کچھ یادیں انشا جی کی - نجمہ خان

انشا جی کو دنیا تو بہت عرصے سے جانتی ہے۔

میں انہیں اس وقت سے جانتی ہوں جب کراچی میں ہم لڑکیوں کا ایک گروپ پیدل پاپوش نگر کے علاقے سے ہوتا ہوا اپنے اسکول جاتا تھا۔ وہ ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر رہا کرتے تھے۔ میں انشا جی سے روزانہ صبح اسکول جاتے وقت ملتی تھی اور انہیں سلام کیا کرتی۔ ان سے بات کرنے کے شوق میں، میں اپنے گروپ سے الگ ہوجاتی۔ اسکول بھی دیر سے آتی۔ روزانہ مجھے انشا جی کی وجہ سے ڈانٹ پڑتی۔

ابنِ انشا ہر روز جب صبح پاپوش نگر کے بازار سے انڈے خرید رہے ہوتے۔ انڈے کو سورج کی روشنی میں، اپنی ہلکے نیلے رنگ کے چشمے سے غور سے دیکھتے اور میں اسکول میں سوچتی کہ آج انشا جی ضرور انڈے پر کچھ لکھیں گے۔

ایک دن میں نے ان سے کہا کہ انشا جی آپ روزانہ ڈبل روٹی، انڈا خریدتے ہیں اور ایک، ایک انڈے کو روشنی میں ایسے غور سے دیکھتے ہو اور میں ہر روز انتظار کرتی ہوں کہ آج آپ ضرور انڈے پر کچھ لکھیں گے۔

انشا جی بہت ہنسے ، بولے، "لمبو تو مجھے اتنا چیک کرتی ہے، وہ بھوک لگی تھی دیکھ رہا تھا کہ اندر سے گندا نہ ہو۔ فرائی پین میں جا کر چوزہ نہ نکل جائے"۔

وہ مجھے لمبو کہا کرتے تھے اور کہتے کہ تم کو لکھنے کا شوق ہے، تم لکھا کرو بس۔

ابنِ انشا زیادہ تر سادہ سے سفید پاجامہ اور سفید کرتے میں ملبوس ہوتے اور آنکھوں پر ہلکے نیلے رنگ کا چشمہ پہنتے۔ ایک دن انشا جی نے پینٹ اور شرٹ پہنی تھی، کہیں سے واپس آئے تھے۔ میں نے کہا کہ انشا جی سچ آپ پیارے لگ رہے ہیں۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے تو مجھے مار بھی پڑوائے گی۔

مجھے یاد آرہا ہےکہ کبھی کبھار ان کے ساتھ کراچی ریڈیو کی ایک پُربہار شخصیت جناب ایس ایم سلیم بھی نظر آتے تھے ۔ ایس ایم سلیم کی بیوی ثریا سلیم اب ریڈیو ہیوسٹن سے کام کرتی ہیں، ان کی وہی شان ہے، آج بھی چنا ہوا دوپٹہ اور غرارہ پہنتی ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ میں روزانہ گھر آ کر ابا جی سے کہتی کہ مجھے ابنِ انشا سے بہت سی باتیں کرنی ہیں، میرا دل چاہتا کہ اسکول نہ جاؤں اور ان کی باتیں سنوں، ان سے باتیں کیا کروں۔

ابا کہتے "تو لڑکی ذات ہے، اس طرح بازار میں کھڑے ہو کر بات کرے گی، شرم نہ آئے گی؟ لوگ کیا کہیں گے کہ قریشی صاحب کی بیٹی اسکول کے بہانے انشا جی سے باتیں کرتی ہے"۔

بھائی کی شادی کے بعد اس نے اقبال ٹاؤن کراچی میں جہاں گھر لیا، وہ انشا جی کے محلے ہی میں تھا۔ جب امی نے بھابی سے زردہ بنوایا تو میں ایک پلیٹ میں لے کر ان کے پاس گئی۔ میرے ہاتھ میں زردے کی پلیٹ دیکھ کر وہ ایک دم بول اٹھے، "بھئ زردہ ہم کو بہت پسند ہے، مگر یہ ہمارے ہی لیے لائی ہو نا؟"

پھر پوچھا، "تم نے بنایا ہے؟"۔

میں نے کہا کہ نہیں ماں نے بھابی سے شگن بنوایا ہے۔ پھر وہ گھر کے اندر گئے، ایک چمچ لے کر آئے اور اپنے ہاتھ سے ایک نوالہ پہلے مجھے دیا اور کہنے لگے، اب تم مجھے دو، اس طرح ہماری دوستی پکی ہو جائےگی۔

میں بھائی کے گھر ابنِ انشا سے ملنے کے بہانے آتی۔ جب انشا جی نظر آتے میں ان سے جلدی جلدی ایک ہی سانس میں کہتی کہ انشا جی میں نے آج جنگ اخبار میں آپ کی یہ نظم پڑھی ہے اور اپنی طرف سے بھی بہت سی باتیں کرکے ان کی تعریف کرتی مگر وہ کچھ نہ بولتے۔

اک دن ابنِ انشا نے کہا کہ تم رات کو ہمارے گھر آنا، جوش آ رہے ہیں۔ میں جوش سے ملی۔ اس روز ان کا سانس کافی خراب تھا۔

انشاء جی اپنے پڑوسیوں کا بھی بہت خیال رکھا کرتے تھے۔ ایک بار یہ ہوا کہ پڑوس کے گھر میں ایک فیملی نے موروں کی جوڑی پال رکھی تھی۔ اتفاق سے اس میں سے مورنی گم ہوگئی۔ انشا جی اپنے پڑوسی سے زیادہ پریشان دِکھ رہے تھے۔ انشا جی نے ہر گھر کے دروازے پر جا کر مورنی کے حوالے سے پوچھا اور یقین کریں کہ جتنا مور اداس تھا، انشا جی اس سے بھی زیادہ اداس تھے۔

پھر چار دن کے بعد وہ مورنی ملی۔

مورنی کا مالک بولا، "اس نے چار دن سے کچھ کھایا نہیں"۔

انشا جی بولے، "چار دن سے میں نے بھی نہ ٹھیک سے کھانا کھایا اور نہ کچھ لکھ پایا"۔

مشرقی معاشروں میں جیسا رواج ہوتا ہے کہ جس گھر میں لڑکیاں ہوں، وہاں محلے کی کوئی رشتے کروانے والی اس حوالے سے اپنی خدمات پیش کرتی ہیں۔ میری بڑی بہن پروین، جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ہوا تھا، کے لیے ہماری محلے کی ایک خاتون جاویدہ ایک رشتہ لے کر آئیں۔

اماں ابا کا حکم تھا کہ رشتہ دیکھنے لڑکے والے آرہے ہیں، اس لیے کوئی اور بہن ان کے سامنے نہ آئے۔ میں نے جو چور دروازے سے ان صاحب کو دیکھا تو میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ صاحب کوئی اور نہیں بلکہ ابنِ انشا تھے۔ میں خوشی سے پاگل ہوگئی اور کچھ پروا نہ کرتے ہوئے چھلانگ لگا کر ایک دم ڈرائنگ روم میں آگئی اور انشا جی کو کہا کہ پروین میری بڑی بہن ہیں جن کی وجہ سے آج آپ ہمارے گھر آئے ہیں۔

انشا جی بھی ایک دو منٹ مجھے دیکھ کر گھبرا گئے اور بولے، لمبو یہ تمہارا گھر ہے۔

میرے گھر والے اور سب مجھے حیرت اور غصے سے دیکھ رہے تھے کہ یہ ابنِ انشاء سے ایسے فری ہو کر بات کر رہی ہے اور وہ بھی لڑکی ہوکر، ستم یہ کہ سب کے سامنے۔

میں اپنی زندگی کی وہ رات کبھی نہیں بھول سکتی۔ رات بھر سو ہی نہ پائی کہ صبح اسکول جا کر سب کو بتاؤں گی کہ ابنِ انشا ہمارے گھر آئے تھے۔

انشا جی کو میری بہن بہت پسند آئیں مگر انشا جی کے ساتھ تفاوت عمر اور اس زمانے میں ان کی معمولی نوکری کی وجہ سے یہ رشتہ نہ ہو سکا۔

افسوس ایک فنکار کی قیمت نہ لگ سکی۔

جس رات ابا نے ان کی بہن اور بھائی کو رشتے سے انکار کیا، اس رات میں بہت روئی۔ مجھے بھی بہت ڈانٹ پڑی کہ تم آئندہ کسی شاعر سے نہیں ملو گی۔ میں خود بھی اس انکار پر شرمندہ تھی کہ کس منہ سے ان کے سامنے جاؤں؟ سچ جانو اس دن مجھے احساس ہوا تھا کہ سب مایا ہے، سب مایا ہے۔ یہ امیری اور غریبی کے کھیل!

اس انکار کے کچھ روز کے بعد ان کی یہ نظم اخبار میں چھپی:

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشاء جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں

ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بیچارا

ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی ، انسان کو رکھتیں دکھیارا

ہاں بےکل بےکل رہتا ہے ، ہو پیت میں جس نے جی ہارا

پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہ

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں

یہ بات عجیب سناتے ہو ، وہ دنیا سے بے آس ہوئے

اک نام سنا اور غش کھایا ، اک ذکر پہ آپ اداس ہوئے

وہ علم میں افلاطون سنے، وہ شعر میں تلسی داس ہوئے

وہ تیس برس کے ہوتے ہیں ، وہ بی اے، ایم اے پاس ہوئے

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں

گر عشق کیا ہے تب کیا ہے، کیوں شاد نہیں آباد نہیں

جو جان لیے بن ٹل نہ سکے ، یہ ایسی بھی افتاد نہیں

یہ بات تو تم بھی مانو گے، وہ قیس نہیں فرہاد نہیں

کیا ہجر کا دارو مشکل ہے؟ کیا وصل کے نسخے یاد نہیں؟

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں

وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے، تم نام نہ لو ہم جان گئے

وہ جس کے لانبے گیسو ہیں، پہچان گئے پہچان گئے

ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی اس گھر میں تھے مہمان گئے

پر اس سے تو کچھ بات نہ کی، انجان رہے، انجان گئے

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں

جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں، کیا انشا کو سمجھانا ہے؟

اس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے ، گو اب کچھ اور زمانہ ہے

یا چھوڑیں یا تکمیل کریں ، یہ عشق ہے یا افسانہ ہے؟

یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے ؟

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں

کاش میں آزادی سے ابنِ انشا سے ملتی اور وقت کو فوٹو میں قید کرتی۔

پھر ہم لوگ لندن آگئے۔ ان دنوں خبروں کے اتنے ذرائع تو تھے نہیں اور نہ ہی لندن میں اردو اخبارات کا سلسلہ ایسا تھا کہ ہر خبر آسانی سے پتہ چل جائے۔ بس یہ علم تھا کہ انشاء جی کی طبیعت اچھی نہیں۔

پھر جب میں لندن سے امریکہ آرہی تھی تو لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ پر بہت سے پاکستانیوں کو دیکھا۔ میری عادت ہے کہ جہاں کوئی اپنے دیس کا نظر آجائے تو میں سلام دعا ضرور ہی کرتی ہوں۔ جا کر پوچھا کہ خیر تو ہے آپ سب لوگ اس جگہ اکٹھے کیوں ہیں؟ کسی صاحب نے جواب دیا کہ ابن انشا کا لندن میں انتقال ہو گیا ہے اور ہم ان کا جسدِخاکی ملک لے کر جا رہے ہیں۔

ادھر ابن انشا کا جنازہ ملک گیا اور ادھر میں اپنے دوست کو، اپنے انشاء کو روتی امریکہ آئی۔

وہ انشاء جو واقعی سودائی تھا!


حرفِ آخر

یادوں کے رنگ میں گندھی محترمہ نجمہ خان صاحبہ کی یہ تحریر ابنِ انشاءکے چاہنے والوں کے لیے تحفہ تو ہے ہی لیکن اصل میں یہ جناب ابن انشاء کی محبت کا برسوں پہلے کا قرض تھا جسے لفظ کے پیرہن میں ڈال کر انہوں نے اپنے محبوب لکھاری کی خواہش کی کتنی خوبصورت تکمیل کی۔

"وہ مجھے لمبو کہا کرتے تھے اور کہتے کہ تم کو لکھنے کا شوق ہے، تم لکھا کرو بس"۔

ایک بڑے لکھاری کے اس جملے پر اہلِ علم غور فرمائیں۔ ابنِ انشاء نے اس اسکول کی طالبہ کو ادب پڑھنے کی نہیں لکھنے کی تلقین کی۔

مطالعہ بےشک علم حاصل کرنے کا راستہ ہے لیکن لکھنا ایک الگ صلاحیت ہے جو آمد کی مرہونِ منت ہے آورد کی نہیں۔

(نورین تبسم)

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.