حیدر (2) - نصرت یوسف

ایک دم پلٹ کر وہ آبنوسی دیوارگیر آئینہ کے آگے کھڑی ہوگئی، وہ عجیب سی حرکتیں کر رہی تھی، اس کے میاں کو بھی اس سے یہ شکایت ہونے لگی تھی کہ وہ ذہنی طور پر غائب رہنے لگی ہے۔

ٹکٹکی باندھ کر اس نے لمحہ بھر اپنے آپ کو دیکھا اور یکلخت اس کی نگاہ ہونٹوں سے اوپر اس بھورے تل پر جم گئی جو اس کی جاذبیت کا اہم ترین حصہ تھا۔ اچانک کسی خیال کے تحت وہ سرعت سے ہلی، اب اس کی انگلیاں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر متحرک ہوگئیں، کافی کی طلب سے وہ ایک دم بےنیاز ہو چکی تھی۔ مطلوبہ تصویر دیکھ کر وہ سکتے میں آگئی۔ خاموشی جیسے اس کے وجود میں اتر آئی۔

"کیا یہ وہی ہے؟، نہیں یہ کیسے وہ ہو سکتا ہے؟" اس کے اندر سوال جواب کا جوار بھاٹا اٹھ رہا تھا۔

"ہاں یہ وہی ہے، یہ وہی ہے۔" اس کا دل چیخ پڑا، اس نے تصویر کو ممکنہ حد تک زوم کر دیا۔

اگلے لمحے وہ بڑ بڑائی "ہو بہو حیدر"

اب اس کی انگلیاں اسکرین پر اس تصویر کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھیں، وہ رو رہی تھی، بالکل ایسے جیسے وہ رویا تھا۔

لیکن یہ فٹ پاتھ پر کیوں ہے؟ اسے تو ہنستے بستے گھر میں ہونا چاہیے تھا۔

رات گزر رہی تھی اور وہ ہر احساس سے بےنیاز سن بیٹھی تھی۔

"جب تم پھینک آئیں تو اسے کوئی کیوں سنبھالتا۔" دل سے نکلا فقرہ اسے لہولہان کر رہا تھا۔

رات گہری اور گہری ہو رہی تھی، اس آ سمان پر کوئی ستارہ نہ تھا۔

اگلی صبح جب اس کی بیٹی واپس آئی تو اسے ماں کے تند و تیز جملوں کی امید تھی، مگر حیرت انگیز طور پر وہ اپنے پرانے سامان کے ساتھ مصروف تھی۔ رسمی علیک سلیک کے بعد ماں پھر سے کام میں لگ گئی، آخر کچھ کاغذات اس کے ہاتھ آ ہی گئے، خاصے بوسیدہ ہو گئے تھے لیکن سلامت تھے۔ اس نے احتیاط سے ان کاغذات کو سنبھالا اور گہری سانس لے کر کام ختم کر دیا۔

"ان کاغذات کا وارث ہوتے میری اولاد فٹ پاتھ پر کیسے آگئی؟" وہ خود کلامی کر رہی تھی۔

اپنے کمرے میں آ کر اس نے کچھ گھنٹوں کے لیے آنے والی خادمہ کو ناشتہ تیار کرنے کو کہا۔ وہ صبح سے بھوکی تھی اور اب سورج کی زرد سی روشنی میں چمک آگئی تھی۔ موسم سرد تھا، اس کی بیٹی کے اسکول کی ہفتہ بھر کی چھٹیاں تھیں، وہ روزانہ اپنے دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹے پر نکل جاتی تھی۔ باپ اور بیٹی ایک ہی مزاج کے تھے۔ ہر دم نئے ہنگامے کے متلاشی۔ خادمہ اس کا ناشتہ اس کے کمرے میں لے آتی تھی۔ پیالہ بھر کے مختلف پھل اور ابلے ہوئے انڈے کی سفیدی کے ساتھ کریم کافی۔

اس نے ناشتے سے فارغ ہو کر ایک بار پھر دریافت شدہ کاغذات تھام لیے۔ لیپ ٹاپ آن کر کے وہ مہارت کے ساتھ کی بورڈ پر انگلیاں چلا رہی تھی۔ یکے بعد دیگرے مختلف ونڈوز کھل رہی تھیں، وہ ان کو پڑھنے میں منہمک تھی۔ کاغذات میں درج اثاثے اب اتنی مالیت کے تھے کہ ان اثاثوں کے ہوتے اس کے ہاتھوں میں گٹار ہونا تو ممکن تھا، ہتھوڑا کیسے آگیا؟ وہ پھر بڑبڑائی۔


فاروق صدیقی کی قسمت اسے زمین سے اٹھا کر آسمان تک لے جائے گی، کون جانتا تھا؟ وہ ہتھوڑا تھامے انسانوں سے بدلہ لینے کا سوچتا لیکن جھرجھری لے کر رہ جاتا۔ پھر ایک دن اس نے فلاحی ادارے کا کھانا بھوک سے بےحال ہو کر کھایا، اس کھانے کا چندہ اس دن سلیم عارف ہی اس ادارے کو دے کر گئے تھے۔

وہ یہ سب نہ جانتا تھا۔ جو جانتا تھا وہ رب تھا، آسمان پر اس کی کرسی ہے لیکن کائنات اس کے کرسی تلے ہے۔ اور فاروق صدیقی اس کی مخلوق تھا۔

بےنام و نشان فاروق صدیقی کو بےکسی کے دنوں میں کسی نے کام پر نہ رکھا، لوگ اب اعتبار کرتے ڈرتے تھے، حالانکہ انسانوں کی اکثریت ایک دوسرے کی خیر خواہ نہیں ہے، لیکن پھر بھی اپنے آپ کو بہتر سمجھ کر، دوسروں کے غیر معقول رویوں کی شکایت کرتی ہے۔

حالات اور بھوک کی سختی سے کتنی بار فاروق صدیقی کا دل چاہا 'حیدر' کا رخ کر لے۔ اسے وہ مانوس در و دیوار آوازیں دیتے ہوئے لگتے، پودے پکارتے ہوئے محسوس ہوتے، لیکن ہر بار 'حیدر' کے مکین اسے ادھر جانے سے باز رکھتے۔

زندگی اتنی سخت کبھی نہ تھی جو مسعود شاہ کے بیگار کیمپ سے نکل کر کچھ ہی دنوں میں فاروق صدیقی کو محسوس ہو چلی تھی۔ نہ تن پر اجلے کپڑے نہ پیٹ میں غذا، نہ دماغ میں کوئی خیال اور نہ دل میں کوئی امنگ۔ ہفتہ بھر میں وہ بےحال سے بدحال ہو چکا تھا۔

وہ اکلوتا نوٹ جو مسعود شاہ کی زمین سے اس نے اٹھایا تھا، وہ بس دو بار کے کھانے میں کام آیا، پھر اس نے باقی پیسے راہ گزرتے اس آدمی کو پکڑا دیے جو دوسرے کا گریبان پکڑے چند سو روپے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ فاروق کو لگا غصہ میں دیوانہ ہوا یہ شخص حقیر سے نوٹ کے پیچھے جان بھی لے سکتا ہے۔ فاروق سے نوٹ اس نے جھپٹا مار کر پکڑے اور دھکا دے کر آدمی کاگریبان چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کے ساتھ رحمت اور بچوں کے حقوق - مفتی منیب الرحمن

فاروق صدیقی نے خاموش نگاہوں سے آسمان کو دیکھا اور آگے بڑھ گیا، اس کے نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی نوٹ پکڑے شخص نے دوسرے کو دیکھا اور قہقہہ لگا کر بغل گیر ہو گیا۔

"چل آ ج کی مرغی اور ایک پیگ کا بندوبست ہوگیا، ڈرامہ آفت گیا"

دونوں نے اپنے کپڑے جھاڑے، جو آگ بگولہ ہور ہا تھا، وہ اب گلے میں بانہیں ڈالے پٹنے والے کو لے جا رہا تھا۔

"میں نے مجبور و بےکس انسان کی زبردست اداکاری کر کے راہ گیر کی جیب سے پیسے نکلوائے۔"

"بے چارہ خود بھی فقیر ہی لگ رہا تھا، مگر ہمارا بندوبست کر گیا، ورنہ آج تو تیرے پاس اتنے پیسے نہ تھے"۔

مرغی کی ٹانگ نوچتے دونوں فریبیوں میں سے ایک زعم سے بولا، تو دوسرے نے ابرو چڑھا کر منہ بناتےگھٹیا بدبودار شراب کا بڑا ساگھونٹ بھر لیا۔

فاروق صدیقی اگر ان دونوں کی باتیں سن لیتا او اپنی کی گئی مدد کی حقیقت جان لیتا تو شاید صدمے سے سکتے میں چلا جاتا۔ لیکن اچھا ہوا، اس پر یہ حقیقت آشکار نہ ہوئی، ورنہ دنیا میں فاروق صدیقی کے نیک اعمال کا وزن ہلکا ہی رہتا۔ وہ ہر ایک کو بےاعتباری سے دیکھتا اور اصل حقدار بھی واہموں کی نظر ہو جاتا۔

بھوک مٹانے کے لیے اس نے ہتھوڑا بیچ دیا۔ ویسے بھی یہ مسعود شاہ کی جگہ سے نکل کر اس کے کسی کام کا نہ تھا۔ قیمت کا اندازہ اسے تھا، بیچ کر معقول رقم لے سکا، کچھ دنوں کے لیے چند لقموں کا بندوبست ہوا، ایک سموسہ ایک وقت کھایا تو دوسرے وقت ایک تندوری روٹی کھا لی، اس طرح سانس کا رشتہ باقی رہا، رقم ختم ہوتے ہی پھر بھوک آگئی۔ وہ ایک بار پھر خیراتی ادارہ پہنچ گیا۔ دو دن تک یہ ہوتا رہا، وہ جب پہنچتا کھانا ختم ہو چکا ہوتا یا پھر وقت۔ بھوک سے اس کے پیٹ میں گرہیں سی پڑ رہی تھیں۔ اس نے بھوک کی جو کربناک کیفیت اب محسوس کی، وہ اس پر کبھی نہ بیتی تھی۔ ان دو دنوں میں اسے ایک صبح دو پوریاں ناشتے کی خیراتی تقسیم کی قطار میں لگ کر ملیں جو اس نے دو وقت کھائیں۔

کراچی شہر بھانت بھانت کے لوگوں کا ہے، یہاں خیرات بھی بہت ہے اور منکرات بھی۔

تیسرے دن ڈھلتی شام کے سائے تلے وہ شہر کے مشہور فاسٹ فوڈ کی عمارت سے ٹیک لگائے بھوک سے بدحال تھا، قریب سے کئی انسان گزرے، کچھ ٹھٹکے بھی لیکن اس نے دست دراز نہ کیا اور انھوں نے خاموش سوالی کے سوال پر توجہ نہ کی۔

معاشرہ عمومی طور پر سوالی کو پسند کرنے لگا ہے۔ غیرت مندی، عزت نفس، حیاء جیسی خصوصیات فضول سمجھی جانے لگی ہیں۔ 'شرم اور پھوٹے کرم ' کو ایک ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔


وہ لڑکی جو سیاہ جینز میں سفید جوتوں کے ساتھ تھی، جس کے جوتوں پر کالے رنگ کا بڑا سا گلاب بنا تھا، کچھ دیر پہلے ہی فاروق صدیقی کے آگے سے گزری تھی۔ فاروق کی زمین پر جمی نگاہوں نے اس کے جوتوں پہ بنے پھول کو نظر جما کر دیکھنے کی کوشش کی، لیکن بھوک نے اسے بےحال کر دیا تھا۔ وہ پھول والے جوتے کچھ دیر بعد اس کے سامنے آ کر جم گئے۔

اپنی کالی سیاہ آنکھوں کے ساتھ وہ کبھی ہاتھ میں لیے موبائل کو دیکھتی تو کبھی فاروق کو۔ پندرہ منٹ قبل اس لڑکی نے اپنا برگر ختم کرتے ہی 'بھوک' کے عنوان پر مختصر فلم بنانے کے لیے اپنا ڈی ایس ایل آر (DSLR) آن کیا تھا۔ پانچ منٹ کی مختصر ترین فلم بنانے کے لیے وہ شہر کے مختلف علاقوں میں گھوم رہی تھی۔ یہ فلم اس کے پورٹ فولیو کا حصہ بننی تھی، لیکن کیمرہ عین وقت پر کسی تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیا، اس نے وقت ضائع کیے بنا اپنے جدید سیل فون سے اس وجود کی تصاویر لینا چاہی جو اس کی مطلوبہ تصاویر میں سے ایک لگ رہا تھا اور فاسٹ فوڈ کے اس مشہور مرکز کی دیوار کے ساتھ بیٹھا محافظ کی نظروں سے تا حال محفوظ تھا۔ بس فاروق نے منٹ بھر کو چہرہ اونچا کیا تھا اور اس نے کئی تصاویر کھٹا کھٹ فاروق کی لے لی تھیں۔ یہ تصاویر آن لائن محفوظ کرتے ہی وہ چونک گئی۔ سوشل میڈیا پر 'تلاش ہے' کے عنوان سے اسی چہرے کی تصویر کسی نے لمحہ بھر قبل بھیجی تھی۔ اس کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔

'بھوک' پر فلم دنیا کے کئی اور لوگوں کی طرح وہ محض اپنے کیریئر کے لیے بنا رہی تھی، بھوک کے احساس سے وہ واقف نہ تھی۔ بےبسی اس نے زندگی میں کبھی نہ سہی تھی، لیکن میڈیا پر آئی تصویر اور فاروق کی شکستہ زندہ متحرک تصویر نے اس کو پرجوش کر دیا۔

"کیا تم فاروق حیدر ہو؟" وہ کالے جوتوں والی اب اکڑوں بیٹھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتی سوال کر رہی تھی۔

"میں بھوکا ہوں" اپنے سوال کا جواب اتنا غیر متوقع پا کر وہ کچھ چپ سی ہوگئی۔

یہ تو کتنے ہی لوگ جانتے ہوں گے وہ بھوکا ہے، یہ تو وہ بھی جان رہی تھی، لیکن کسی نے اس کی طلب سنی نہ تھی۔ جسے سنی وہ لمحہ بھر کو چپ ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں سے معاشرہ - عائشہ یاسین

"آؤ میرے ساتھ!" وہ اس کو بلاتی آگے بڑھ گئی۔

برگر کا آخری نوالہ اور ڈرنک کا آخری گھونٹ لے کر فاروق صدیقی نے پہلی بار اپنی مہربان کا چہرہ دیکھا۔ کپاس کے پھول سی نرمی والا وہ چہرہ فاروق کو خاصی ہمدردی سے دیکھ رہا تھا۔

"میں اسوہ ریاض ہوں، اور تم؟"وہ نرمی سے بولی تو فاروق صدیقی چپ ہی رہا۔

شدید بھوک میں لمبا وقت گزارنے سے وہ عجیب سی کیفیت کا شکار ہو چکا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس نے اعلان کیا تھا، وہ بھوکا ہے، حالانکہ یہ بھوک تو شعور کا احساس ہوتے ہی اس پر آشکار ہو چکی تھی۔ لیکن یقینا اس شدت سے کبھی نہ ہوئی تھی۔

"وہ فاروق صدیقی ہے یا بھوکا ہے؟"۔ وہ تذبذب میں تھا کہ کیا جواب دے۔

پوچھنے والی نے کچھ لمحے انتظار کیا، پھر سوچ میں ڈوبے چہرے کے کھٹاکھٹ شاٹس لے کر عنوان ڈال دیا۔ میں کون ہوں؟

"میں مالی ہوں۔"،

"میرا نام فاروق صدیقی ہوں۔"

"میں بھوکا ہوں۔"

"زمین و آسمان کے درمیان کسی ایسے انسان کی تلاش میں ہوں جس کو میری تلاش ہو۔"

فاروق صدیقی نے یکے بعد دیگرے یہ چار جملے اتنے غیر متوقع انداز میں اس کے عنوان ڈالتے ہی ادا کیے کہ اسوہ ریاض اپنے کام کو کتنی ساعتوں کے لیے بھول ہی گئی، خاموشی دونوں کے درمیان ٹھٹر سی گئی، وہ عمر کے اس حصہ میں تھی جہاں سنگلاخ زمین کو پھاڑ کر ابھرتا پودا ہیرو لگتا ہے، پانی میں لہریں بناتا کنکر بہت طاقتور محسوس ہوتا ہے، پانی کا پہلا قطرہ دل میں جوش بھر دیتا ہے۔

فاروق صدیقی کے جملے بھی اسی نوعیت کے تھے جہاں'گدلے پانی میں کنول ابھرنے' کی سی اطلاع تھی۔

اسوہ ریاض نے لمحوں بعد ایک گہری سانس لے کر فاروق کی کچھ اور تصویریں لیں، بل ادا کیا اور فاروق صدیقی کو اپنے ساتھ چلنے کی پیشکش کی۔

"میرے کالج کو مالی کی ضرورت ہے۔ اس حساب سے زمین اور آسمان کے درمیان تمھاری تلاش کسی ایک کو نہیں بلکہ ہزاروںں کو ہے، میرے جیسے ان ہزاروں کو جو کالج کے گھانس پھونس کو سجا بنا دیکھنا چاہتے ہیں۔"

فاروق صدیقی نے بےتاثر نظروں سے دیکھتے اس کے جوتوں پر بنے گلاب پر نگاہ ڈالی اور قدم اس کے پیچھے بڑھا دیے۔ اس کا پیٹ اب خالی نہ تھا، دماغ میں لہریں آتی محسوس ہو رہی تھیں، ورنہ اس سے قبل اسے دنیا ساکت لگ رہی تھی، بھوک بس بھوک کی کیفیت تھی جو اس کے وجود سے لپٹ چکی تھی۔

پیٹ میں خوراک پہنچتے ہی وہ ان قدموں کے پیچھے چل رہا تھا، جو اس کو رب کی جانب سے رزق فراہم کرنے کا ذریعہ بنے تھے، پھولوں کے ساتھ تھے، وہ پرامید تھا کہ زندگی اس کے لیے بھی کوئی گلزار سا در کھول ہی ڈالے گی۔

اور اسوہ ریاض کو فاروق صدیقی کی زندگی میں یہی در کھولنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس کے پاس آئی تصویر 'تلاش ہے' بلاشبہ فاروق کی تھی، اور وہ خالق کی ہی مخلوق میں سے ایک وجود کو جو اپنے ریوڑ سے جدا بھیڑ سا تھا، اس کے مقام اور مرکز سے ملانے پر مقرر کی چکی تھی۔

'حیدر' کا مالی 'حیدر' کے مکینوں سے زیادہ نوازا جا چکا تھا۔ بلاشبہ عرش پر بیٹھا فرش سے ذرہ بھر غافل نہیں۔

وہ خواب جو فاروق نے دیکھے بھی نہ تھے اور وہ آنسو جو اس نے بوئے تھے، وہ راستے جن سے وہ نا آشنا تھا، وہ نیندیں جو اس کی گروی تھیں، وہ دشت جن پر پہروں چلا تھا، وہ سب عرش پر موجود رجسٹر میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود تھا۔

بالآخر ابر برس ہی گیا، وہ ابر جس کو فاروق صدیقی بیس برس کی عمر تک ترسا تھا۔

اسوہ ریاض اس شاندار سی عورت کو دیکھ کر کافی متاثر تھی، جو 'تلاش ہے' کی تصویر متحرک رکھنے کے اصل ماخذ تھی۔ جس کو فاروق صدیقی کی اس پورے جہاں میں تلاش تھی، جس کو رب نے اس کی اولاد بنایا، جس سے وہ مدت تک بےنیاز رہی اور اب جب ایک تصویر سے اس کے ملنے کی نوید ملی تھی، تو اسے لگ رہا تھا کہ زندگی کی ہر تکلیف کا دست شفا وہ پا چکی ہے۔

اسوہ ریاض نے فاروق صدیقی کو اس کی ماں سے ملا دیا تھا، ہجر سے وصال کا سفر طے ہو چکا تھا، حیدر کا مالی اپنی شناخت پا چکا تھا، آسمان کا ستارہ، فاروق کو دیکھ کر مسکرا اٹھا تھا۔


حیدر صدیقی کی لی گئی زمین پر حیدر صدیقی کا 'حیدر' جس کا تعمیراتی ٹھیکہ حیدر صدیقی کی شہادت کے وقت سلیم عارف کے پاس تھا، فاروق صدیقی کا تھا، لیکن وہ نیتوں کی خیانت سے 'ماریہ ہاؤس' بن چکا تھا۔ اس کے حساب کتاب کا کھاتہ بھی عرش کے رجسٹر پر موجود تھا۔

مالک اور خائن دونوں کے درجات دنیا سے کتنے ہی اوجھل رہیں لیکن پس پردہ اثرات انسان کو ہر صورت ہی پہنچتے ہیں۔

فاروق صدیقی کو 'حیدر' تو نہ مل سکا لیکن شہید باپ کے دست دعا نے فاروق صدیقی کو اس کی ماں سے ملا کر اس کے بخت کو بالآخر سنوار دیا تھا۔

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت جلدی سمیٹ دی کہانی
    اسکو تیسری قسط تک بھی لے جایا جا سکتا تھا
    مگر اچھا کیا، حیدر کی بد قسمتیکا وقت مزید ٹورچر دیتا
    بہت عمدہ اختتام
    اللہ سے خوش گمانی اور اللہ پر ایمان مضبوط کرنے والا