سیاست کے کھیل میں غیر سیاسی ’’ڈیویلپمنٹ ٹِپ‘‘ - رضوان اللہ خان

آپ کا تعلق چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو یا آپ کسی سیاسی جماعت کے رُکن، کارکن، جیالے، دیوانے اور پرستار کچھ بھی ہیں تو یہ پیغام فقط آپ کے لیے ہے۔

1905ء میں چند نوجوانوں پر مشتمل گروہ نے بنگال مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ گنتی کے بیس یا پچیس لوگ تھے۔ مسلمان، سِکھ اور ہندو نوجوانوں پر مشتمل اس گروہ کو پنپنے ہی نہ دیا گیا۔ انہیں انڈرگراؤنڈ کام کرنا پڑا۔ آہستہ آہستہ دباؤ بڑھتا چلا گیا۔ ایک سکھ لڑکا پکڑا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ پھر ایک مسلم نوجوان بھی مارا گیا اور آہستہ آہستہ چند ہی ماہ میں اس مختصر سی ’’انڈر گراؤنڈ ‘‘جماعت کے اکثر جوانوں کو ’’انڈر سینڈ ‘‘ کر دیا گیا۔ اس جماعت میں زیادہ تعداد ہندو نوجوانوں کی تھی۔ بچ جانے والوں نے 7اگست 1905ء کو قوم پرست بنگالی رہنماؤں کی جانب سے کلکتہ ٹاؤن میں نکالی جانے والی ریلی کے بعد اسی نئی تحریک کی چھتری تلے پناہ لی۔

ہندوستان کی ایسی تمام چھوٹی بڑی تحریکوں اور باقی دُنیا کی آج تک کی تحاریک اور نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو کسی بھی نظریے یا جماعت کو پنپنے اور مضبوط ہونے کے لیے تین گروہوں میں تقسیم ہونا پڑتا ہے۔ پہلا گروہ خدمت و ایثار کے کاموں میں جَت جاتا ہے، دوسرا گروہ اصلاح و زبانی دعوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے جبکہ تیسرا گروہ جارح اقدامات کی راہ اپناتا ہے۔ ان تین گروہوں کو آپ پوری دنیا کے کسی بھی نظام، تحریک یا مشن میں تلاش کر سکتے ہیں۔ اس کی مثال انبیاء علیہ السلام کے مشنز سے بھی ملتی ہے۔ پہلا ایک عرصہ زمین پر جتنے بھی انبیاء اللہ کا نظام نافذ کرنے آئے، انہوں نے خدمت اور فلاح و بہبود کے کاموں سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ دوسرا گروہ حضرت نوح، حضرت لوط، حضرت شعیب و دیگر انبیاء پر مشتمل تھا جنہوں نے فلاح کے ساتھ اصلاح و مستقل مزاجی کے ساتھ زبانی دعوت سے کام لیا۔ تیسرا گروہ نبی الآخر الزاماں ﷺ تک کا ان انبیاء ؑ پر مشتمل تھا جنہوں نے پہلے دو کاموں کے ساتھ ساتھ عملی میدانوں میں جہاد وقتال بھی کیا۔

آج مغربی دُنیا بھی اپنے نظریات کو پوری دُنیا پر رائج کرنے کے لیے انہی تین ’’کیٹگریز‘‘ کا سہارا لیے ہوئے ہے۔ ایک گروہ کے لوگ مشنریوں کی صورت میں پوری دُنیا میں مختلف فلاحی خدمات سرانجام دینے کو گھومتے پھرتے ہیں۔ دوسرا گروہ اپنے نظریات کی ترویج کے لیے ’’پروپیگنڈا ٹولز‘‘ اور دیگر ذرائع کا بھرپور استعمال کرتا ہے جبکہ تیسرا گروہ ’’نیٹو افواج‘‘ کی شکل میں پوری مُسلم دُنیا پر بارود برسانے میں مگن ہے۔ اب ہم مسلم ممالک کو اسی تناظر میں دیکھیں تو ہمارے ہاں بھی یہ تین کیٹگریز موجود ہیں۔ ایک گروہ خدمت و ایثار کا کام اپنے ذمے لیے اسی میں مگن ہے۔ ایک گروہ اصلاح و خیر کی ترویج کا بیڑا اُٹھائے ہوئے ہے تو تیسرا گروہ پوری مسلم دُنیا میں اپنی دفاعی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔

ذرا انہی تین کیٹگریز کو مزید ’’Narrow Down ‘‘ کرکے ملکی اور حکومتی سطح پر فِٹ کرکے دیکھیں تو حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، پھر حضرت امیر معاویہ ؓ اور بعد کے ادوار میں ایک گروہ جہاد و قتال میں مصروف رہتا، ایک گروہ کو اصلاح، دعوت اور تربیت(امر بالمعروف ونہی عن المنکر) کا کام سونپا جاتا جبکہ خود باقی حکومتی ڈھانچہ دیگر امور کے ساتھ فلاح ِ انسانیت اور خدمتِ خلق کی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں پورا کرتا۔ اب ذرا آج کے دور کی جانب آئیے تو یہاں حکومتیں کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائیوں سے نمٹنے یا عملی اقدام کے لیے باقاعدہ افواج رکھتی ہیں اور باقی دو کیٹگریز پر اپنے اپنے انداز میں کام کرتی نظر آتی ہیں۔

چونکہ میں اور آپ پاکستانی ہیں اور ہمارے ہاں سیاسی کھلبلی بھی مچی ہوئی ہے تو ان تین کیٹگریز کے لینز سے سیاسی جماعتوں کو ذرا فوکس کیجیے۔ ہمارے ہاں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے سیاسی جماعتو ں اور ان کے کارکنان نے صرف جارح رویہ اپنانے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور باقی دو کیٹگریز کو ذرا بھی گھاس نہیں ڈالی جاتی۔ ہونا یہ چاہیے کہ اگر آپ حکومت میں آتے ہیں تو اب کھل کر کھیلیں، سب میدان آپ کے پاس ہیں، افواج آپ کے پاس ہیں۔ کوئی دشمن میلی نگاہ سے دیکھے تو آنکھیں نوچ لیجیے ،کوئی سرحدات کی حرمت پامال کرے تو ٹانگیں توڑ دیجیے مگر۔۔۔۔یہ اپنی ہی عوام پر لعن طعن، گالم گلوچ ، طنز وتشنیع اور غلیظ الزامات و جگت بازی سے ’’ککھ‘‘ ہاتھ نہیں آنے والا۔

بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کارکن ہوں، سینٹر لائن یا دائیں بازو کی جماعتوں کے، سب ہی اس معاملے میں ایک دوجے پر برتری پانے کو دوڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مذہبی اور غیر مذہبی جماعتوں کا یہ رویہ ایک ہی پیج پر ہے۔ ایسے میں سیاست سے محبت رکھنے والے تمام نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ خدمت و اصلاح والی راہ اپنائیں۔ بڑی سیاسی پارٹیز یا ’’اونچا‘‘ امیدوار ووٹ خریدنے کا ماہر ہوتا ہے لیکن مذہبی سیاسی جماعتیں یا ’’عام‘‘ کینڈیڈیٹ تو اپنے چندوں سے ووٹ خریدنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔پھر وہ زور مزید تب ٹوٹتا ہے جب اسٹیبلشمنٹ کے زور پر اور چین کو راضی رکھنے کے لیے ایک اور مذہبی سیاسی جماعت بھی لانچ کردی جاتی ہے۔ ایسے میں ہر سیاسی پارٹی کے کارکنان و لیڈران کو عموماََ اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور کارکنان کو خصوصاََ فلاح کے کاموں میں آگے بڑھنا ہوگا۔

ممکن ہے مذہبی جماعتیں اپنا فلاحی کردار پیش کریں لیکن ان کا کردار اس انداز کا ہرگز نہیں جس کی ضرورت ہے۔اس بات کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ جب آپ کہیں : ’’ہم اتنا فلاحی کام کرتے ہیں اور ووٹ پھر بھی نہیں ملتا، کیا لوگوں کو یہ کام نظر نہیں آتا‘‘ تو اس سے نیت مکمل نہیں تو تھوڑی سی ضرور مشکوک ہوتی ہے کہ شاید یہ سب کام صرف ووٹ بینک بڑھانے کے لیے کیا جا رہا۔ دوسری وجہ یہ کہ آپ کا فلاحی کام گلی محلے سے باہر ہے، جبکہ گلی محلے والے آپ کی راہ تکتے ہیں۔

ذاتی مشاہدہ یہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام انتخابات تمام سیاسی لیڈران کو عین الیکشن کے دنوں میں عوام کا خیال آتا ہے۔ چند دِنوں سے مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور فالورز کا عجیب رجحان دیکھنے کے بعد دل چاہا کہ انہیں مشورہ دیا جائے اگر باقی پارٹیز یہ کام نہیں کرپارہیں ،تو آپ آگے بڑھیے۔ قدم اُٹھائیے اور اپنے لیڈران کو مجبورکیجیے۔ گلی محلوں کی کمیٹیاں تشکیل دیجیے اور نوجوانوں کو ذمہ داریاں بانٹیں۔ لیڈران کو نگران مقرر کیجیے اور مقامی سینیئرز سے راہنمائی لیجیے۔ گھر گھر جائیے، گلی گلی، محلے محلے کو چھان مارئیے۔ ان چھوٹی چھوٹی کمیٹیوں کے ذریعے عام عوام کے مسائل حل کیجیے۔ ان کے لڑائی جھگڑوں کو صلح میں بدلیے۔ ان کی مالی معاونت کیجیے، اپنی جیب سے نہیں بلکہ کمیٹی اور محلے والوں کے تعاون سے۔ٹاون اور سٹی لیول پر صفائی مہم چلائیں یا دیگر مختلف طرز کی بیداری مہمات چلائیے۔

بس یہ یاد رکھیے گا ان سب کاموں میں صرف اور صرف ایک ہی ’’ ingredient‘‘ استعمال کیجیے اور وہ ہے’’خلوصِ نیت‘‘ کا پاکیزہ مصالحہ۔ جانتے ہیں اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ آپ کی وجہ سے سیاسی شعور بیدار ہوگا، لوگوں کے مسائل حل ہوں گے، دوسروں کو طعنے دینے سے نجات ملے گی، سب آپ کا ساتھ دیں گے اور ایک دن ووٹ بھی آپ ہی کو ملنا شروع ہوجائے گا۔ بس قدم ہی تو بڑھانا ہے کام ہی تو کر کے دِکھانا ہے۔

رہی بات overall نوجوانوں کی تو کیا ہی مزہ ہو کہ تمام کی تمام سیاسی جماعتوں کے نوجوان آپس میں ایسی ہی مہمات کے مقابلے شروع کریں۔ مثبت مقابلوں سے جہاں باہمی رواداری پروان چڑھے گی وہیں میرا اور آپ کا پاکستان بھی سنور جائے گا۔ یہی ہے سیاست کے کھیل میں غیر سیاسی ـ’’ڈیویلپمنٹ ٹِپ‘‘ یعنی آپس میں جھگڑنے کے بجائے تعمیری کاموں میں وقت صرف کیا جائے۔

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.