عمران خان، ایسا مت ہونے دو! - محمود فیاض

ایک ایسے نون لیگی کارکن سے ملاقات ہوئی جو ہمارے حلقے میں بہت متحرک تھا۔ خواجہ سعد رفیق اور دیگر کی انتخابی مہم میں کافی متحرک اور سرگرم۔ اس کی باتوں سے لگا کہ ایک آزاد سوچ کا انسان کیسا ہو سکتا ہے؟ اس کے لیے ڈگریوں، عمر کے سالہا سال تجربے کی نہیں، 'کامن سینس' کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ نون لیگ کے لیے ہم نے بہت کام کیا اور ایسا بھی نہیں کہ نون لیگ کے نمائندوں نے ہمارے حلقے میں کام نہیں کیا۔ جو نون لیگی عہدے دار ہمارے علاقے میں رہتے ہیں انہوں نے کام بھی کروائے ہیں۔ مگر اب میں نون لیگ کو سپورٹ نہیں کر سکتا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ لوگ ملک میں اوپر کی سطح پر جو نقصان کر رہے ہیں وہ بہت بڑا ہے۔ کرپشن کی داستانیں، اپنی بے شمار دولت کا حساب نہ دے سکنا، اور گورننس کی سخت غلطیوں کی وجہ سے اگلی مرتبہ ہم اپنے حلقے میں نون کو سپورٹ نہیں کریں گے۔

یہاں تک تو بات عمران خان کے لیے خوشی کا باعث ہوگی کہ حکمرانوں کی کرپشن اور بدعنوانی اب عوام اور نون لیگ کے بہت سے کارکنوں پر بھی واضح ہوتی جارہی ہے اور عوام میں جس تبدیلی کی عمران خان کوشش کر رہے تھے، وہ اب مکمل ہوتی نظر آرہی ہے۔ مگر اس سے آگے جو اس 'ایکس-نون لیگی' نے کہا وہ پی ٹی آئی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کی بات میرے لیے اس لیے اہمیت کی حامل ہے کہ وہ زمینی حقائق کا بندہ ہے اور پاکستان میں انتخابات، الیکٹیبلز اور انتخابات کے دن کی حرکیات کا عملی تجربہ رکھتا ہے۔

اس نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی والے کیا کر رہے ہیں؟ ایک سال سے بھی کم رہ گیا ہے الیکشن میں اور انکی کوئی سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ جو ہمارے علاقے میں تحریک انصاف کے کارکن یا نامزد لوگ ہیں وہ ٹھنڈے ٹھار بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی اسی ناتجربہ کاری سے پچھلی مرتبہ ہم نے ان کو آسانی سے انتخابات والے دن کے تمام معاملات میں ڈھیر کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان صاحب! احتیاط ضروری ہے - عالم خان

اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ عمران خان یا تحریک انصاف کی کمیٹی جن لوگوں کو ان علاقوں میں سپورٹ کر رہی ہے ان کو دیکھ نہیں لگتا کہ یہ کوئی مختلف جماعت کے لوگ ہیں۔ میں ان لوگوں کو بچپن سے جانتا ہوں۔ جیسے نون لیگ کے ایم این اے اور ایم پی اے ہیں، جن کے قتل اور فراڈ کے درجنوں واقعات کے اہل علاقہ گواہ، مگر خاموش ہیں۔ بالکل ویسا ہی معاملہ ان افراد کا ہے جو اب پی ٹی آئی کا مقامی چہرہ بنے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کی شہرت بھی ویسی ہی ہے۔ کسی پر دو قتل ہیں تو کوئی بڑا غبن، کرپشن اور فراڈ میں ملوث تھا۔ کوئی علاقے میں شراب کی سپلائی کی شہرت رکھتا ہے تو کسی کے پاس غنڈے اور پولیسئے ہیں۔

اس کی باتیں سن کر میں واقعی مایوس ہوا ہوں۔ یہ بات نہیں کہ میں صرف اس کی باتیں سن کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دیگر کئی ذرائع اور میرے اپنے تجزیاتی عمل سے کافی عرصے سے یہی نتائج مل رہے ہیں کہ جس میں تحریک انصاف اگلے انتخابات میں پھر سے غلطیاں کرتی نظر آ رہی ہے۔

عمران خان اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ الیکشن سے ایک مہینہ پہلے نئے لوگ آسمان سے اتر آئیں گے اور وہ ان میں سے بہتر ٹیم یا ہر علاقے کا بہترین بندہ چن لیں گے تو شاید ان سے بڑا احمق روئے زمین پر کوئی نہیں ہوگا۔ ہوگا یہ کہ جو لوگ ابھی سے اپنے اپنے علاقے میں اپنا چہرہ تحریک انصاف کے بلّے کے نشان کے ساتھ سجائے بیٹھے ہیں وہ اپنی یہی "ساکھ" اور ساتھ ساتھ کمیٹی ممبران میں چھپی کالی غلیظ بھیڑوں کے لیے "چمک" کا بندوبست کر کے جائیں گے اور عمران خان کے سامنے صرف یہ چوائس ہوگی کہ وہ دو قتلوں والے بندے کو اپنا نمائندہ بنائے یا شراب کی فیکٹری والے کو۔

یہ بھی پڑھیں:   میں عمران خان سے کیوں مایوس ہوا؟ محمود فیاضؔ

مجھے نہیں پتہ تحریک انصاف اس مسئلے کا کیا حل کرتی ہے؟ مجھے یہ بھی اندازہ نہیں کہ عمران خان اس معاملے میں کیا پر اثر کردار ادا کر پائیں گے؟ تحریک انصاف میں اور کوئی جاندار شخصیت بھی نہیں جس پر پوری پارٹی کی ڈائریکشن کے لیے انحصار کیا جا سکے۔ اس لیے میں اس معاملے میں تحریک انصاف سے مایوسی کا شکار ہوں اور میری مایوسی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جائے گی تاآنکہ مجھے کہیں سے کوئی اچھی خبر ملے۔

اگر عمران خان کو اگلے الیکشن بھی ان غلطیوں کی وجہ سے شکست ہوگئی، جو میرے جیسے دور بیٹھے عامیوں کو بھی نظر آ رہی ہے، تو اس میں اور اس سوت کاتنے والی بڑھیا میں کوئی فرق نہیں رہے گا جو سارا دن محنت سے سوت کاتتی رہتی ہے، مگر جیسے ہی شام ہوتی ہے تو اس کاتے ہوئے سوت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔ عمران خان بھی اس وقت اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی لگا کر اس کا پھل حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ ان کی بیس سالہ محنت کا نتیجہ ہےکہ اللہ تعالی نے ان کو یہ مقام دیا ہے کہ لوگ انہیں اگلے وزیراعظم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کے لیے امید کی واحد کرن سمجھتے ہیں۔ مگر وہ اس پھل کو تب ہی حاصل کر سکتے ہیں، جب وہ پاکستان کی انتخابی حرکیات پر مکمل توجہ دیں اور پوری تحریک انصاف کو ایک جینوئن اور بہترین الیکشن جیتنے والی جماعت بنائیں۔

اگر عمران خان نے صرف الیکٹیبلز والی اسٹریٹیجی رکھی تو ہم صرف ناموں کے فرق کے ساتھ ایک اور نون لیگ ہی حکومت میں دیکھیں اور تب وزیراعظم بن کر بھی یہ عمران خان کو زندگی کی سب سے بڑی شکست ہوگی۔ اس لیے عمران خان، ایسا مت ہونے دو!

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.