وہ پلٹ کر پھرحملہ کریں گے - محمد عامر خاکوانی

ختم نبوت کے حوالے سے مشکوک ترمیم والا معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا۔ بات مگر ختم نہیں ہوئی، تجزیہ کرنے کے لیے بہت کچھ باقی ہے۔ کئی پہلو ایسے ہیں جن پر بات ہوسکتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات اتنی آسانی سے بھلائے نہیں جا سکتے، یہ تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور وقت آنے پر ان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس پورے قضیہ میں تین چار سبق ایسے ملے ہیں، جن میں ہم سب کے لیے جاننے، بوجھنے اور سمجھنے کو خاصا کچھ موجود ہے۔

پہلا یہ کہ ختم نبوت کے حوالے سے قوانین ایسے کانٹے ہیں جو بعض ملکی، غیر ملکی حلقوں کو ہمیشہ کھٹکتے رہیں، چبھن ان کے دلوں میں محسوس ہوتی رہے گی اور بار بار، پلٹ پلٹ کر وہ پھر حملہ کریں گے۔ یہ ایک متواتر عمل ہے۔ ان کے حملہ آور ہونے اور جواب میں سرکار مدینہ ﷺ کے غلاموں کے دفاع کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ اب یہ مقدر کی بات ہے۔ کسی کے اعمال میں سیاہی لکھی جانی ہے تو کوئی اپنے جذبے، محبت اور عشق رسول ﷺ کی بنا پر سرخرو ہوگا۔ کیا خبر کہ روز محشر اسے عالی مرتبتﷺ کی مسکراتی شفقت بھری نظر نصیب ہو، آپ کے وفادار، سچے غلاموں میں اس کا شمار ہو۔ راستے کھلے ہیں، ہر ایک کے لیے آپشن موجود ہے، جدھر جی چاہے چلا جائے۔ مغرب کی غلامی یا اپنے آقا رسول عربی ﷺ کی غلامی؟ فائدے میں وہی رہے گا جس نے اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ کو خوش کیا۔

دوسرا یہ کہ دینی جماعتیں پارلیمنٹ میں موجود ہیں، ان کی تعداد کم، زیادہ ہوتی رہتی ہے، مگر یہ صرف ان کا کام نہیں۔ اگرچہ دینی حلقوں کی توقعات دینی سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہتی ہیں اور وہ انہیں سپورٹ بھی اس لیے کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں اسلامی نظریات اور قوانین کا دفاع کیا جائے، مگر آخری تجزیے میں یہ سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، مین سٹریم جماعتوں کو کسی صورت چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ جو شخص خود کومسلمان کہلاتا ہے، اس کا ایمان مکمل ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ اپنے آقا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کودنیا جہاں سے زیادہ محبوب نہ سمجھ لے۔ یہ جنگ ہر ایک کو لڑنا ہوگی۔

تیسرا یہ کہ ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے جذباتیت کوئی خامی نہیں بلکہ قوت ہے۔ عوامی جذبات اور شدید ردعمل کا خوف ہی ہے، جس کے باعث آج تک توہین رسالت کا قانون نہیں بدل سکا۔ ن لیگ کی حکومت برق رفتاری سے نئی ترمیم اس لیے لے آئی کہ معلوم تھا معمولی سی تاخیر سے آگ بھڑک اٹھے گی۔ جذبات ممکن ہے اچھی چیز نہ ہوں، شدت کا رویہ بسا اوقات درست نہیں سمجھا جاتا، مگر ایمانیات، اللہ اور اس کے رسول کی عزت کے حوالے سے یہ سب چیزیں جائز، روا بلکہ انتہائی ضروری ہیں۔ قرارداد مقاصد ہو، اسلامی قوانین ہوں، ختم نبوت کا معاملہ یا پھرقانون توہین رسالت، ان تمام معاملات میں ایک حرف بلکہ نقطے کی تبدیلی بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔ زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہی واحد آپشن ہے۔ پرامن مگر نہایت مضبوط اور بھرپورانداز میں ہر سطح پر احتجاج تاکہ کسی کو ان حساس ترین آئینی شقوں اور قوانین کو چھیڑنے کی ہمت ہی نہ ہو۔ ختم نبوت کسی علمی مکالمے کا موضوع نہیں۔ یہ مکالمہ بہت پہلے ہوچکا، اس کا فیصلہ بھی تاریخ نے سنا دیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانا ہماری تاریخ کا نہایت اہم سنگ میل ہے۔ قوم نے طویل جدوجہد اور بےپناہ قربانیوں کے بعد یہ کامیابی حاصل کی۔ اب واپس مڑ کر نہیں جا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   با اخلاق یا رذیل

جہاں تک اس ترمیم کا تعلق ہے، کوئی بھولا آدمی ہی اسے ٹائپنگ کی غلطی یا کلیریکل مسٹیک کہہ سکتا ہے۔ یہ واضح طور پر، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا اقدام تھا۔ بڑی ہوشیاری اور عیاری کے ساتھ پنجابی محاورے کے مطابق باریک کام کیا گیا۔ چند لفظوں کی ترمیم، ایک آدھ جملے کو حذف کرنا اور نہایت ہوشیاری کے ساتھ الیکشن رولز میں ایسی تبدیلی جو بظاہر محسوس بھی نہ ہوسکے۔ یہ کسی سادہ لوح آدمی کی غلطی نہیں۔ کلیریکل مسٹیک یا تکنیکی نوعیت کی غلطی تو تب ہوتی، جب یہ تبدیلی مختلف جگہوں پر ہوتی۔ صرف قادیانیوں سے متعلقہ چیزوں کو کیوں چھوڑا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان تمام چیزوں کو چھپا کر دھوکے سے کرنے کی کیا منطق تھی؟

غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو اس معاملے کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ یہ کام دانستہ یعنی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا یا پھر یہ غلطی سے ہوگیا۔ بادی النظر میں تو یہ دانستہ لگ رہا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ کس سطح پر یہ ہوا؟ منسٹری آف لا میں کسی نے یہ کام دکھایا یا پھر وزیرقانون اور مشیر قانون اس میں شامل تھے، یا پھر ٹاپ سے یعنی میاں نواز شریف کی سطح سے اس کی ہدایت ملی؟ کوئی چاہے تو حسن ظن سے کام لے کر میاں صاحب یا دیگر افراد کو اس سے بری کر سکتا ہے، مگر تکنیکی اور منطقی طور پر بہرحال ذمہ داری ان سب پر عائد ہوتی ہے۔ بظاہر یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ لا منسٹری کا کوئی کلرک یا سیکشن افسر اپنی مرضی سے ان حساس ترین شقوں کو چھیڑے ۔ ایسی حماقت کون کر سکتا ہے؟ سرکاری ملازم جو ویسے بھی اپنی نوکری بچانے کی فکر میں رہتے ہیں؟ کسی بڑی ترغیب یا بڑے ایجنڈے کے بغیر ایسی حرکت کرنا مشکل ہے۔ میاں نواز شریف کے حق میں ایک دلیل جاتی ہے کہ ایسے بحرانی دور میں وہ اتنا بڑا بلنڈر کیسے کر سکتے ہیں؟ پھر وہ دینی شعار کے علمبردار ہیں، ختم نبوت کے حوالے سے ان کا مؤقف امت سے ہم آہنگ رہا ہے۔ اس لیے بڑے میاں صاحب پر براہ راست الزام نہیں لگانا چاہیے، مگر اس معاملے کی فوری تحقیقات انتہائی ضروری ہے۔ وزیر قانون پر انگلی اٹھی ہے، ان کی بدنیتی ثابت نہ ہو، تب بھی اتنے بڑے بلنڈر کے بعد انہیں خود ہی مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

ایک نہایت خطرناک پہلو یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور جے یوآئی (ف) کے اراکین پارلیمنٹ نے اشارہ دیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں اس قانون پر جو بحثیں ہوئیں، ان سب میں حلف نامہ موجود تھا، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سینٹ اور قومی اسمبلی سے جو قانون منظور کرایا گیا، اس میں آخری مرحلے پر بغیر کسی کو بتائے تبدیلیاں کی گئیں۔ یہ بات درست ہے تو نوعیت زیادہ خوفناک ہوجاتی ہے۔ یہ نہ صرف جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ ہے، بلکہ سب پارلیمانی جماعتوں کا بھی عملاً مذاق اڑایا گیا۔اب یہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ اس مجرمانہ کارروائی کے مرتکب ہوئے، ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   با اخلاق یا رذیل

دینی جماعتوں کا کردار مجموعی طور پر مثبت رہا، اگرچہ انہیں زیادہ مستعدی دکھانی چاہیے تھی۔ جے یوآئی کے سینٹر حمداللہ نے سینٹ میں قانون کی منظوری کے وقت اس ایشو کو اٹھایا۔ کہا جاتا ہے کہ سراج الحق کی مشاورت سے حافظ حمداللہ نے ترمیم پیش کی مگر قانون کی منظوری نہ رکوائی جا سکی۔ قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے اس ایشو کو اٹھایا اور ترمیم بھی پیش کی۔ جماعت اسلامی اور جے یوآئی ف کے اراکین اسمبلی کا اخلاص اور مثبت کردار اپنی جگہ، مگر حق یہ ہے کہ اصل کریڈٹ پنڈی کا شیخ زادہ لے گیا۔ اسمبلی میں شیخ رشید کی پرجوش اور دبنگ لہجے میں کی گئی تقریر نے ہر ایک کو چونکایا۔ یہ ایشو حقیقی معنوں میں شیخ رشید ہی نے نمایاں کیا۔ یہ ان کا کریڈٹ ہے، جسے شیخ رشیدکی متنازع شخصیت کے باعث زیادہ نمایاں نہیں کیا جا سکا۔ مین سٹریم میڈیا کے ایک بڑے حصے نے بروقت اور نہایت عمدگی سے ایشو کو نمایاں کیا، سوشل میڈیا نے اس میں بھرپور حصہ ڈالا، یوں رات گئے تک اتنا دباؤ پیدا ہوگیا کہ حکومت فوری پسپائی پر مجبور ہوگئی۔

تحریک انصاف کے بعض اراکین پارلیمنٹ، جیسے علی محمد خان نے بڑے اچھے طریقے سے میڈیا پر یہ معاملہ اٹھایا، شاہ محمود قریشی نے اس پر بھرپور بیان دیا، مگر قائد تحریک انصاف عمران خان کا کردار نہایت مایوس کن اور افسوس ناک رہا۔ وہ اس اہم ترین ، حساس معاملے میں بالکل ہی نہ بولے اور گونگے کا گڑ کھائے بیٹھے رہے۔ عمران خان کی یہ خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری اور شفقت محمود کے حوالے سے یہ خبریں آئیں کہ انہوں نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو اس معاملے میں سخت سٹینڈ لینے سے روکا۔ انگریزی میں لکھنے والے ہمارے اکثر دانشوروں کی طرح یہ دونوں بھی پاکستانی سماج کے بنیادی فیبرک سے بےخبر ہیں۔ انہیں علم ہی نہیں کہ عوام کے ختم نبوت کے معاملے میں جذبات اور احساسات کیا ہیں؟ عمران خان کو بہرحال ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پیپلزپارٹی، اے این پی جیسی پارٹیاں کھلم کھلا لبرل ازم کی علمبردار ہیں، ان سے کیا امید کی جا سکتی ہے ،عمران خان مگر رائیٹ آف سنٹر لیڈر ہیں۔ ان کے ووٹ بینک کا بڑا حصہ یہی خیالات رکھتا ہے۔ عمران خان کو اپنے ووٹرز اور کارکنوں کے جذبات کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے۔ سیاستدانوں کی انگلیاں عوام کی نبض پر ہوتی ہیں، خان صاحب نے اپنے مداحوں کو بری طرح مایوس کیا۔

حرف آخر یہ کہ ایک حملہ پسپا ہوگیا، مگر یہ آخری کوشش نہیں تھی۔ بار بار پلٹ پلٹ کر حملے ہوتے رہیں گے، یہ سلسلہ تھمے گا نہ دفاع کرنے والوں کے حوصلے میں ان شاءاللہ کمی آئے گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ختم نبوت کا محافظ خود اللہ پاک ہے، وہ ہمیں اس کے لیئے استعمال کرلے یہی بہت ہے ورنہ دنیاء کی کوئی طاقت اس میں بال برابر فرق بھی ڈال نہیں سکتی۔ البتہ اس سارے شوروغوغہ میں وہ ترامیم ذیر بحث آئیں ہی نہیں جن کے لیئے یہ سیج سجائی گئی تھی۔ قرین قیاس ہے کہ یہ شوشہ جان کر اسی لیئے چھوڑا گیا کہ ختم نبوت کے نام پر اتنی دھول اڑاؤ کہ اصل بات پر میڈیاء میں بحث ہی نہ ہو