"پاکستان" ایک وعدہ بھی ہے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

جوگندر ناتھ منڈل ہماری قومی تاریخ کا ایک فراموش کردہ کردار ہیں۔ ان کا تعلق بنگال سے تھا اور وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ آزادی سے قبل منڈل صاحب بنگال میں حسین شہید سہروردی کی سربراہی میں قائم مسلم لیگی حکومت کے وزیر قانون تھے۔ آزادی کے بعد جوگندر ناتھ منڈل پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے سربراہ رہے۔ ان ہی کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں قائد اعظم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف لیا۔ اس کے بعد وہ پاکستان کے وزیر قانون، وزیر محنت، وزیر امور کشمیر اور دولت مشترکہ امور کے وزیر بھی رہے۔ تاہم اس کے بعد ایک المیہ یہ رونما ہوا کہ منڈل صاحب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان سے واپس بھارت چلے گئے اور وہیں 1968ء میں وفات پائی۔

5 اکتوبر جوگندر ناتھ منڈل کا یوم وفات ہے۔ ان کی اننچاسویں برسی کے موقع پر چند روز قبل مسلم لیگ (ن) کے ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے معاصر روزنامہ میں ایک کالم لکھا۔ اس کالم میں منڈل صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ یہ شکوہ بھی نمایاں تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیے وہ مواقع نہیں میسر ہو سکے جو بحیثیت پاکستانی ان کا حق تھا۔ ان کی تحریر میں چند باتیں نہایت غور طلب ہیں۔ اولین یہ کہ منڈل صاحب جو کہ دَلِت ہندو تھے وہ کانگریس کی پالیسیوں سے مایوس ہو کر کسی ہندو تنظیم کا حصہ بننے کے بجائے آل انڈیا مسلم لیگ میں آئے اور پوری تندہی سے پاکستان کے قیام کے لیے کام کیا۔ گویا ان کے خیال میں ہندو اکثریتی بھارت کے بجائے مسلم اکثریت والا پاکستان ان کے لیے زیادہ بہتر آپشن تھا۔

دوسرا اور نہایت دلچسپ پہلو یہ کہ پاکستان کے اسلامی تشخص پر انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ ڈاکٹر رمیش کمار کے مطابق قرارداد مقاصد پر بھی انہوں نے کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ آگاہ تھے کہ پاکستان مسلمان اکثریت کا ملک ہونے کی وجہ سے اسلامی خدوخال کا حامل ہوگا بلکہ یہ بات ان کے لیے امید کا باعث تھی کیونکہ قائداعظم جس اسلامی ملک کا دعویٰ لے کر اپنی تحریک چلا رہے تھے اسے امن، سماجی انصاف، جان، مال اور عزت کے تحفظ کے سنہری اسلامی اصولوں پر استوار ہونا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ ظفراحمد عثمانی کی دینی و ملی خدمات - مولانا محمد جہان یعقوب

لیکن پھر حالات ایسے ہونے لگے کہ پاکستان سے متعلق ان کے خواب بکھرنے لگے اور وہ تمام سرکاری ذمہ داریوں سے مستعفی ہو کر سن 1950ء میں بھارت چلے گئے۔ جس بھارت نے مسلمانوں کو پاکستان کے قیام پر کبھی معاف نہیں کیا، وہ ایک ہندو، وہ بھی دلت، کو کیسے معاف کر سکتا تھا؟ جوگندر ناتھ منڈل ایک مایوس اور دل شکستہ کیفیت میں 5 اکتوبر 1968 کو بھارت میں چل بسے۔

منڈل نہیں رہے، لیکن ان کی جدوجہد اور پھر مایوسی کی داستان آج بھی زندہ ہے۔ پاکستان کے متعلق ہمیں یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ وطن بنیادی طور پر ایک "اقلیت" کا مطالبہ تھا. اکثریت کے جبر کا خوف اور عدم تحفظ اس مطالبے کا بنیادی محرّک تھا۔ پاکستان بن جانے کی صورت عددی تناسب پھر کچھ ایسا ہو جانا تھا کہ ایک اکثریت ہوتی اور چند اقلیتیں بھی وجود میں آ جاتیں۔ ہمارے سیکولر دوست عجلت سے کام لیتے ہوئے پاکستان کو سیکولر مملکت بنانے کی بات کرتے ہیں اور پھر اسے قائداعظم سے نتھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جوگندر ناتھ منڈل کے قصہ میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے مابین خطوط کے تبادلہ میں کہی جانے والی بات ہی قائداعظم کے سامنے تھی کہ اسلام کے تہذیبی ورثہ کو سب کے لیے عام کیا جائے۔ وہ اسے اسلام کا چمکدار چہرہ کہتے تھے جس پر ملوکیت نے مفاد کی گرد ڈال رکھی تھی۔ عدل، انصاف، سماجی برابری اسلامی تہذیب کے وہ شاندار اصول ہیں جس پر ایک اسلامی معاشرہ میں بلا تمیز رنگ، نسل اور مذہب عمل کیا جاتا ہے۔ سب کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے اور زندگی بسر کرنے کے مواقع میں کوئی تعصب یا تفریق روا نہیں ہوتی۔ سربراہ مملکت و حکومت کے علاوہ دیگر سب جگہ ہر ایک کے لیے برابر مواقع ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ ظفراحمد عثمانی کی دینی و ملی خدمات - مولانا محمد جہان یعقوب

بحیثیت ایک اقلیت جو خوف کسی قوم کے دل میں جاگزیں ہو، اکثریت بننے کے بعد وہی خوف اگر وہاں کی اقلیت میں پیدا ہو جائے تو یہ کسی قوم کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ اس طرح اس قوم کا اخلاقی مقدمہ نہایت کمزور ہو جاتا ہے۔ آپ اسرائیل کی مثال دیکھ لیجیے، جب ہٹلر کے مبینہ مظالم کی بات ہوتی ہے تو یہودی اپنی مظلومیت کا کس قدر پرچار کرتے ہیں۔ لیکن اب جبکہ خود ایک ملک کے مالک ہیں تو فلسطینیوں سے سلوک ایسا کہ ہٹلر بھی شرما جائے۔ آج کے یہودی اسرائیل کا تعارف ایک ظالم کا ہے اور اب لوگ مظلومیت کے ان کے دعوے سننے کو بھی تیار نہیں۔

ہمیں بھی غور کرنا چاہیے کہ کہاں پر کوتاہی ہو رہی ہے؟ قانون کے حوالہ سے یا سماجی سطح پر اور پھر اسے درست کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ جوگندر ناتھ منڈل کا یہاں سے چلے جانا اس "وعدے" کی بہت بڑی ناکامی تھی جس کا نام پاکستان ہے۔ آج کے پاکستان میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، یہ بات پاکستان کی اقلیتوں کے لیے بھی باعث اطمینان و فخر ہونا چاہیے۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.