دائمی و پائیدار رشتے کون سے؟ - قانتہ رابعہ

دائمی اور پائیدار رشتے ! مگر کون سے ؟ ایک بچہ دنیا میں آنکھیں کھولتا ہے تو جہاں تازہ ہوا ، سورج کی روشنی ، میٹھا پانی اور ان گنت نعمتیں اس کے استقبال کے لیے موجود ہوتی ہیں وہیں ہر طرح کے انمول رشتے بھی بازو کھولے موجود ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے مقدس اور پیارا رشتہ ماں کا ہے۔ ماں، لفظ زبان پر آتے ہی آنکھوں میں ستارے جگمگاتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے بھی بندے کو اپنی محبت کا یقین ماں کے رشتے کی مثال دے کر سمجھایا ہے۔ ماں کی محبت کو لفظوں میں قید کیا ہی نہیں جا سکتا ۔ پھر باپ۔۔۔ ایک شجر سایہ دار ! لفظوں سے اپنی اولاد کو محبتوں کا اسیر بنانے کی بجائے عملی مظاہرہ کرتے ہوئے رشتوں کی تاریخ میں نئی اور ناقابل یقین داستان رقم کرتا ہے ۔

پیٹ کو لمبائی و چوڑائی جس رخ میں بھی ناپو، وہ ایک بالشت کا ہے ۔ اس ایک بالشت بھر کے پیٹ کے لیے باپ چند منٹ کی مشقت کرکے بھرنے کا بندوبست کر سکتا ہے مگر یہ اولاد، اپنی اولاد کے لیے دن رات مشقت کرتا ہے، کولہو کا بیل بن جاتا ہے، اوور ٹائم لگاتا ہے ، پردیس کی بیچارگی قبول کرتا ہے ، محض اس لیے کہ اس کی اولاد کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ اس دنیا میں والدین سوائے اپنی اولاد کے اپنے سے آگے کسی کو بڑھتا نہیں دیکھ سکتے ۔ صرف اور صرف اولاد کا رشتہ ایسا ہے کہ دل کی یہی تمنا ہوتی ہے کہ اولاد وہ کچھ بھی حاصل کر لے، جو وہ خود حاصل نہیں کرسکے بلکہ اپنی حسرت ناتمام بھی انہی کے ذریعے پوری کروائی جاتی ہیں۔ اولاد بھی والدین کو اونچا مقام و مرتبہ عطا کرتی ہے، کندھوں پر بٹھا کر حج کرواتی ہے، ان کی دلجوئی کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی مگر میں جب بھی قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہوں مجھے ہر مرتبہ اس میں بھید بھری کہانیاں ملتی ہیں ۔ یہی رشتے، چاہتوں میں گندھے رشتے ع ان کی کوئی وقعت نہیں ہے اگر یہ خدا کو پہچاننے والے نہ ہوں۔ ان کی حیثیت بخدا ایک تنکے جتنی بھی نہیں اگر ان کو بندگی کا مفہوم ہی نہیں معلوم ۔

آپ باپ کے رشتے کو دیکھیے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ سے زیادہ کوئی معزز ہو سکتا تھا ؟ نہیں ۔۔۔ ابراہیم علیہ السلام جانتے ہوئے بھی سفارش کر بیٹھے اور پھر دیکھ لیجیے کیا ہوا، تنبیہ کردی گئی، شدید تاکید کے ساتھ مغفرت کی دعا سے ہی نہیں روکا ، نسبت ہی ختم کردی۔ اولاد کی محبت اپنی جگہ مسلّم ہے ۔ دیکھ لیجیے کیا انجام ہوتا ہے اس محبت کا جب بیٹا رب کی معرفت کو دل میں جگہ نہیں دے سکا، سفارش کرنے پر ایسے الفاظ؟ ذرا سوچیں ، عمل غیر صالح، ردّی مال کہہ دیا۔ اب باقی کیا بچا میاں بیوی کے رشتے کو خود ہی لباس کہنے والے نے اس رشتے کی پائیداری صرف اور صرف دین ٹھہرائی ہے، لوط علیہ السلام کی بیوی کو کیسے کیفر کردار تک پہنچایا؟

کچھ اور رشتے، ٹھنڈے میٹھے ، خالہ ، چچا ، ماموں مگر سورۂ لہب پڑھتے ہوئے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ برباد ہوگیا ، نامراد ہوا ، ٹوٹ گئے ہاتھ، آپ معنی کا جو بھی پہناوا پہنا لیں بات بڑی سخت ہے۔ آپ نے سوچا اگر آسمان اور زمین کے کسی نہ کسی گوشے میں ہر وقت خدا کی پکار اذان کی صورت میں سنائی دی جاتی ہے، اگر دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں 'ورفعنا لک ذکرک' پر عمل ہوتا ہے، اگر درود کا ہدیہ بھیجنے کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے ، تو ابو لہب کا ذکر بد بھی جاری رہتا ہے۔ لعنتیں اس کے مقدر میں قیامت تک جاری و ساری رہیں گی۔ اپنی بیوی کے ساتھ ساتھ وہ بدترین الفاظ میں یاد کیا جاتا رہے گا ۔ کون؟ محبوب خدا کا سگا چچا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر خوشی بھی بے تحاشا تھی۔ یتیم بھتیجا بھی بہت پیارا تھا مگر اس کی خوشی کام آئی، نہ چاہتیں۔ محض اس لیے کہ وہ رشتہ عارضی تھا، اس رشتے کی پائیداری کے لیے مطلوب صفت ، دین حق کو قبول کرنا، سرے سے نہیں تھی۔ وہ اپنے بھتیجے کے مشن میں ساتھ دینا تو دور کی بات اس مشن کی تکمیل میں روڑے اٹکاتا تھا ۔

میرا سوال بس یہی ہے اولاد اللہ رب العزت نے ہمیں بھی دی ہے، چاہت اور محبت بھی ہے۔ مگر خدارا سوچ لیجیے اس اولاد سے عارضی طور پر رشتہ ہے یا پائیدار بنانے کےلیے اسے اپنے مشن میں ساتھ شامل کیا ہے؟ سوچ لیجیے جو دعوت دین آپ کی پہچان ہے، آپ کی اولاد اولاد ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پر ہے یا اولاد نوح کے نقش قدم پر ؟ اس کی روٹی کپڑے کے ساتھ بہتر دنیاوی مستقبل اور رشتوں کی پلاننگ ہی ہے یا عقائد عبادات معاملات اور دعوت دین کی فکر بھی آپ کی پلاننگ میں شامل ہے؟

خدارا! ابھی بھی وقت ہے اولاد کو دنیوی ڈگر کے ساتھ آخرت کی تیاریوں میں بھی آگے کرنے کا سامان کر لیجیے ۔ ابھی بھی وقت 'للمتقین اماما' کی پکار پر لبیک کہنے کا ۔