حصول معرفت کا بہترین ذریعہ - حنا تحسین طالب

حصول معرفت کے ذرائع میں اہم اور بہترین ذریعہ غور و فکر کرنا ہے، کیونکہ سوال غور و فکر کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور جواب انہی کو ملتے ہیں جن کے پاس سوال ہوں۔

"الہام" کوئی بیٹھے بٹھائے مل جانے والی نعمت نہیں ہے۔ الہام کا پھل غور و فکر کے بیج سے "کیا، کیسے اور کیوں؟" کے سوال پھوٹنے پر ہی نصیب ہوتا ہے۔ سی وی رامن ہندوستان کے نوبل انعام یافتہ، مشہور سائنس دان گزرے ہیں۔ ان سے کسی نے کہا کہ سائنس دانوں نے جو بڑی بڑی دریافتیں کی ہیں، ان میں سائنس دانوں کا اپنا کوئی کارنامه نہیں کیونکہ اکثر دریافتیں محض اتفاق سے حاصل ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر رامن نے جواب دیا "ہاں! مگر ایسا اتفاق صرف سائنس دان کو پیش آتا ہے۔"

ڈاکٹر رامن کی بات بالکل درست تھی، کسی شے کی حقیقت اچانک منکشف ضرور ہوتی ہے، لیکن انہی پر ہوتی ہے جو مسلسل حقیقت کی تلاش میں لگے ہوتے ہیں۔

اسی طرح بغیر غور و فکر کے حق پر ہونا بھی بالکل ممکن ہے، تاہم حق پر ہونے کا یقین تفکر کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ حق پر ہونا ایک علیحدہ بات ہے اور حق پر ہونے کا یقین بھی ہونا ایک بالکل الگ شے ہے۔ دراصل یقین ہی حق پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ اس کے برعکس شک انسان کو غیر مطمئن کر کے اس کے قدم اکھیڑ سکتا ہے۔

یقین ہی وہ کیفیت ہے جسے اطمینان قلب کہا جاتا ہے جس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہتا اور یہ یقین کی طاقت حقیقت کی جستجو سے حاصل ہوتی ہے۔ ہیگل کے متعلق ایک جگہ پڑھا تھا کہ وہ ایک عام شخص اور ایک فلسفی کا موازنہ کیسے کرتے ہیں۔ ان کی بات کا مفہوم کچھ یوں بیان کیا گیا تھا کہ "حقیقت کی تلاش میں اک فلسفی بھی گھوم پھر کر وہیں پر ہی پہنچتا ہے، جہاں اس حقیقت پر اک عام آدمی کھڑا ہے کہ جس نے کوئی مغزماری یا ایک فلسفی کی طرح سے سفر نہیں کیا"، لیکن ہیگل اس کے بعد اس نتیجے پر بھی پہنچتے ہیں کہ گو کہ ایک فلسفی حقیقت کی تلاش میں گول دائرے میں سفر کرکے واپس وہیں پر پہنچا ہے کہ جہاں سے اس نے اپنے سفر یا تحقیق کا آغاز کیا تھا، لیکن پھر بھی فلسفی کی اہمیت اور عظمت ہر لحاظ سے اس عام آدمی سے زیاده ہے کہ جو دائرے کے ایک ہی نقطے پر بیٹھا رہا، کیونکہ ہیگل کے مطابق "اہمیت منزل کی نہیں بلکہ اہم تو وہ سفر ہے جسے فلسفی نے طے کیا۔"

یہ بھی پڑھیں:   اور اس کا یقین نہ ٹوٹا !

لوگ عموماً سوچنے کی مشقت میں پڑنا نہیں چاہتے کیونکہ سوچنے کے نتیجے میں جو نظریہ یا حقیقت سامنے آتی ہے، وه عموماً انسان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہوتی یا ان کے سابقہ نظریات سے متصادم ہوتی ہے، اور اپنے نظریات اور شخصیت کی ازسرنو تعمیر ایک تھکا دینے والا عمل ہے، جس سے ایک سہل پسند شخص گزرنا نہیں چاہتا۔

سوچنا زندگی کے لیے ضروری ہے، جو سوچ نہیں سکتا وہ حقیقت کا بھید بھی نہیں پا سکتا جس کے بغیر انسانی روح بے قرار رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقام پر غور و فکر کرنے کا حکم دیا اور غور و فکر کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔ جیسے فرمایا:

"اور وہ زمین و آسمان کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ بےمقصد پیدا نہیں کیے۔" ( آل عمران:91)

غور و فکر کی اسی اہمیت کے سبب حضرت ابو الدرداءؓ نے فرمایا "ایک گھڑی غور و فکر کرنا ساری رات کے قیام سے بہتر ہے۔"

وہب بن منبہؒ نے فرمایا "جو زیاده غور کرے وه سمجھ جاتا ہے اور جو سمجھے وه یقین کر لیتا ہے اور جو یقین حاصل کرلے وه عمل کرتا ہے۔"

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.