پاسباں مل گئے کعبے سے صنم خانوں کو - مجیب الحق حقی

حالات کی کروٹ سے ظاہر ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کا ہوّا دکھا کر ایک نادیدہ گروہ جو مغرب کے ایجنڈے کا پروردہ ہے، نہایت دانشمندی سے پاکستان کا نظریاتی نقشہ تبدیل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ یہ سیکولر طبقہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور صحافت میں سرایت کیے ہوئے ہے اور اپنے مقصد کے حصول میں موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ ایسا کوئی موقع جس میں عوام کے جذبات بلند ہوتے ہیں، ان کے لیے اپنا شب خون مارنے کا مناسب موقع ہوتا ہے کہ عوام کی توجّہ کسی اور طرف ہوتی ہے اور یہ خاموشی سے اپنا کام کر جاتے ہیں۔ اس کی مثال جمعہ کی ہفتہ وار چھٹّی تھی جو اس کی آنکھ میں کھٹک رہی تھی۔ اس کو ایسے ہی ختم کرا کر مغربی آقاؤں کا دل خوش کیا۔ اس چھٹی کے خلاف طرح طرح کی تاویلات پیش کی جاتی رہیں کہ بینکنگ سسٹم میں مغرب سے سارے معاملات ہیں اور وہاں جب بینک کھلتے ہیں تو یہاں بند ہوتے ہیں اور جی بڑا نقصان ہورہا ہے، اور یہ کہ قرآن میں بھی ایسا حکم نہیں ہے بلکہ کام کا حکم ہے، وغیرہ وغیرہ۔

حدود آرڈیننس کے خلاف مغرب کے کھلے اشارے پر بے تحاشا پروپیگینڈہ کیا اور ہر معقول ترمیم کو نظر انداز کر کے اسے ختم کرایا گیا۔ اب نشانہ ناموس رسالت اور ختم نبوّت کے قوانین ہیں جس کے بعد قرارداد مقاصد کا نمبر آنا ہے۔ عوام جذباتی و بے شعور ہیں، نعرے اور لیڈرکے پیچھے آنکھ بند کرکے دوڑتے ہیں۔ ایسے میں صرف لیڈروں کو شیشے میں اتار کر اور اصل مقصد کے حصول میں پیش قدمی کی جاتی ہے۔

ختم نبوّت کا قانون انتہائی حسّاس ہے اور اس کو ہاتھ لگانے کے ذکر پر ہی فضا تپنے لگتی ہے لیکن مغرب کی خواہش بھی تو پوری کرنی ہے۔ لہٰذا اس کو تبدیل کرانے کے لیے اوّلاً ایک 'لٹمس ٹیسٹ ' ضروری تھا جس کے لیے یہ طبقہ مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ جب عوام جذباتی ہوں اور عوام و خواص کی توجّہ کسی اور طرف ہو۔ نواز صاحب کی نا اہلی اور پھر ان کے حامیوں کی طرف سے زوردار مزاحمت سے گرما گرم فضا میں ایک آئینی ترمیم کی طرف پیش قدمی ہوئی تو اس طبقے کو اپنی مراد بر آتی لگی۔ اس سے بہتر موقع ایسے لٹمس ٹیسٹ کا کیا ہوسکتا ہے جب نواز صاحب کے حامیوں کے جذبات عروج پر ہوں اور جو اسمبلی میں اکثریت میں بھی ہوں۔

غالباً مرحلہ وار پیش قدمی میں پہلا قدم اس کے ٹیکسٹ میں معمولی چھیڑ چھاڑ ہے جس میں بظاہر کوئی خاص بات ایک عام آدمی کو نہ لگے لیکن قانونی طور پر اس کی ہیئت پر بحث و مباحثے کا روزن کھل جائے۔ اس ایک تیر سے دو شکار میں سب سے زیادہ نشانہ علما بن گئے جو اپنی معصومیت اور اعتبار کے تئیں اتنے اہم معاملے میں بے عملی کا شکار ہوئے۔ حیرت ہے کہ اس شق کو چھیڑنے کی اجازت بھی کیسے دی گئی اور جماعت اسلامی کی نشان دہی کے باوجود اسے نظرانداز کیسے کر دیا گیا؟ اس کی غالباً وجہ علماء کی وہ نفسیات ہوسکتی ہے جو عشروں سے نصرانیت کے بجائے یہودیت کو ہی اسلام دشمن سمجھتی ہے۔ عمران خان گویا یہودیت کا کھڑا ہوّا ہے جس کو ہر قیمت پر پسپا کرنے کا جذبہ مقصد ِ اولیٰ ہے۔ اس جذبے اور نفسیات کا فائدہ اْٹھا کر لبرل طبقہ علماء سے کھیل کھیل گیا۔

ہمارا اعتراض صرف یہی ہے کہ اس قانون کو ہاتھ بھی لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا نواز صاحب کی سیاسی مہم سے کیا واسطہ تھا؟ بات یہی کہی جائے گی کہ یہ ایک لٹمس ٹیسٹ ہے کہ عوام میں اس کا کیا ردّعمل ہوتا ہے۔ کمال ہوشیاری سے علماء کو تقسیم کردیا گیا اور ان میں ایک طبقہ انا کے بموجب اپنا چہرہ جھلسنے سے بچانے میں لاکھ تاویلیں خود ہی دے گا اور ان کے معتقدین بھی کنفیوژن کا شکار رہیں گے۔ رسول اللہ سے محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستانی مسلمان ہر سیاست سے بالاتر ہوکر پرزور طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرائیں اور اس قانون میں کی ہوئی ترمیم کو واپس کراکر مغرب کو اللہ کے رسول کا شیدائی ہونے کا بیّن ثبوت دیں۔

یہ سارا مضمون اس قیاس پر ہی ہے جو ردّعمل ہے ایک سوچی سمجھی متنازع پیش قدمی کا۔ آپ اس کے جواز کو مٹا دیں ورنہ ملک میں بدامنی کی خواہش مند قوّتیں حالات سے فائدہ اٹھانے کے لیے منتظر بیٹھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر پرانا فارم بحال کرنے کی ترمیم اسی تیزی سے لائی جائے جتنی تیزی سے اپنی سیاسی بقا کے لیے لائی گئی۔ علماء اپنی کوتاہی کا مداوا نئی ترمیم کرواکر کریں۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.