ختم نبوّت معاملہ، مذہبی جماعتوں کا امتحان – عبد اللہ آدم

ختم نبوت حلف نامے پر ترمیم کے ایشو پر اصل امتحان مذہبی جماعتوں کا ہوا ہے۔سراج صاحب کی پریس کانفرنس اس المیے کے دن بھی اوّل و آخر جمہوریت کی روح کو لوٹانے کی بابت رہی ۔ بیچ میں 'دوسری' یا 'تیسری' بات کہہ کر بےچارے ختم نبوت ایشو کا ذکر آ سکا۔ یہ اُن کی ترجیحاتی لسٹ تھی کہ تنہا ختم نبوت پریس کانفرنس کا ایجنڈا بھی نہ بن سکا۔

ساجد میر صاحب کو قطعاً دوش نہیں وہ تو مبارک ازلی بندھن میں بندھے ہیں ن لیگ کے ساتھ۔ 'وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے'، باقی جو ہوتا ہے ہو جائے 'سفینہ نجات' نہ چھوٹنے پائے۔ یہی 'حق' کا تقاضا ہے اور نوازشریف کےسوا کوئی 'حق' ہو سکتا ہے؟ نعوذ باللہ!

مولانا ویسے ہی مرفوع القلم رہے، اس سارے سیناریو میں،کچھ کہنا ہی عبث ہے۔ ترمیم کا واپس لیا جانا طے تھا،یہ صرف 'لٹمس ٹیسٹ' تھا، اب کارکن لگے رہیں گے کہ "قائد کے ایک فون پر" اور "امیر کی ایک بات پر" واپس لے لیا گیا ۔ جے یو آئی نے اس ترمیم کے حق باقاعدہ ووٹ دیا۔یہ "سعادت" اور کسی مذہبی جماعت کو نصیب نہیں ہو سکی۔شاید آئندہ بھی نہ ہو سکے۔

باقی اپنی ملّی مسلم لیگ کے 'ملنگ' ویسے ہی کہیں دکھائی نہیں دیے۔ آخری دفعہ 'امیر محترم' کو خواجہ آصف نے کچھ کہہ دیا تھا تو ہر طرف آگ اگلتے نظر آئے تھے ۔ ابھی 'آرڈر' نہیں تھا شاید!

اور صاحبان ! اس ایمانی اظہار کی تو بات ہی کیا جو اس موقع پر آپ کو تڑپا دیتا ہے۔ آپ ساری مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر چیخ اٹھتے ہیں۔ جماعتوں کی قیادت میں یہ بے ساختہ اظہار کہیں دکھائی دیا ہو تو ہمیں بھی بتائیں ۔ شاید اب "زمانے کے انداز بدلے گئے ہیں" اور یہی یخ ٹھنڈا طرزِ عمل تقاضاہے ختم نبوت کا!

یوں مجموعی طور پر دین کے ٹھیکیدار تحریک ختم نبوت 1974ء کی ایک ادنیٰ سی جھلک بھی دکھانے میں ناکام ! اب اگلے وار کا انتظار کیجیے۔

احباب بولتے ہیں آپ جماعتوں کا ذکر ہی کیوں کرتے ہیں؟، بھائی! تو اور کس کا ذکر کریں؟کیا اس طرزِ عمل پر اوریا مقبول یا انصار عباسی سے جواب مانگا جائے ؟ صرف سوشل میڈیا کو دیکھ لیں بطورِ مثال کوئی' فقید المثال' مہم چلی کوئی ٹرینڈ بنا ؟ اور قائدین محترمین کی شان میں کوئی بدبخت گستاخی کر دے تو وہ ماتم و گریہ ہوتا ہے، وہ ہاہا کار مچتی ہے کہ الامان والحفیظ!

حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت پر جس قسم کی سازشوں اور حملے کا آج ہمیں سامنا ہے یہ ایسی پکار کا وقت ہوتا ہے جو دشمن کے اچانک حملے کے وقت لگتی ہے اور یقین مانیں دو دن میں دشمن نے دیکھ لیا ہے کہ کم از کم اِن جماعتوں کے تلوں میں تیل نہیں ہے ۔ سب ڈھیلی ڈھالی باتیں یا سب سے سستی خاموشی! جنابِ علی رضی اللہ عنہ نے کہا تھا "یا رسول اللہﷺ !میں اپنے ہاتھ سے تو آپ کا نام بھی نہیں مٹاؤں گا۔" تیسرا دن شروع ہے ، ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

ذرا ناموس قائد یا ناموس امیر پر آنچ وغیرہ آئے تو دیکھیں کیسے پیجز،جماعتیں آگ اگلنے لگتی ہیں ۔ ان دو دنوں میں دیکھ لیں جماعتوں کے کارکنان اُس حدت شدت کا پچاس فیصد بھی پھٹے ہیں؟ یا پھر ہر طرف امیراور جماعت کی بیڑیاں نظر آئی ہیں ہمیں ؟

ایک دن فاروق اعظم رضی اللہ عنہ برسرمنبر پوچھنے لگے "لوگو!اگر میں تمہیں کتاب و سنت کے سواکسی طرف چلانا شروع کروں تو؟ ایک بدو کھڑا ہوا۔ تلوار نکال لی اور کہا "عمر ہم تجھے اس تلوار سے سیدھا کر دیں گے!" فرمایا یا اللہ تیرا شکر ہے مجھے ایسے کارکن عطا کیے۔"

سو وابستگی برقرار رکھیں ، بالکل رکھیں لیکن دین اور دین کی غیرت کو جماعت کے موقف کے ساتھ مشرط نہ کریں ۔ خدا رسول کے تقاضے آپ سے کسی جماعت کے بغیر ہیں ۔ سب جماعتیں ہماری جماعتیں ہیں لیکن جب یہ بُت بن جائیں ۔ جب ان میں ایک حد سے زیادہ عصبیت در آئے تو یہ محبت اور نفرت کی بنیاد بن کر اصل بنیاد اور آپ کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ خود ہماری آستینوں میں بت ہیں ۔ مانیں یا نہ مانیں خود ہمارے سومنات کوئی غزنوی مانگتے ہیں اور یہ کرب و بلا کسی حسین کی منتظر! وہی اقبال پھر یاد آتا ہے :

قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں

گرچہ ہے تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

اور کیا غزنوی نہیں کارگہ حیات میں

بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات