کیا آپ کے لیے بچت کرنا مشکل ہے؟ اِن ہدایات پر عمل کریں

ایسا ہونا تو نہیں چاہیے لیکن فی زمانہ ہمیں پیسہ ہی انسان کی زندگی کا مرکز و محور نظر آتا ہے۔ وہ ایک طرف جہاں پیسہ کمانے کی دھن میں مگن نظر آتا ہے تو وہی اسے بچانے کی فکر بھی دامن گیر رہتی ہے۔ بچت کرنا ایک مشکل کام ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثریت بہت کچھ کمانے کے باوجود ہر چند دن پریشان نظر آتی ہے۔ اسے ارادے کی کمزوری کہیں یا کچھ اور لیکن بچت کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا لوگوں نے اسے اپنے لیے بنا لیا ہے۔ آئیے آپ کو کچھ ایسے طریقے بتاتے ہیں جن کی مدد سے آپ "بچت" جیسا اہم کام کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

بجلی سے بچت

یہ بات مختلف طریقوں سے سامنے آئی ہے کہ کچھ چارج ہونے والی چیزیں اگر مستقل چارج پر رہیں تو وہ زیادہ بجلی خرچ کرتی ہیں جو آپ کے بجلی کے بل کو بڑھاتی ہیں۔ ممکن ہے آپ اسے ایک معمولی خرچ سمجھ کر نظر انداز کرتے ہوں مگر ایسا کرنا نہیں چاہیے۔ یہ ماہانہ کے حساب سے ایک بڑا خرچ بنتا جاتا ہے اور سال کے آخر میں یہ ہزاروں روپے بن جاتے ہیں۔ اس لیے اُن تمام بجلی کی مصنوعات کا تار سوئچ سے نکال دیں جن کا استعمال آپ نہیں کررہے ہیں۔

استعمال نہ ہونے والی اشیاء کی فروخت

دنیا کا سب سے مشکل کام اپنی پرانی چیزیں کسی کو دینا یا فروخت کرنا ہے لیکن اگر وہ چیزیں آپ بالکل بھی استعمال نہیں کرتے تو انہیں فروخت کردیجیے کیونکہ ہر کچھ دن بعد اُن کی ریپئرنگ پر آپ کا پیسہ بلاوجہ خرچ ہوتا ہے۔اسلام میں زکٰوۃ کا جو حکم ہے، اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہر سال آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ کے پاس کیا کچھ زیر استعمال ہے؟ اور کون سی چیزیں اضافی ہیں؟ اگر ہر سال زکٰوۃ کا حساب لگاتے ہوئے فہرست تیار کی جائے تو بہت سی ایسی چیزیں بھی باآسانی سامنے آ سکتی ہیں، جو استعمال نہ ہوتی ہوں۔

بچت اسکیم اور سیلز کا فائدہ اُٹھائیں

شاپنگ یعنی خریداری ایک شوق بھی ہے اور ضرورت ہے۔ لیکن آپ اسے ضرورت تک ہی محدود رکھیں تو بہتر ہے اور اگر کبھی کسی کو شوق اٹھے تب بھی عقلمندی اور سمجھداری کا دامن مت چھوڑے۔ سمجھداری یہ ہے کہ شاپنگ سے پہلے ویب سائٹس، اخبارات اور جرائد میں دیکھیں کہ 'سیل ' کہاں لگی ہوئي ہے؟ اور اسی جگہ کا رخ کریں۔ اپنی خریداری کو مختلف بڑی دکانوں کی سیلز کے لیے روکا بھی جا سکتا ہے۔ جیسا کہ آجکل سردیوں کے آغاز پر ایسے کپڑوں کی سیلز جابجا لگائی جا رہی ہیں جو گرمیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے اگلے سال کے موسم گرما کے کپڑوں کی خریداری کے لیے یہ بہترین وقت ہے

فون اور انٹرنیٹ کے اضافی پیکیجز ختم کریں

اگر آپ بہت زیادہ کالز نہیں کرتے یا وائی فائی کا استعمال نہیں کرتے تو اپنے انٹرنیٹ اور فون پیکیج کو تبدیل کریں۔ کیونکہ آپ کو اِس بات کا احساس نہیں ہوتا لیکن لامحدود ڈیٹا پیکیج کے مقابلے میں آپ کا کام شاید اُس سے آدھی قیمت پر ہوجائے۔ اسی طرح اگر آپ کو وائی فائی کی سہولت حاصل ہے تو آپ موبائل میں میسجز کا پیکیج ختم کرلیں۔ فون کرنے کے لیے اسکائپ، واٹس ایپ اور دیگر آپشنز استعمال کریں۔

باہر کھانا کھانے کی عادت سے چھٹکارا پائیں

ہر تھوڑے دن میں باہر کھانا کھانے سے بچیے اور گھر میں کھانا بنائیے، بلکہ اگر ہوسکے تو کھانا ہمیشہ زیادہ بناکر باقی فریزر میں محفوظ کرلیں تاکہ جب کھانا بنانے کا وقت نہ ہو تو بچا ہوا کھانا کھالیں اور باہر کھانے کی وجہ سے جو پیسے ضائع ہورہے ہیں اُن کو بچالیں۔

کارڈ سے ادائیگی ترک کریں

اگر آپ کے پاس کریڈٹ کارڈ ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کریڈٹ کارڈز آپ کے لیے ایک آسان حل ہے لیکن جب آپ کارڈ کی مدد سے ادائیگی کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں تو آپ کو دھیان نہیں رہتا کہ کتنے پیسے خرچ ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ نقد رقم کے ذریعے جب لین دین کیا جاتا ہے تو انسان اُسے کم خرچ کرتا ہے کیونکہ اُس کو محسوس ہورہا ہوتا ہے کہ وہ کتنے پیسے خرچ کررہا ہے۔ لہٰذا اگر آپ کریڈٹ کارڈ رکھتے ہیں تو سب سے پہلا کام یہ کرلیں کہ اسے استعمال کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں۔