مساوی حقوق: ایک واہمہ - ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

قدرت کو تنوع یقینا پسند ہے- قوس قزح سے لیکر تتلیوں تک، پھولوں سے لیکر بڑے بڑے درختوں تک، میدانوں سے لیکر کوہ ہمالیہ کی چوٹیوں تک، سمندروں سے لیکر گلیشیئرز تک، کھیتوں میں تربوزوں اور خربوزوں سے لیکر اخروٹ تک، کتوں سے لیکر شیر تک، جراثیم سے لیکر وھیل تک اور ہاتھی سے لیکر چیونٹی تک۔ بو قلمونی کا ایک عجیب و غریب تماشا آنکھوں کے سامنے ہے۔ کہیں مساوات نظر نہیں آتی۔ گائے، بکریوں کے سینگ ہیں، کتے اور گدھے سینگ سے محروم ہیں، کتے اور شیر کے دانتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، بھالو ہمہ خور ہے، شیر اور چیتا گوشت خور ہیں، تیرنا کتے کی فطرت ہے اور انسان مشکل سے سیکھتا ہے۔
بات انسان کی ہوئی ہے تو کوئی لمبا ہے، کوئی چھوٹا ہے، کوئی موٹا ہے تو کوئی پتلا ہے۔ کہیں صنفی عدم مساوات کا الزام نہ لگ جائے تو کوئی لمبی ہے کوئی چھوٹی ہے، کوئی موٹی ہے تو کوئی چھوٹی ہے۔ کوئی سفید ہے، کوئی کالا ہے، کوئی گوری ہے تو کوئی کالی ہے، کوئی بچہ ہے کوئی بوڑھا ہے، کوئی بچی ہے تو کوئی بوڑ ھی ہے۔ کوئی صحت مند ہے، کوئی مریض ہے۔ عورت وہ بھی جو ماڈلنگ کرکے کروڑ وں کماتی ہے، دوسری طرف وہ بھی فٹ پاتھ پر بیٹھ کے روتی ہے۔ کسی کے پاس بی ایم ڈبلیو ہے، دوسرے کے پاس سائیکل بھی نہیں۔
ان مثالوں سے ایک ہی بات واضح ہو جاتی ہے کہ کائنات اور زندگی دونوں میں کہیں مساوات نظر نہیں آتی۔ تنوّع ہے، بو قلمونی ہے، اونچ نیچ ہے، فرق ہے اور اسی فرق کی بناء پر ایک چیز دوسری چیز سے مختلف ہے، منفرد ہے۔ فطرت کی طرف سے ہر چیز کا دائرہ کار ہے۔ سورج 9 کروڑ 30 لاکھ میل کے فاصلے پر ہے۔ اگر یہ فاصلہ کم یا زیادہ ہو جائے تو نتیجہ ہر وہ شخص جانتا ہے جس نے سائنس کو تھوڑا بہت پڑھا ہو۔ دریاؤں اور سمندروں کی اس حالت کو طغیانی یا طوفان کہتے ہیں، جب یہ اپنے کناروں سے باہر بہتے ہیں۔ زمین اپنی مقررہ رفتار پر چلتی ہے، جب یہ رفتار کم یا زیادہ ہو جائے، اس کا جواب کسی فزکس والے سے پوچھیں۔ انسانی جسم میں خلیے ایک قانون کے مطابق عمل کرتے ہیں جب لا قانونیت آجائے تو اس کو کینسر کہتے ہیں۔
انسانی زندگی کی طرف آتے ہیں، ابھی تک زندگی کی جو گاڑی ہے، وہ مرد و عورت پر چلتی ہے۔ تیسری صنف بھی ہے، اس کو بھی دنیا میں رہنے کا حق حاصل ہے لیکن گاڑی کی چلنے کا انحصار مرد و عورت پر ہے۔ قدرت نے عورت کو جو صلاحیتیں دی ہیں، لاکھ کوشش کے باوجود مرد ان کو نہیں سیکھ سکتے کیونکہ یہ صلاحیتیں ایک سوفٹ ویئر کی صورت میں ان کی روح میں ڈال دی گئی ہیں۔ اسی طرح مردوں کو جو صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ عورتوں میں نہیں ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ ایک کے پاس پانی ہے، آٹا نہیں ۔ دوسر ے کے پاس آٹا ہے، پانی نہیں اور روٹی دونوں کے لیے ضروری ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ پانی اور آٹے کو ملا کر روٹی پکائیں اور کھائیں، جس میں دونوں کا فائدہ ہے۔ اگر جھگڑا یہ شروع ہو جائے کہ ایک کے پاس جو پانی ہے، یہ اس کے پردادا نے چوری کیا تھا اور دوسرے کے پاس جو آٹا ہے، اس کی پردادی نے کسی باورچی خانے سے حاصل کیا تھا تو وقت اس جھگڑے پر ضائع ہو جائے گا اور دونوں کا نقصان ہوگا۔
مغرب میں تحقیق کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے، وہ کچھ ایسی ہی ہے۔ نساء پرستی کہتی ہے انگریزی میں ہسٹری کا لفظ مردوں کا تراشیدہ ہے یعنی مردوں کی کہانی ہے کیونکہ یہ "ہز سٹوری" ہے تو عورتوں نے "ہر سٹوری" لکھنا شروع کیا۔ ذہنی مشق کرنے اور زبان سیکھنے کے لیے شاید ان باتوں میں کوئی فائدہ ہو لیکن حقیقی زندگی کے لیے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور لسانی دلیل بھی ایک لمحے میں کمزور پڑ جاتی ہے۔ اگر انگریزی میں یہ "ہز سٹوری" ہے تو اردو میں تاریخ مونث ہے تو کیا اردو میں تاریخ عورتوں نے لکھی تھی؟ اسی طرح اردو میں طاقت کے جو الفاظ ہیں وہ اکثر مونث ہیں، فوج، پولیس، حکومت، عدالت، قوم ، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نساء پرست نے یہ سازش کی تھی۔ پھر یہاں کے مرد بھی یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ فوج اور پولیس کا سربراہ یہاں مرد ہی ہوتا ہے لہٰذا فوج اور پولیس کو مذکر استعمال کیا جائے۔
اصل میں ان نظریات میں سیاست ضرور چھپی ہے یعنی طاقت حاصل کرنے کی خواہش ۔ جب ہم زندگی کا بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کا راز طاقت میں نہیں بلکہ محبت میں پوشیدہ ہے۔ اگر نساء پرستوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی زندگی کسی نہ کسی طرح محبت کی طاقت سے خالی رہی ہے، اس لیے وہ سیاست کے ذریعے طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ انسانوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ساری دنیا میں عورتوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ البتہ یورپ میں ضرور ہوئی ہے، کیونکہ مذہبی طور پر عورت کو برائی کی جڑ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق حضرت آدمؑ نے بی بی حواؑ کے اکسانے پر ممنوع درخت کے پاس گئے اور جنت سے نکالے گئے۔ اس عقیدے کی وجہ سے مغربی معاشرے میں ، لا شعوری طور پر، عورت کو وہ مقام حاصل نہیں جو مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق عورت کو حاصل ہے- قرآنی نص اس حقیقت پر دال ہے کہ شجر ممنوعہ کے پاس جانے میں دونوں قصور وار ہیں۔ پھر حدیث کی رو سے علم حاصل کرنا دونوں پر فرض ہے لیکن عورت کو کچھ خصوصی مراعات بھی حاصل ہیں۔ وہ یہ کہ غم روزگار قانوناً مرد کی ذمہ داری ہے۔ اگر بیوی چاہے تو اپنے دوھ د کا معاوضہ بھی شوہر سے لے سکتی ہے۔ مغرب میں عورت کا حال قابل رحم اس لیے ہے کہ اس کی فطرت میں رحم ہے لیکن مرد اس سے بے رحمی کے کام کراتا ہے، جس کے نتائج کسی دن بڑے بھیانک ہوں گے۔ اس کی فطرت میں وفاداری ہے لیکن مرد اس سے بے وفائی کے کام کراتا ہے۔
جہاں تک مساوی حقوق کی بات ہے، وہ واہمہ اس لیے ہے کہ جو ذہنی کوفت اور جسمانی تکلیف بچوں کی پیدائش سے لیکرپرورش تک ماں اٹھاتی ہے، اس کا ایک فیصد بھی باپ کے حصے میں نہیں۔ اگر فطرت کو مساوات پسند ہوتی تو پیٹ میں پرورش پانے کی تقسیم اس طرح ہوتی کہ بچے چند مہینے باپ کے پیٹ میں اور چند مہینے ماں کے پیٹ میں پرورش پاتے۔ پھر ایک بچے کی پیدائش کی تکلیف باپ کے حصے میں اور دوسرے کی ماں کے حصے میں آتی۔ اس ایک مثال سے اپ دوسری مثالوں پر آسانی سے سوچ سکتے ہیں۔
دوسری حقیقت، مساوی حق کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایوان میں جتنے مرد اراکین ہیں، اتنی تعداد عورت ممبران کی ہونی چاہیے۔ ایک دفعہ صدر یا وزیر اعظم مرد کو اور دوسری مرتبہ عورت کو ہونا چا ہیے۔ ایک ادارے میں جتنے مرد ملازم ہیں، اتنی ہی تعداد عورتوں کی ہونی چاہیے۔ مثال کو ذرا پھیلا کر دیکھیں تو معاشرے میں اگر ایک کروڑ مرد ہیں تو ایک کروڑ عورتیں ہونی چاہئیں۔ سب ایک عمر کی ہوں، سب صحت مند ہوں، سب خوبصورت ہوں، سب کے پاس بی ایم ڈبلیو ہو۔ کیا یہ ممکن ہے؟ یاایک خواب ہے؟ خواب کا مطلب یہ ہے کہ یہ انسان کی اجتماعی لاشعور میں پنہاں ہے اور جنت کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ یہاں زمانی اور مکانی قیود اس خواب کو حقیقت بنانے میں حائل ہیں-
چلیں مان لیتے ہیں کہ ایک ادارہ ہم نے ایسا بنا لیا، جس میں منیجر عورت ہے، اکاؤنٹنٹ مرد ہے۔ پانچ سو ملازمین ہیں جن میں سے ڈھائی سو مرد اور ڈھائی سو عورتیں ہیں۔ پچاس عورتیں مادری چھٹی پر چلی گئیں، یہ عموما ڈھائی تین مہینےکی ہوتی ہے۔ دوسری بات وہ عورتیں جو حاملہ ہوتی ہیں، ان کے کئی نفسیاتی اور کئی حیاتیاتی مسائل ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ان کے کام کا معیار گر جاتا ہے اور یہ تحقیق بھی ابتدائی مراحل میں ہے کہ خصوصی ایام کے دوران عورتوں پر کیا اثرات پڑتے ہیں اور پھر کام کے معیا ر پر کیا اثر پڑتا ہے؟
مغرب کی عورت اپنی آزادی سے خوش ہے، بلکہ مدہوش ہے۔ اس کو ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں ہوا ہے کہ مرد نے اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہے؟ اس پر دہری ذمہ داری ڈال دی ہے، بلکہ اس پر ظلم کیا ہے۔ ظلم یہ ہے کہ کسی چیز کو غلط جگہ پر رکھنا، جہاں کتابیں رکھی جاتی ہیں وہاں جوتے نہیں رکھتے، جرابیں پاؤں کے لیے ہیں، ہاتھوں کے لیے دستانے ہیں البتہ کسی مجبوری میں جرابوں کو بطور دستانہ استعمال کیا جا سکتا ہے یا ناک کے ذریعے خوراک دی جا سکتی ہے؟ ویسے ناک کا وظیفہ سانس لینا ہے لیکن ہم کان سے سانس لینے کو ترقی سمجھتے ہیں، جس کا نتیجہ کچھ سالوں بعد آنے والا ہے-
انسانوں کو چاہیے خواہ وہ جس مذہب، ثقافت، ذات یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں، محبت کے اصول کو اپنائیں، جس کی بنیاد رحم پر ہے۔ مرد کو چاہیے عورت پر رحم کرے اور عورت کو چاہیے مرد پر رحم کرے اور سارے انسانوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے پر رحم کریں- یہی انسانیت ہے، یہی آدمیت ہے، باقی سب سیاست ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.