کیا شاندار اور والہانہ پذیرائی تھی - اختر عباس

واہ! کیا والہانہ اور شاندار پذیرائی تھی۔ سچ کہوں تو ابھی تک حیرت نہیں جاتی، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اپنے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف کا ہاتھ اس مضبوطی سے تھامے، ہلا اور جلا رہے تھے کہ بےاختیار سابق صدر آصف زرداری یاد آگئے۔ انہوں نے بھی کبھی ایسی ہی محبت، شدت اور بے اختیاری کے ساتھ الاسکا کی سابق گورنر سارا پالن کا ہاتھ تھاما تھا جو تب نائب صدر کی امیدوار بھی تھیں اور ان کے چاہنے کے باوجود اس جاذب اور دلکش خاتوں کے ہاتھوں پر اپنی گرفت کمزور نہ پڑنے دی تھی۔ خواجہ صاحب کی پذیرائی کیا چند روز قبل نیویارک میں عوامی اور میڈیا کے ساتھ ہونے والے اوپن ڈسکشن کے پروگراموں کی وجہ سے زیادہ ہوئی؟ جہاں خواجہ صاحب نے تمام سفارتی حلقوں کی توقع اور مرضی کے برعکس بہت مضبوط مؤقف اپنایا اور خوب کھل کر بولے کہ ان کے پاس گنوانے کو کچھ نہ تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضرورت سے زیادہ تکلیف دہ گفتگو کا حکومتی حلقوں نے بہت برا منایا تھا اور جواب میں بڑا 'کولڈ شولڈر' دیا تھا، مضبوطی اور بہادری سے کہی باتوں، لفظوں جملوں اور تاریخی شعور سے ٓاسودہ بھرپور گفتگو پر جو خواجہ آصف سے بطور وزیر خارجہ امریکہ میں مختلف فورمز میں سرزد ہوئی، کئی روز ہماری حیرت ہی کم نہ ہوئی۔

ہم نے برسوں سے انہیں اٹک اٹک کر اردو بولتے اور مخالفین کے بڑے فری سٹائل میں لتّے لیتے ہی دیکھا اور اسی وجہ سے وہ تنقید کا نشانہ بھی بنتے رہے ہیں اور مختلف ہلکے پھلکے مزاحیہ اور طنزیہ پروگراموں میں ان کی پیروڈیاں ہونا ایک معمول بنا رہا ہے۔ مگر اب کے خواجہ آصف کا نیا جنم ہوا ہے، ایک بالکل مختلف رول میں۔ اب کل کلاں وزارت خارجہ کا کوئی اہلکار یہ دعویٰ نہ کر دے کہ یہ تو میری بریفنگ کی وجہ سے ہوا تھا تو جناب بریفنگ کو نہ تو رَٹے مارے جاسکتے ہیں اور نہ ہی وقت بےوقت ان کی مدد سے اچانک جواب دینا ممکن ہوتا ہے۔ ان کی اتنی رواں انگریزی کا بھی پہلی بار مشاہدہ ہوا اور جس طرح انہوں نے کبھی دھیرج اور کبھی بلنٹ ہو کر جواب دیے، وہ بھی خوشگوار حیرت کا باعث بنتا رہا۔ میں نے مختلف چینلز اور ایشیا سوسائٹی نیو یارک میں ان کے ساتھ انٹرویوز دیکھے اور میزبان کو حیران پریشان چھوڑ کر سامعین کو مخاطب کر کے اپنا مدّعا پوری قوت سے بیان کرنے اور اپنے نقطہ نگاہ کو منوانے کی خوبی کا بھی مشاہدہ کیا۔ یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب آپ کو اپنے موضوع پر مکمل ایمان اور کمانڈ ہو۔ خواجہ صفدر کا بیٹا ہونا کچھ تو معنی رکھتا ہے۔

ایشیا سوسائٹی نیویارک میں ان کا انٹرویو اور گفتگو میں نے دوبارہ سنی اور سہ بارہ بھی، سچ کہوں تو خیال آیا یہ صاحب وزارت خارجہ سے اتنے دور کیوں تھے؟ ماضی میں ان کی ایک ہی پہچان رہی ہے ہر ایک دو جملوں کے بعد "جو ہے" کا تکیہ کلام اور اس کی وجہ سے وہ تمام طنزیہ اور مزاحیہ پروگراموں میں پیروڈی کا بھی شکار بنتے رہے ہیں۔ یہ سہولت چونکہ انھی کی فراہم کردہ تھی اس لیے کبھی وہ معترض بھی نہیں ہوئے۔ ایشیا سوسائٹی والا انٹرویو سوشل میڈیا پر انجینیئر احمد حماد رشید نے شیئر کیا۔ وہ کئیر فارمیسی چین کے کرتا دھرتا ہیں، ان کلپس کے کچھ حصے انڈین چینلز پر بھی چلتے رہے اور پاکستان میں ان تمام پروگراموں میں تقریباَایک ساتھ، جن کے میزبان ہمارے نیازی صاحب والی تبدیلی کے خواہاں ہی نہیں عملاَ علم بردار بھی ہیں، چند دن تو وہ دھول اڑائی گئی کہ یوں محسوس ہوتا تھا خواجہ صاحب کوئی جرمِ عظیم کر آئے ہیں اور اب کوئی دن جاتا ہے اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ بھلا گھر کی صفائی کا انہوں نے کیوں ذکر کیا؟ دنیا ہے ناں شرمندہ کرنے کو۔

امریکہ میں بیٹھ کر انھی کے نظام اور انتظام کے سامنے اس قدر اعتماد اور تیقن سے بات کرنے اور ان سلگتے سوالوں پر بات کرنے کی ہمت نہ کبھی سرتاج عزیز صاحب کو ہوئی اور نہ کبھی فاطمی صاحب کو۔ ہمارے آرمی چیف صاحب عملاَ چار برس وزارت خارجہ دیکھتے رہے، تمام سفیروں اور وزراء خارجہ سے ملتے اور ان گنت دورے کرتے رہے، کبھی ادھر آئی ایس پی آر سے بھی ایسا کوئی کلپ نہیں آیا تھا۔

ہماری تاریخ میں پہلی جرات مندانہ شہادت جنرل ضیا کے زمانے میں ملتی ہے، جب انہوں نے افغانستان پر روسی حملے کے بعد امریکی صدر جمی کارٹر کی معمولی مدد کو 'مونگ پھلی' کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ یاد رہے جمی کارٹر صاحب صدارت سے پہلے اور بعد اسی 'مونگ پھلی' کی کاشت کرتے رہے۔ دوسری بازگشت جنرل مشرف کے ابتدائی دور میں سنائی دی، جب انہوں نے آگرہ میں بھارتی میڈیا کے ساتھ ناشتے کی میز پر بہت عمدہ گفتگو کی اور اسی کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو ئے اور بھارتی وزیر اعظم نے واپسی پر ان سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ اس کے بعد کمانڈو صدر نے 'یوٹرن' لیا اور وہ ساری گفتگو اور سٹینڈ تاریخ کا فراموش کیا جانے والا حصہ بن گیا۔ اس کے بعد ایک طویل خاموشی اور صرف 'ڈومور' کی امریکی فرمائشیں اور حکم سننے اور سر جھکانے کا دور شروع ہوا جو ختم ہو نے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔

میاں صاحب کی نااہلی سے اس گفتگو کا کوئی جائز ناجائز تعلق نہ بھی جوڑا جائے، تب بھی وزیر خارجہ کی تبدیلی تو اسی وجہ سے ممکن ہو پائی جن کے کہنے پر پہلے وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا گیا تھا۔ انہی کے سامنے دھڑلے سے خواجہ صاحب خارجہ امور کے جرنیل بنا دیے گئے۔ آئیے اب ذرا ان کی کارکردگی کا بھی ایک جائزہ لے لیا جائے جس پر دھول اڑائی جاتی رہی، مجھے یقین ہے ان تمام "تبدیلی پسند" اینکرز کی اکثریت نے صرف ایک کلپ دیکھ کر ہی قولِ فیصل جاری فرما ڈالے، ورنہ وہ بھی کچھ اور کہہ رہے ہوتے۔ ایشیا سوسائٹی کے 'فیس ٹو فیس' پروگرام میں پاکستانی وزیر خارجہ کٹہرے میں تھے اور سوال کرنے والے کا خیال ہوگا کہ اس کا تماشا بنا کر رکھ دیں گے۔ پہلے سوال سے توہین آمیز آغاز تھا، خواجہ صاحب نے کہا ہم نے سروسز دیں اور ان کے بدلے پیسے 'ری امبرس' ہوئے۔

"امریکی الزام پر میں ذرا فرینک ہو کر بات کروں گا۔ اصل میں دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ افغانستان میں اندر ہو کیا رہا ہے اور الزام ہمیں دیا جا رہا ہے، ایک سوال مجھے بھی کرنے دیجیے۔ یہ جو افغانستان میں ڈرگ پروڈکشن 3700 گنا بڑھ گئی اور اس کا حجم 120 بلین تک پہنچ گیا، کیا اس کا ذمہ دار پاکستان ہے؟ وہاں تین صوبوں میں داعش موجود ہے، کیا ہم اس کے ذمہ دار ہیں؟ 40 فیصد علاقوں پر طالبان قابض ہیں، کیا اس کا ذمہ دار پاکستان ہے؟ عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی آپس میں اَن ڈپلومیٹک طریقے سے لڑ رہے ہیں، کیا اس کے ذمہ دار بھی ہم ہیں؟ وہاں ایک لاکھ امریکی سپاہی ہیں اور ان کا اسلحہ افغان فوجی باقاعدہ آکشن میں کھلے عام بیچ رہے ہیں، کیا اس کے بھی ہم ذمہ دار ہیں؟ یہ کئی ٹریلین ڈالر اسلحہ کی مارکیٹ ہے۔ اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

اگلے سوال پر وہ بولے "آپ نے نوّے کی دہائی میں جس طرح وہ جگہ چھوڑی کہ ہم تو سپر پاور ہیں اور 'کولڈ وار اِز اوور'، ہم پاکستان کو اب کیوں 'بادر' کریں (اس کی فکر کریں ) گو ٹو ہیل! تو جناب ہم جہنم میں ہی گئے ہیں اور اب تک جل رہے ہیں، اس جہنم میں،امریکہ ہمارا اچھا دوست تھا، ہم نے اس کو سپورٹ کیا، انہوں نے رشیا کو کک آؤٹ کیا، ہم نے مدد کی مگر میرا دل 'بلیڈ' کر رہا ہے (خون کے آنسو رو رہا ہے کہ اس کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوا ) ہم نے ۵۰ء اور ۶۰ء کا پاکستان دیکھا ہے اب سب 'اِرریورسیبل' ہو گیا ہے، اب چیزیں بدل نہیں سکتیں جو کلچر اور 'ایتھوز' تھے، یہ سب راتوں رات نہیں بدلتے۔ سیاست حکومت، یہ سب پراکسی بن گئی ہے۔ ان تعلقات کو ہم نے 'لیجی ٹیمیٹ' کیاجو کبھی 'لیجی ٹیمیٹ' تھے ہی نہیں۔ ہم نے اس کی وہ بھاری قیمت ادا کی ہے کہ ایک پوری نسل یہی نہیں جانتی کہ پہلے پاکستان کیسا فراخ دل تھا؟ ایک کھلی سوسائٹی جہاں مسلم، ہندو سکھ عیسائی شیعہ سنی سن اکٹھے رہتے تھے، اقلیتیں مکمل سکون میں تھیں۔ہمیں حافظ سعید جیسوں کے لیے اب 'بلیم' کیوں کرتے ہو، ہمیں 'بلیم' مت کرو یہ آپ کے 'ڈارلنگ' تھے، یہ وائٹ ہاوس بلائے جاتے تھے، وہاں ٹھہرائے جاتے اور کھانے کھلائے جاتے تھے۔ اب ۲۰، ۳۰ برس کے بعد آپ کہتے ہیں کہ 'گو ٹو ہیل'، آپ نے ہی ان کو 'نرچر' کیا۔"

یہ اس رواں گفتگو کا ایک حصہ ہے جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا، کیا یہ کسی ایک بیوروکریٹ کی بریفنگ کی وجہ ہو ہوا ہو گا؟ توحضور آپ اور آپ کی بریفنگز تو ہمیشہ سے موجود رہی ہیں، بے روح اور بے ذائقہ۔ یہ ذائقہ تو کسی اندرونی سیاسی جرات کی وجہ سے آتا ہے۔ وزیر خارجہ نے وہاں کتنی ہی تقریبات میں شرکت کی، سوٹ بدلے، نئی اور عمدہ ٹائیاں پہنیں مگر گفتگو کانوکیلا پن کم نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دوران ٹی وی کی ہر سکرین پر انہی کا تذکرہ تھا، مگر تعریفی نہیں اس خاص نقطہ نگاہ کی عینک سے جس پر دنیا پہلے ہی انگلیاں اٹھاتی ہے۔

خواجہ صاحب! خدا جانے کتنے دن آپ اس منصب پر رہتے ہیں؟ مجھے کہنے دیجیے کہ ایک عام پاکستانی کو آپ کا لہجہ اور دلائل بھا گئے اور ایک وقتی سی خوشی کا احساس ہوا۔ آپ کی لفظی بہادری سے چار دن ہم نے بھی سوشل میڈیا پر سر اٹھایا کہ ہم افغانستان اور امریکی شکست کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ خود ہم اس ساری آگ میں جلے اور اس کی تپش کا اب تک شکار ہیں اور نہیں جانتے کہ کب تک بے وجہ جلتے رہیں گے؟ کیا معلوم امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن جن کا نام اس سے قبل ہمارے میڈیا کے لیے بالکل نامانوس تھا، ہمارے خواجہ صاحب پر اسی لیے فدا ہو رہے ہیں کہ وہ انھی کی سرزمین پر جا کر انہیں بے نقط سنا آئے تھے جو بھارت کی طرح ہمارے اپنے چند انقلابی اینکروں کو بہت برا لگا تھا کہ کسی پاکستانی نے امریکی سپرمیسی کے سامنے سر اٹھانے کی جرات کیسے کر لی؟ مگر ادھر ہوا کیا کہ کیا والہانہ اور شاندار پذیرائی سچ کہوں تو ابھی تک حیرت نہیں جاتی۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اپنے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف کا ہاتھ اس مضبوطی سے تھاما اور ہلایا اور جلایا کہ ایک لمحے کو تو وہ جھینپ سے ہی گئے۔ مجھے مذاکرات کے لیے اندر جاتے ہوئے ان کی مسکراہٹ نہیں بھول رہی۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.