ختم نبوت کے حوالے سے شرمناک ترمیم، معاملہ ختم نہیں ہوا - محمد عامر خاکوانی

ختم نبوت کے حوالے سے حکمران جماعت نے جو شرمناک ترمیم کی، وہ معاملہ ختم نہیں ہوا، معاملہ صرف حلف نامہ کے الفاظ واپس شامل کرانے کا نہیں ہے، بلکہ دیگر ترامیم بھی بحال کی جانی چاہییں۔ دیگر ترامیم کچھ کم اہم نہیں ہیں۔ اس ایک نکتے پر متحد اور یکسو ہو کر مؤقف اپنانا چاہیے کہ اس ترمیم سے پہلے قانون جس شکل میں تھا، ٹھیک اسی شکل میں واپس لایا جائے، ایک حرف یا ایک نکتہ بھی کم نہیں ہونا چاہیے۔

یہ صاف اصولی مؤقف ہے۔ ختم نبوت یا اس سے متعلقہ دیگر تمام معاملات میں اگر حکومت سمجھتی ہے کہ کسی لفظ یا جملے کو آگے پیچھے کرنے سے عملی طور پر فرق نہیں پڑتا تو ایسا کرنے کا بھی انھیں کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اس سے پہلے اس پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہو اور علما کو اعتماد میں لے کر، ان کی منظوری سے معاملہ نمٹایا جائے۔
اس موضوع پر ان شاءاللہ کل لکھنے کا ارادہ ہے، بدقسمتی سے میرا آج کالم کا دن نہیں تھا، ورنہ آج ہی لکھ دیتا۔ اس پر اپنی رائے کو صرف فیس بک تک محدود نہیں رکھنا چاہتا، اس لیے کالم لکھنا زیادہ ضروری ہے، کل ان شاءاللہ اس پر لکھوں گا، اللہ نے چاہا تو جمعہ کو وہ شائع ہوگا۔

برادرم آصف محمود نے آج کے کالم میں اپنا حق ادا کیا ہے، عشق رسول ﷺ کے تقاضے نبھائے ہیں، کچھ دیر پہلے ان سے بات ہوئی، وہ نہایت مضطرب تھے، لکھنےکے ساتھ عملی طور پر بھی وہ بہت فعال ہیں، وہ ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن لے کر بھی جا رہے ہیں، جسے خود ہی آج انہوں نے تیار کیا ہے۔ اللہ انہیں اجرعظیم عطا کرے، انہیں ہمارے آقا رسول عربی ﷺ کی شفقت اور محبت نصیب ہو اور روز آخرت آپ ﷺ سے محبت کرنے والوں کی صف میں اٹھائے جائیں۔ آمین۔

استاذ جناب ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب نے کمال کر دیا ہے، انھوں نے نہایت آسان انداز میں اس علمی بحث کو کھول کر رکھ دیا ہے، اللہ انھیں اجرعظیم عطا کرے ، وہ سچے عاشق رسول ﷺ ہیں۔ غلاموں کی یہ محنت آقا قبول فرما لیں تو اس سے بڑی اور کوئی بات نہیں ہوسکتی۔

دلیل پر ان دونوں کے مضامین شائع ہوئے ہیں، اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے کسی صاحب نے اگر وہ نہیں پڑھے تو ضرور پڑھ لے۔

مجھے نہایت افسوس ہے ان دوستوں پر، ان لوگوں پر جنھیں ن لیگ کی محبت نے اپنے ایمان کا سودا کرنے پر مجبور کر دیا، جو کل نہایت افسوسناک انداز سے اس حکومتی اقدام کا دفاع کرتے پائے گئے، انتہائی کمزور، بودے، لغو دلائل سے وہ اپنے سیاسی محبین کا مقدمہ لڑتے رہے۔ االلہ انہیں ہدایت دے۔ آج جب خود حکمران پارٹی کے رہنما ترمیم لانے کے اس احمقانہ اقدام پر تنقید کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ شہباز شریف نے آج کہا ہے کہ اس وزیر کو فارغ کرنا چاہیے، جس نے یہ غلطی کی. اسپیکر قومی اسمبلی نے اس غلطی کا اعتراف اور اسے واپس لینے کا اعلان کیا، اس پر ن لیگ کے ان نادان، ناسمجھ وکلا کا کیا جواب ہوگا؟ گناہ بے لذت کل انہوں نےکمایا۔

سرکار مدینہ ﷺسے محبت رکھنے والوں کے لیے خبر ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، خوش ہونے کا نہیں، ابھی جدوجہد کا وقت ہے۔ قانون میں کی جانے والی تمام ترامیم بحال ہونی چاہییں، صرف حلف نامے کے الفاظ بحال کرانا حل نہیں، یہ ادھوری کامیابی ہوگی۔ ابھی کھڑے رہیں، یہ سستانے کا وقت نہیں۔
غلام ہیں، غلام ہیں، رسول ﷺ کے غلام ہیں
اور
اطاعت رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے.

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • آپ کے کالم کا عنوان ہونا چاہیے تھا"رعائت اللہ فاروقی ، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے"