الیکشن قوانین میں تبدیلی؛ حکومتی عذرخواہوں کی خدمت میں - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمارے ایک بہت ہی محبوب دوست میرے پچھلے مضمون کو پڑھنے کے بعد بھی مسلسل پوچھ رہے ہیں کہ الیکشن قوانین میں تبدیلی سے کیا فرق پڑا ہے؟
پہلے میں یہ دہراؤں کہ تبدیلیاں کیا ہوئی ہیں؟
1۔ ختمِ نبوت سے متعلق دستاویز کو قانون کی دفعات سے ہٹا کر صرف الیکشن نامزدگی فارم میں ذکر کیا گیا ہے۔
2۔ الیکشن نامزدگی فارم میں بیانِ حلفی کو محض بیان بنادیا گیا ہے۔
3۔ 2002ء کے قانون کو مکمل طور پر منسوخ کردیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ شق بھی منسوخ ہوگئی ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ مخلوط طرزِ انتخاب کے رائج ہونے کے باوجود قادیانیوں کی حیثیت بطورِ غیرمسلم تبدیل نہیں ہوگی۔
4۔ 2002ء کے قانون کے منسوخ ہونے کی صورت میں وہ دفعہ بھی ختم ہوچکی ہے جس کی رو سے کسی قادیانی کے بطور مسلمان ووٹر اندراج کو چیلنج کرکے ختم کیا جاسکتا تھا۔

اب ایک لمحے کے لیے فرض کیجیے کہ ان چاروں تبدیلیوں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ تاہم یہ فرض کرچکنے کے بعد کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ جب فرق ہی نہیں پڑنا تھا تو پھر یہ تبدیلیاں کیوں کی گئیں؟ کیا ان تبدیلیوں کی کوئی ضرورت تھی؟ اگرہاں تو براہِ کرم وہی ضرورت واضح کیجیے۔

دوسرا سوال اس سے زیادہ اہم ہے کہ اگر یہ تبدیلیاں کرنی ہی تھیں، اور ان سے کوئی فرق پڑنا بھی نہیں تھا، اور ان تبدیلیوں کی کوئی واقعی ضرورت تھی بھی، تو پھر ان تبدیلیوں کو انگریزی محاورے کے مطابق under the carpet کیوں رکھا گیا اور ان پر پارلیمان میں کھلے عام مباحثہ کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا وجہ ہے کہ حکومتی ارکان بھی ، اور حکومت کے مذہبی اتحادی بھی ، ان تبدیلیوں سے ، بالخصوص تیسری اور چوتھی تبدیلی سے، اس وقت تک بے خبر رہے جب تک ان کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز بلند نہیں کی گئی؟

آئیے۔ ان تبدیلیوں کا "معقول" جواز تراشنے میں ہم آپ کی مدد کرتے ہیں۔
پہلی تبدیلی کا "معقول جواز "یہ ہوسکتا تھا کہ قانون کی دفعات کے اندر ختمِ نبوت کے اقرار کی دستاویز کا ذکر مناسب نہیں لگتا؛ اس لیے اسے دفعات سے ہٹاکر صرف نامزدگی فارم میں ہی رکھا گیا ۔
اس جواز کی معقولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دفعات کے اندر مندرجہ ذیل چار دیگر دستاویزات کا ذکر بدستور موجود ہے جو نامزدگی فارم کے ساتھ جمع کرانےہوتے ہیں:
نامزدگی پر رضامندی کا اظہار ؛
الیکشن اخراجات کے لیے اکاؤنٹ کھولنے کا بیان؛
قومی شناختی کارڈ کی کاپی؛ اور
اثاثہ جات کے اعلان کی دستاویز

یہ بھی پڑھیں:   حماقت در حماقت، لیکن آخری حماقت نہ کریں - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان چار دستاویزات کا ذکر اگر قانون کی دفعات میں "مناسب" تھا تو ختمِ نبوت کے اقرار کی دستاویز کا ذکر کیوں "نامناسب" ہوا؟ کس وجہ سے مقننہ نے مناسب سمجھا کہ باقی دستاویزات کا ذکر تو قانون کی دفعات میں ہو لیکن ختمِ نبوت کے اقرار کی دستاویز کا ذکر قانون کی دفعات میں نہ ہو؟
اور وہ سوال تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ اگر ایسی "مناسب" تبدیلی درکار بھی تھی تو اس پر پارلیمان میں باقاعدہ بحث کیوں نہیں کی گئی؟

اب دوسری تبدیلی کا "معقول جواز" تراش لیتے ہیں۔
ختمِ نبوت کے اقرار کی دستاویز میں "حلف "کا لفظ نکال لینے کا معقول جواز یہ ہوسکتا ہے کہ یہ اقرار نامزدگی فارم کا حصہ ہے اور نامزدگی فارم کے آخر میں یہ "حلفیہ بیان" لکھا ہوا ہے کہ اس فارم میں درج کی گئی تمام معلومات درست ہیں ۔ اس آخری حلفیہ بیان سے ختمِ نبوت کے اقرار والا بیان بھی بیانِ حلفی بن جاتا ہے ۔

سوال پھر یہ ہے کہ اگر ایسا ہی تھا تو اس معقول جواز کو پارلیمان کے سامنے کیوں واضح طور پر ذکر کرکے اس پر مباحثہ نہیں کیا گیا؟ کیوں اسے under the carpet رکھنے کی کوشش کی گئی؟

اب آئیے تیسری تبدیلی کے "معقول جواز " کی طرف۔
اس تبدیلی کا سب سے معقول جواز یہ ہوسکتا تھا کہ چونکہ دستور میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا گیا ہے ، اس لیے کسی قانون میں تبدیلی سے اس حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑنا تھا ؛اس لیے 2002ء کے قانون میں دفعہ 7 بی غیرضروری تھے۔

یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ دفعہ 7 بی غیرضروری تھی؟ اگر واقعی تو 2002ء کے قانون میں یہ کیوں شامل کی گئی تھی؟
کیا اس وجہ سے کہ کسی کو غلط فہمی تھی کہ مخلوط طرزِ انتخاب کی وجہ سے قادیانی اب مسلمان ووٹر کے روپ میں آسکتے ہیں؟
یا کسی کو خوش فہمی تھی کہ مخلوط طرزِ انتخاب کی وجہ سے اب اس کے لیے کوئی چوردروازہ پیدا ہوا ہے؟
اگر ایسا تھا تو کیا اب وہ غلط فہمی یا خوش فہمی ختم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے دفعہ 7 بی غیرضروری ہوگیا ہے؟
اگر ہاں، تو پھر وہی سوال کہ اس معاملے کو پارلیمان میں لاکر اس پرکھلے عام مباحثہ کیوں نہیں کیا گیا؟

اب آئیے ۔ آخری تبدیلی کے "معقول جواز" کی طرف۔
اس تبدیلی کا معقول جوا ز یہ ہوسکتا ہے کہ چونکہ دیگر عام قوانین موجود ہیں جن کی بنا پر جعل سازی ، کسی کا خود کو مسلمان کے طور پر پیش کرنا اور اس نوع کے دیگر جرائم اور افعال پر کارروائی کی جاسکتی ہے ، اس لیے 2002ء کے قانون کی دفعہ 7 سی بھی غیرضروری تھی !
کیا واقعی ایسا ہےکہ عام قوانین کی وجہ سے خاص قوانین کی ضرورت نہیں ہوتی؟
اگر ایسا ہے تو پھر 2002ء میں یہ قانون کیوں بنایاگیا؟

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی ہم آہنگی کے نام پر سیکولرازم کا منجن - محمد سعد

اگر پھر کسی کی غلط فہمی یا خوش فہمی کا علاج مقصود تھا تو کیا اب وہ غلط فہمی یا خوش فہمی باقی نہیں رہی ہے ، اس وجہ سے یہ قانون غیرضروری ہوگیا ہے؟
پھر وہی سوال کہ اگر ایسا تھا بھی تو اس معاملے کو پارلیمان میں باقاعدہ مباحثے کے لیے کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ کیوں واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ کسی ووٹر پر قادیانی ہونے کے شبے کے بعد کارروائی اب کیسے ہوگی جبکہ ہم دفعہ 7 سی کو ختم کرنے جارہے ہیں؟

غلطی نہیں کی تو درستی کاہے کی ؟
حکومتی عذرخواہ تو مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اس قانون سازی میں کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے لیکن ادھر ایاز صادق صاحب نے مان لیا ہے کہ "حلف نامے" میں clerical mistake ، یعنی کتابت کی غلطی، ہوئی ہے۔ کاش ایاز صادق صاحب اس اعلان سے قبل ان عذرخواہوں کے دلائل دیکھ لیتے تو وہ کم از کم اتنا "نامعقول جواز " تو نہ پیش کرتے!
بہرحال ، جو بات یاد رکھنے کی ہے کہ وہ یہ ہے کہ یہ محض کتابت کی غلطی نہیں ہے، نہ ہی یہ غلطی صرف حلف نامے کی عبارت تک محدود ہے۔
اسی طرح حضرت امامِ سیاست کے ایک عذرخواہ فرماتے ہیں کہ چونکہ ایاز صادق صاحب نے "حلف نامے" میں غلطی تسلیم کرکے اس کی درستی کا اعلان کیا ہے، اس لیے لگتا ہے کہ میاں صاحب سے حضرت کے رابطے نے کام کردکھایا ہے۔
اس پر چار نکات پیشِ خدمت ہیں :
1۔ یہ کہ معاملہ صرف حلف نامے کا نہیں ہے۔ اس سے زیادہ اہم معاملہ 2002ء کے قانون کی دفعات 7بی اور 7 سی کی منسوخی کا ہے۔
2۔ یہ کہ مولانا صاحب کو ووٹ ڈالنے سے قبل پورے قانون کا تجزیہ کرنا، یا کروانا، چاہیے تھا۔
3۔ یہ کہ غلطی کو درست کرنے کےلیے پہلے خود مولانا صاحب کو بھی غلطی تسلیم کرلینی چاہیے۔
4۔ یہ کہ غلطی کو درست کرنے کے لیے دوبارہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔
محض اعلانات ناکافی ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • جزاکم اللہ ڈاکٹر صاحب، یہ دونوں کالم اگر نیوز پیپر کی زینت بن جاے تو وہ لوگ بھی مستفید ہو سکتے ہیں جن کا الیکٹرانک میڈیا استعمال میں نہیں، I request to all newspaper,s add, to publish this both papers.