خوابِ پریشاں - جویریہ ذاکر

دوپہر کی تپتی دھوپ میں سنسان گلی کےنسبتاً تاریک گوشے میں ایک گھنے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے میں اپنےاطراف کا جائزہ لے رہی تھی۔میرے سامنے سے گزرتی سڑک کے دونوں جانب پر تعیش بنگلوں کی لمبی قطارتھی، مگر خا موشی ایسی کہ جیسے یہاں کی زمیں عرصےسے کسی آدم زاد کے قدموں سے ناآشنا رہی ہو۔میں اس ہولناک سنّاٹے میں کیا کررہی تھی؟ اس سوال کا جواب دینے سے میں خود بھی قاصر تھی۔ ذہن پر لاکھ زور دینے کے باوجود یاد نہ آیا کہ گھر سے کب اور کیوں نکلی تھی؟ مگر یہ اتنی پریشانی کی بات نہ تھی۔ راستہ نہ صرف جانا پہچاناتھا بلکہ گھر سے چند گلیوں کے فاصلے پر ہی تھا لیکن اس کڑی دوپہر میں جس چیز نے مجھے حواس باختہ کر دیا وہ تھا میراحلیہ ۔ لان کی نفیس ہلکے رنگ کی پوری آستین والی قمیض اور اس کے نیچے گہرے رنگ کا میچنگ کا ڈھیلا ڈھالاٹراوزر ۔ نہایت نفاست سےآدھے چوٹی میں گندھےاور بقیہ آدھے کندھے تک لہراتے بال اورگلے میں سرمئی رنگ کا شیفون کا دوپٹہ جس کی یوں موجودگی کا ادراک ہوتے ہی میں اسے اتار کر چہرے کے گرد لپیٹ چکی تھی۔ مگر اس کے باوجود اپنا آپ نامکمل محسوس ہو رہا تھا۔جیسے کسی نے بھری محفل میں سر سے آنچل کھینچ اتارا ہو۔ آخر میرا عبایا اوراسکارف کہاں تھےاور میں ان کے بغیرگھر سے کیسے نکل آئی ؟

دل عجیب سی کیفیت کا شکار تھا ۔ یوں لگتاتھا جیسے کسی نے کانچ کے نازک ٹکڑےسے دل چیر کر رکھ دیا ہو یا پھر کوئی زندگی بھر سنبھال کر رکھی قیمتی متاع چھین لے گیا ہو ۔ پچھلے 12 سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ میں برقع اور نقاب کے بغیر یوں کھلے آسمان تلے موجود تھی۔لباس کیسا ہی ساتر کیوں نہ ہو ؟ ہوتا تو آخر زینت ہی ہے ۔ دل چاہا کہ کہیں پاس سے کوئی سرنگ ہی نکل آئےاور سیدھا میرے کمرے تک پہنچا دے۔یا کوئی ایسی اڑن طشتری میسر آجائے جو فضا میں راستہ بناتےگھر کی چھت پر اترے۔آخر میں یہاں کر کیا رہی تھی؟

یہ بھی پڑھیں:   زندہ قومیں - سعدیہ رضوی

ذہن اس خلش کی عجیب عجیب توجیہات پیش کرنے میں مصروف تھا کہ گلی کے اختتام پر شور کی آوازیں بلند ہوئیں۔ شایدلڑکے لڑکیوں کا کوئی گروہ تھا جوقریب موجودانسٹیٹیوٹ سے نکلا تھا۔ دماغ نے تجویز پیش کی کہ کسی لڑکی کو آواز دے کر متوجہ کیا جائے مگر دل نے اس خیال کی نفی کر دی اور میں نے سر پر رکھے شیفون کے دوپٹے کے کنارے کو دو انگلوں کی مدد سےچہرے پر کھسکا لیا کہ مبادہ کسی کی نظر نہ پڑ جائے۔

اچانک مخالف سمت دور سے آتی آواز نے مجھے چونکا دیا۔قریب آنے پر معلوم ہوا کہ آواز پرانے سامان کی خرید و فروخت کرنے والے چاچا کی تھی ۔ اف ! میں نے خود کو مزید درخت کی آڑ میں چھپا لیا۔خیال آیا کہ اگر اپنی تمام قوت مجتمع کر کےگھر کی سمت دوڑ لگا دوں تو پانچ منٹ کے اندر ہی گھر کے دروازے پر ہوں گی مگر اس طرح اس حلیے میں؟ کسی نے دیکھ لیا تو؟ "یا اللہ! کوئی راستہ نکال دیجیے" لبوں سے بے اختیار نکلا۔

آواز قریب آتے یک دم رک گئی۔درخت کی اوٹ سے سر نکالا تو بائیں جانب قطار میں چار بنگلے چھوڑ کر موجود نسبتاً پرانے بنگلے کے دروازے پر دو خواتین گلے اور بانہوں میں اپنے اڑتے دوٹپے سنبھالے ، شاید بیچنے کے ارادے سے نکالا گیا سامان دکھانے چاچا کو اندر آنے کا اشارہ کر رہی تھیں۔ جوں ہی دروازہ بند ہوا میں نے موقع غنیمت جان کر ریڑھی پر نظر دوڑائی۔ لکڑی کی ٹوٹی کرسی اور پرانے تکیوں کے ڈھیر کے درمیان پڑےبوسیدہ پردوں نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی اور میرا دماغ تیزی سے منصوبہ بندی کرنے لگا۔ابھی غور و فکر کا یہ عمل جاری تھا کہ میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کیا اور میں نے چند قدم پیچھے ہٹ کر اوپر سے آنے والی ناگہانی کو دونوں ہاتھوں سے تھامنے کی سعی کی مگر اس کوشش میں کامیاب ہونے کے باوجود میں خود کو زمین پر گرنے سے نہ روک سکی۔

یہ بھی پڑھیں:   زندہ قومیں - سعدیہ رضوی

حواس درست کرنے میں چند لمحے لگے، مگر یہ کیا ؟ میرے نیچے درخت کے خزاں رسیدہ پتوں سے ڈھکی زمین کے بجائے میرے کمرے میں بچھا نرم و گداز کارپٹ تھا اور ہاتھوں میں الٹا پکڑا لیپ ٹاپ۔ سر کے زمین سے ٹکرانے کے باعث کھوئی ہوئی یاداشت بھی پلٹ آئی تھی۔

اسکرین پر چند اخبارات کے مختلف صفحات جگمگا رہے تھے اورسب پر ایک ہی خبر نمایاں تھی، "آسٹریلیا میں برقع پر پابندی عائد ،"دروازے سےدائیں جانب کمرے کی شمالی دیوار کے ساتھ پلنگ پر لیٹی ،میں آنکھ لگنے سے پہلے اسی تکلیف دہ خبر کی تصدیق کے لیے مختلف اخبارات کا جائزہ لے رہی تھی۔ اور ذہن وہاں رہتی ان بہنوں کے خیا ل میں گم تھا جنہوں نے اس برقع اور چادر کے ماحول میں آنکھیں کھولی ہوں گی، جومیری طرح نئے کپڑوں کے ساتھ عبائے اور اسکارف کی خریداری کا بھی اہتمام کرتی ہوں گی اور جن کے دل اپنی ان اوڑھنیوں کے بغیر گھر سے نکلنے کے تصور سے ہی ڈوب جاتے ہوں گے۔

دروازے پر گھنٹی بجی ، میں نے چونک کر ذہن میں آتےخیالات کو جھٹکا اور قریب ہی میز پر رکھی اپنی چادر اٹھا کر دروازے کی جانب لپکی ۔ دروازے کی پچھلی طرف دیوار میں لگی کھونٹیوں پر میرے کئی عبائے اور اسکارف سلیقے سے لٹکے ہوئے تھے۔