بندے کی توبہ اور ماضی کے طعنے - بشارت حمید

اسلامی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ایک بندہ ساری زندگی رب کی نافرمانی کرتا رہا لیکن زندگی کے آخری ایّام میں پیش آنے والے کسی حادثے یا واقعے نے سوچ کا رُخ تبدیل کر دیا اور وہ ایمان کی طرف لوٹ آیا اور اس کا انجام خیر کے ساتھ ہوا۔ ایک مشہور واقعہ بہت سے احباب نے پڑھا یا سنا ہوگا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص جس نے 99 قتل کیے تھے اسے توبہ کا خیال آیا تو ایک راہب کے پاس گیا کہ اپنی نجات کے لیے کوئی راستہ مل جائے۔ اس راہب نے کہا کہ تمہاری نجات نہیں ہو سکتی۔ یہ سن کر اس نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا کہ جہاں 99 مارے تو سواں بھی سہی۔ پھر وہ دوسری بستی میں ایک اور راہب کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ میں سو بندے قتل کر چکا ہوں میری نجات کی کوئی راہ ہے؟ اس راہب نے اسے ایک نیک بندے کا پتہ بتایا اور اُس کی خدمت میں پہنچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ بندہ تمہاری راہنمائی کر سکے۔ اس شخص نے سفر شروع کیا ابھی وہ آدھے راستے میں ہی تھا کہ اس کی موت کا وقت آ گیا۔ اب جنت اور جہنم کے فرشتے اسے لینے آ پہنچے اور دونوں گروہوں میں تکرار شروع ہو گئی۔ جنت کے فرشتے کہنے لگے کہ یہ شخص نیکی کی راہ پر چلا جا رہا تھا اس لیے یہ ہمارا بندہ ہے جہنم والے کہنے لگے کہ ابھی تو اس نے کوئی نیک کام ہی نہیں کیا، نہ ہی یہ منزل پر پہنچا ہے، لہٰذا یہ ہمارا بندہ ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرشتوں کے دونوں گروہوں سے فرمایا کہ ایسا کرو اس کے سفر کا فاصلہ ناپ لو، اگر تو یہ منزل کی طرف زیادہ سفر کر چکا ہو تو جنت میں لے جاؤ، ورنہ جہنم میں۔ جب فاصلے کی پیمائش ہونے لگی تو اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ منزل کی طرف سے سکڑ جا! فرشتوں نے فاصلہ ناپا تو منزل کی طرف کم نکلا اور فیصلہ یہ ہوا کہ یہ شخص جنّتی ہے۔

کسی بندے کا گزرا ہوا ماضی جیسا بھی ہو، ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں کہ ہم ناپ سکیں کہ کب اس بندے کو توبہ کی توفیق مل گئی ہو اور کب اس نے اپنے رب کی طرف رجوع کر لیا ہو؟ یہ خالص بندے اور رب کا معاملہ ہے ہمیں بندوں کے بارے اچھا گمان ہی رکھنا چاہیے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بندہ اپنے ماضی میں کی ہوئی برائیاں چھوڑ بھی چکا ہو لیکن ہم اس کو ماضی کے طعنے دینے سے باز نہیں رہتے۔ فرض کریں کہ اس بندے نے ماضی میں کوئی برائی کی اور اب وہ توبہ کر چکا ہو اور اللہ نے اسے معاف بھی کر دیا ہو تو پھر باربار اس کے ماضی کو زیر بحث لانا اس بندے کے لیے وبال بنے گا یا پھر ہمارے لیے؟

یہ بات صرف سمجھانے کی غرض سے کہہ رہا ہوں تقابل کے لیے نہیں کہ اگر ہم سیرت صحابہ کا مطالعہ کریں تو بہت سے ایسے صحابی ملیں گے جو ایمان لانے سے پہلے بڑی بڑی برائیوں میں مشغول ہوا کرتے تھے لیکن جب کلمہ پڑھ لیا تو یکسر ان کی شخصیت میں انقلاب آ گیا اور اللہ نے بھی ان کے ایمان کی گواہی دیتے ہوئے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا مرتبہ عطا فرما دیا اور پھر کسی نے ان کو ماضی کے طعنے نہیں دیے جس طرح کسی نئے نئے نمازی بننے والے کو ہم دیا کرتے ہیں۔

لہٰذا کسی پر بلاوجہ تنقید اس کے ماضی کے حوالے سے کرنا اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں کی برائیاں بیان کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہیے کہ خود ہمارے اپنے اندر کیا کیا برائیاں موجود ہیں، جن کا تذکرہ کرنا ہم کبھی پسند نہیں کرتے۔ بقول شاعر

نہ تھی حال کی جب اپنے خبر

رہے ڈھونڈتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پہ جب سے نظر

تو نگاہوں میں کوئی برا نہ رہا

ٹیگز

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com