دہشت گرد کون؟ - احسن سرفراز

امریکہ میں جوئے کی انڈسٹری کے حوالے سے مشہور ریاست لاس ویگاس میں 64 سالہ سابق اکاؤنٹنٹ امریکی گورے اور کروڑ پتی جواری سٹیفن پیڈک کی فائرنگ سے 60 کے قریب لوگ ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ملزم نے ایک ہوٹل کی بتیسویں منزل پر واقع کمرے سے کھلے میدان میں ہونے والی ایک پارٹی میں شریک لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ ہوٹل کے کمرے اور اس کے گھر سے درجنوں رائفلیں اور ہزاروں گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ یاد رہے امریک میں اکثر ریاستوں میں اسلحہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی کسی لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے، آپ دوکان پر جا کر عام سودا سلف کی طرح اسلحہ خرید سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی اپنی صدارتی مہم میں اسلحہ کی خرید و فروخت پر کسی بھی قسم کی پابندیوں کی شدید مخالفت کی تھی اور اسلحہ رکھنے کی آزادی کو امریکی عوام کی تہذیب اور حق قرار دیا تھا۔

اس فائرنگ کرنے والے سٹیفن پیڈک کا باپ بھی ایک مشہور ڈکیت اور اپنے زمانے میں امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے انتہائی مطلوب مجرموں میں شامل تھا۔ اس واقعے کے بعد مشہور دہشت گرد تنظیم داعش نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی بھونڈی اور مضحکہ خیز کوشش کرتے ہوئے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک پاگل بڈھے امریکی کے جرم کو مسلمانوں سے خواہ مخواہ جوڑنے کی شرمناک حرکت کی۔

پچھلے دنوں غالباً شام میں داعش کا ایک کمانڈر گرفتار ہوا جو مبینہ طور پر اسرائیلی یہودی نکلا۔ لاس ویگاس حملے کا داعش کے اپنے ذمہ لینے سے یہ بات مزید واضح ہوگئی ہے کہ اسلام کو بدنام کرنے اور اسے دہشت گردی سے جوڑنے کی یہودی و امریکی سازشوں کے یہ تکفیری دہشت گرد گروہ حصہ ہیں۔ ان کی آڑ لے کر دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر امریکہ جس ملک پر چاہے چڑھ دوڑتا ہے یا اور کچھ نہ ملے تو تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا الزام لگا کر مسلمانوں کے ملک کے ملک تباہ و برباد کر دیے جاتے ہیں۔ اب تو یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ خود سی آئی اے نے داعش کے نام پر گلے کاٹنے کی جعلی ویڈیوز بنا کر عام کیں۔ ہمارے ہاں بھی خاتون کو کوڑے مارنے والی ویڈیو بعد ازاں جعلی ثابت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے - اسماء طارق

ہمارے ہمسائے میں انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور ان کے سابق آرمی چیف کا یہ اعتراف بھی سب کے سامنے ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد گروپوں کو پیسے دے کر دہشت گردی کروانا اور بدامنی پھیلانا انڈین پالیسی کا اب مرکزی حصہ ہے۔ پاکستان سے کلبھوشن یادو اور ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری، ٹی ٹی پی، ایم کیو ایم اور بی ایل اے کے گرفتار دہشت گردوں کا بیرون ممالک ٹریننگ اور مدد لینے کا اعتراف یہ بات واضح کرتا ہے کہ آج یہود و ہنود امریکی قیادت میں اسلام دشمنی کے ایجنڈے پر پوری طرح گامزن ہیں اور انہیں خام مال بھی مسلمانوں کے اندر موجود ہی چند غداروں کی صورت میسر آ جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے حکمران اور ان کے گماشتے بھی اس گٹھ جوڑ پر بولنے کے بجائے حافظ سعید جیسے ہمیشہ پاکستان کے قانون کی پابندی کرنے والے لوگوں کو ہی مطعون ٹھرا کر پاکستان دشمن طاقتوں کے پراپیگنڈہ کو مزید تقویت پہنچاتے ہیں۔

ہمیں دہشت گردی کے پیچھے چھپے عوامل کو پوری سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ اسے محض اسلامی بنیاد پرستی کے نام پر اسلام پسندوں سے جوڑنا اور ڈاڑھی ٹوپی والے سادہ مسلمانوں کو ہراساں کرنا دراصل اپنے دشمن کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے مترادف ہے۔ یقیناً انتہا پسندی کے شکار تکفیری گروہوں کا محاسبہ ضروری ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان گروہوں کے بیرونی آقاؤں کا نقاب الٹنے کی بھی ضرورت ہے اور حکومت وقت کو ان قوتوں کے خلاف بھی اپنے منہ سے گھنگھنیاں نکال کر بولنا چاہیے۔ وگرنہ آگ وخون کا جو کھیل اسلام دشمن طاقتیں اسلامی ممالک میں کھیلنا چاہتی ہیں، اس میں خود مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کو برابر کا شریک سمجھا جائے گا۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.