اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی - مفتی منیب الرحمٰن

’’اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی‘‘ کے معنی ہیں: ’’سوائے قرابت داروں کی محبت کے‘‘۔ چونکہ کفار مکہ مادّی سوچ کے حامل تھے اور لِلّٰہیّت کا تو اُن کے ہاں کوئی تصور ہی نہیں تھا، اس لیے انہوں نے اپنی اسی اُفتادِ طبع کے سبب رسول اللہ ﷺ کو دعوتِ حق سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تھی، کیونکہ ان کا خیال یہی تھا کہ آپ ﷺ نے دنیا میں کسی بڑے منصب کے حصول یا دولت کے لیے یہ تحریک برپا کی ہے.

امام محمد بن یوسف صالحی شامی لکھتے ہیں:
’’جب حضرت ابوطالب رسول اللہ ﷺ کی مدافعت میں استقامت کے ساتھ کھڑے رہے، تو قریش کے کچھ لوگ اُن کے پاس گئے اور کہا: آپ کے بھتیجے ہمارے خداؤں کو برا کہتے ہیں، ہمارے دین میں عیب نکالتے ہیں، ہمیں بے وقوف اور ہمارے آباؤاجداد کو گمراہ کہتے ہیں، اس لیے آپ یا تو انہیں روکیں، ورنہ درمیان سے ہٹ جائیں، ہم ان سے نمٹ لیں گے، حضرت ابوطالب نے انہیں حکمت سے ٹال دیا۔ قریش پھر حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور کہا:آپ بزرگ ہیں، ہمارے نزدیک آپ کا بڑا مرتبہ ہے، ہم نے آپ کو بھتیجے کی حمایت سے بہت روکا، لیکن آپ نہ رکے، اب ہم اپنے خداؤں کی توہین برداشت نہیں کریں گے، آپ انہیں روک دیں یا ہماری آپ سے فیصلہ کُن جنگ ہوگی۔ حضرت ابوطالب اس پرسخت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے نبی ﷺ سے کہا: بھتیجے!تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے اور یہ کہا، پس آپ مجھ پر اور اپنے آپ پر ترس کھائیں اور مجھے میری بساط سے زیادہ مشکل میں نہ ڈالیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چچا جان! اللہ کی قسم! اگر یہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ میں لاکر رکھ دیں کہ میں اپنا مشن چھوڑ دوں، تو میں ہرگز نہ چھوڑوں گاتاوقتیکہ اللہ اپنے دین کو غالب کردے یا میری جان اس راہ میں قربان ہوجائے، (سُبلُ الھُدیٰ والرَّشاَد، ج:2، ص: 326-327، بتصرف)‘‘۔

علامہ پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:
’’سرور عالم ﷺ کی مقدس زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ اللہ تعالیٰ کے جوبندے اپنی گمراہیوں کے باعث اپنے رب سے بہت دور جاچکے ہیں، پھر قریب ہوجائیں۔ کفر وشرک کے اندھیروں سے نکل کر پھر نورِ ہدایت سے اپنے قلب ونظر کو منوّر کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حضور ﷺ کی لگن کا یہ عالم تھا کہ دن رات اسی میں مشغول رہتے، ان کو سمجھاتے، وہ غصہ ہوتے تو حضور مسکرادیتے، وہ گالیاں بکتے تو حضور ﷺ دعائیں دیتے، وہ روشن معجزات دیکھ کر اور آیاتِ الٰہی سن کر بھی کفر سے چمٹے رہنے پر اصرار کرتے، تو حضور ﷺ کے شفیق دل پر غم واندوہ کے بادل چھاجاتے، آپ رات بھر اللہ تعالیٰ کی جناب میں ان کے لیے ہدایت کی دعائیں مانگتے۔ اخلاص ومحبت کا یہ بے مثل انداز کفارِ مکہ نے بھلا کب دیکھا تھا۔ وہ دل ہی دل میں خیال کرتے کہ اس ساری جدّو جُہد اور شبانہ روز تگ ودو کے پیچھے یقیناکوئی بڑا مقصد ہے، جس کے حصول کے لیے آپ ﷺ اتنی مشقت برداشت کر رہے ہیں اور ہمارے جو رو جفا پربے حد حوصلے اورحِلم کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ لامحالہ یہ دولت جمع کرنا چاہتے ہیں یا انہیں اقتدار کی ہوس ہے یا بادشاہ بننا چاہتے ہیں، آخر کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے جس کے باعث انہوں نے اپنا یہ حال بنا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ کریم ﷺ کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ اے نادانو!تم کس اُدھیڑ بُن میں ہو، سن لو میں اپنی اس جانکاہی اور دل سوزی کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ میری یہ خواہش ضرور ہے کہ تم نے آپس میں قتل وغارت کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اور ایک دوسرے کی ایذارسانی میں اپنی قوتیں صَرف کر رہے ہو، اس سے باز آجاؤ اور آپس میں پیار ومحبت سے رہو۔ تمہاری باہم رشتہ داریاں اور قرابتیں ہیں، تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ بھائی بھائی کا گلا کاٹے، چھوٹا بڑے کی پگڑی اچھالے، کسی کی جان و مال محفوظ نہ ہو۔ مجھے تمہارے یہ انداز پسند نہیں، میں تم سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھو تاکہ تمہاری زندگی میں ایک خوشگوار تبدیلی نمودار ہوجائے، (ضیاء القرآن، ج:4، ص:376، بتصرف)‘‘۔ اس تفسیرکے مطابق اس کا فائدہ جملہ قریش کے لیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کا سب سے بڑا کردار - ابو فہد ندوی

دوسرا معنی تمام قریش میں رسول اللہ ﷺ کی قرابت تھی، جب قریش نے آپ کی رسالت کی تکذیب کی اور آپ کی اتباع کرنے سے انکار کردیا توآپ ﷺ نے اُن سے فرمایا:اے میری قوم! تم نے میری اتباع سے توانکار کرہی دیاہے، لیکن تمہارے ساتھ میری قرابت ہے، اسی کی پاسداری کرلو، (المعجم الکبیر:13026، صحیح البخاری:4818)‘‘۔

اگرچہ محبتِ اہلِ بیت ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، آیتِ تطہیر، آیتِ مباہلہ، دیگر آیات ِکریمہ ا ورمتعدد احادیثِ مبارکہ میں شانِ اہلبیت نہایت وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس آیت کوبھی عظمتِ اہلبیت پرمحمول کیاجاسکتا ہے، لیکن یہ سید المرسلین ﷺ کے شایانِ شان نہیں ہے کہ آپ کوئی صلہ مانگیں، اس توجیہ کی گنجائش یقینا موجود ہے اور اس پر بعض روایات دلالت بھی کرتی ہیں۔ لہٰذا یہ توجیہ بھی ’’حَسَن‘‘ ہے اور ہم اس کورد نہیں کرتے، لیکن اس کے مقابلے میں دوسری توجیہ ’’اَحْسَن‘‘ہے۔

علامہ غلام رسول سعیدی نے اس معنی کی بہترین تاویل کی ہے، جس سے سارے اشکالات رفع ہوجاتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:

’’قرآنِ مجید میں جس اجر کی نفی ہے، اس سے معروف اجر مراد ہے، یعنی مال ودولتِ دنیا، جبکہ اس آیت میں جس اجر کو جائز قراردیاگیا ہے، وہ ہے :’’آپ کے قرابت داروں سے محبت کرنا، اُن کی تعظیم کرنا اور اُن کے ساتھ نیک سلوک کرنا‘‘۔ رہا یہ سوال کہ اپنے اقارب کے ساتھ محبت کرنے اور اُن کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تلقین اقربا پروری ہے اور یہ نبی ﷺ کے شایانِ شان نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہ ازخود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرمایا ہے، سو آپ پراعتراض بالواسطہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں نبی ﷺ کا شرف اور فضیلت ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ کو یہ خصوصیت عطا کی کہ بعد کا کوئی مسلمان کتنی ہی عبادت کیوں نہ کرلے، وہ صحابی کے اُس مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا، جس نے ایمان کے ساتھ آپ کو دیکھا اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج کوبھی خصوصیت عطا فرمائی کہ کوئی خاتون کتنی ہی عابدہ زاہدہ ہو، وہ آپ کی ازواج کے مرتبے کو نہیں پاسکتی، کیونکہ وہ سب مومنوں کی مائیں ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے اہلِ بیت کو یہ عزت وخصوصیت عطا فرمائی ہے کہ ان کی محبت کو امت پر واجب کردیا، ان پر صدقاتِ واجبہ کو حرام قرار دیا اور ہر نماز میں اُن پر صلوٰۃ بھیجنے اور ان کے لیے برکت کی دعا کرنے کومقرر رکھا، (تبیان القرآن، ج:10، ص:587، بتصرف واضافہ)‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   سراب زندگی (2) - احسن سرفراز

’’مَوَدَّۃ فِی الْقُرْبٰی‘‘ کا تیسرا معنی ’’تَقَرُّبْ اِلَی اللّٰہ‘‘ ہے، جوکہ اس حدیث سے ثابت ہے:

’’آپ ﷺ نے فرمایا:‌میں نے تمہیں جوہدایت اور (حق کی)روشن نشانیاں دیں، اس پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے اس کے کہ تم اللہ سے محبت کرو اور اس کی اطاعت کر کے اس کا تقرُّب حاصل کرو، (المعجم الکبیر:11144)‘‘، الفرقان: 57بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے، علامہ غلام رسول سعیدی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہ اعتراض نامناسب ہے کہ دیگر آیات میں تبلیغِ رسالت پر اجر کرنے کی نفی ہے اور اس آیت میں اثبات ہے، کیونکہ اجرِ دنیا کے طلب کی نفی کی گئی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی قُربت و رضاکا تعلق اجرِآخرت سے ہے۔ اس پر اقربا پروری کا اطلاق نہیں ہوتا، اس لیے اس آیت کی یہ سب سے عمدہ تفسیر ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں نے جو تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا اور تبلیغ کی مشقت اٹھائی ہے، اس کا میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا، سوائے اس اجرِ آخرت کے جو تمہارے اپنے مفاد میں ہے کہ تم اللہ کی توحید اور اُس کی اطاعت سے محبت رکھو اور ہمیشہ اس کے احکام پر عمل کرتے رہو، جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان کے قریب نہ جاؤ۔ جو شخص اللہ کی اطاعت کر کے اُس کا قرب حاصل کرے، اُس سے محبت رکھو، اس لیے کہ انسان صرف اپنے محبوب ہی سے نہیں بلکہ اس کے مُحِب سے بھی محبت کرتا ہے۔ پس جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا ہوگا اور اس آیت کے عموم میں داخل ہوگا کہ میں تبلیغِ رسالت کی مشقت پر صرف اس اجر کا طالب ہوں کہ تم اللہ کے قرب ورضا کو اپنے لیے وسیلۂ نجات بناؤ، (تبیان القرآن، ج:10، ص: 587-588، بتصرف)‘‘۔

جیساکہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اگر ’’اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی‘‘ سے اہلِ بیت اطہار کی محبت ہی بطورِ اجر مراد ہو، تو ہم اس کی نفی نہیں کرتے، صرف اتنی بات کہتے ہیں کہ ’’تَقَرُّبْ اِلَی اللّٰہ‘‘ والی تفسیر اَحسن ہے اور اس پر کوئی عقلی اشکال وارد نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی‘‘ کلماتِ قرآنی ہونے کے سبب ’’قَطْعِیُّ الثَّبُوْت‘‘ ہیں، لیکن ان کا مصداق ’’قَطْعِیُّ الدَّلَالَۃ‘‘ نہیں بلکہ ’’ظَنِّیُّ الدَّلَالَۃ‘‘ ہے۔ لہٰذا اگر اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد آپ ﷺ کے قرابت داروں ہی کی محبت ہے، توعلامہ غلام رسول سعیدی کی سطورِ بالا میں بیان کردہ توجیہ اَحْسن ہے اور یہ توجیہ میں نے کسی اور تفسیر میں نہیں دیکھی اور اگر اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد ’’تَقَرُّبْ اِلَی اللّٰہ‘‘ ہے، تو پھر المعجم الکبیرمیں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کی بیان کردہ حدیث اَحْسَن توجیہ ہے اور اس پر کوئی عقلی اشکال بھی وارد نہیں ہوتا۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں