ناکام ہونا سیکھیں - عثمان عابد

ارے یہ کیا؟ ناکام ہونا سیکھیں؟ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ شاید میرا دماغی توازن درست نہیں یا شاید کمپوزنگ میں کوئی گڑبڑ ہو گئی ہے۔ تو آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جناب ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ بالکل ٹھیک پڑھ رہے ہیں اور میں بھی مکمل ہوش و حواس میں بیٹھا یہ لکھ رہا ہوں۔

میری ایک عادت ہے کہ کچھ لکھنے سے پہلے کوشش کرتا ہوں کہ متعلقہ موضوع پر جو کچھ لکھا جا چکا ہے، اس پر ایک طا ئرانہ نظر ڈال لوں تاکہ موضوع سے متعلق تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے اور تشنگی باقی نہ رہے۔ اسی سلسلے میں جب اپنی ذاتی لائبریری میں موجود کتابوں کی طرف نظر دوڑائی تو وہاں ایسی کوئی کتاب موجود نہیں تھی۔ گوگل کیا تو کافی دیر خواری کے باوجود بھی ایسی کوئی کتاب نظروں کے سامنے سے نہیں گزری کہ جو ناکامی کا درس دے۔ ہاں البتہ کچھ کتابیں ضرور موجود تھیں کہ جن کے عنوان میں ناکامی کا لفظ ضرور موجود تھا مثلاََ ہم ناکام کیوں ہوتے ہیں؟ بلیک باکس تھنکنگ، ناکامی کا تحفہ، کامیابی ہمیشہ ناکامی سے کیوں شروع ہوتی وغیره وغیره۔

لیکن دراصل وہ بھی ہمارے اندر موجود کمزوریوں کو ڈھونڈ کر ان پر کام کر کے کامیابی حاصل کرنے کے متعلق تھیں یعنی وہ کتابیں بھی "کامیابی" کے موضوع پر ہی لکھی گئی تھیں۔مطلب کوئی شخص بھی ناکامی کے موضوع پر بات کرنا تو کجا اس پر کچھ لکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ لیکن مجھے اس چیز کی قطعی پروا نہیں کیونکہ میری سوچ کے مطابق اس موضوع پر بات نہ کر کے دراصل ہم ایک موقع گنوا رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہر ناکامی میں ان مسائل کا حل چھپا ہوتا ہے کہ جن کا ہم سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔

ناکامی کے موضوع پر بات نہ کر کے ہم اپنے آپ کو محدود کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ناکام ہونے کو برا خیال کیا جاتا ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے۔ حتی کہ کوئی ناکام شخص کی بات سننا تک گوارا نہیں کرتا۔اگر آپ واقعی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتے ہیں تو کامیابی کی طرح ناکامی کو بھی سینے سے لگانا ہو گا۔ ناکامی پر بھی اتنی خوشی محسوس کرنا ہو گی جتنی کامیابی کے ملنے پر ہوتی ہے۔ ناکامی پر شرمندہ ہونے کی بجائےاسے کھلے دل سے قبول کرنا ہو گا۔ ناکامی کا کڑوا گھونٹ زہر سمجھ کر نہیں بلکہ بلیک کافی سمجھ کر پینا ہو گا۔

یہ حقیقت ہے کہ ناکامی ایک تلخ اور تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی انسان اسے اپنانا پسند نہیں کرتا لیکن اگر آپ تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو آپ پر انکشاف ہو گا کہ کسی بھی قسم کی تبدیلی کے پیچھے جو سب سے بڑی قوت ہوتی ہے وہ "ناکامی" ہی کی قوت ہوتی ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اس بات کا حوصلہ نہیں رکھتے کہ وہ زندگی میں ناکامی کا سامنا کریں کیونکہ اس میں بہت سی پریشانیاں ہیں۔ دوسروں کو اپنی ناکامی کے بارے میں بتاتے ہوۓ شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ ہم ایڈیسن کی کامیابی یعنی بلب کی ایجاد کے بارے میں تو بات کرتے ہیں لیکن اس کامیابی کے پیچھے جو اس کی دس ہزار ناکام کوششیں تھیں اسے کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں؟ یہی نقطہ سمجھانا مقصود ہے۔ اگر وہ دس ہزار بار ناکام نہ ہوتا تو شاید بلب ایجاد نہ کر پاتا۔ ناکامی اس کی کامیابی کی بنیاد تھی۔ میں ایڈیسن کے ان الفاظ کو خراج تحسین پیش کروں گا کہ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی اسے دس ہزار مرتبہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو اس نے وہ الفاظ دہرا ئے، جو تاریخ کا حصہ بن گئے۔ اس نے کہا کہ میں نے ایسے دس ہزار نئے طر یقے دریافت کیے کہ جن سے بلب ایجاد نہیں ہوتا۔ اگر غور سے دیکھا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ دراصل ناکامی ہی وہ راستہ ہے کہ جس پر چل کر ہمیں اپنی منزل یعنی کامیابی مل سکتی ہے۔

اب آتے ہیں ناکامی کے دوسرے پہلو یعنی جذباتی پہلو کی طرف۔ ناکامی کا یہی پہلو ہمیں اس سے دور رہنے پر مجبور کر دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ننانوے فیصد لوگ محض اسی ڈر سے ناکام ہونے سے ڈرتے ہیں اور ناکامی میں چھپا موقع گنوا بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ ناکام ہونا شاید اس دنیا کا سب سے آسان کام ہے۔ ناکامی کو گلے سے لگا کر آپ پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

ناکامی کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔ پاکستانی معاشرے میں ناکام شخص کا وہی مقام ہے جو ہندوستان میں اچھوت کو۔ ابتدائی جماعت سے ہی اگر بچہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے والدین اور اساتذہ اسے جھڑکنا اور ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح بچپن ہی سے بچے کے لاشعور میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ ناکامی ایک دھبہ ہے جو انسان کی شخصیت کو داغدار کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ ناکام ہونے سے ڈرتا ہے اور یہی ڈر اسے زندگی کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رکھتا ہے۔

ناکام انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں تنہا محسوس کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ناکام ہونا شاید کوئی منفی چیز ہے لیکن مایوس ہونا شاید اس سے بھی زیادہ منفی چیز ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ناکام ہونا ہرگز بری بات نہیں بلکہ مایوس ہونے کو برا سمجھا گیا ہے۔ ہمیں بنیاد کو سمجھنا ہو گا۔

دراصل ناکامی سے بےچینی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر دیکھیں تو یہ مایوسی ہمارے ناقص عقیدے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ مطلب ہمارے یقین کرنے کے سسٹم میں خرابی ہے۔ بچپن میں یا زندگی کے کسی موڑ پر جب ہم ابھی شعور کی منازل طے کر رہے تھے تو ہمارے والدین، بہن بھائی، رشتہ دار، دوست یا اساتذه میں سے کسی نے ہمیں جھاڑ پلائی یا مذاق اڑایا تھا۔ بس۔ اسی دن سے ہمارے لاشعور میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ناکامی بہت بری چیز ہے اور اسی لیے آج بھی ہم لاشعوری طور پر اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم اس پریشانی یا بے چینی کے ساتھ جڑے اس ناقص عقیدے کو اپنے آپ سے دور کر دیں تو یقیناً ناکام ہونے پر برا محسوس نہیں کریں گے۔ ناکام شخص یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ شاید وہ اس دنیا کا واحد شخص ہے جسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سب میں ہمارا "خوف" بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ہمارے ناقص عقیدے سے جنم لینے والا خوف ہمارے اندر مایوسی اور بےچینی پیدا کرتا ہے۔جس کے ردعمل کے طور پر ہم اس صورت حال کا سامنا کرنے کی بجائے وہاں سے بھاگ جانے میں ہی عا فیت سمجھتے ہیں یا سامنے والے شخص سے لڑنا شرو ع کر دیتے ہیں یا اگر ہم سامنے والے شخص کا احترام کرتے ہیں تو مارے شرم کے زمین میں گڑھے جاتے ہیں اور وہیں منجمد ہو جاتے ہیں۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ بھی اس صورتحال سے ضرور دوچار ہوئے ہوں گے۔

لیکن عظیم اور جینیئس لوگوں کا ردعمل عام لوگوں کے ردعمل سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ اس چیز کی بالکل پروا نہیں کرتے کہ ناکامی کا دوسروں کی نظر میں کیا مطلب ہے۔ ان کا عقیدہ یعنی یقین کرنے کا نظام عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ ان کے پاس ناکامی کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ ان میں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے مقصد میں اتنے فوکسڈ ہوتے ہیں کہ دوسروں کو اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتے کہ وہ ان کی سوچ کو کنٹرول کر سکیں۔ "دوسروں کو اس بات کی ہرگز اجازت مت دیں کہ وہ آپ کی سوچ کو کنٹرول کر سکیں اور یہی آپ کی اصل کامیابی ہے "۔

میں یہاں اپنی ذاتی کہانی بھی شیئر کرنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر آف فارمیسی کے تیسرے سال جب ایک دن یونہی بیٹھے دماغ میں ایک خیال آیا کہ یار کچھ ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں ہم سب یعنی سینئرز اور جونیئرز ایک ہی پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوں تو اسی سلسلے میں میگزین کی اشاعت کا خیال آیا۔ یہ آئیڈیا جب اپنے دوستوں سے شیئر کیا تو کچھ نے مذاق اڑایا، کچھ بولے کہ یہ ڈیپارٹمنٹ کا کام ہے تم اکیلے کچھ نہیں کر سکتے اور کچھ نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ وقاص، کاشف، نورینہ، اسد، عرشیہ، حنیف، یاسین، ماجد، دانیال اور تہمینہ کا میں آج بھی شکرگزار ہوں کہ جنہوں نے عملی طور پر میرا ساتھ دیا۔ شروعا ت میں تو کوئی ہماری بات سننے پر بھی آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ پہ در پر ناکامیوں کے باوجود بھی ہم لوگوں نے ہمّت نہیں ہاری۔ لوگوں نے ہمارا مذاق بھی اڑایا لیکن آخرکار ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گۓ اور آج وہی مذاق اڑانے والے ہماری ٹیم کا حصہ ہیں۔

اگر آپ کو لگے کہ کوئی شخص مسلسل ناکامی کا سامنا کر رہا ہے تو بجائے اس کا مذاق اڑانے یا کوسنے کے اس کا حوصلہ بڑھا ئیں۔ اس کی مدد کریں۔ اگر آپ کو اللّه نے والدین یا استاد بننے کا موقع دیا ہے تو اگر آپ کی اولاد یا سٹوڈنٹ کوئی غلطی کریں تو بجا ئے اسے ڈانٹنے یا کوسنے کے انکا حوصلہ بڑھائیں۔

" آ ئیں ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھا ئیں"۔ اگر آپ کو لگے کہ آپ کے اردگرد کوئی ایسا موجود ہے کہ جو مسلسل حالات سے لڑ رہا ہے تو بجائے اسے نظر انداز کرنے کے اس کے پاس جائیں۔ اسے تھپکی دیں۔ اسے شاباشی دیں کہ کوئی نہیں یار ! زبردست ! اچھی کوشش کی۔ "شاباش تم کر سکتے ہو"۔ کیا معلوم آپ کے ادا کیے گۓ یہ چند الفاظ اس کی زندگی کا رخ ہی بدل دیں۔

بحیثیت نوجوان ہمارے پاس کھیلنے کے لیے ایک وسیع میدان (یہ دنیا ) ہے۔ جائیں۔ ناکامی یا کامیابی کا سوچنے کی بجائے اپنا سو فیصد دیں۔ اپنی ناکامی پر کڑھنے کی بجائے۔ اسے نظر انداز کرنے کی بجائے اسے اپنا ئیں۔

یہ ہمارے پاس ایک منفرد موقع ہے۔ ناکامی کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے اسے گلے لگا کر اپنا دوست بنائیں۔ اپنی ناکامی کو ایک مطلب دیں اور اسے استعمال کرتے ہوۓ اس دنیا کو ہلا دیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */