ یہ لوگ میدان میں گھس آتے۔ دونوں امپائر سر جوڑکر بیٹھ گئے اور ان کے کانوں میں پڑنے والی ان دو آوازوں کی شدت بڑھتی گئی۔ جس میں ایک ہی نعرہ کان میں پڑے سنائی دے رہا تھا ’’نو ویوین، نو میچ‘‘۔ انتظامیہ کے لوگ بھی گراؤنڈ میں آگئے۔ اچھی خاصی بحث کے بعد میرا استدلال درست تسلیم کرلیا گیا اور آؤٹ دینے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے مجھے دوبارہ بیٹنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس پر تماشائیوں میں سکوت طاری ہوا اور میچ دوبارہ شروع کروایا گیا۔

اس مختصر ہنگامے نے مجھے ذہنی طورپر مفلوج کردیا اور مجھے نہیں لگ رہا تھا کہ میں اگلی گیند کا سامنا کرپاؤں گا اور وہی ہوا۔ میں نے اگلی ہی گیند کو کور پر کھیلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ جس کی سزا مجھے وکٹ کیپر نے دی۔ میں یہ شارٹ کھیلنے کے لیے اگلے قدموں پر کریز سے باہر نکلا، گیند مس ہوگئی اور میں اسٹمپ آؤٹ ہوگیا۔ تماشائیوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا اور میں بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ آیا۔ قسمت نے مجھے یہاں بھی دھوکا نہیں دیا، بلکہ دوسری اننگز میں بھی یہی ستم ڈھایا گیا اور میں ایک مرتبہ پھر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگیا۔ ایماندارانہ رائے دوں تو سچ یہ ہے کہ میں ایک میچ میں تین مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوا۔

لوگوں کو مایوس کیا اور خود کو بھی بہت کوسا کہ ایسا شاندار موقع بار بار نہیں ملتا۔ یہ خوف نہیں تو اور کیا تھا کہ تین مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوا۔ میچ ختم ہوا اور انتظامیہ نے امپائرز کی سفارشات پر مجھ پر دو سال کی پابندی لگادی۔ مجھ پر عائد کی جانے والی چارج اسٹیٹ میں ہنگامہ آرائی کا سنجیدہ الزام لگایا گیا تھا۔ میں حیران تھا کہ لوگوں کے رویّے کس طرح بدلتے ہیں۔ وہ لوگ جو ’’نو ویوین، نو میچ‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگاتے تھے، وہ مجھ سے کنّی کتراتے دکھائی دیے۔ میرے پاس سے گزرنے والے مجھ پر طنز کے تیر برساتے دکھائی دیے۔

پابندی کا فیصلہ ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے مجھ تک پہنچا۔ اخبارات نے تو سرخیوں کے ساتھ میرے تین مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کے کارنامے کو جلی حروف میں لکھا۔ میرے خواب ٹوٹ گئے اور میں کرکٹ سے دور ہوگیا، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میری کرکٹ ہی ختم ہوگئی۔ دل ٹوٹا او رکرنے کو کچھ نہ تھا۔ انہی دنوں فٹ بال میں من لگانے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی۔ لوگوں کو تو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ اتنے بڑے ہجوم کے سامنے بغیر کسی تجربے کے کھیلنا اور اس پر بڑی بڑی اُمیدیں باندھ لینا کہاں کا انصاف ہے، لیکن چونکہ میں غلطی پر تھا، لہٰذا مجھے سزا ملنی ہی چاہیے تھی۔ اس دوران میں مجھے مقامی ٹیموں کی طرف سے کھیلنے کی پابندی کا سامنا نہ تھا۔ میں گراؤنڈ میں جاتا، پریکٹس کرتا اور لوکل میچ کھیل لیا کرتا تھا۔

(جاری ہے)