کام کی عظمت اور ہمارے رویّے – روبینہ شاہین

برصغیر پاک وہند میں ایک اصطلاح عام ہے جسے دیہات کے پس منظر میں رہنے والے بخوبی آگاہ ہوں گے، "کاما"مطلب کام کرنے والا، ورکر۔ یہ لفظ آج بھی عام ہے۔ جو لوگ جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ کامے کے لفظ میں کس قدر حقارت پوشیدہ ہے۔ یہ لفظ ایک ایسی قوم میں رائج ہے جس کے دین میں محنت کی عظمت شامل ہے۔

ذاتوں کے انسائیکلو پیڈیا کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے برصغیر پاک وہند ایک ایسی سرزمین ہے جہاں کام کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہے۔ یہ 'مائنڈ سیٹ' ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے ہاں کام کی عظمت کو پنپنے کیوں نہیں دیا جاتا؟ ہمارا نوجوان کام کرنے کو حقارت کی نظر سے کیوں دیکھتا ہے؟ اس کے برعکس جو جتنا فارغ ہوتا ہے اس کو اتنا اہم سمجھا جاتا ہے۔ لوگ سرکاری نوکری اس لیے چاہتے ہیں کہ وہاں کام نہیں کرنا پڑتا۔ ۔ ہمارا یہی نوجوان جو اپنے ملک میں جاب کو عیب سمجھتا ہے مگر مغرب میں تمام کام کرنے کو تیار ہوتا ہے، وجہ ہمارا کام کے حوالے سے رویّہ ہے۔

رویے جب عادت بن جائیں تو معاشرتی اقدار کا ظہور ہوتا ہے۔ قدروں سے قومیں ابھرتی ہیں اور زوال پذیر ہوتی ہیں۔ ہڈ حرامی اور سستی جو ہمیں دیمک کی طرح کھا رہی ہے، وہ ایک دن میں ہمارے اندر نہیں آئی، یہ برسوں کی "کمائی" ہے۔ لہٰذا ایک دن میں جانے والی بھی نہیں، مگر آغاز ہونا بہت ضروری ہے۔ بچوں کو نہ صرف چھوٹی عمر سے کام کی عادت ڈالنی چاہیے۔ بلکہ کام کی عظمت کے بارے میں بھی آگاہ کرنا چاہیے۔

جاپان دنیا کی واحد قوم ہے جو سخت محنت پر یقین رکھتی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں تباہ ہونے کے بعد اس قوم نے دنیا میں خود کو منوانے کا عزم کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوج پر پہنچ گئی۔ یہ سب محنت سے ہوا۔ یہاں سستی اور کاہلی جیسے الفاظ نہیں ملیں گے۔ ان کی اسی عادت نے جاپان کو دنیا میں برانڈ بنا دیا۔ چین جہاں سستی اور کاہلی کا راج تھا، آج محنت کی بدولت کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔ خدا بھی ان لوگوں کو نوازتا ہے، جو محنت کی عظمت پر یقین رکھتی ہیں۔

محنت میں عظمت ہے، محنت وہ واحد ہتھیار ہے جو قوموں کو بلاتفریق نوازتا ہے۔ قدرت کبھی محنت کرنے والوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی۔ ہماری قوم میں بہت سی غلط چیزیں رواج پا چکی ہیں، ان میں سے ایک محنت نہ کرنے کی عادت بھی ہے۔ اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ بقول احمد ندیم قاسمی

قوت بازوئے انساں کے بغیر خاک کا ڈھیر جمال زر و سیم

اتنی عظمت کا تصور بھی محال جتنی انسان کی محنت ہے عظیم

ٹیگز

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.