چاند، چمتکار اور ہم - حنا صدف

آپ مانیں یا نہ مانیں چاند سے ہم پاکستانیوں کو کوئی قریبی رشتہ ضرور ہے۔ بچپن چاندا ماموں کی نظمیں سنتے گزرا، کبھی چاند پر چرخہ کاتتی ہوئی بڑھیا ڈھونڈتے رات کٹی، مگر پھر سوچا کہ بڑھیا ہے، نجانے چاند پر کب سے اکیلی چرخہ لیے بیٹھی ہے، اب تک کہیں گزر ہی نہ گئی ہو۔ بڑے ہوئے تو جو پڑھا، اپنے آس پاس دیکھا تو علم ہوا کہ لوگوں کو تو چاند پر نام دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے من چاہے نام! عاشقوں کو اسی چاند میں محبوب کی شبیہ نظر آتی ہے اور غم کے ماروں کو چاند سے غم ٹپکتا ہوا محسوس ہوتا ہے، جبکہ رات گئے تک تنہا جاگنے والے تو اس چاند کو اپنی تنہائی کا ساتھی گردانتے ہیں۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ انسان کو وہی دکھائی دیتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے، جیسے بادلوں کو بہت غور سے دیکھیے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شبیہ دکھائی دے رہی ہے، جیسے رات کے اندھیرے میں اکثر بچوں کو گھر کی مختلف اشیاء کسی غیر مرئی مخلوق کے ہیولے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح امرود، بینگن اور ٹینڈے جیسی سبزیوں کے بیج کسی نہ کسی pattern میں موجود ہوں گے، آپ غور کرنے بیٹھیں تو اس میں کوئی شکل یا نام ضرور نظر آنے لگے گا ضرورت ہے تو بہت سے فارغ وقت کی اور ایک ذہنِ ناتواں کی تاکہ آپ حقیقت کی دنیا سے نظریں چُرا کر غیر ضروری اور انتہائی غیر تخلیقی کاموں میں اپنی محنت و توجہ صرف کرتے رہیں۔

رہی بات چاند کی تو یہ کوئی کپڑے کا ٹکڑا نہیں جو دن بہ دن اپنی شکل تبدیل کرتا رہتا ہے اور اس کی سطح پر مختلف نام نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ چاند کی سطح بے شمار گڑھوں اور ٹیلوں سے بنی ہے۔ یہ گڑھے یا ٹیلے اپنی شکل اتنی آسانی سے تبدیل کرنے سے قاصر ہیں اور اس کی سب سے اہم وجہ چاند پر ہوا اور دیگر موسمی عوامل کی عدم موجودگی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چاند سطح پر پڑنے والے خلاء بازوں کے جوتے کے نشان عرصہ دراز تک چاند کی سطح پر جوں کے توں رہیں گے کیونکہ ہوا اور پانی کی غیر موجودگی میں ایسے نشانات اپنے آپ ختم نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   ’اب بھی لاکھوں امریکی چاند پر اترنے کو محض ایک قصہ کہانی سمجھتے ہیں‘

کیا اگر کل کوئی یہ دعویٰ کرے کہ چاند پر 'اوم' کا نام لکھا نظر آرہا ہے، عیسائیوں کا 'کراس' بنا ہوا ہے یا پھر گوتم بدھ کی مورتی بنی ہوئی دکھائی دے رہی ہے تو کیا ہم میں سے کوئی بھی انسان اپنا مذہب تبدیل کرنے کو تیار ہوجائے گا؟ ہر گز نہیں۔

اللہ نے قرآن پاک کی تکمیل مکمل کر تے ہوئے یہ فرما دیا تھا کہ دین مکمل ہوگیا۔ اگر یہی چاند پر بادلوں پر، سورج کی کرنوں پر اللہ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم، حسین رضی اللہ عنہ کے نام دکھائی دینے سے اسلام کے دینِ حق ہونے کی گواہی دینا مقصود ہوتی تو میرے رب نے اس دین کو 1400 سال قبل مکمل ہرگز نہ کہا ہوتا۔

اس سارے معاملے میں قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ چاند پر عربی اور اردو ہی کیوں لکھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہ جو خلائی ادارہ 'ناسا' اربوں ڈالر لگا کر نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے چاند پر تحقیق کر رہا ہے، انتہائی بیش قیمت دور بینوں اور خلائی اسٹیشنز سے چاند کا بغور مشاہدہ کیا جارہا ہے، وہ اب تک ایسی کوئی چیز چاند پر کیوں نہیں دیکھ پارہے؟ یا چاند کی نظرِ کرم صرف ہم جیسوں پر ہی ہے۔

اس ساری صورتحال میں اللہ سبحان تعالٰی سے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ ہم سب کو تحقیق کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان تمام تر مفروضوں اور من گھڑت کہانیوں کی سطح سے آگے بڑھ کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ آمین