سیکولرزم کی تعریف - ڈاکٹر سفر الحوالی

سیکولرزم (Secularism)انگلش زبان کا لفظ ہے۔
عربی میں سیکولرزم کا ترجمہ علمانیہ کیا جاتا ہے۔ یہ غلط ترجمہ ہے کیونکہ علمانیہ کا ’علم‘یا اس کے مشتقات سے کوئی تعلق نہیں۔
انگریزی یا فرانسیسی میں منظم و مدون علم کے لیے ’سائنس‘ کا لفظ مستعمل ہے اور علمی مکتب فکر پر (Scientism) کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مدون و منظم علم سے منسوب چیز کو سائنٹفک (Scientific) کہا جاتا ہے۔

سیکولرزم کا صحیح ترجمہ ’’لادینیت‘‘ یا ’’دُنیویت‘‘ ہے۔ دُنیویت کا لفظ فقط آخرت کے مقابلے میں نہیں بلکہ خاص ’’دین‘‘ کےمقابلے میں ہے، یعنی جس چیز کا دین سے تعلق نہ ہو یا دین سے متضاد تعلق ہو، اس کو ’’دُنیوی‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس کا صحیح ترجمہ ان تعریفات سے واضح ہوتا ہے جو غیر ملکی ڈکشنریوں اور انسائیکلوپیڈیاز نے بیان کی ہیں۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا سیکولرزم کو اس طرح سے بیان کرتا ہے:
’’یہ ایک ایسی اجتماعی تحریک ہے جو لوگوں کے سامنے آخرت کے بجائے اکیلی دنیا کو ہی ایک ہدف و مقصد کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ‘‘
یہ تحریک اس لیے برپا ہوئی کیونکہ وسطی عہد میں لوگ دنیا سے شدید اجتناب کرتے تھے اور اللہ و آخرت میں شدید رغبت رکھتے تھے۔ مغربی بیداری کے دور میں لوگ ثقافتی و انسانی ضروریات کی تکمیل میں شدید رغبت کرنے لگے اور اس محسوس دنیا کی لذات کے حصول میں آگے بڑھنے لگے تو ’’سیکولرزم‘‘کا لفظ انسانی مسائل کے ارتقا کے تناظر میں استعمال ہونا شروع ہوا۔

سیکولرزم کا رجحان جدید تاریخ کے دوران بتدریج پروان چڑھتا گیا حتی کہ یہ دین مخالف اور مسیحیت مخالف رجحان کے طور پر معتبر ہوا۔

ویبسٹر کی ’’جدید عالمی ڈکشنری‘‘ میں اس لفظ کی تشریح اس طرح کی گئی ہے۔
1- ’دنیوی جذبہ یا دنیوی رجحان‘۔ خاص طور پر ایسا نظام جو ایسی مبادیات، اعمال اور افعال سے تشکیل پائے جو ایمان و عبادت کی ہر شکل کا انکار کرتا ہو۔
2- یہ اعتقاد کہ دین اور کلیسا کے معاملات کا حکومت اور عوام کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دور حاضر کا طاغوت - عادل لطیف

آکسفورڈ ڈکشنری ''سیکولر'' کلمے کی تشریح میں یہ کہتی ہے کہ:
’سیکولر‘ دینوی یا مادی چیز کو کہتے ہیں جو دینی یا روحانی نہ ہو۔ جیسے سیکولر تعلیم، سیکولر فن و موسیقی، سیکولر سلطنت، یعنی کلیسا کی مخالف حکومت۔
’سیکولر‘ اس رائے اور فکر کو بھی کہتے ہیں جو اس بات کی قائل ہو کہ دین کو اخلاق و تربیت کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے۔

’’المعجم الدولی الثالث الجدید‘‘ سیکولرزم لفظ کی تشریح اس طرح سے کرتی ہے:
’’زندگی یا کسی بھی معاملے میں وہ رجحان جو اس بنیاد پر قائم ہو کہ دین یا دینی اعتبارات کو حکومت میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ دینی اعتبارات کو سیاست سے دور رکھنا ہی مقصد بنایا جائے۔ مثلاً سیکولر سیاست یعنی لادین سیاست۔ سیکولرزم ایک اجتماعی اخلاقی نظام بھی ہے جو اس فکر پر قائم ہے کہ اخلاقی و کرداری خوبیوں کو معاصر زندگی اور معاشی تعلقات کے تناظر پر قائم کرنا واجب ہے۔ دین کے تناظر پر قائم کرنا واجب نہیں۔‘‘

مستشرق آربری اپنی کتاب ’’الدین فی الشرق الاوسط‘‘ میں اس لفظ (سیکولرزم) کی تشریح میں لکھتا ہے:
’’مادیت کا علمی مکتب فکر، انسان پرستی، طبعی مکتب فکر، اثباتیت وغیرہ، یہ سب لادینیت کی مختلف شکلیں ہیں۔ لیکن اس نے شرق اوسط میں کسی فلسفیانہ رنگ یا مخصوص ادبیت سے سے نجم نہیں لیا۔ اس کی ایک بڑی مثال جمہوریہ ترکی میں حکومت کا دین سے یکسر علیحدگی اختیار کرنا ہے۔‘‘

عصر حاضر کی عام اسلامی کتابوں میں سیکولرزم سے مراد ’’فصل الدین عن الدولۃ‘‘ یعنی دین و سیاست کی علیحدگی لیا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ سیکولرزم کا مکمل مفہوم نہیں جو افراد و اخلاق پر بھی ثابت ہوتا ہو۔ کبھی افراد و اخلاق کا تعلق ریاست سے نہیں ہوتا لیکن وہ سیکولر ہوسکتے ہیں۔ اگر سیکولرزم کا ترجمہ ’’فصل الدین عن الحیاۃ ‘‘ یعنی ’’دین کو مکمل زندگی سے الگ کرنا‘‘ کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ چنانچہ سیکولرزم کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ زندگی کو دین سے ہٹ کر قائم کیا جائے، چاہے یہ قوم کی سطح پر ہو یا فرد کی۔ پھر دین کے محدود و تصور کے متعلق مختلف افراد اور حکومتیں رویے اپناتی ہیں۔ بعض دین سے چشم پوشی کرتی ہیں جیسے لبرل ڈیموکریٹک معاشرے۔ اس کو معتدل سیکولرزم (Non religious) کہتے ہیں۔ یعنی ایسے معاشرے جو لادین ہیں لیکن وہ دین کے دشمن نہیں، یہ معتدل سیکولر ہیں۔ یہ انتہا پسند سیکولرز (Antireligious) کے مقابلے میں ہیں جو کہ دین مخالف سیکولر ہیں جیسے کیمونسٹ معاشرے وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام اور سیکولرازم - سید شاہد ہاشمی

یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلام میں سیکولرزم کی دونوں اقسام کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہر وہ فکر جو اپنی مبادیات و تطبیقات میں دینی نہ ہو، وہ دین مخالف ہے۔ چنانچہ اسلام اور سیکولرزم دو ایسے نقیض ہیں جو کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے اور ان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • ڈاکٹر سفر الحوالی کی کتاب ''سیکولرزم'' کا انتخاب انتہائی عمدہ اقدام ہے، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی اس کتاب سے ہر مسلمان کو فائدہ اٹھانا چاہیے، خصوصا ایسے لوگوں کو جن کا واسطہ لادین لوگوں سے رہتا ہے۔
    عمدہ انتخاب پر داد تحسین آپ کا حق بنتا ہے۔ قبولیے!